اضطراب
Category: شاعری
ہویدا ہے
ہفت کشور میں شعلہ روئے خُود بیں
جس کے سائے میں وقت کے پَرتوّ
ابصارِ انجم سے ڈھلتے
دُھندلے سے اِنساں
دھواں، راکھ، کائی کے چہرے
خوف کی زَنجیریں
طلوع ہوتے، ڈوبتے آسماں
بے بس، بس رہے ہیں
ہفت کشور میں شعلہ روئے خُود بیں
جس کے سائے میں وقت کے پَرتوّ
ابصارِ انجم سے ڈھلتے
دُھندلے سے اِنساں
دھواں، راکھ، کائی کے چہرے
خوف کی زَنجیریں
طلوع ہوتے، ڈوبتے آسماں
بے بس، بس رہے ہیں