Categories
نقطۂ نظر

ریاست مولوی عبدالعزیز سے ڈرتی ہے

چوہدری نثارکی جانب سے مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے سینیٹ میں دیے جانے والے بیان کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف درج کی جانے والی دو ایف آئی آرز کی نقول جمع کروائی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے 30 دسمبر کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبد العزیز کے بارے میں کہا تھا کہ “مولانا عبد العزیز کے خلاف تو کوئی کیس ہی نہیں ہے تو پھرپولیس مولانا عبدالعزیز کو کب تک پکڑ کر رکھ سکتی ہے”۔ مولانا عبد العزیز کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ وہ نہ صرف دہشت گردوں کا حامی ہے بلکہ خود بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں شامل رہا ہے۔ لال مسجد کے یہ شدت پسند مولانا عبد العزیز اپنے خلاف قائم مقدمے میں ضمانت کروانے سے سرعام انکار کرتے رہے ہیں۔ پوری سول سوسائٹی مولانا عبد العزیز کی گرفتاری کے لیے احتجاج کر رہی ہے لیکن وہ پوری آزادی کے ساتھ سول سوسائٹی کے لوگوں کو دھمکانے اور دہشت گرد تنظیموں اور ان کے مذہبی نظریات کی حمایت کرنے میں مصروف ہے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں مذہبی جنون اور بربریت کا پرچار بلا خوف و خطر کیا جاتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں یہاں آپریشن ہوا جس میں فوج کے کئی جوان ان دہشت گردوں کا نشانہ بنے، کئی گھر اجڑ گئے لیکن قاتل آج تک دندناتے پھر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان شہید جوانوں کی شہادت حکمرانوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں۔

 

چوہدری نثارکی جانب سے مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے سینیٹ میں دیے جانے والے بیان کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف درج کی جانے والی دو ایف آئی آرز کی نقول جمع کروائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ایک ایف آئی آر خود وزارت داخلہ کی جانب سے اکتوبر 2014ء میں درج کروائی گئی تھی۔ بعدمیں پولیس کی درخواست پر عدالت نے مولاناعبدالعزیز کو اشتہاری قرار دیا، جمع کروائے گئے دستاویزی ثبوت میں پولیس کا وہ بیان بھی شامل ہے جو عدالت میں عبدالعزیز کی روپوشی کے حوالے سے دیا گیا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ سینیٹ میں ان اشتہارات کی کاپی بھی جمع کروائی گئی جو لال مسجد کے سابق خطیب کو اشتہاری قرار دینے کے لیے اخبارات میں شائع ہوئے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ پی ٹی اے کا وہ خط بھی سینیٹ میں جمع کروایا گیا ہے جس میں تمام موبائل کمپنیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ “جمعے کو خطبے کے وقت لال مسجد کے اردگرد کے علاقوں میں موبائل سروس بند رکھیں”۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سارے دستاویزی ثبوت موجود تھے تو پھر ان سے لاعلمی کا اظہار کیوں کیا گیا۔ “کیا وزیر داخلہ لاعلم تھے، ڈرے ہوئے تھے یا پھر مولانا عبدالعزیز کے ساتھ ملے ہوئے تھے؟”

 

مولانا عبدالعزیز نے دسمبر 2015ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے میں 150 کے قریب بچوں کے قتل عام کی مذمت سے گریز کیا تھا جس کے بعد پاکستانی قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے جمع کروائیں گئی ان تمام دستاویزات کو وزارت داخلہ بھجوا دیا ہےاور ساتھ ہی وزیر داخلہ کی 30 دسمبر والی تقریر کی کاپی بھی بھیجی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیر داخلہ سے پوچھا ہے کہ آپ کے بیان اور ان دستاویزات میں موجود حقائق میں بڑا تضاد ہے، اس تضاد کی وضاحت کی جائے۔ نومبر 2015ء میں وفاقی حکومت نے قانون نافد کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ ان کی سرگرمیاں امن وامان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ اس سلسلے میں سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر کہتے ہیں کہ “مولانا عبدالعزیز کئی بار حکومت کی رٹ چیلنج کر چکے ہیں، انہیں طالبان اپنی مذاکراتی کمیٹی کا رکن نامزد کر چکے ہیں، اس کے بعد بھی چوہدری نثار اگر یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ گچھ یا ان کے خلاف تحقیقات یا کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں تو یہ غیر ذمہ دارنہ رویہ ہے”۔ چوہدری نثار کا مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی واضح اور شفاف پالیسی ہے، مولانا عبدالعزیز سے متعلق بہت غلط بیانی کی گئی، تمام ریکارڈ قوم اور سینیٹ کے سامنے رکھوں گا۔

 

مولانا عبدالعزیز نے دسمبر 2015ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے میں 150 کے قریب بچوں کے قتل عام کی مذمت سے گریز کیا تھا جس کے بعد پاکستانی قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا نے معافی مانگی تو حکومت نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔ اسی سلسلے میں لال مسجد کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران سماجی کارکنان کو لال مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے دھمکایا گیا تھا۔ چند مہینے پہلے پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے وزرات داخلہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے انتہاپسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ تعلقات جڑواں شہروں کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت اس معاملے پر پس و پیش سے کام کیوں لے رہی ہے؟ سوال یہ ہے کہ لال مسجد کے عبدالعزیز ریاست کی طاقت سے خوفزدہ کیوں نہیں؟ جواب سیدھا سیدھا ہے کہ مولانا عبدالعزیز نہیں ڈریں گے کیوں کہ ریاست ڈر گئی ہے، ریاست کے عوام سہم گئے ہیں، اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان سینکڑوں افراد کے قاتلوں کے مقدمات کی سماعت کے تصور سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں جبکہ ریاستی ادارے اپنی حفاظت میں مصروف ہیں۔ سینکڑوں ایسے مدارس آج بھی بے دھڑک چلائے جا رہے ہیں جن کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی رپورٹیں خود وزارت داخلہ اور خفیہ اداروں نے جاری کی ہیں۔

 

مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں جذبہ جہاد کے شوق کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ جہاد میں اگر حالات کا تقاضا ہو تو پھر پچھے ہٹنا جرم نہیں، حکومت کی زمین پر مساجد اور مدارس بنانا جائز ہے۔ لال مسجد کے زیر سایہ مزید 28 مدارس کام کر رہے ہیں۔ 550 ملازمین کی تنخواہوں پر ماہانہ 28 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ 28 مدارس ملک بھر میں کام کر رہے ہیں اور ان کے اساتذہ، معلمات اور دیگر عملے کی تنخواہیں تقریباً 28 لاکھ روپے بنتی ہیں جو باقاعدگی سے دی جارہی ہیں لیکن مولانا عبدالعزیز نے اپنے ذرائع آمدن نہیں بتائے۔ ایک طرف صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردی کا پرچار کرنے والوں کو ہر ماہ تنخواہ مل جاتی ہےجبکہ دوسری طرف بہت سارے سرکاری اداروں میں کئی کئی ماہ تنخواہ نہیں ملتی ہے، جس کی ایک مثال “پاکستان اسٹیل مل” ہے۔

 

باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے سے لاتعلق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کچھ دن پہلے ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم حقیقتاً دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیت چکے ہیں
باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے سے لاتعلق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کچھ دن پہلے ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم حقیقتاً دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیت چکے ہیں مگر سیکورٹی اداروں پر بے جا تنقید سے ہمارا مورال گر رہا ہے یوں ہم نفسیاتی محاذ پر جنگ ہار رہے ہیں۔ یہ کیسی فتح ہے جس کا ذکر آرمی چیف کی طرف سے ابھی تک نہیں کیا گیا۔ یہ کیسی فتح ہے جس میں دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم شہریوں کے قتل پر عوام سے یہ شکوہ کیا جائے کہ تم لاشوں پر کیوں ماتم کر رہے ہو؟ جہاں تک نفسیاتی محاذ پر پسپائی کا تعلق ہے، تو کیا جب مولانا عبدالعزیز ریاست جمہوریت اور فوج کے خلاف زہر اگلتا ہے، اس وقت ہم نفسیاتی محاذ پر کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں؟ جب جماعت اسلامی کا سابق امیرمنور حسن پاکستانی فوجی کو شہید ماننے سے انکار کر دیتا ہے اس وقت بھی نفسیاتی محاذ پر ہمیں کوئی اثر نہیں پڑتا، داعش کے گروہ جب زیر زمیں سرگرمیوں میں اپنا نیٹ ورک وسیع کر رہے ہوتے ہیں تب بھی اور چارسدہ جیسے سانحات ہوتے ہیں تب بھی نفسیاتی محاذ پر ہم صحت مند ہوتے ہیں۔ مگرجب عوام اپنے پیاروں کے غم میں ماتم کرتے ہیں اور صرف یہ سوال کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ تو اس سوال کے پوچھے جانے سے ہمارا یہ نفسیاتی محاذ کمزور پڑ جاتا ہے۔

 

لگتا ہے آج کل چوہدری نثار کے ستارے گردش میں ہیں، ایک طرف ان پر لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی کے لئے دباو بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جائے، سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمات کے ثبوت سینیٹ میں پیش کیے جانے کے بعد سینیٹرز نے چوہدری نثار پر سخت تنقید کی کہ وزیر داخلہ نے مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے ایوان کو گمراہ کیا ہے۔ لال مسجدکے معاملے میں ہر پیش رفت حکمرانوں کی لاچارگی، ابہام اور نامرادی کی غمازی ہی کرتی ہے۔ ان تمام معاملات پر وزیر داخلہ کے بیانات نہ صرف متضاد ہیں بلکہ دہشت گردوں کےلیے ان کی “ہمدردی” کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شاید ان کے مشورے پر ہی مولانا عبدالعزیز نے عدالت میں حاضر ہوکر اپنی ضمانت منظور کروائی ہے۔ اپنی ضمانت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے مولاناعبدالعزیز نے چارسدہ اوراے پی ایس واقعہ کی شدید مذمت کی، ساتھ ہی انہوں نے پرویز مشرف کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پرویز مشرف سمیت لال مسجد کے تمام کرداروں کو معاف کرنے کا اعلان پریس کانفرنس کے ذریعے کریں گے۔

 

مولانا عبدالعزیز جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانتا ہے، وہ اپنی ضمانت کے لیے عدالت میں بھی حاضر ہو جاتا ہے اور اپنے شدید مخالف پرویز مشرف سمیت لال مسجد کے تمام کرداروں کو معاف کرنے کی بات کر رہا ہے۔ ایسا کیوں؟ ایسا شاید اس لیے ہے کہ مولانا عبدالعزیز کے ہمدرد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنے لیے کافی مشکلات بڑھا لی ہیں، آنے والے دنوں میں یقیناً ان کے مخالف ان کے لیے مزید مشکلات بڑھانے کی کوشش کریں گے، ان کو ابھی سینٹ کو بھی جواب دینا ہے جہاں ان کے سیاسی مخالفین کی اکثریت ہے۔ وزیراعظم نو از شریف کو اگر اپنے غیر ملکی دوروں اور نمائشی منصوبوں کے افتتاح سے فرصت مل جائے تو اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار اور مولانا عبدالعزیز کے گٹھ جوڑ پر بھی ایک نظر ڈال لیں تو ان کی حکومت کے لیے بہتر ہوگا۔
Categories
نقطۂ نظر

مجلس احرار سے مولوی عبدالعزیز تک

مولوی محمد علی جالندھری نے 15فروری 1953ءکو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجلس احرار پاکستان کے قیام کی مخالف تھی، اس جماعت کے رہنما تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لیے پلیدستان کالفظ استعمال کرتے رہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے عوامی بیانات و تقاریر پر بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے ؟ان کے ایک ایک لفظ کو حب الوطنی کی چھلنی میں سے انتہائی باریک بینی سے گزارا جاتا ہے جب کہ دوسری طر ف نام نہاد دین فروشوں کے بدترین اور متنازعہ ترین بیانات بھی عوامی احتجاج کو اکسانے میں ناکام رہتے ہیں۔ کانگریس کا روپیہ حلا ل کرنے کی خاطر مجلس احرار اسلام کے صدر مولانا مظہر علی اظہر نے بھرے مجمعے میں قائد اعظم کو “کافرا عظم “کہا تھا اس پر اُس وقت بھی کسی کو ایسے بدزبانوں کا احتساب کرنے کی جرات نہیں ہوئی حالانکہ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ محمد علی جناح ؒ کے سیاسی ہم عصر اور حریف گاندھی جی بھی قائد اعظم ؒ کو اد ب اور احترام کی وجہ سے قائد اعظم ہی کہتے اور لکھتے تھے۔
جسٹس منیر انکوائری رپورٹ 1953ء کے مطابق ابواعلیٰ مودودی صاحب سے فاضل جج نے جب یہ سوال کیا کہ اگر ہندوستان سرکار مسلمانوں پر منوشاستر کی شریعت نافذ کرنے کی کوشش کرے تو ان کو اس کا حق ہو گا یانہیں ؟ تو مولوی صاحب نے تاریخی جواب دیا کہ” یقیناًمجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگاکہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے ۔ان پر منو شاستر کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیے جائیں ۔”(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 245)۔پھر فاضل جج احراری مولویوں کا وطیرہ بیان کرتے ہیں ۔” مولوی محمد علی جالندھری نے 15فروری 1953ءکو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجلس احرار پاکستان کے قیام کی مخالف تھی، اس جماعت کے رہنما تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لیے پلیدستان کالفظ استعمال کرتے رہے۔ سّید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جسے احرارنے مجبوراً قبول کیا ہے ۔”(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 274)۔کیا آج تک ان دین فروشوں، ملاؤں اور مولویوں نے اپنے ملک دشمن اور نفرت آمیز بیانات پر معافی مانگی ہے ؟
گئے وقتوں میں انہی مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے فرمایا “خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے ۔
تاریخ کے اوراق اور آج کا عہد گواہ ہے کہ ان دین فروشوں کی بدزبانیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ان حضرات کی زبان درازیوں پرکسی کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی یا سزا دینے کی جرأ ت کبھی نہیں ہو ئی۔ آج بھی شرپسند مذہبی جنونی سرعام اپنے مخالف فریق کے خلاف بد زبانی اور الزام تراشی کرتے ہیں ،مخالف فریق کی ہربات، کامیابی یا سبقت کویہودی و قادیانی سازش قرار دیتے ہیں ، بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے جلسے جلوسوں میں جھوٹ بولتے ہیں لیکن حدیث کے مطابق الزام تراشی اور بہتان تراشی کرنے والوں پرلعنت بھیجنے کی بجائے عوام انہیں سر آنکھوں پر بٹھا تے ہیں اور ان کے دعووں کے ثبوت مانگنے کی بجائے ان کی پرستش کرتے ہیں ۔
کافر اعظم کہنے والوں کی باقیات میں سے ایک ادنی ٰ خطیب منور حسن ببانگِ دہل فرماتے ہیں کہ”طالبان سے لڑ کر مرنے والے پاکستانی فوجی شہید نہیں ہیں”۔اسی پر بس نہیں سابق امیر جماعت اسلامی مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہوکر ہرزہ سرائی فرماتے ہیں کہ “ڈنکے کی چوٹ پر ، بلا خوف و تردید یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کواگر عام نہ کیا گیا تو محض انتخابی سیاست اور جمہوری سیاست کے ذریعے موجودہ حالات پر قابوپایا نہیں جاسکتا۔” شہادت کے رتبے کو پامال کرنے والے مولوی فضل الرحمن نے کہا کہ” اگر ڈرون حملے میں کتا بھی مرجائے تو وہ بھی شہید ہے” ۔افسوس یہ یاوہ گوئی بھی کسی غیرت مند دینی و سیاسی اور انتظامی جماعت کو جگا نہیں سکی ۔ گئے وقتوں میں انہی مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے فرمایا “خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے ۔” یہ تو ابھی کل ہی کی بات ہے کہ جب پشاور واقعہ پر مولوی عبدالعزیز (لال مسجد کی سیاہ برقعہ پوش خواتین کو جہاد کی ترغیب دینے والے) نے علی الاعلان بغیر کسی تردید کے متعد بار ہرزہ سرائی کی کہ “میں پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام کی مذمت نہیں کرتا”۔
طالبان علاالعلان پاکستانی چینلوں پر یہ کہتے رہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور آئین کو قبول نہیں کرتے لیکن دہشت گردوں کے ترجمانوں کی تقاریر پر ٹویٹ کرنے اور پابندیاں لگانے کی بجائے ان کی ناز برداریاں کی گئیں ۔
تبدیلی کی داعی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پر جوش قائد جناب عمران خان کے تہلکہ خیز بیانات کے آج بھی پاکستانی اخبارات گواہ ہیں جن میں وہ پچاس ہزار پاکستانیوں کی لاشوں کامنہ چڑاتے ہوئے تسلی دیتے رہےکہ” طالبان کے نظریات سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں “۔حیرت ہے کہ ان ملک دشمن بیانات و تقاریرپر کسی کی حرمت پر حرف نہیں آیا۔ موجودہ حکم ران مسلم لیگ نواز کے شریف برادران بھی ایک زمانے میں طالبان سے پیار کی پینگیں بڑھاتے رہے ہیں۔ وہ جنہوں نے پاکستانی عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹا اس کے جواب میں ان دشمنانِ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی بجائے اچھے اور برے طالبان کی رٹ لگائی گئی ۔
8سال تک خون کی ہولی کھیلنے والوں نے اپنے قول اور عمل سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ملک دشمن ہیں بلکہ اپنی خود ساختہ شریعت کے نفاذ میں کوئی بھی رکاوٹ قبول نہیں کریں گے۔ طالبان علاالعلان پاکستانی چینلوں پر یہ کہتے رہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور آئین کو قبول نہیں کرتے لیکن دہشت گردوں کے ترجمانوں کی تقاریر پر ٹویٹ کرنے اور پابندیاں لگانے کی بجائے ان کی ناز برداریاں کی گئیں ۔بے گناہ عوام کو ان بد بختوں کے حوالے کر دیا گیا جو تقریباً 10سال تک ان کا قتل و عام کرتے رہے بلکہ نہایت افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ آج بھی ان ظالمان کے حامیوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتاہے اوران کے حمایتیوں اور ہمدردوں کو جلسے جلوس اور اجتماعات کرنے کے اجازت نامے جاری کئے جاتے ہیں۔
انہی انتہا پسند ملاؤں اور مذہبی جنونیوں کے بیانات و تقاریر و خطبات نے کئی واقعات میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کی پوری کی پوری بستیاں جلاڈالیں ،حتی ٰ کہ مخالف فرقے کی مساجد ، امام بارگاہیں ، خانقاہیں اور دربار تک ان شدت پسندوں نے جلا کر بھسم کر ڈالے لیکن مجال ہے کسی کی عزت اور شان میں فرق آیا ہو ۔فرقہ وارانہ بیانات کے زہر آلود اثرات آج ہر سماجی شعبے میں دکھائی دیتے ہیں۔سکولوں، مسجدوں ، مدرسوں ، بازاروں ، ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں مسلکی و مذہبی تفریق اور طالبان کے لیے نرم دلی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ طالبان اور مذہبی دہشت گردوں کے خلاف فیصلے دینے والے ججوںکو بھی جان بچانے کے لیے بیرون ملک فرار ہونا پڑتا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے ریاستی اہلکاروں اور اداروں کی نفسیات تک مسجدوں ، مدرسوں کے منبر و محراب سے بلند ہونے والے بیانات و خطبات سے متعصب اور آلود ہ ہو چکی ہے ۔ایسےاشتعال انگیزبیانات اور وعظ جنہیں سُن کر سیکورٹی گارڈ ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سر عام قتل کر دیا، کیا یہ بیانات دین فروشی اور قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتے؟کیا ایسے بیانات ملک دشمنی نہیں جن کی وجہ سے ریاست کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس کا اپنا محافظ کسی خبیث مولوی کی تقریر سن کر محض الزام کی بنیادپر موت کے گھاٹ اتار دیتاہے لیکن کسی ریاستی ادارے کی حرمت پر فرق نہیں آتا۔
ایسےاشتعال انگیزبیانات اور وعظ جنہیں سُن کر سیکورٹی گارڈ ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سر عام قتل کر دیا، کیا یہ بیانات دین فروشی اور قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتے؟
اگرچہ یہ جبہ و ستار پوش ہمارے معاشرے میں بہت معزز ہیں ہر کوئی ان کی تشریف آوری پربصد احترام کھڑا ہو جاتاہےلیکن محرم الحرام کے مقدس مہینے میں انہی زبان درازوں کی زبان بندی ہوجاتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ یہ علماء جن کی زبان سے نکلنے والے اشتعال انگیز بیانات سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں وہ قابل تعزیر ہیں مگر پھت بھی ان زہریلی زبانوں سے نکلنے والے بیانات پر ریاست کی عزت پر آنچ نہیں آتی۔
کیا مذہبی انتہاپسندی ناسورنہیں بن چکی ؟ انتہا پسندوں کے نظریات اور خیالات ہر بڑے اخبارمیں شہ سرخیوں کی صورت میں چھپتے ہیں۔ یہی وہ نظریات ہیں جو اسی کی دہائی میں بوئے گئے اور آج ہم انہی کی فصل کاٹ رہے ہیں ۔آج ملک کے طول وعرض میں قائم مسجدوں کے منبر،محراب اور داخلی دروازوں پر مختلف فرقوں کے نام جلی حروف میں لکھے دکھائی دیتے ہیں۔خطرہ توآستین کے ان باریش سانپوں سے ہے جو بربریت کو سیاسی و اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں، جن کے فرقہ وارانہ بیانات اور تقریریں سن کر ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خون کا پیاسہ ہوکردوسرے کو “جہنم واصل” کر رہاہے لیکن تین دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری اس خون ریزی پر نہ کسی ملکی ادارے کا وقار مجروح ہوا ہے اورنہ ہی غیرت جاگی ہے۔ شاید اس ملک کو مذہب کے نام پر پلیدستان کہنے اور قائد اعظم کو کافراعظم کہنے کی کوئی سزا موجود نہیں۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]
Cartoon by: Sabir Nazar