Categories
نقطۂ نظر

ریاست مولوی عبدالعزیز سے ڈرتی ہے

چوہدری نثارکی جانب سے مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے سینیٹ میں دیے جانے والے بیان کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف درج کی جانے والی دو ایف آئی آرز کی نقول جمع کروائی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے 30 دسمبر کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبد العزیز کے بارے میں کہا تھا کہ “مولانا عبد العزیز کے خلاف تو کوئی کیس ہی نہیں ہے تو پھرپولیس مولانا عبدالعزیز کو کب تک پکڑ کر رکھ سکتی ہے”۔ مولانا عبد العزیز کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ وہ نہ صرف دہشت گردوں کا حامی ہے بلکہ خود بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں شامل رہا ہے۔ لال مسجد کے یہ شدت پسند مولانا عبد العزیز اپنے خلاف قائم مقدمے میں ضمانت کروانے سے سرعام انکار کرتے رہے ہیں۔ پوری سول سوسائٹی مولانا عبد العزیز کی گرفتاری کے لیے احتجاج کر رہی ہے لیکن وہ پوری آزادی کے ساتھ سول سوسائٹی کے لوگوں کو دھمکانے اور دہشت گرد تنظیموں اور ان کے مذہبی نظریات کی حمایت کرنے میں مصروف ہے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں مذہبی جنون اور بربریت کا پرچار بلا خوف و خطر کیا جاتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں یہاں آپریشن ہوا جس میں فوج کے کئی جوان ان دہشت گردوں کا نشانہ بنے، کئی گھر اجڑ گئے لیکن قاتل آج تک دندناتے پھر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان شہید جوانوں کی شہادت حکمرانوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں۔

 

چوہدری نثارکی جانب سے مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے سینیٹ میں دیے جانے والے بیان کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف درج کی جانے والی دو ایف آئی آرز کی نقول جمع کروائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ایک ایف آئی آر خود وزارت داخلہ کی جانب سے اکتوبر 2014ء میں درج کروائی گئی تھی۔ بعدمیں پولیس کی درخواست پر عدالت نے مولاناعبدالعزیز کو اشتہاری قرار دیا، جمع کروائے گئے دستاویزی ثبوت میں پولیس کا وہ بیان بھی شامل ہے جو عدالت میں عبدالعزیز کی روپوشی کے حوالے سے دیا گیا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ سینیٹ میں ان اشتہارات کی کاپی بھی جمع کروائی گئی جو لال مسجد کے سابق خطیب کو اشتہاری قرار دینے کے لیے اخبارات میں شائع ہوئے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ پی ٹی اے کا وہ خط بھی سینیٹ میں جمع کروایا گیا ہے جس میں تمام موبائل کمپنیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ “جمعے کو خطبے کے وقت لال مسجد کے اردگرد کے علاقوں میں موبائل سروس بند رکھیں”۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سارے دستاویزی ثبوت موجود تھے تو پھر ان سے لاعلمی کا اظہار کیوں کیا گیا۔ “کیا وزیر داخلہ لاعلم تھے، ڈرے ہوئے تھے یا پھر مولانا عبدالعزیز کے ساتھ ملے ہوئے تھے؟”

 

مولانا عبدالعزیز نے دسمبر 2015ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے میں 150 کے قریب بچوں کے قتل عام کی مذمت سے گریز کیا تھا جس کے بعد پاکستانی قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے جمع کروائیں گئی ان تمام دستاویزات کو وزارت داخلہ بھجوا دیا ہےاور ساتھ ہی وزیر داخلہ کی 30 دسمبر والی تقریر کی کاپی بھی بھیجی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیر داخلہ سے پوچھا ہے کہ آپ کے بیان اور ان دستاویزات میں موجود حقائق میں بڑا تضاد ہے، اس تضاد کی وضاحت کی جائے۔ نومبر 2015ء میں وفاقی حکومت نے قانون نافد کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ ان کی سرگرمیاں امن وامان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ اس سلسلے میں سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر کہتے ہیں کہ “مولانا عبدالعزیز کئی بار حکومت کی رٹ چیلنج کر چکے ہیں، انہیں طالبان اپنی مذاکراتی کمیٹی کا رکن نامزد کر چکے ہیں، اس کے بعد بھی چوہدری نثار اگر یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ گچھ یا ان کے خلاف تحقیقات یا کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں تو یہ غیر ذمہ دارنہ رویہ ہے”۔ چوہدری نثار کا مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی واضح اور شفاف پالیسی ہے، مولانا عبدالعزیز سے متعلق بہت غلط بیانی کی گئی، تمام ریکارڈ قوم اور سینیٹ کے سامنے رکھوں گا۔

 

مولانا عبدالعزیز نے دسمبر 2015ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے میں 150 کے قریب بچوں کے قتل عام کی مذمت سے گریز کیا تھا جس کے بعد پاکستانی قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا نے معافی مانگی تو حکومت نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔ اسی سلسلے میں لال مسجد کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران سماجی کارکنان کو لال مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے دھمکایا گیا تھا۔ چند مہینے پہلے پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے وزرات داخلہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے انتہاپسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ تعلقات جڑواں شہروں کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت اس معاملے پر پس و پیش سے کام کیوں لے رہی ہے؟ سوال یہ ہے کہ لال مسجد کے عبدالعزیز ریاست کی طاقت سے خوفزدہ کیوں نہیں؟ جواب سیدھا سیدھا ہے کہ مولانا عبدالعزیز نہیں ڈریں گے کیوں کہ ریاست ڈر گئی ہے، ریاست کے عوام سہم گئے ہیں، اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان سینکڑوں افراد کے قاتلوں کے مقدمات کی سماعت کے تصور سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں جبکہ ریاستی ادارے اپنی حفاظت میں مصروف ہیں۔ سینکڑوں ایسے مدارس آج بھی بے دھڑک چلائے جا رہے ہیں جن کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی رپورٹیں خود وزارت داخلہ اور خفیہ اداروں نے جاری کی ہیں۔

 

مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں جذبہ جہاد کے شوق کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ جہاد میں اگر حالات کا تقاضا ہو تو پھر پچھے ہٹنا جرم نہیں، حکومت کی زمین پر مساجد اور مدارس بنانا جائز ہے۔ لال مسجد کے زیر سایہ مزید 28 مدارس کام کر رہے ہیں۔ 550 ملازمین کی تنخواہوں پر ماہانہ 28 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ 28 مدارس ملک بھر میں کام کر رہے ہیں اور ان کے اساتذہ، معلمات اور دیگر عملے کی تنخواہیں تقریباً 28 لاکھ روپے بنتی ہیں جو باقاعدگی سے دی جارہی ہیں لیکن مولانا عبدالعزیز نے اپنے ذرائع آمدن نہیں بتائے۔ ایک طرف صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردی کا پرچار کرنے والوں کو ہر ماہ تنخواہ مل جاتی ہےجبکہ دوسری طرف بہت سارے سرکاری اداروں میں کئی کئی ماہ تنخواہ نہیں ملتی ہے، جس کی ایک مثال “پاکستان اسٹیل مل” ہے۔

 

باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے سے لاتعلق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کچھ دن پہلے ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم حقیقتاً دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیت چکے ہیں
باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے سے لاتعلق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کچھ دن پہلے ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم حقیقتاً دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیت چکے ہیں مگر سیکورٹی اداروں پر بے جا تنقید سے ہمارا مورال گر رہا ہے یوں ہم نفسیاتی محاذ پر جنگ ہار رہے ہیں۔ یہ کیسی فتح ہے جس کا ذکر آرمی چیف کی طرف سے ابھی تک نہیں کیا گیا۔ یہ کیسی فتح ہے جس میں دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم شہریوں کے قتل پر عوام سے یہ شکوہ کیا جائے کہ تم لاشوں پر کیوں ماتم کر رہے ہو؟ جہاں تک نفسیاتی محاذ پر پسپائی کا تعلق ہے، تو کیا جب مولانا عبدالعزیز ریاست جمہوریت اور فوج کے خلاف زہر اگلتا ہے، اس وقت ہم نفسیاتی محاذ پر کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں؟ جب جماعت اسلامی کا سابق امیرمنور حسن پاکستانی فوجی کو شہید ماننے سے انکار کر دیتا ہے اس وقت بھی نفسیاتی محاذ پر ہمیں کوئی اثر نہیں پڑتا، داعش کے گروہ جب زیر زمیں سرگرمیوں میں اپنا نیٹ ورک وسیع کر رہے ہوتے ہیں تب بھی اور چارسدہ جیسے سانحات ہوتے ہیں تب بھی نفسیاتی محاذ پر ہم صحت مند ہوتے ہیں۔ مگرجب عوام اپنے پیاروں کے غم میں ماتم کرتے ہیں اور صرف یہ سوال کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ تو اس سوال کے پوچھے جانے سے ہمارا یہ نفسیاتی محاذ کمزور پڑ جاتا ہے۔

 

لگتا ہے آج کل چوہدری نثار کے ستارے گردش میں ہیں، ایک طرف ان پر لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی کے لئے دباو بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جائے، سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمات کے ثبوت سینیٹ میں پیش کیے جانے کے بعد سینیٹرز نے چوہدری نثار پر سخت تنقید کی کہ وزیر داخلہ نے مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے ایوان کو گمراہ کیا ہے۔ لال مسجدکے معاملے میں ہر پیش رفت حکمرانوں کی لاچارگی، ابہام اور نامرادی کی غمازی ہی کرتی ہے۔ ان تمام معاملات پر وزیر داخلہ کے بیانات نہ صرف متضاد ہیں بلکہ دہشت گردوں کےلیے ان کی “ہمدردی” کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شاید ان کے مشورے پر ہی مولانا عبدالعزیز نے عدالت میں حاضر ہوکر اپنی ضمانت منظور کروائی ہے۔ اپنی ضمانت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے مولاناعبدالعزیز نے چارسدہ اوراے پی ایس واقعہ کی شدید مذمت کی، ساتھ ہی انہوں نے پرویز مشرف کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پرویز مشرف سمیت لال مسجد کے تمام کرداروں کو معاف کرنے کا اعلان پریس کانفرنس کے ذریعے کریں گے۔

 

مولانا عبدالعزیز جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانتا ہے، وہ اپنی ضمانت کے لیے عدالت میں بھی حاضر ہو جاتا ہے اور اپنے شدید مخالف پرویز مشرف سمیت لال مسجد کے تمام کرداروں کو معاف کرنے کی بات کر رہا ہے۔ ایسا کیوں؟ ایسا شاید اس لیے ہے کہ مولانا عبدالعزیز کے ہمدرد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنے لیے کافی مشکلات بڑھا لی ہیں، آنے والے دنوں میں یقیناً ان کے مخالف ان کے لیے مزید مشکلات بڑھانے کی کوشش کریں گے، ان کو ابھی سینٹ کو بھی جواب دینا ہے جہاں ان کے سیاسی مخالفین کی اکثریت ہے۔ وزیراعظم نو از شریف کو اگر اپنے غیر ملکی دوروں اور نمائشی منصوبوں کے افتتاح سے فرصت مل جائے تو اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار اور مولانا عبدالعزیز کے گٹھ جوڑ پر بھی ایک نظر ڈال لیں تو ان کی حکومت کے لیے بہتر ہوگا۔
Categories
نقطۂ نظر

بات نکلی ہے تو پھر دور تلک جائے گی

Nara-e-Mastana

الطاف حسین کہتے ہیں کہ رینجرز کمبلوں میں اسلحہ بھر کر لائے، متحدہ ہی کے فیصل سبزواری بولے کہ پکڑا جانے والا سارا اسلحہ لائسنس یافتہ ہے جس کا علم پولیس اور رینجرز کو بھی ہے۔ الطاف حسین صاحب نے یہ بھی کہا کہ متحدہ میں دہشتگردوں کی کوئی گنجائش نہیں، چند لوگ جماعت کو بدنام کر رہے ہیں، غلطیاں کرنے والے نائن زیرو کو مصیبت میں نہ ڈالتے کہیں اور چلے جاتے میں بھی تو بیس پچیس سال سے لند ن میں ہوں۔ رات گئے انہوں نے فرمایا کہ مرکز سے ایک بھی مجرم گرفتار نہیں ہوا، نائن زیرو کے آس پاس اگر کرائے کے کسی مکان سے کچھ لوگ پکڑے گئے ہیں تو ان کا تعلق متحدہ سے ہرگز نہیں۔ اگر ایسا بھی ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نائن زیرو کے آس پاس رہنے والوں کی خبر متحدہ کے عہدیداروں کو نہ ہو؟
رینجرز کے چھاپے میں پکڑے گئے ولی بابر قتل کے سزایافتہ مجرم فیصل موٹو، مختلف جرائم میں ملوث تیرہ تیرہ سالہ قید کے مجرم عبیداللہ عرف کے ٹو ، نادر الدین اور فرحان شبیر بھی ایم کیوایم کے قائد کے موقف کے برخلاف تصویر کشی کررہے ہیں۔
بظاہر تو یہی لگا کہ ایم کیو ایم کےاپنے ہاں رینجرز کے چھاپے پر کچھ کنفیوژن سی ہے۔عہدیداران کے بیانات میں تال میل کی کمی تھی اور حقائق بھی ایک کیوایم کے موقف کی تردید کرتے نظر آرہے ہیں۔ رینجرز کے چھاپے میں پکڑے گئے ولی بابر قتل کے سزایافتہ مجرم فیصل موٹو، مختلف جرائم میں ملوث تیرہ تیرہ سالہ قید کے مجرم عبیداللہ عرف کے ٹو ، نادر الدین اور فرحان شبیر بھی ایم کیوایم کے قائد کے موقف کے برخلاف تصویر کشی کررہے ہیں۔ اگر متحدہ کا تعلق ان افراد سے نہیں تو آخر یہ لوگ نائن زیرو میں کیا کر رہے تھے؟ مان لیا کہ متحدہ کی قیادت ایسے افراد سے لاتعلق اور لاعلم ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو نائن زیرو میں رکھنے والا کون ہے؟ ان سب کا ایک ہی دن مرکز پر پایا جانا اور پھر اسی روز رینجرز کا چھاپہ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے یا کچھ اور؟؟ متحدہ کی قیادت کو اس نقطے پر بھی غور کرنا ہوگا۔
الطاف حسین کئی بار ‘چند’ لوگوں کا ذکر کرچکے ہیں، یہ بھی کہتے آئے ہیں کہ ‘چند’ لوگ من مانی کرتے ہیں، پارٹی کی نہیں سنتے۔ اب بھی انہوں نے یہی کہا کہ رابطہ کمیٹی مجھ سے قیادت واپس لے لے اور مجھے خدمت خلق فاونڈیشن میں کام کرنے دیا جائے، یہی نہیں بلکہ ماضی قریب میں الطاف بھائی انہی ‘چند’ لوگوں کی وجہ سے بار بار رابطہ کمیٹی بھی تحلیل کر چکے ہیں۔ حالیہ واقعے میں شاید انہی ‘چند’ لوگوں کی وجہ سے متحدہ کی قیادت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا وگرنہ کسی بھی اہم قومی مسئلے پر متحدہ اور اس کی پوری قیادت کے موقف میں ہم آہنگی مثالی رہی ہے۔ رینجرز کے کرنل طاہر نےالبتہ چھاپے کے بعد تمام تفصیلات ذرائع ابلاغ کے سامنے پورے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ پیش کیں۔ رینجرز کی بریفنگ کے مطابق تلاشی کے دوران ایسا اسلحہ ملا ہے جس کی پاکستان میں درآمد پر پابندی ہے تو آخر یہ اسلحہ کہاں سے آیا؟
موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جب ڈی جی رینجرز کراچی ہوا کرتے تھے تو انہوں نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے سامنے بابنگ دہل کہا تھا کہ کراچی کی تمام سیاسی جماعتوں میں مسلح جتھے ہیں جن کے ثبوت بھی ان کے پاس ہیں، کسی بھی جماعت نے ان سے ثبوت پیش کرنے کا نہیں کہا۔ قومی ایکشن پلان کے بعد کراچی آپریشن پر تمام جماعتیں متفق نظر آئیں، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یکسوئی دیکھتے ہوئے اب یوں لگ رہا ہے جیسے ہر پارٹی کو اپنی اپنی فکر لاحق ہو گئی ہے۔ باقی جماعتوں سے قطع نظر متحدہ کی پریشانی کی وجہ محض کراچی آپریشن نہیں، سینئر صحافی اور شفیق دوست روف کلاسرا کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں سکاٹ لینڈ یارڈ نے پاکستانی حکام کو مطالبات کی تحریری فہرست پیش کی تھی، جس میں تین لوگوں کے بارے معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا تھا، ان تینوں کے بارے مطلوبہ معلومات پاکستانی ایجنسیوں نے اکٹھی کر رکھی ہیں، اور یہ افراد متعلقہ حکام کی تحویل میں ہیں۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں یہ معلومات اہم ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ معلومات ابھی تک سکاٹ لینڈ یارڈ کے حوالے کیوں نہیں کی گئیں اور ایسا کب کیا جائے گا؟ عین ممکن ہے کہ اس مواد کو ‘حکام’ متحدہ کو دباو میں لاکر لین دین کے حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہوں اور شاید یہی وجہ ہے کہ رینجرز کے نائن زیرو پر چھاپے کے بعد متحدہ کے رد عمل میں وہ جان نہ تھی جو ماضی میں ایسے واقعات کے بعد دیکھی گئی ہے۔
رینجرز کے چھاپے کی خبر منظر عام پر آتے ہی اپوزیشن کا واک آوٹ یہ بتاتا ہے کہ کراچی آپریشن کے کپتان قائم علی شاہ اب آپریشن کے کماندار نہیں رہے۔ چھاپے کے بعد سے اب تک سندھ حکومت کی جانب سے ایک بھی بیان سامنے نہیں آیا، رہی بات وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی تو موصوف حسب ماضی شام ہوتے ہی کئی گھنٹوں بعد منظر عام پر آئے ۔ رینجزر چھاپے کو سینٹ انتخاب سے جوڑنا تو سمجھ میں نہیں آتا ہاں البتہ صولت مزرا کی موت کا پروانہ جاری کیا جانا بین السطورمتحدہ کے لیے ایک واضح پیغام ضرور ہے۔
کمپیوٹر سائنس کا طالب علم اور ایک سال سے متحدہ کے شعبہ نشر و اشاعت سے وابستہ بیس سالہ وقاص رینجرز کارروائی کے دوران نامعلوم فرد کی ٹی ٹی پستول کی گولی کی زد میں آیا اور جان کی بازی ہار گیا۔
رینجرز چھاپے کے دوران سب سے تکلیف دہ خبر وقاص علی شاہ کی ہلاکت کی ہے۔ کمپیوٹر سائنس کا طالب علم اور ایک سال سے متحدہ کے شعبہ نشر و اشاعت سے وابستہ بیس سالہ وقاص رینجرز کارروائی کے دوران نامعلوم فرد کی ٹی ٹی پستول کی گولی کی زد میں آیا اور جان کی بازی ہار گیا۔ رینجرز حکام کے مطابق وہ ایسا اسلحہ استعمال ہی نہیں کرتے جس سے وقاص کی ہلاکت ہوئی جبکہ متحدہ کہتی ہے کہ وقاص رینجرز حکام کی فائرنگ کی زد میں آیا۔سچ پوچھیں تو بس یہی اصل المیہ ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ وقاص کا تعلق نہ تو فیصل موٹو سے تھا اور نہ ہی عبید کے ٹو سے، اس کا تعلق ان ‘چند’ لوگوں سے بھی نہ تھا جنہوں نے ایسے لوگوں کی مہمان نوازی کی، وقاص ایسے بد قسمت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو واقعی کسی سیاسی جماعت کے نظریے سے متاثر ہو کر اسے اپنا نصب العین چن لیتے ہیں۔ اگلے ہفتے وقاص کی منگنی طے تھی، جوان بہنوں اور بزرگ ماں کے سینے کیسے دہک رہے ہوں گے اس کا تصور بھی محال ہے۔ ٹی وی چینلز پر نشر کی گئی فوٹیج میں رینجرز حکام کے ساتھ ساتھ نیلے رنگ کی قمیص میں ملبوس ایک شخص کے ہاتھ میں پستول دیکھا جا سکتا ہے لیکن معلوم نہیں کہ وقاص کو کونسی گولی لگی۔رینجرز ، حکومت اور متحدہ کو گولی چلانے والے اس ہاتھ کی نشاندہی کرنا ہو گی ورنہ وقاص کا قتل فریقین کے دامن پر سرخ رنگ جمائے رکھے گا۔ باقی بقول شخصے معاملہ یہیں تک رکتا دکھائی نہیں دے رہا اور یوں لگتا ہے کہ اب یہ بات دور تلک جائے گی۔