اب ہمیں کون دفنائے گا؟

youth-yell

اب ہمیں کون دفنائے گا؟
بے خواب نگر کے جلتے
گلی کوچوں،
اور بارود زدہ دھوؤں کے غبار میں گھرا
پھٹا پرانا جوتا پہنے،
برسوں پرانا لبادہ اوڑھے،
اورتقریبا ایک صدی کا لاغر بدن سنبھالے،
چاروں اور
بکھرتے آنسوؤں کو
بوسیدہ جھولی میں سمیٹتا،
نومولود "گناہوں" کی زندہ پوٹلیوں کو
گلے لگاتا،
اور لہولہان جسموں کی
بے جان کرچیوں کو جوڑ کر
دفن کرتا،
ایک تنہا مسافر
ابھی کچھ دیر پہلے
افق کےاس پار اترا
تو نئے سورج کی
ابھرتی کرنوں
اورمسکراتی شفق کے جلو میں
اک نئے جہان کے باسی
اس کے منتظر تھے،
مگر نہ جانے کیوں
کچھ چیختی آوازیں
ابھی تک
اس کے تعاقب میں تھیں:
ایدھی بابا!"
اب ہمیں کون دفنائے گا؟"