آدم بو! آدم بو!!

آدم بو! آدم بو!!
تم شمشانوں کی خاموشی سے
خوابوں کو پھر باندھ رہے ہو
لو ہے کی نوکیلی باڑیں
دل کےاندرچھید کریں گے۔
جنگی ترانے۔۔۔۔۔۔۔
ارمانوں کے گیت
چرا کر لے جائیں گے
بارودوں کی آگ جلی تو
صحن کے چولھے بجھ جائیں گے
توپوں کی ان آوازوں میں
انسانوں کے خوف بکیں گے
ماں کے آنسو
شہر کا پانی زہر سا کڑوا کر جائیں گے
ہتھیاروں کی دھات تمھاری دھڑکن پی کر
کتبوں اور تابوتوں کی تعمیر کرے گی
نفرت کی آندھی پھر دروازے پر
آدم بو آدم بو چیخ رہی ہے
تم شمشانوں کی خاموشی سے
خوابوں کو پھرباندھ رہے ہو

Image: Necmettin Asma