Categories
نقطۂ نظر

عورتیں جنسی جرائم رپورٹ کیوں نہیں کرتیں؟

میں اعتراف کرنا چاہوں گی کہ امریکی صدارتی دوڑ میں میری دلچسپی تب تک نہیں تھی جب تک ڈونلڈ ٹرمپ کی آڈیو ریکارڈنگز سامنے نہیں آئی تھیں۔ ان ریکارڈنگز کے سامنے آنے کے بعد کئی خواتین نے ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان خواتین میں مقابلہ حسن میں شریک لڑکیوں سے لے کر ٹرمپ کے مختلف اداروں میں ملازمت کرنے والی اور انٹرویو دینے کے لیے جانے والی خواتین بھی شامل ہیں۔ ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے وہی کیا گیا جو دنیا کا ہر مرد ایسے الزامات کے سامنے آنے پر کرتا ہے۔
ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ان خواتین کے الزامات کو بغیر کسی تصدیق، بغیر کسی جانچ اور بغیر کسی توقف کے رد کرتے ہوئے ان خواتین کو جھوٹا قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ایک ہیش ٹیگ #NextFakeTrumpVictim بھی شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی اہمیت کم کرنا ہے۔

 

میں اس بات کو سمجھتی ہوں محض الزام کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید نہیں کی جا سکتی یا بغیر جانچ کے ان الزامات کو تسلیم بھی نہیں کیا جا سکتا اور میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے الزامات کی بناء پر اسے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ایک اور بات بھی کہی جا رہی ہے کہ یہ خواتین اب کیوں یہ الزامات لگا رہی ہیں پہلے کیوں نہیں لگائے گئے جب یہ واقعات ہوئے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ الزامات ٹرمپ کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔ اس قسم کے تبصروں کے بعد ایک اور ہیش ٹیگ بھی ٹویٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا ہے #WhyWomenDontReport۔

 

امریکی صدارتی دوڑ اور ڈونلڈ ٹرمپ پر الزامات کے صحیح یا غلط ہونے کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ سوچنا ضروری ہے کہ آخر کیوں جنسی جرائم رپورٹ نہیں کیے جاتے۔ میں خود اور میرے جاننے والی تمام عورتوں کو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی قسم کی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ لیکن ہم میں سے کبھی بھی کسی نے بھی ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا۔ کیوں؟ اس کیوں کے بہت سے جواب ہیں جو بے حد تکلیف دہ ہیں لیکن ان کی نشاندہی کرنا بہت ضروری ہے۔

 

کوئی آپ کی بات کا یقین نہیں کرے گا

 

جب بھی آپ اس قسم کے الزامات کسی مرد پر لگائیں گی کہ اس نے آپ کو جنسی طور پر ہراساں کیا ہے یا ریپ کیا ہے عموماً لوگ اس بات کا یقین نہیں کرتے۔ خاص کر اگر وہ مرد نیک نام ہو۔ کوئی یہ یقین کرنے کو تیار نہیں ہو گا کہ ‘فلاں صاحب، فلاں افسر، فلاں ٹیچر یا فلاں بزرگ’ ایسا کر بھی سکتے ہیں۔ لوگ ان صاحب کی نیک نامی کی قسمیں کھائیں گے اور آپ کو جھوٹا قرار دیں گے۔ خصوصاً اگر آپ کم عمر ہوں، کسی اقلیتی گروہ سے ہوں، کم تر معاشی اور سماجی حیثیت کے مالک ہوں یا محض عورت ہوں۔ ایک مرد کے مقابلے میں لوگ عورت سے ہمدردی زیادہ کرتے ہیں مگر اس کی بات کا یقین کم ہی کرتے ہیں۔ اگر پرویز مشرف ریپ کا شکار ہونے والی عورتوں کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ ریپ کے واقعات ‘روپیہ کمانے اور باہر کا ویزہ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے’ تو سوچیے کہ ہمارے ہاں ریپ سے متعلق تردید کا رویہ کس قدر عام ہے۔

 

بدنامی کا خوف

 

جیسے ہی آپ اس قسم کا الزام عائد کریں لوگ آپ کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ سلوک کو بہت جلد ایک لذیذ قصے یا لطیفے کی شکل میں دوستوں کو سنانا شروع کر دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ پر جنسی حملہ کرنے والا ہی آپ کی تصویریں یا ویڈیوز یا اپنے جرم کی تفصیلات عام کرنا شروع کر دے۔ ایک عورت پر جنسی حملے کی خبر تمام عمر اس عورت کی پہچان بن کر اس کے لیے جینا حرام کرنے کے لیے کافی ہے۔ جس انداز میں ریپ یا جنسی ہراسانی کے واقعات رپورٹ کیے جائیں گے، جو زبان استعمال کی جائے گی اور جو تبصرے کیے جائیں گے وہ متاثرہ فرد کے لیے مزید ذہنی اذیت کا باعث بنیں گے۔ اس بدنامی کا خوف ذرائع ابلاغ کی منفی رپورٹنگ کی وجہ سے بڑھا ہے۔ جس انداز میں جنسی جرائم کی رپورٹنگ کی جاتی ہے اس کے بعد مزید افراد کے لیے سامنے انا ممکن نہیں رہتا۔

 

الزام ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے

 

جنسی جرائم کے الزامات ثابت کرن تقریباً ناممکن ہے۔ جنسی جرائم کے خلاف قوانین میں درج طریقہ کار ایسا ہوتا ہے کہ عورت کے لیے اپنے الزامات ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا اس لیے بھی بعض عورتیں قانون کا در کھٹکھٹانے سے کتراتی ہیں۔ جنسی جرائم کا ارتکاب کیا ہی تب جاتا ہے جب کوئی آس پاس نہ ہو، کوئی دیکھ نہ رہا ہو اور پکڑے جانے کا اندیشہ نہ ہو ایسے میں ایک عورت کے لیے اپنے اوپر ہونے والے جنسی حملے کو ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ پاکستان میں اب آ کر ڈی این اے کو لازمی شہادت کے طور پر قبول کیا گیا ہے اس سے قبل تو وہ بیچاری مذہبی قوانین کے مطابق چار گواہ تلاش کرتی کرتی خود جیل میں پہنچ جاتی تھی۔ ہمارا نظام انصاف اس قدر فرسودہ اور سست رفتار ہے کہ کوئی بھی متاثرہ عورت اس پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہو سکتی۔ ریپ کے واقعات میں سزا کا تناسب بے حد کم ہے، 2014 میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ریپ کے کسی ایک مقدمے میں بھی سزا نہیں سنائی جا سکی۔

 

جنسی جرائم کو معمولی جرم سمجھا جاتا ہے

 

قانون نافذ کرنے والے ادارے اور معاشرہ اور ریپ کے سوا (بلکہ بعض صورتوں میں ریپ کو بھی) دیگر جنسی جرائم کو معمولی جرم سمجھتے ہیں۔ ان کی ترجیحات میں کبھی بھی عورت کو محفوظ بنانا اہم نہیں ہوتا۔ بعض اصحاب تو ایسے واقعات کو معمول کا واقعہ یا مردوں کی فطرت کا لازمی نتیجہ قرار دے کر ہی ان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگ یہ یاد نہیں رکھتے کہ جنسی جرائم کا شکار ہونے والوں کے لیے یہ جرائم کتنے ہولناک اور شدید اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔

 

جنسی جرائم رپورٹ کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے

 

منور حسن صاحب ایک انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر عورت کے پاس چار گواہ نہیں تو اسے ریپ پر خاموش رہنا چاہیئے۔ یہی نہیں خاندان، قریبی عزیز اور حتیٰ کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ریپ اور جنسی جرائم رپورٹ کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور اسے دبانے اور معاملہ ‘آپس میں طے کرنے’ پر زور دیتے ہیں۔

 

جنسی جرائم کی ذمہ داری عورت پر ڈالنا

 

بدقسمتی سے جنسی جرائم کے نتیجے میں بہت سے لوگ (حتیٰ کہ عورتیں بھی) اس جرم کی ذمہ داری عورت پر ڈالتے ہیں۔ لوگو جنسی جرائم کے بعد مجرم کی تلاش اور واقعے کی تفتیش سے زیادہ اس معاملے کو ابھارتے ہیں کہ متاثرہ عورت نے پہنا کیا تھا، وہ اکیلی تھی، مجرم کے پاس کیا کر رہی تھی۔ لوگوں کے نزدیک جنسی جرائم کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ متاثرہ عورت کا چال چلن ٹھیک نہیں تھا۔ کچھ تو وجہ ہو گی جو عورت نے مرد کو اس جرم پر ‘مائل کیا یا گناہ کی دعوت دی’۔

 

مزید پابندیاں عائد ہونا

 

اگر آپ جنسی جرم رپورٹ کریں گی تو آپ کی تعلیم، ملازمت، آناجانا حتیٰ کہ کسی سے بھی بات چیت کرنا بند ہو سکتا ہے۔ بہت سی خواتین راستے میں، بازار میں، دفتر میں، کالج اور یونیورسٹی میں ہونے والی جنسی ہراسانی کو اس لیے بھی برداشت کرنے پر مجبور ہیں کہ اگر وہ ایسے واقعات رپورٹ کریں گی تو انہیں پہلے سے بھی زیادہ شدید نگرانی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

خود کو کمزور اور اکیلا سمجھنا

 

بہت سی خواتین خود کو ایسے واقعات کے بعد بے حد کمزور اور اکیلا سمجھتی ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ وہ کبھی بھی مجرم کو سزا نہیں دلا پائیں گی۔ یہ احساس اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کیوں کہ انہیں اکثر و بیشتر خاندان کی جانب سے ہمدردانہ رویے کی توقع نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی عادی جنسی مجرم کے بارے میں ایک شکایت سامنے اتی ہے تو تب ہی دیگر خواتین کو سامنے انے اور مزید واقعات رپورٹ کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔ خصوصاً کم سن متاشرین اپنے ساتھ ہونے والے جنسی جرائم بتانے کی ہمت خود میں پیدا نہیں کر پاتے۔

 

9۔ معلومات کا نہ ہونا

 

جنسی جرائم کیا ہیں، ان کے خلاف کون سے قوانین موجود ہیں اور ان قوانین سے استفادے کا طریقہ کیا ہے اس حوالے سے معلومات عام نہ ہونے کے باعث بہت سی خواتین ایسے واقعات رپورٹ کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

India’s Daughter: Looking Evil in the Eye

During the Nuremberg trials, the prosecution interviewed Rudolph Hoss, the SS Kommandant of the Auschwitz Concentration Camps, about his operation where he gassed 2.5 million Jewish prisoners to death. When asked whether he felt remorse about what he did, he said “Does a rat catcher feel bad about killing rats?” The army psychologist Captain GM Gilbert who interviewed the Nazi leaders on trial, said and I quote, “I was searching for the nature of evil and I now think I have come close to defining it. A lack of empathy. It’s the one characteristic that connects all the defendants.”

This film has refocused our attention to the lethargy of the judicial system and the reality that despite the Nirbhaya Case and the anti-rape law, our faith in the law is yet to be rewarded.

This same sentiment was reflected by Mukesh Singh, one of the convicted rapists in the Nirbhaya Case in the ‘India’s Daughter’ documentary. A chilling lack of remorse or guilt, where he blamed the victim reiterating the ‘she asked for it’ argument. Even as the Indian government banned the telecast of the documentary, the web has catered to all curiosity, allowing everyone with an internet or a phone connection to watch the film. I too have seen the film, and found it to be a story of how India rose against crimes against women in the face of this despicable crime. Most importantly, it laid bare the sinister mindset of those capable of committing such crimes, giving the perception of the mindset of a rapist a terrifying dose of reality. If anything, this film has woken us up to a face of evil that lurks within our society, strengthening the case for the application of the death penalty for the crime of rape and weakening if not nullifying the human rights defence put up by those who defend rapists. This film has refocused our attention to the lethargy of the judicial system and the reality that despite the Nirbhaya Case and the anti-rape law, our faith in the law is yet to be rewarded.

Yet, the media and the political discussion went on a different and trivial tangent, where it seems the film has jeopardized the image of India. The rationale from the government to ban the film may be legal yet the political argument is very selective. The argument that it defames India is completely narrow-minded, reflective of those who haven’t seen the film. Crime stories are read and seen all over the world via the web. Will the government use the same rationale to ban the reporting of rape incidents? The same argument could have been used for the documentary ‘Born into the Trade’ about children of sex workers in Kolkata who are groomed into the flesh trade, which went onto win the Oscar for best documentary. The same argument was in fact made against ‘Slumdog Millionaire’, but thankfully the film was not banned by the government at the time. The documentary’s achievement is that it has punched our sensibilities with a gruesome reality, a social malaise that can be found in every other country. Let’s be clear, this is not an India centric problem. Citizens including the government are horrified but we shouldn’t be embarrassed by what it has revealed. We should be angry at the slow pace of the case and question the government why after months of the conviction, Mukesh Singh and the other convicts aren’t closer to the noose. We should be angry at why the much touted notions of ‘swift justice’ and ‘fast track courts’ have become a joke despite the nature of the crime.

This documentary should be seen by everyone to keep our blood boiling. Whenever a rape is reported in the country, activists, lawyers, politicians, judges, journalists should remember Mukesh Singh’s words and have no doubt in their minds that swift conviction and swifter execution is essential for the course of justice. Mukesh Singh’s testimony shows that those who commit rape do not deserve the sympathy of the law or India’s citizens. Away from the human rights argument and the legal jargon, there should be no doubt that men like him and the other convicts should be culled from society immediately and sent to the gallows.

The documentary’s achievement is that it has punched our sensibilities with a gruesome reality, a social malaise that can be found in every other country.

‘Show me the true face of evil, to strengthen my resolve to vanquish it’, is a philosophy that has been enshrined in every righteous struggle across the world. Humanity has endured evil for centuries because time and again we mustered the courage to confront the demons that live among us. Similar to a cancer, they cannot be reasoned with and are pure with their intent. They have been put down and destroyed in the past and humanity has been better for it. India’s Daughter has exposed another demon to us. His testimony spits in the face of our justice system and every parent, man and woman in India. There are some moments where vengeance, justice and humanity all converge and we must be wise to understand it. Nourish and reward our faith in justice – that is all the Indian people ask for.

Categories
اداریہ

Punishing the Rapists – Editorial

In the last 5 years, there has not been a single conviction in rape cases in this country – a fact disclosed by the interior ministry before the Senate’s Standing Committee on Law and Justice. Since its revelation around the end of last month, this startling fact has received very little attention from the mainstream media.

Rape is perhaps the least reported crime in Pakistan. The recorded figures are just a thin fraction of the actual number of incidents.

Rape is perhaps the least reported crime in Pakistan. The recorded figures are just a thin fraction of the actual number of incidents. Yet, according to the official figures, more than 1200 cases of rape and gang rape have been registered in Punjab only in the first five months of this year. While it involves a good deal of risk of stigmatization to stand up and pursue such case, the way Pakistani’s police and judicial system treats the victim is nothing short of double jeopardy. There is almost no hope for any of these victims to get justice in the prevailing situation. On the contrary, the dysfunctional system is encouraging rape culture and augmenting the spiral of silence for the victims of sexual crimes.

Apart from the direly needed radical reforms in laws, judicial system, law enforcement and other institutional mechanisms, a fundamental attitude change is also required. Indeed, it is the deeply rooted misogynist mindset that is reflected in the institutional practices. In order to fight back the rape culture, we must get out of the state of denial; rape is rampant and is extremely under-reported. Any form of blaming the victim equals supporting and encouraging the perpetrators. Women are absolutely equal to men and free to make their personal choices; nothing justifies controlling them.

It has been almost ten months since this nation expressed its last significant reaction over an incident of rape; when a five year old girl was raped and left unconscious outside a hospital in Lahore. Dozens of such unfortunate incidents are being reported on a continuous basis. The once outraged public, spurred mainly by the extraordinary media coverage, have been in a slumber since then. In order to affect any change for a perennial problem like rape, a constant outcry is necessary.

Categories
نقطۂ نظر

Rape, Football Matches and Us

As Brazil suffered an ignominious defeat at the hands of Germany a little under two days ago, and some irate Brazil fans took to the streets, rioting, Facebook found itself as being a site for horrendous violence as well – but the sort of violence that was being perpetrated on Facebook was a different kind of violence: it was violence of the mind and against the mind, and against good sense and one’s intellect.

I found in my newsfeed a steady stream of rape analogies describing the 7-1 loss – “Brazil got raped by Germany”, read one comment, “Germans rape Brazilians” read another, and so it went, this flippant misuse of the word “rape”.

We see that the misuse of the word “gay” is, in fact, an expression of a heteronormative worldview, on the one hand, and of entrenched misogyny, sexism, inflated male egoism and socially ill-constructed and ill-construed ideas of masculinity.

The word “rape” has become “a catch-all for anything negative”, according to one commentator. Any manner of negativity, particularly such manner of negativity as emanates out of or is associated with a sense of loss, real or imagined, is quickly subsumed into the word – nay, I say, the idea of ¬– “rape”: if I am to lose an arm-wrestling contest to another person, I would necessarily have been “raped” by the victor; if the Sun sears the skin in this infamous July subcontinental heat, then the latter is supposed to have been “raped” by the former; or, as in our case, if a sports team (Brazil) is to lose to another, it is said to have been “raped” (or “gang-raped”, depending on the imagination of the person making the suggestion).

Thus, the word “rape” has become so normalized, deeply incorporated into, and entrenched in, our common vocabulary that it has become easy, usual, average, and “shruggable” to use it, and more worryingly, without our feeling – well, anything at all about it. The case of the word “rape” is quite similar to the equally flippant misuse of the word “gay” to describe anything deemed “uncool”, not the “in-thing”, disagreeable and, extendedly, (however marginally) “feminine”. We see that the misuse of the word “gay” is, in fact, an expression of a heteronormative worldview, on the one hand, and of entrenched misogyny, sexism, inflated male egoism and socially ill-constructed and ill-construed ideas of masculinity.

Very similarly, it follows very naturally that the misuse of the word “rape” too is, in fact, a more extended expression of something else – of deeply held values and beliefs: values and beliefs which are informed by misogyny, sexism and male egoism, which are in turn rooted in a socially conservative, deeply and intrinsically patriarchal, tribal ethos. Rape is an expression of male power and need for dominance, which transmutes into role-casting of the victor as the rapist, and the defeated as the rape victim.

I shall come to illustrating such more clearly as we go along. I am wont to state that the analogy is flawed in its very construct. In a football match, two teams consent to the act of playing against each other. Conversely, rape is rape because it is committed in the absence of complete, conscious, lawful and “pressure-less” (if I may) consent. How then is the losing side in a match “being raped”? Or are the word’s (mis)users suggesting that the victims of rape consent to the act?

Or there can be a third suggestion implicit in this analogy: that the losing side was “raped” because it lost. That one side will lose and the other will win in any given match (except in cases of a draw; but then such instance does not invite the use of “rape” analogies) is inherent in the idea of a “match”, is obviously lost on the “rape” analogy peddlers. Anyway, stating that the winning side has “raped” the losing side glamorizes rape by casting the act – nay, the crime – of rape in binaries of victory and loss. Since, the case here is of sports where superior athletic ability is paramount, and indeed, prerequisite to victory on the field, the idea of victory in the “rape” analogy necessarily comes to encapsulate the natural association of adrenaline and testosterone with sports. Thus, the analogy portrays the rapists (the victors) as supremely complete in their masculinity, and the act of rape as a demonstration of enviable power. At the same time, the analogy serves to belittle the rape-victims (the losers).

Rape is so particularly traumatic and so meaningful in so many ways, that there’s something about using the word in other contexts that diminishes the reality of it, and the impact it has on women’s lives.

I am wont to raise such questions as: do the “rape” analogy peddlers realize that they are implicitly suggesting that rape equals victory, or, alternately, that rapists are in some way “victorious”? To say that the losing side must essentially have been “raped”, do they mean all rape victims are the “losing side” in an oddball, even battle between the attacker and the attacked? And further, since the losing side lost because it was the poorer – and the say it was “raped” – what does this mean for their view of rape victims? Does being raped demonstrate some form of weakness – a weakness that should and can be made fun of? Are the victims, then, pathetic, “losing” the “rape battle” because they couldn’t “win” over the attacker? Are rapists superior and powerful? If the answer to either of these is “no,” then how can they employ the use of the word “rape” with such appalling facetiousness?

Such (mis)use of the word “rape” belittles the crime itself – particularly when “rape” analogy peddlers incorporate it in such slapdash comments as: “That waiter totally raped my sandwich when he brought it to me!” or “the wind has raped my hair!” (there used to be a Facebook page titled “Thanks wind, you have totally raped my hair” with well over a million likes!). The application of the incredibly trivial to something so serious is belittling it: rape itself is very serious. As Sandy Brindley, national co-ordinator of Rape Crisis Scotland, says: “Rape is so particularly traumatic and so meaningful in so many ways, that there’s something about using the word in other contexts that diminishes the reality of it, and the impact it has on women’s lives. Rape is a powerful word, and it’s powerful for a reason, because of that devastating impact.” I ask my conscientious readers: is the sandwich-ruining or hair-ruining, or, as in our case, then really the same as actually getting raped?
Also, we must not forget that in the peddlers’ drawing of “rape” analogies, there is the assumption that the person who is being spoken to or might be reading relevant comments or posts or any other manner of comprehendible suggestion to the effect, would not have experienced rape – or, at least, that even if they have, either they themselves might have completely disassociated with the memories of it, or, even more ominously, that the peddlers simply do not care about the memories or anxiety they may trigger.

The “rape” analogy peddling is not restricted to Pakistan or to Pakistanis – it has somewhat global standing. I should mention at the outset, that the intention behind mentioning this is that there is a rather euphemistic term “Facebook Rape” meant to describe a third party gaining access to someone’s Facebook account and altering its settings, display picture, covers, et al. Renowned American comedian, once infamously remarked, much to the chagrin of the conscientious: “I’ve done it once and I’m really ashamed of it. It was Christmas – I’d had a couple of drinks and I took the car out. But I learned my lesson. I nearly killed an old lady. In the end I didn’t kill her. In the end, I just raped her.”

Similarly, conservative American radio talk show host, Rush Limbaugh told his listeners “get ready to get gang-raped again” in 2009 in one of his many critiques of President Barack Obama’s healthcare reforms. Similarly, a year later, British heavyweight boxer David Haye caused outrage by boasting that his upcoming match would be as “one-sided as a gang rape”. Indian lawmakers’ – a whole host of them, not just a couple! – bumbling goofs on the subject of rape are all too well known (and too many) to necessitate reproduction here. On another level, convicted rapists like former Mike Tyson continue to be cast in popular Hollywood cinema. Speaking of Hollywood cinema, the Dustim Hoffman and Susan George starring 1971, “Straw Dogs” has an infamous scene in which George’s character is purportedly raped, and she is shown to be, first, acquiescing and then even enjoying the rape! The (mis)use of “rape” has even found expression in history: the swift Nazi march into Czechoslovakia during the Second World War has been termed “the rape of Prague” and the Japanese capture of Nanjing in China has been called “the rape of Nanjing”, at various points in time.

Trivialized references to rape are ubiquitous and pervasive, on the one hand, and normalized and deeply rooted, on the other, in not only Pakistani society, but also around the world. Events such as the FIFA World Cup simply make these instances more visible.

Trivialized references to rape are ubiquitous and pervasive, on the one hand, and normalized and deeply rooted, on the other, in not only Pakistani society, but also around the world. Events such as the FIFA World Cup simply make these instances more visible. The purpose of delineating similar instances from around the globe was not to confound the debate, but to extend it and to offer perspective. The West and many other regions in the world have active feminist movements which are struggling to put such (mis)uses in check, and to put their employment in recession. They have made considerable headway on several issues of similar import. It is, thus, necessary that we visualize this issue as an issue not of Pakistanis doing something other-worldly, but as insensitive (perhaps desensitized?), unfeeling and under-educated (perhaps purposely oblivious?) humans expressing deeply held patriarchal, misogynistic and sexist values and beliefs. Such visualization would allow us room to learn from the discourse on the subject in other regions in the world, perhaps even twin our own discourse with theirs, and see how people in other parts of the globe are bringing such flippant use of language into check.

At the end, as one commentator writes “women continue to be mentally and physically brutalized around the world. When that brutality isn’t taken seriously – and what’s more, when it is talked about flippantly and without regard – it speaks of a deep inhumanity. Language is a powerful weapon. Defuse the power of the word “rape”, take away its value to shock and terrify, and, for women at least, all is lost.”

NOTE: This article is dedicated to Ahmed Anwaar-ul-Haq and Michelle Young.

Categories
نقطۂ نظر

ٹیبوز پر بات کرنا ہو گی۔۔۔۔

محمد شعیب
tabbbosbaat2مشرقی معاشرتی ڈھانچے اور خاندانی نظام میں جنسی استحصال کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہونے ، جنسی زیادتی کو انتقام کے لئے استعمال کئے جانے اور جنسی گھٹن کے باعث زیادہ تر افرادجنسی اور نفسیاتی سطح پر بیمار رویہ اختیار کر لیتے ہیں اورہردوسرے فرد کو محض ایک Sex Objectسمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔مشرقی خاندانی نظام میں والدین اور بہن بھائیوں کے علاوہ رشتے دار، کزن ، ہمسائے، اساتذہ یہاں تک کے عمر میں بڑا ہر شخص محبت کے جسمانی اظہار یا سرزنش کا حق رکھتا ہے جس سے وہاں بچوں سے جنسی ہراسانی یا زیادتی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ سماج میں جنسی ہراسیت اور زیادتی کی مختلف صورتوں اور اس سے متعلق اثرات سے عدم آگہی کے باعث بہت سے معاملات میں بچے اور بڑی عمر کے افراد بھی اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا گیا برتاو جنسی ہراسیت کے زمرے میں آتا بھی ہے یا نہیں۔ گھر یا گھر سے باہر کسی بھی جگہ کوئی بھی ایسی بات، رویہ یا حرکت جو جنسی تسکین حاصل کرنے یا جنسی عمل میں شرکت پر مجبور کرے یا اس کی دعوت دے وہ جنسی ہراسیت سمجھا جائے گا۔ گالی دینا،گھورنا، جسم کو چھونا، بوسہ لینا، جنسی عمل کی کوشش کرنا اور زبردستی ، ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر جنسی عمل میں شریک کرنا یا شریک کرنے کی کوشش کرنا (بالغ افراد کی صورت میں زبردستی) جنسی ہراسیت ہیں۔

گھر یا گھر سے باہر کسی بھی جگہ کوئی بھی ایسی بات، رویہ یا حرکت جو جنسی تسکین حاصل کرنے یا جنسی عمل میں شرکت پر مجبور کرے یا اس کی دعوت دے وہ جنسی ہراسیت سمجھا جائے گا۔ گالی دینا،گھورنا، جسم کو چھونا، بوسہ لینا، جنسی عمل کی کوشش کرنا اور زبردستی ، ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر جنسی عمل میں شریک کرنا یا شریک کرنے کی کوشش کرنا (بالغ افراد کی صورت میں زبردستی)جنسی ہراسیت ہیں۔

جنسی ہراسیت سے متعلق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایسا کرنے والے نفسیاتی مریض ہوتے ہیں، ان پڑھ یاگھر اور خاندان سے باہر کے اجنبی افراد ہوتے ہیں اور جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات عام طور پر کم آمدنی والے اور پسماندہ طبقات میں ہوتے ہیں۔ ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ گھر اور خاندان میں بچے اور خواتین زیادہ محفوظ ہیں۔ تاہم یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ جنسی ہراسیت کا مسئلہ ہر جنس، عمر، طبقہ، علاقہ اور سماجی گروہ میں موجود ہے۔ پڑھے لکھے، ان پڑھ، رشتے دار، اجنبی، امیر اور غریب ہر طرح کے لوگ ہراسانی کے عمل کا شکار ہو سکتے ہیں اور ہراساں کرسکتے ہیں۔ جنسی زیادتی بچوں اور بچیوں دونوں سے ہوتی ہے۔ بچے اور خواتین چوں کہ اس مسئلہ کا زیادہ شکارہوتے ہیں اس لئے انہیں گھر پر رکھنے، یا ان پر پابندی لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔خوتین اور بچیوں کو جنسی زیادتی اور ہراسیت سے بچنے کے لئے مخصوص لباس پہننے خاص طور پر پردہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ان کے آزادانہ میل جول پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ تاہم بچوں سے جنسی زیادتی اور ہراسیت کے زیادہ تر واقعات گھر اور خاندان کے افراد کرتے ہیں، اور رشتے داروں کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے باعث متاثرہ خاندان شرمندگی اور بدنامی سے بچنا چاہتے ہیں اس لئے اس مسئلہ کو دبادیا جاتا ہے اور خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات میں عام طور پر ہراسانی کا شکار ہونے والے متاثرہ شخص کے رویے، لباس یا خوبصوریتی کو وجہ سمجھا جاتا ہے اس لئے زیادتی کرنے والے کی بجائے زیادتی کا شکار ہونے والوں کی “اصلاح ” اور “پاکیزگی” پر زور دیا جاتا ہے ۔مردوں اور لڑکوں کے بر عکس خواتین اور کم عمر بچیوں کے ساتھ خصوصی طور پر ان کے تحفظ کے لئے میل جول اور آزادانہ نقل و حرکت کی پابندی کے علاوہ پردہ یا مخصوص لباس پہننے کی پابندی عائد کی جاتی ہے جو بچیوں اور خواتین میں اپنی صنف (Gender)کو ایک بوجھ یا جرم سمجھنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔معاشرہ اور خود متاثرہ فرد جنسی زیادتی کا شکار ہونے پر خود اس فرد کے رویے میں ہی غلطی تلاش کرتے ہوئے اسے مجرم قرار دیتے ہیں، جس کے باعث عام طور پر معاشرہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے اور دیگر افراد پر اخلاقی پابندیاں عائد کر کے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جنسی زیادتی اور عورت کے رویے اور سماجی کردار (Social Behavior) کے درمیان یہ علت و معلول کا رشتہ (cause and effect) بہت سی غلط فہمیوں کا باعث ہے۔ جیسے یہ خیال عام ہے کہ اگر عورت چست یا “فحش” لباس پہنے گی یا گھر سے باہر نکلے گی یا اکیلی کہیں جائے گی، ہنس کر بات کرے گی تو ایسا ہونا لازم ہے اور اس کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ عورت کے لباس اور نقل و حرکت کی حدود طے کی جائیں۔ مردوں یا ہراساں کرنے والوں کی بجائے زیادتی کا شکار افراد اور بچوں کونفرت اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جس سماج میں جنسی تسکین کے موزوں اور صحت مند مواقع جتنے محدود ہوں گے وہاں جنسی ہراسیت اور زیادتی کے واقعات کی شرح اتنی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ جنسی ہراسیت یا زیادتی کرنے والے تمام افراد نفسیاتی مسائل کا شکار نہیں ہوتے، بلکہ اکثر لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں عام افراد ہی کی طرح رہتے ہیں مگر جنسی خواہش اور ضرورت کے اظہار اور تسکین کے مواقع نہ ہونے کے باعث ایسا کرتے ہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ جنسی خواہش یا ہوس انسان کو جنسی زیادتی کرنے یا ہراساں کرنے پر اکساتی ہے، اس لئے جنسی خواہش کو دبانے کے لئے پاکیزگی اختیار کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنسی عمل کی خواہش ایک فطری ضرورت ہے اور اس ضرورت کے اظہار اور تسکین کے صحت مند اور موزوں مواقع میسر نہ آنے پر عام نارمل افراد جنسی تلذذ کے لئے جنسی کج رویاں اختیار کر سکتے ہیں۔ جس سماج میں جنسی تسکین کے موزوں اور صحت مند مواقع جتنے محدود ہوں گے وہاں جنسی ہراسیت اور زیادتی کے واقعات کی شرح اتنی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ جنسی ہراسیت یا زیادتی کرنے والے تمام افراد نفسیاتی مسائل کا شکار نہیں ہوتے، بلکہ اکثر لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں عام افراد ہی کی طرح رہتے ہیں مگر جنسی خواہش اور ضرورت کے اظہار اور تسکین کے مواقع نہ ہونے کے باعث ایسا کرتے ہیں۔ جنسی عمل اور جنسی تسکین کو ایک گندا یا ناپاک عمل تصور کرنے کے باعث اس موضوع پر تربیت اور آگہی کے ساتھ اپنی جنسی الجھنوں کے اظہار اور ان الجھنوں کے حل کے لئے کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ بچے اپنی جنسی جبلت سے متعلق اپنے ماحول سے ہر اچھا برا عمل اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں اور جنس سے متعلق لٹریچر اور پورنوگرافس(Phonographs) کے ذریعے جنسی عمل سے متعلق معلومات اور لذت حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لٹریچر اور فلمز میں بسااوقات ایسا مواد بھی شامل ہوتا ہے جو جنسی ہراسیت پر اکساتا ہے۔ ہندوستانی اور پاکستانی سینما میں مرد ہیروز کا کردار جو عام طور پر ہیروئن کوہراساں کرتا دکھایا جاتا ہے، اور بچوں پر بننے والے پورن بھی کم عمر بچوں کی جنسی ہراسیت کی ایک وجہ بنتے ہیں۔ ایسے افراد جو خود بچپن میں جنسی زیادتی یا ہراسیت کا شکار رہے ہوں وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔والدین کا بچوں سے نامناسب رویہ، پدرسری معاشرتی نظام، مردانہ برتری کا احساس، گھریلو ماحول ،نفسیاتی امراض، اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دوستی اور سماجی گھٹن بھی جنسی ہراسیت کی وجہ بنتے ہیں۔بچپن میں جنسی ہراسیت اور زیادتی کا شکار ہونے والے افراد بھی ایسا کرسکتے ہیں۔

برصغیر کی مقامی زبانوں اور ثقافتوں میں جنسی زیادتی سے متعلق استعمال کی جانے والی زبان اور عمومی سماجی رویے بھی اس موضوع سے متعلق حساسیت سے محروم ہیں۔ اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں استعمال ہونے والے الفاظ اور تراکیب نہایت پسماندہ اور صنفی امتیاز سے معمور ہیں اور جنسی زیادتی کے واقعات کو بیان کرنے کی نزاکت سے محروم ہیں۔اظہار کے جو پیرایے ان واقعات کے بیان کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں وہ یا تو لطف اٹھانے کے لئے ہیں یا ان میں متاثرہ فرد کو کمزور اور شکست خوردہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے متاثرہ افراد مزید نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ جنسیات اور جنس سے متعلقہ مسائل کو چوں کہ زیرِ بحث لانے سے ہچکچاتا ہے اس لئے ذرائع ابلاغ، گھروں، تعلیمی اداروں حتیٰ کہ ایوانِ نمائندگان میں بھی جنس اور اس سے متعلقہ مسائل خصوصاً زیادتی اور ہراسیت پر بات چیت اور بحث سے گریز کیا جاتا ہے، اس وجہ سے جنسی زیادتی اور ہراسانی کا شکار بیشتر افراد اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کی بجائے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں استعمال ہونے والے الفاظ اور تراکیب نہایت پسماندہ اور صنفی امتیاز سے معمور ہیں اور جنسی زیادتی کے واقعات کو بیان کرنے کی نزاکت سے محروم ہیں۔اظہار کے جو پیرایے ان واقعات کے بیان کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں وہ یا تو لطف اٹھانے کے لئے ہیں یا ان میں متاثرہ فرد کو کمزور اور شکست خوردہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے

جنسی ہراسانی اور زیادتی پر بحث اور گفتگو کے دوران زبان کے استعمال میں سب سے زیادہ لاپروائی ذرائع ابلاغ پر برتی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں جنسی زیادتی اور ہراسیت کے واقعات کو رپورٹ کرتے ہوئے متاثرہ افراد کی شناخت اور واقعہ کی تفصیلات جس سنسنی اور وضاحت سے دی جاتی ہیں وہ ان افراد اور ان کے خاندان کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں جنسی زیادتی کی کوریج سے متعلق ضابطہ اخلاق پر عمل نہ کرنے کے باعث عام طور پر متاثرہ فرد خاص طور پر خواتین اور بچوں کو معاشرے میں تضحیک، طنز اور بدنامی برداشت کرنا پڑتی ہے ۔ لوگوں کی نظروں میں آ جانے کی وجہ سے ان کے لئے سماج میں معمول کی زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جنسی زیادتی اور اس کے بعد متاثرہ افراد کے ساتھ لوگوں کا امتیازی سلوک انہیں کم اعتمادی، غصہ، چڑچڑاپن، خوف، منشیات کا استعمال، نفسیاتی الجھنوںاور بعض صورتوں میں خودکشی کی طرف مائل کرتے ہیں۔جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد معاشرتی بدنامی سے بچنے کے لئے اکثر ایسے واقعات کا ذکر کسی سے نہیں کر پاتے ۔ عام طور پر بچے ایسے واقعات کے بعد تحفظ اور اعتماد چاہتے ہیں، لیکن وہ اس معاملے پر کسی سے بات نہیں کر پاتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان پر پھر سے اعتماد کیا جائے اور ان کے مسئلے کو سمجھتے ہوئے انہیں بحالی کا موقع دیا حائے ۔

جنسی زیادتی کے واقعات کو چھپائے جانے کی ایک بڑی وجہ پولیس اور عدالتی نظام کی خامیاں ہیں۔ پولیس اور عدلیہ کا زیادہ تر عملہ مردوں پر مشتمل ہے اور جنسی زیادتی کے واقعات عموماً بچوں اور خواتین کے ساتھ پیش آتے ہیں جنہیں رپورٹ کرنے اور پھر عدالت میں پیشی کے دوران عموماً مردانہ نقطہ نظر سے دیکھا، سنا اور پرکھا جاتا ہے۔ جنسی ہراسیت اور زیادتی کے زیادہ تر واقعات پر مقدمات درج نہیں کرائے جاتے۔ قانونی پیچیدگیوں اور موزوں قوانین اور تفتیش کا طریقہ کار نہ ہونے کے باعث اکثر لوگ ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے اور ان کا تذکرہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ زیادتی اور ہراسانی کے عمل کو روکنے اور سزا دینے کے قوانین میں تفتیش،شہادت ، سماعت اور سز ا کے تعین کا طریقہ کار مشکل، فرسودہ اور غیر موثر ہے۔ زیادتی کا شکار افراد کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لئے جنسی زیادتی اور ہراسانی سے متعلق قوانین میں ترمیم اور ان کے استعمال کے لئے زیادہ آسانیاں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ تھانے اور عدالت کے ماحول کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے اور ان مقدمات کی پیروی میں سہولت محسوس کریں۔

متاثرہ افراد خصوصاً بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن والدین اور بچوں کے درمیان جنس کے موضوع پر گفتگو نہ ہونے اور ایسے واقعات سے متاثر افراد کو کلنک سمجھنے کے باعث اس مسئلے کو دبا دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں زیادتی اورہراسیت کا شکار افراد کی بحالی کا کوئی مناسب انتظام اور سہولت موجود نہیں۔ بیشتر واقعات میں متاثرہ افراد کی نفسیاتی اور سماجی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ خاموشی ہے جو معاشرہ ان معاملات میں اختیار کئے ہوئے۔ متاثرہ افراد خصوصاً بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن والدین اور بچوں کے درمیان جنس کے موضوع پر گفتگو نہ ہونے اور ایسے واقعات سے متاثر افراد کو کلنک سمجھنے کے باعث اس مسئلے کو دبا دیا جاتا ہے۔ لیکن اب ان ٹیبوز (Taboos)پر بات کرنی ہو گی ، جنس سے متعلق موضوعات پر ذمہ دارانہ گفتگو کرنا ہو گی ، جنسی ہراسیت سے متعلق قوانین اور ان کے اطلاق کے لئے سماجی فعالیت کی ضرورت ہےورنہ پانچ برس کی کوئی بچی محفوظ نہ رہے گی۔


Categories
نقطۂ نظر

حیوانوں کے جنگل میں بھی ماتم ہوگا ! ۔

pabjolan
صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بے شمار لمحات ایسے آئے جب الفاظ کم پڑ گئے، سوچنے سمجھنے کی حس جواب دے گئی اور کلیجہ منہ کو آ یالیکن پھر بھی ہمت باندھی اور لفظوں کے سہارے کام چلا تے رہے۔ ایسا شاید پہلی بار ہوا ہے کہ کسی واقعے نے بولنے اور لفظ پرونے کی صلاحیت کو مکمل چت کر دیا ہے…… لاہور میں ایک اورحوا کی بیٹی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ایک معصوم کلی، ننھی کرن زخموں سے چوراور گہرے ذہنی صدمے سے دو چارہوئی ہے۔ پوری قوم اس سانحے ، اس المیے کی تکلیف کو محسوس کر رہی ہے۔یقین جانیے میں نے اپنے ساتھ بیٹھی اینکرز کو اس دکھ میں دھاڑیں مار مار کر روتے دیکھا ۔ میری ماں کا چہرہ پچھلے کئی دنوں سے بجھا بجھا سا ہے۔میری بہن ایک عجیب سے کرب میں مبتلا ہے۔محفل کی جان سمجھے جانے والے میرے دوست، میرے عزیز یوں رنجیدہ ہیں جیسے کسی مرگ کا دکھ جھیل رہے ہوں۔ ہاں! مرگ ہوئی ہے… موت واقع ہوئی ہے… خون ہوا ہے۔ انسانیت کا خون ہوا ہے۔ درندگی نے ، جہالت نے، شیطانیت نے انسانیت کا ناحق خون کیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس ملک میں بسنے والا ہر ذی شعور حالت سوگ میں ہے۔
میں کیا لکھوں! کیا کہوں! الفاظ ساتھ نہیں دے رہے۔ شاید لفظ بھی اپنی حرمت کھو بیٹھے ہیں۔ وہ منحوس… وہ کمبخت… آگ لگے اس کی خبیث روح کوجس نے ایک معصوم روح کو زندگی کی تمام تر درندگی تلے کچل ڈالا۔ لفظ انسانوں کے لیے ہوتے ہیں، جبھی تو وہ درندگی کے سامنے بے اثر ہو جاتے ہیں۔
یہ کیسی کیفیت ہے، کیسا بوجھ ہے کہ جس کا کتھارسس کرنا بھی محال ہوا پڑا ہے۔ بس اتنا کہنے کی سمجھ باقی ہے کہ خدا را سخت ترین قانون سازی کریں۔ سزائیں دلوائیں ایسے بھیڑیوں کو۔ لیکن ذرا پس پردہ بھی جھانکیں، جانیں کہ آخر انسانوں کے بیچ ایسے درندے کہاں سے آ جاتے ہیں۔ کچھ کیجیے خدارا! تعلیم و تربیت کا بندوبست کیجیے، بگاڑ کی ایسی صورتوں کا تدارک کیجیے وگرنہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔ کل کوکہیں کوئی اور معصوم درندگی کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔
لاہور کی اس پانچ سالہ کمسن بچی کے مستقبل پر پاکستانی میڈیا کا بہت بڑا احسان ہوتااگر اس بچی کا نام ، پتہ، اور اہل و عیال کی شناخت ظاہر نہ کی جاتی۔
کاغذ قلم ہاتھ میں ہے اور کئی گھنٹے بیت گئے ہیں۔ نہیں معلوم مجھے مزید کیا کہنا ہے… شاید مجھے جی بھر کے رونا ہے۔ شکیل بازغ کے موبائل فون پر اس ننھی پری کی تصویر لگی ہے۔ بازغ ایک مصرعہ پڑھتا ہے، پھر اپنی بچی کی تصویر دیکھتا ہے اور دھاڑیں مارتا ہے۔ بازغ اپنی ہی لکھی نظم پوری نہ سنا سکا…
ننھی کونپل تھی وہ جب کملائی ہو گی
سورج وحشت دیکھ کے نیر بہایا ہو گا
ارض و سما کا چپہ چپہ چیخا ہو گا
نیلے فلک پر بین اور آہ و زاری ہو گی
دھرتی کا سینہ بھی تھر تھر کانپا ہو گا
جلوت خلوت پر بھی ہیبت طاری ہو گی
پتھر پتھر ظلمت دیکھ کے دھڑکا ہو گا
حوا،بیٹی کے اس غم پر تڑپی ہو گی
حیوانوں کے جنگل میں بھی ماتم ہوگا
نیلے فلک کے باسی بھی یہ سوچتے ہوں گے
حیوانوں کی گنگ زبانیں پوچھتی ہوں گی
کیا کوئی انسان سے بڑھ کر ظالم ہوگا۔۔۔۔؟
(شکیل بازغ)