<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Qawwali Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/qawwali/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/qawwali/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 22:21:09 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>Qawwali Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/qawwali/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آج کا گیت: فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر، عزیر احمد خان وارثی قوال اور ہمنوا)</title>
		<link>https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 19 Aug 2020 08:10:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عکس و صدا]]></category>
		<category><![CDATA[aaj ka geet]]></category>
		<category><![CDATA[Aziz Ahmed Khan Warsi]]></category>
		<category><![CDATA[Mir taqi mir]]></category>
		<category><![CDATA[Qawwali]]></category>
		<category><![CDATA[آج کا گیت]]></category>
		<category><![CDATA[عزیز احمد خان وارثی]]></category>
		<category><![CDATA[قوالی]]></category>
		<category><![CDATA[میر تقی میر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25674</guid>

					<description><![CDATA[<p>فقیرانہ آئے صدا کر چلے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/">آج کا گیت: فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر، عزیر احمد خان وارثی قوال اور ہمنوا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کلام: میر تقی میر<br>
قوال: اُستاد عزیز احمد خاں وارثی و ہم نوا</p>
<audio class="wp-audio-shortcode" id="audio-25674-1" preload="none" style="width: 100%;" controls="controls"><source type="audio/mpeg" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3?_=1"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3">https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3</a></audio>
<p>فقیرانہ آئے صدا کر چلے<br>
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے</p>
<p>جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم<br>
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے</p>
<p>جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی<br>
حق بندگی ہم ادا کر چلے</p>
<p>پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے<br>
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے</p>
<p>کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ<br>
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے</p>
<p>یہ قوالی <a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3" target="_blank" rel="noopener noreferrer">ڈاون لوڈ</a> کرنے کے لیے کلک کریں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/">آج کا گیت: فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر، عزیر احمد خان وارثی قوال اور ہمنوا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		<enclosure url="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3" length="9908604" type="audio/mpeg" />

			</item>
		<item>
		<title>قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%82%d8%b3%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%db%8c%d9%86%d8%a7-%d9%84%da%a9%da%be-%d8%af%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%82%d8%b3%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%db%8c%d9%86%d8%a7-%d9%84%da%a9%da%be-%d8%af%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[اجمل جامی]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 23 Jun 2016 10:58:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Amjad Sabri]]></category>
		<category><![CDATA[Qawwali]]></category>
		<category><![CDATA[Sabri Brothers]]></category>
		<category><![CDATA[Zarqawi]]></category>
		<category><![CDATA[امجد صابری]]></category>
		<category><![CDATA[صابری برادران]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16403</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پاکستان میں فکری تقسیم واضح ہو چکی ہے، ایک وہ ہیں جو صابری کی آواز ہیں اور دوسرے وہ جو اس آواز کو دبانا چاہتےہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%82%d8%b3%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%db%8c%d9%86%d8%a7-%d9%84%da%a9%da%be-%d8%af%db%92/">قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="leftpullquote">یہ کوئی عام قوال نہیں تھا، نہ ہی کوئی عام انسان تھا۔ یہ صابری قوالی کی واحد نمائندہ آواز تھا، ایسی آواز جسے صابری برادران نے انتہائی کم عمری سے پختہ کیا۔</div>
<div class="urdutext">قوالی کی تاریخ سات سو برس پرانی ہے جسے حضرت معین الدین چشتیؒ غریب نوازنے برصغیر میں متعارف کرایا، ان کا مسحور کن انداز بیاں یہاں کے باسیوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔ خواجہ معین الدین چشتی کے بعد حضرت امیر خسرو نے قوالی میں جدت پیدا کی اور مقامی راگوں کو نئے نام دئیے۔ قول کو بار بار دہرانے والے کو قوال کہا جاتا ہے، اگرچہ امیر خسرو کو قوالی کا موجد خیال کیا جاتا ہے لیکن میری دانست میں بر صغیر کے پہلے قوال حضرت معین الدین چشتی غریب نواز کہلائیں گے۔ ان کے مریدین نے اس سلسلے کو جاری رکھا اور کلاسیکی موسیقی کی طرح قوالی میں بھی نامور گھرانے ہوئے جنہوں نے فن قوالی کی ترویج و ترقی کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ ان میں دین محمد خان قوال، راج علی خان، بھاگ علی خان قوال، استاد مبارک علی خان، استاد فتح علی خان، خلق داد خان، اور دیگر شامل ہیں۔ لیکن اگر یوں کہا جائے کہ پاکستان میں نصرت فتح علی خان، صابری برادران اور عزیز میاں قوال ہی وہ نام ہیں جنہوں نے قوالی کو اس قدر توانا کیا کہ دنیا بھر میں یہ فن مقبول ہوا تو غلط نہ ہو گا۔ سن پینسٹھ میں دو بھائیوں کی جوڑی نے ایک قوالی گائی اور اسے امر کر دیا، یہ قوالی فلم ‘عشقِ حبیب’ کے ٹائٹل کے طور پر بھی استعمال ہوئی۔ قوالی کے بول تھے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا،<br>
میں بن کے سوالی آیا ہوں<br>
مجھے نظر کرم کی بھیک ملے</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/P3I1P25Sfxw" width="420" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<div class="urdutext">اس قوالی کی خاص بات یہ تھی کہ قوالوں نے رائج طرزِقوالی سے انحراف کرتے ہوئے یکسر ایک نیا اور منفردر انداز اختیار کیا جو بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔ یہ قوال تھے غلام فرید صابری اور مقبول صابری۔ صابری برادران کا تعلق بھارتی پنجاب کے ضلع روہتک کے گاؤں کلیانہ سے تھا۔ بڑے بھائی حاجی غلام فرید اپنی گرجدار آواز اور لمبی زلفوں اور چھوٹے بھائی مقبول صابری اپنی نسبتاً باریک آواز سے پہچانے جاتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد فرید صابری کا خاندان ہجرت کر کے کراچی آباد ہوا، جہاں ابتدائی ایام کسمپرسی میں گزرے۔ یہ دونوں بھائی اینٹیں ڈھونے کی مزدوری کرتے تھے، کچھ عرصہ استاد کلن خان کی قوال پارٹی کے ساتھ قوالیاں گائیں، انہوں نے لیاقت آباد چار نمبر کے علاقے میں رہائش اختیار کی اور تا حیات وہیں مقیم رہے۔ ‘میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا کے بعد’ ان کی گائی ہوئی قوالیوں ‘تاجدار حرم’ اور ‘بھر دو جھولی میری یا محمدﷺ’ نے گویا مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ ان قوالیوں میں ایسی خاص تاثیر ہے کہ سننے والےآج بھی وجدانی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہر چاہنے والے کے دل کی آواز ہوں۔ جذب و مستی کے عالم میں عشاق کے دیدے جب یہ قوالیاں سنتے تر ہوتے ہیں تو صوفیا فرماتے ہیں یہ قبولیت کی نشانی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">غلام فرید صابری انیس سو چورانوے میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، جبکہ مقبول صابری دو ہزار گیارہ میں چل بسے۔ دونوں بھائی کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں مدفون ہیں۔ لیاقت آباد میں ایک انڈر پاس غلام فرید صابری کے نام سے موسوم ہے۔ اسی لیاقت آباد میں شریف آباد پل کے قریب غلام فرید صابری کے بیٹے مقبول صابری کے بھتیجے اور صابری خاندان کے آخری مشعل بردار امجد فرید صابری کو بدھ کے روز پانچ گولیاں مار دی گئیں۔ یہ کوئی عام قوال نہیں تھا، نہ ہی کوئی عام انسان تھا۔ یہ صابری قوالی کی واحد نمائندہ آواز تھا، ایسی آواز جسے صابری برادران نے انتہائی کم عمری سے پختہ کیا۔ امجد خود کہتے تھے کہ والد صاحب ہمیں صبح چار بجے بستر سے اٹھا دیا کرتے۔ وضو کے بعد تہجداور اس کے بعد ہارمونیم پر راگ بھیروں کا ریاض کروایا جاتا تھا۔ یعنی:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی<br>
ہاتھ گھل جاتے ہیں پھر کوزہ گری آتی ہے (عباس تابش)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ہندوستان اور پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا مزار ہو جہاں صابری برادران اور امجد صابری خود حاضر نہ ہوئے ہوں۔</div>
<div class="urdutext">چوارنوے میں والد کے انتقال پر قوال پارٹی کی قیادت سنبھالی اور پھر کمال محنت اور لگن سے والد اور چچا کے فن کو دنیا بھر میں دوام بخشا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اس فن میں کئی جدتیں متعارف کروائیں۔ بڑوں کا کلام گایا، ایسا گایا کہ روایت پسندی کیساتھ جدت بھی نمایاں دکھائی دی۔ جب بھی کوئی کلام پڑھتے سوز و گداز واضح محسوس ہوتا جس کا اثر سننے والوں پر یک لخت ہوتا۔ نہیں معلوم کہ صابری خاندان،صوفیا کی پہچان، پاکستان کی شان اور ملنسار انسان امجد صابری قوال کو مارنے والوں کو اس بہیمانہ قتل سے کیا ملا؟ ارے بد بختو! قوالی محبت پیار امن وآشتی کا درس دیتی ہے، قوالی نے تو برصغیر کے مختلف طبقات اور مذاہب کو جوڑا، تو پھر ایک قوال کو مارنے والے کون ہیں؟ یہ سوال ٹیلی فون پر اجمیر شریف کے خادم خواجہ سید فرید مہاراج اس خاکسار سے پوچھ رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ خواجہ غریب نواز کے مزار کے بالکل سامنے بیٹھے ہیں، آس پاس ہجوم ہے اور لوگ امجد فرید کی شہادت پر رنجیدہ ہیں، تعزیت کرنے ہمارے پاس چلے آ رہے ہیں۔ کیوں نہ آئیں، امجد اور ان کے بڑوں کی اس مزار سے خصوصی وابستگی جو تھی۔ وہ اس مزار پر حاضری دیتے اور لاکھوں کے مجمعے کے سامنے صبح فجر تک اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ سید فرید مہاراج سمجھے شاید امجد صابری کا قتل کسی سیاسی چپقلش کا شاخسانہ ہے۔ انہیں کون بتلائے کہ نہیں حضور! ہمارے ہاں ایسے بدبخت بھی پل رہے ہیں جو نبی اور آل نبی کے نام کی مالا جپنے کو توہین قرار دیتے ہیں، اور ان لوگوں کے لئے ہمدری رکھنے والے مذہبی رہنما امجدصابری کے قتل پر سڑکوں پر لانگ مارچ نہیں کرتے، اور تو اور کبھی کھل کر ایسے دہشت گردوں کی مذمت تک کرنے کے سکت نہیں رکھتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">خواجہ فرید مہاراج نے بتایا کہ صابری بردارن کی وجہ شہرت میں اجمیر شریف کا بھی ہاتھ ہے۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ مشہور زمانہ قوالی ‘بھر دو جھولی میری’ کے شاعر اجمیر شریف کے ہی عنبر وارثی نامی ایک صوفی شاعر ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا مزار ہو جہاں صابری برادران اور امجد صابری خود حاضر نہ ہوئے ہوں۔ اور پھر دیکھئے کہ امجد صابری نے اپنی شہادت سے ایک دن قبل ٹی وی ٹرانسمیشن میں کس نعت کا انتخاب کیا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں قبر اندھیری میں گھبراوں گا جب تنہا<br>
امداد میری کرنے آجانا رسول اللہ<br>
روشن میری تربت کو للہ ذرا کرنا<br>
جب وقت نزع آئے آقا، دیدار عطا کرنا<br>
اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/HSDo9YUYGW4?list=PLGhpljGFnpnhbpcyMgc6qKWHAUtJhjwHv" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<div class="urdutext">اور یہ پڑھتے ہوئے امجد صابری زار و قطار رو رہے تھے، ان کےقریبی رفقا بتاتے ہیں کہ امجد اس سے پہلے اس انداز میں شاید ہی کبھی رویا ہو۔ کملی والے یقیناً ان کی فریاد کہ ‘قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے’ منظور کر چکے تھے۔ ان کی تو خود خواہش تھی کہ؛ دستِ ساقیِ کوثر سے پینے چلیں!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پاکستان میں فکری تقسیم واضح ہو چکی ہے، ایک وہ ہیں جو صابری کی آواز ہیں اور دوسرے وہ جو اس آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">امجد صابری کی شہادت سے کئی ایسے معاملات نے بھی جنم لیا ہے جن سے ہماری اخلاقی اقدار کی قلعی کھل رہی ہے۔ امجد صابری کی شہادت کہیں سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہی ہے تو کوئی اسے ایک خاص مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا ‘بھر دو جھولی میری’ کی صدا لگانے والے امجد صابری کی اپنی کوئی پہچان نہ تھی جو اسے سیاسی اور مذہبی شناخت دینے کی کوشش کی جارہی ہے؟ خدارا! گریز کریں!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کراچی میں جہاں اچھی کارکردگی اور جرائم کی شرح میں نمایاں کمی کی داد رینجرز اور قانون نافذ کرے والے اداروں کو ملتی ہے وہیں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کا اغوا اور امجد فرید صابری کا قتل سیاسی حکومت کی نااہلی کے کھاتے میں کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اور اگر سیاسی حکومت پر ہی ذمہ داری ڈالنی ہے تو ملک بھر بالخصوص کراچی میں سویلین اور منتخب اداروں کی عملداری کب مضبوط ہو گی؟ بہرحال یہ بات تو اب طے ہے کہ پاکستان میں فکری تقسیم واضح ہو چکی ہے، ایک وہ ہیں جو صابری کی آواز ہیں اور دوسرے وہ جو اس آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%82%d8%b3%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%db%8c%d9%86%d8%a7-%d9%84%da%a9%da%be-%d8%af%db%92/">قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%82%d8%b3%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%db%8c%d9%86%d8%a7-%d9%84%da%a9%da%be-%d8%af%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
