آج بھی ہر روز کی طرح
Category: شاعری

آج بھی ہر روز کی طرح
آج بھی ہر روز کی طرح
میری قسمت کی لکیریں
میری ہتھیلی سے پھسل کر
حالات کی گرد میں کھو گیں۔
فال نکالنے والے طوطے نے
دل کی لکیر ڈھونڈ کر
مشورے کے لفافے میں
بند کر کے مجھےتھماتے ہوئے کہا
تمہارے دل میں جو سوراخ ہے
اس لکیر سے بھر دو۔
میں نے دل کی لکیر کو
چاہت کے چولہا پہ پگھلا کر
دل کے سوراخ کو بھرنے کی کوشش کی
لیکن سوراخ بند نہ ہوا
ہر روز کی طرح تم آج بھی
دل کے سوراخ سے
پھسل کر میری ہتھیلی پر
بدگمانی کے نشتر سے
قسمت کی لکیر کو کھرچ رہی ہو!!
میری قسمت کی لکیریں
میری ہتھیلی سے پھسل کر
حالات کی گرد میں کھو گیں۔
فال نکالنے والے طوطے نے
دل کی لکیر ڈھونڈ کر
مشورے کے لفافے میں
بند کر کے مجھےتھماتے ہوئے کہا
تمہارے دل میں جو سوراخ ہے
اس لکیر سے بھر دو۔
میں نے دل کی لکیر کو
چاہت کے چولہا پہ پگھلا کر
دل کے سوراخ کو بھرنے کی کوشش کی
لیکن سوراخ بند نہ ہوا
ہر روز کی طرح تم آج بھی
دل کے سوراخ سے
پھسل کر میری ہتھیلی پر
بدگمانی کے نشتر سے
قسمت کی لکیر کو کھرچ رہی ہو!!
Image: Alexander Beschorner