<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عشق رسول Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/عشق-رسول/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 02:34:47 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>عشق رسول Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/عشق-رسول/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>عشق رسول اور بد اخلاقی کا اجتماع کیسے ممکن ہوا؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%85/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈاکٹر عرفان شہزاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 05 Apr 2016 07:56:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Barelvi Sect]]></category>
		<category><![CDATA[بریلوی مسلک]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[عشق رسول]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16003</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">معاشرے میں عمومًا پائی جانے والی بد اخلاقی کے ساتھ عشق رسول کے جو مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں اس پر اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ آخر کیسے ممکن ہوا کہ عشقِ رسول اور بد اخلاقی ایک جگہ کیسے اکٹھے ہو گئے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%85/">عشق رسول اور بد اخلاقی کا اجتماع کیسے ممکن ہوا؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="leftpullquote">معاشرے میں عمومًا پائی جانے والی بد اخلاقی کے ساتھ عشق رسول کے جو مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں اس پر اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ آخر کیسے ممکن ہوا کہ عشقِ رسول اور بد اخلاقی ایک جگہ کیسے اکٹھے ہو گئے۔</div>
<div class="urdutext">اسلام آباد میں مارچ 2016 کے دوران ہونے والے دھرنے میں خصوصاً اور معاشرے میں عمومًا پائی جانے والی بد اخلاقی کے ساتھ عشق رسول کے جو مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں اس پر اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ آخر کیسے ممکن ہوا کہ عشقِ رسول اور بد اخلاقی ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔ دودھ اور دوائیوں میں ملاوٹ کرنے والے میلاد کی محفلیں سجانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، بھائی بہنوں کی جائیداد دبا لینے والے نعت شریف کی محفلیں لگاتے ہیں اور نعتیں سن کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور آبدیدہ ہونے کے بعد بھی زمین کا قبضہ نہیں چھوڑتے۔ ‘اولیا’ء، ‘قطب’، ‘ابدال’ اور عوام، ماں بہن کی گالیوں کے اول و آخر نعرہ رسالت لگاتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس نبی ﷺ کے اعلٰی اخلاق کی گواہی ان کے دشمن بھی دیتے تھے، جن کے اخلاق کی کی عمدگی کا اعتراف خالق کائنات نے خود فرمایا، اور جن کا اسوہ حسنہ ان کے ماننے والوں کے لیے کامیابی اور نجات کا واحد ذریعہ قرار دیا گیا۔ ان کے نام لیوا ان کے ہی نام پر یہ سب بھی کر سکتے ہیں! لیکن اگر اس خاص مزاج کے تشکیلی عوامل جان لیے جائیں تو حیرت ختم ہو جائے گی، البتہ افسوس بلکہ صد افسوس اپنی جگہ بہر حال باقی رہے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بریلوی طبقے میں عشق رسول، ایک خاص مابعد الطبعیاتی تصور کا حامل ہے۔ آیاتِ قرانی اور احادیث کی ادھوری اور غلط ترجمانی، خصوصًا اولیاء اور مشائخ کے خود ساختہ قصوں اور خوابوں اور الہام کے ذریعے عشقِ رسول کا ایک خاص مفہوم اور اس کے مضمرات عوام کو ہر بریلوی مسجد اور خانقاہ سے باور کرائے جاتے ہیں۔ عشق رسول کی اس خاص تعبیر کے مطابق دنیا اور آخرت کی نجات کے لیے صرف اور صرف عشق رسول کا ہونا کافی ہے۔ شریعت، مسائل، اعمال و اخلاق کی حیثیت ثانوی ہی نہیں بلکہ محض اضافی ہے۔ مزید یہ کہ عشقِ رسول کے چند مظاہر مقرر کر دئیے گئے ہیں جن کے بارے میں اگر غور کیا جائے تو سب کے سب مولوی صاحب کی شخصیت، ان کی تشہیر اور ان کے معاش کے گرد گھومتے ہیں۔ مثلاً مساجد کی سجاوٹ، میلاد و نعت کی محفلیں اور ان کے لیے کھانے کے انتظامات، جلسے جلوس تقاریر، نعرے اور اب دھرنے بھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">عشقِ رسول کے چند مظاہر مقرر کر دئیے گئے ہیں جن کے بارے میں اگر غور کیا جائے تو سب کے سب مولوی صاحب کی شخصیت، ان کی تشہیر اور ان کے معاش کے گرد گھومتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">عشق رسول کا ایک لازمی تقاضا، اور سب سے بڑا مظہر اس تصور کو نا ماننے والوں سے نفرت اور انہیں گستاخِ رسول سمجھنا ہے۔ اب جو جتنا اس خاص تصورِ عشقِ رسول کے عملی مظاہر میں پرجوش ہو گا، وہ اتنا بڑا عاشق رسول سمجھا جائے گا۔ اس کی نجات کی ضمانت حلفاً دی جاتی ہے۔ یعنی عشق ِرسول ایک ایسا اکسیر ہے جس کے بعد کوئی گناہ، کوئی بد اخلاقی آپ کی نجات کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ عشقِ رسول کی سند بھی چونکہ مولوی اور پیر صاحب دیتے ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ ان کو خوش کرنا اور خوش رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ عشقِ رسول کی اسناد بانٹنے اور آخرت کے لافانی فوائد کے بدلے وہ مریدین سے دنیا کے فانی فوائد حاصل کرتے ہیں اور بے حد کرتے ہیں۔ یہاں تک کے بھوکے مفلس مریدوں سے بھی نذرانے وصول کرتے ہیں اور اپنی خاندان اور اولاد کے لیے شاہانہ زندگی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ آپ کسی بھی مستحکم پیر صاحب کے اثاثہ جات اور ان کے ذرائع آمدن کو دیکھ لیجیے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بریلوی طبقے کے معتبر علماء بریلوی مدارس اور خانقاہوں میں پلنے والے اس کرادر اور ذہنیت کے بارے میں عموماً کچھ کہنے سے گریز کرتے ہیں وجہ یہی ہے کہ عوام میں اسلام کی یہی تعبیر معروف ہے اور اس دھارے کے خلاف بات کرنا خود کو مطعون کرانے کے مترادف ہے۔ اب ان میں سے جو یہ ہمت کرتے ہیں ان کو اس روایتی فکر کے حاملین کی طرف شدید طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے دیوبند اور اہل حدیث کے معتبر اور معتدل علماء اپنے مسالک کے غلط رویوں کے بارے میں عمومًا لب کشائی کرنا پسند نہیں کرتے۔ ہم نے دیکھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ دھرنے میں ہونے والی کھلی فحش گفتگو اور بد اخلاقی کے باوجود معتدل اور معتبر بریلوی علماء نے زبان بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">بریلوی طبقے کے معتبر علماء بریلوی مدارس اور خانقاہوں میں پلنے والے اس کرادر اور ذہنیت کے بارے میں عمومًا کچھ کہنے سے گریز کرتے ہیں</div>
<div class="urdutext">عوام میں پائے جانے والے عشقِ رسول پر مبنی اس غلط دینی تعبیر کی جڑیں صدیوں پرانی بعض صوفیاء کی روایت سے چلی آتی ہیں، اس کو تبدیل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مستند علماء کرام شہادتِ حق کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سامنے آئیں اور عوام کو مخاطب کریں۔ علمی مجالس منعقد کی جائیں جو غیر علمی دینی مجالس کی جگہ لے سکیں۔ اس طرح عوام کو قرآن اور سنت کے درست اور مستند ماخذ سے روشناس کرائیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حکومت کو بھی چاہیے کہ مصلحت کی چادر کو طے کرکے رکھ دے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عشقِ رسول کے حد سے بڑھتے مظاہر کو حد میں رکھنے کے لیے قانون کے بے لاگ نفاذ کی تاکید کرے اور اس کے لیے پولیس کی بھی مناسب ذہنی تربیت بھی کرے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%85/">عشق رسول اور بد اخلاقی کا اجتماع کیسے ممکن ہوا؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خداوندا یہ تیرے سادہ لوح بندے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[جاذب رومی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 05 Mar 2016 08:10:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Mumtaz Qadri]]></category>
		<category><![CDATA[عشق رسول]]></category>
		<category><![CDATA[ممتاز قادری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15520</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ممتاز قادری کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب یہ اللہ کا معاملہ ہے". میں نے پوچھا کیا یہی اصول سلمان تاثیر پر لاگو نہیں ہوتا</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/">خداوندا یہ تیرے سادہ لوح بندے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">میرے ہاتھ کی سختی آئی تھی کہ جسے احمد کمال (فرضی نام) کے ہاتھ میں دے بیٹھا۔ ممتاز قادری کے سچے عاشق چار دن سے میری پوسٹیں فیس بک پہ پڑھ رہے تھے لیکن خاموش تھے کہ ٹائپنگ سے انہیں چڑ ہے اور شائد یہ بھی سوچا ہو کہ اگلا منہ متھے تو لگتا ہی ہے تو گلے لگ کے گلہ کر لیں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">“ممتاز قادری کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب یہ اللہ کا معاملہ ہے”. میں نے پوچھا کیا یہی اصول سلمان تاثیر پر لاگو نہیں ہوتا</div>
<div class="urdutext">ہاتھ ملانا کیا تھا، دست درازی تھی۔ مٹھی میں انگلیاں بھینچ کر یلکخت اپنی طرف جو کھینچا تو بدن کے ہالے کی حد پار کر آئے۔ آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں تو ان کے دیکھنے کا انداز غیر مانوس معلوم ہوا۔ صورتحال ابھی غیر واضح تھی کہ ایک سپاٹ آواز سماعت سے ٹکرائی۔ “ممتاز قادری کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب یہ اللہ کا معاملہ ہے”. میں نے پوچھا کیا یہی اصول سلمان تاثیر پر لاگو نہیں ہوتا کہ وہ بھی اللہ ہی کے پاس ہیں”۔ انہوں نے لہجے کو مزید کرخت کر لیا اور ثابت کرنے لگے کہ سلمان تاثیر گستاخِ رسول تھا اور اس کا قتل بالکل جائز تھا۔ ان کی تشدد مائل نگاہوں اور سنسنی خیز اداؤں کے آگے میرے فیس بکی دلائل یکے بعد دیگرے دم توڑتے گئے اور کچھ ہی دیر میں میں ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پچھلی عید قربان کے موقع پر بھی میں ایک ایسی ہی نازک صورتحال سے دو چار ہوا تھا جب دوستوں کے بیچ سرِ بازار بیٹھا ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران بکروں کی ٹھوڑی کے بالوں کے لیے نادانستگی میں ڈاڑھی کا لفظ استعمال کر گیا، جسے شعائرِ اسلام کی تضحیک قرار دے کر ایک باریش عزیز ایسے بپھرے کہ “میں بھی سہم گیا انہیں خونخوار دیکھ کر”۔ رمشا میسح والا واقعہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا جس نے نعت کا لفظ لکھتے ہوئے “ن” کا نقطہ “ع’ کے اوپر لکھ دیا تو نوبت اس معصوم کا گھر جلانے تک جا پہنچی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حامیانِ “عشق گردی” فرماتے ہیں کہ یہ ‘عشق’ کے ‘معاملات’ ہیں ان میں عذر و جواز، عقل و فہم، قانون و انصاف اور وضاحت و شہادت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے۔ لیکن جب میں انہی “با خدا دیوانہ و با مصطفی ہوشیار” کے نعرے لگانے والے عاشقان و دیوانگان کو اپنی ذات کے تحفظ کے لیے اٹینشن ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو الجھ جاتا ہوں کہ یہ کون سی محبت ہے جس میں سب کچھ دوسروں کے ساتھ ہی جائز ہوتا ہے. اور اگر اپنی ذات کا سوال آ جائے تو ساری گنجائشیں پیدا ہو جاتی ہیں. وہ حنیف قریشی جو منبر پر اچھل اچھل کر قانون ہاتھ میں لینے اور گولی کی زبان میں بات کرنے کے دعوے کر رہے تھے، جب قانون کی گرفت میں آنے لگے تو حلفیہ بیان لکھ گئے کہ ان کا ممتاز قادری سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ہمیشہ محبت کا درس دیتے اور دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">آج جب بحث کے دوران ایک آدھ بار دل میں خیال آیا کہ اپنے عاشق رسول بھائی کو کھری کھری سنا دیں تو یہ سوچ کر چپ ہو رہے کہ جو کچھ طالبان اور داعش لا الہٰ الا اللہ کے نام پر کرتے ہیں، وہی سب یہ عشاق محمد الرسول اللہ کے نام پر کر گزرتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">میرا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے کہ 2010 میں لاہور کے ایک بازار کے تاجران آسیہ بی بی کی حمایت پر سلمان تاثیر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کیونکہ گورنر نے آسیہ بی بی کو معافی دلوانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا. لیکن علماء اور عوام کے نزدیک شانِ رسالت میں گستاخی ایسا جرم ہے کہ جس کے ارتکاب کے بعد وضاحت یا معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی (اور جرم کی تصدیق کا معاملہ تو ویسے ہی غیر ضروری چیز ہے)۔ ادھر بازار میں لٹکائے گئے بینرز میں سے ایک پر انتہائی گستاخانہ جملہ لکھا ہوا تھا۔ غلطی کتابت کی تھی. جملہ یوں لکھا جانا چاہیے تھا کہ ہم “رسول پاک کی ذاتِ اقدس کی توہین کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ لیکن فقرے میں لفظ “کی” کی تکرار کے باعث لکھنے والا چوک گیا تھا اور فقرے میں سے “توہین کی” کے الفاظ حذف ہو گئے. تاجران نے بینر کو بغیر پڑھے آویزاں کر دیا۔ کسی وکیل کے نشاندہی پر جب تاجروں کے علم میں یہ معاملہ آیا تو انہوں نے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا۔ بس چپ کر کے بینر اتار دیا اور زور و شور سے نعرے لگانے لگے “گستاخِ رسول کی سزا، سر تن سے جدا”. چند دن بعد گورنر تاثیر کو قتل کر دیا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سو آج جب بحث کے دوران ایک آدھ بار دل میں خیال آیا کہ اپنے احمد کمال کو کھری کھری سنا دیں تو یہ سوچ کر چپ ہو رہے کہ جو کچھ طالبان اور داعش لا الہٰ الا اللہ کے نام پر کرتے ہیں، وہی سب یہ عشاق محمد الرسول اللہ کے نام پر کر گزرتے ہیں۔ اور پھر ہم کونسا جنید جمشید جیسے باریش، ٹخنوں سے اونچی شلوار والے ہیں کہ ہماری معافی قبول ہو گی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/">خداوندا یہ تیرے سادہ لوح بندے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گمراہ کن صورتیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b5%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d9%88%d8%a2%d9%84%db%81-%d9%88%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b5%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d9%88%d8%a2%d9%84%db%81-%d9%88%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[توصیف احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 16 Jan 2016 10:49:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Blasphemy Law]]></category>
		<category><![CDATA[Mumtaz Qadri]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[عشق رسول]]></category>
		<category><![CDATA[ممتاز قادری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14558</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اگر ممتاز قادری اور علم دین جیسے افراد عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار ہیں تو میرے خیال میں ہم سے یقیناً کہیں کوئی بھول ہوئی ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b5%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d9%88%d8%a2%d9%84%db%81-%d9%88%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7/">عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گمراہ کن صورتیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">اگر ممتاز قادری اور علم دین جیسے افراد عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار ہیں تو میرے خیال میں ہم سے یقیناً کہیں کوئی بھول ہوئی ہے، ایک ایسے رسول سے جسے رحمت العالمین کہا جاتا ہے، جن سے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی کو گزند نہیں پہنچائی، کسی کی جان نہیں لی تو پھر ان کے عشق کا تقاضا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی جان ان سے عشق کے نام پر لے لی جائے یا اپنی جان قربان کر دی جائے؟ حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اگر ایک مخصوص حلیہ، ایک مخصوص شباہت اور ایک مخصوص تنگ نظری ہی مقصود ہے تو پھر تمام زمانوں، تمام علاقوں، تمام انسانوں کے لیے بہترین اور عملی نمونہ انہیں کیسے قرار دیا جائے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر سب سے مہربان ہو، خطائیں معاف کرنے والا ہو، شفاعت کا داعی ہو، مجبوروں، بے کسوں اور محتاجوں کا والی ہو وہ اپنی ناموس کے نام پر قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہو؟</div>
<div class="urdutext">اوکاڑہ کے ایک گاوں میں ایک پندرہ سالہ لڑکے کا اپنا ہاتھ اس گمان میں خود کاٹ لینا کہ اس سے گستاخی رسول کا ارتکاب ہوا ہے اس بیمار ذہنیت کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے جو ہم نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اپنی نسلوں کو منتقل کی ہے۔ یہ بیمار ذہنیت علم دین اور ممتاز قادری جیسے افراد کو جنم دیتی ہے اور اس نفرت کا باعث بنتی ہے جو ہم اپنے آس پاس موجود اقلیتوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ لیکن ایک لمحے کو عقل کو حاضر ناظر جان کر سوچیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ معلمِ انسانیت قرار دیا جانے والا پیغمبر ایسے بیمار، متشدد اور تکلیف دہ طرزہائے عمل کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ سکتا ہے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مولانا اختر شیرانی جیسے حضرات جو کم سنی کی شادی کے خلاف قوانین کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں اور انہیں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیتے ہیں، ابو بکر بغدادی، ابو بکر شیکاو، مولوی فضل اللہ اور عبدالعزیز جیسے حضرات جو عورتوں کو باندیاں بنانے کے قائل ہیں، جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں کیا یہ لوگ ہیں جو رسول اللہ کی سیرت پر عمل پیراء ہیں؟ شادی کی عمر کا تعین، حدود کے قوانین، جہاد کے فتوے اور قتل و غارت کے کتنے ہی غلغلے رسول اللہ کے نام پر بلند کیے جاتے ہیں اور حب رسول کے تقاضے نبھانے کے لیے ہم کتنے ہی انسانوں کی زندگیاں برباد کر چکے ہیں۔ لیکن کیا یہ سب واقعی بارگاہ محمدی میں مقبول بھی ہو گا؟ ہر گز نہیں۔ وہ جس کی زبان حب رسول کے نام پر مذہبی منافرت پھیلاتی ہے، وہ جس کا ہاتھ عشق رسول کے نام پر بندوق اٹھاتا ہے، وہ جن کے فتوے عورتوں اور اقلیتوں کی حیثیت کم تر قرار دیتے ہیں، وہ جن کی دکانوں پر نفرت امیز سٹیکر چسپاں ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین ہیں تو یہ سب ان کے لیے پسندیدہ نہیں ہو سکتا۔ یہ سب انہیں منظور نہیں ہو سکتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گمراہ کن صورتیں کسی بھی طرح اس اجتماعی فلاح اور بہبود انساں کا راستہ نہیں ہو سکتیں جس کا خواب عرب کے صحراوں میں مقیم اس ہادی، اس رہبر اور اس معلم نے دیکھا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر سب سے مہربان ہو، خطائیں معاف کرنے والا ہو، شفاعت کا داعی ہو، مجبوروں، بے کسوں اور محتاجوں کا والی ہو وہ اپنی ناموس کے نام پر قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہو؟ تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیئے جانے والےکے نام پر کون یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی منشاء یہ ہے کہ محض ایک سبزی، یا داڑھی، یا مسواک، یا عربی زبان کو ناپسند کرنے پر کسی کو قتل کر دیا جائے، یا ایک غیر منصفانہ قانون پر تنقید کرنے والے کو گولیوں سے بھون دیا جائے، یا ایک مخصوص شباہت کو مسلط کر لیا جائے، یا کم سن بچیوں کی شادیاں کر دی جائیں، یا ایک غیر انسانی جہاد سے منع کرنے والی ماں کو قتل کر دیا جائے، یا آزادی اظہار پر پابندیاں عائد کر دی جائیں۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">درحقیقت ناموس رسالت، شریعت اور عشق رسول کے نام پر بنائے گئے ضابطے، قوانین، فتوے اور طرز معاشرت رسول اللہ کے پیغام اور ان کے مزاج کے بالکل برعکس ہیں۔</div>
<div class="urdutext">اگر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثبوت کے طور پر مجھے مخصوص لباس، مخصوص، شکل، مخصوص تنگ نظری، مخصوص چال ڈھال اپنانے ہو گی، کم سن بچیوں کی شادیوں کی حمایت کرنا ہو گی، حدود کے ظالمانہ اور جابرانہ قوانین کے حق میں بیان دینے ہوں گے، پردہ مسلط کرنا ہو گا، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کو درست سمجھنا ہو گا، مرنا ہو گا اور مارنا ہو گا، احمدیوں سے نفرت کرنا ہو گی اور جہادیوں کو چندے دینے ہوں گے تو میں ایسے عشق رسول کا قائل نہیں۔ اگر عشق رسول یہی ہے کہ ہم قدیم قبائلی روایات، رہن سہن، طرز معاشرت اور حب رسول کے نام پر مرنے مارنے والوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنا ہوں گی تو مجھے لگتا ہے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ ؤآلہ وسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داعین کے طرزعمل میں بہت بڑا تضاد موجود ہے۔ اگر رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین تھے تو پھر وہ ممتاز قادریوں جیسے بے رحم قاتلوں کے “نذرانہ عشق” کو پسند کرنے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر وہ واقعی مصلح اعظم تھے تو ان کی نسبت سے کم عمر بچیوں کی شادیوں کا جواز نکالنا کیسے ممکن ہے؟ اگر وہ تمام زمانوں کے لیے تھے تو پھر ایک مخصوص عرب قبائلی طرز معاشرت کو خود پر مسلط کرنے کے کیا معنی ہیں؟ میرے نزدیک عشق رسول کی مروجہ صورتیں جن کی بناء پر بنیادی انسانی آزادیاں سلب کی جاتی ہیں، انسانوں کو قتل کرنے کا جواز ڈھونڈا جاتا ہے، دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے نفرت کا پیغام دیا جاتا ہے، اسلامی قوانین کے نام پر جو ناانصافی روا رکھی جاتی ہے وہ سبھی غلط اور گم راہ کن ہیں۔ عشق رسول کو دنیا میں امن کی بنیاد ہونا چاہیے ناکہ قتل و غارت گری کا جواز۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">درحقیقت ناموس رسالت، شریعت اور عشق رسول کے نام پر بنائے گئے ضابطے، قوانین، فتوے اور طرز معاشرت رسول اللہ کے پیغام اور ان کے مزاج کے بالکل برعکس ہیں۔ یا تو سیرت کی کتابوں میں جس مہربان اور رحم دل ہستی کا ذکر کیا گیا ہے وہ ٹھیک ہے یا پھر ممتاز قادری، علم دین اور اختر شیرانی جیسے لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر جان لینے اور عورتوں کی حیثیت کم تر قرار دینے کے قائل ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور اختر شیرانی کے اقوال و افعال کسی بھی طرح حب رسول اور منشائے محمدی نہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا واقعی عشق رسول کا واحد تقاضا یہ ہے کہ کسی نہ کسی کو گستاخ رسول قرار دے کر قتل کیا جائے، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز سٹیکر چپکائے جائیں، عورتوں کے حقوق سلب کرنے والے قوانین بنائے جائیں، داڑھیاں بڑھا لی جائیں، ہتھیار اٹھا لیے جائیں یا عشق رسول کا حیقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم آسیہ بی بی اور جنید حفیظ جیسے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، اسلام کے نام پر بنائے گئے غیر منصفانہ قوانین کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور دنیا کے امن کے لیے کام کیا جائے؟</div>
<p>Image: Dawn.com</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b5%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d9%88%d8%a2%d9%84%db%81-%d9%88%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7/">عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گمراہ کن صورتیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b5%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d9%88%d8%a2%d9%84%db%81-%d9%88%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مذہب کے نام پر خونریزی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d9%86%d8%b1%db%8c%d8%b2%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d9%86%d8%b1%db%8c%d8%b2%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ناصر شبیر]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 20 Aug 2015 11:50:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[آنحضرت ﷺ]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت کے مقدمات]]></category>
		<category><![CDATA[عشق رسول]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12193</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">چند روز پہلے خبر نشر ہوئی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالت کے مقدمے میں قید آسیہ بی بی کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد سے روک دیا ہے ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d9%86%d8%b1%db%8c%d8%b2%db%8c/">مذہب کے نام پر خونریزی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">چند روز پہلے خبر نشر ہوئی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالت کے مقدمے میں قید آسیہ بی بی کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد سے روک دیا ہے ۔آسیہ بی بی کے خلاف توہین رسالت کے مقدمے کی تفصیلات پڑھ کر تشویش ہوتی ہے کہ یہ کیسی متشدد سوچ اور فکر ہے جس کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت اور شان کے نام پر لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں غیر مسلموں کے لیے نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ۔کیا ایک نبی کے پیروکاروں کی یہ شان ہوتی ہےکہ دین کے نام پرایک غریب اور بے بس عورت کو اس کے بچوں سے جدا کر دیا جائے؟ توہین مذہب کے نام پرہندؤوں کے مندرڈھائے جارہے ہیں،عیسائیوں کی صلیبیں گرائی جا رہی ہیں ،مقدس اوراق جلائے جا رہے ہیں، گھروں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے، املاک کو لوٹا جا رہاہے ۔ عقید ے کے بنیاد پر شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کوگاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہاہے ۔احمدیوں کی قبروں کے کتبوں پر لکھا کلمہ طیبہ قانون کے رکھوالے مٹا رہے ہیں۔کیا یہ لوگ واقعی عشق الہیٰ اور عشق نبی میں ڈوبے ہوئے ہیں؟</div>
<div class="leftpullquote">پاکستان میں توہین رسالت کا قانون ایک ایسا آسان ترین پھندہ ہے جسے کوئی بھی مفاد پرست اور تنگ نظر شخص کسی غیر مسلم کے گلے میں ڈال سکتا ہے</div>
<div class="urdutext">نبی ؐسے جھوٹی اور منافقانہ محبت کے نام پر خون بہایا جا رہا ہے ۔لوگوں کے عقیدے ، جذبات، ایمان اور یقین کو فتوؤں کے زہر آلود تیروں سے چھلنی کیا جارہاہے یہی وجہ ہے کہ ایمان، اخلاق اور شعور سے عاری یہ گروہ جب حیوانوں کا سا وحشی روپ دھارتا ہے تو پھر لازماًتباہی و بربادی آتی ہے ۔ ان لوگوں کی زبان اور ہاتھ سے کوئی محفوظ نہیں ہے۔ ان کاکوئی وعظ کوئی درس ایسا نہیں جس میں نفرت ،تشدد اور تعصب کے بچھو رینگتے دکھائی نہ دیتے ہوں۔دین فروشی اور فتوی ٰبازی کے اس مکروہ کھیل تماشے میں غیر مسلم انتہائی خوف اور دہشت کی زندگی گزار رہے ہیں۔اموال ، جانیں اور عزتیں لوٹ مار اورجلاؤ گھیراؤ کی نذر ہو رہی ہیں۔اشتعال انگیزی اور نفرت کے انگاروں میں توہین رسالت کے جھوٹے مقدمات دہک رہے ہیں۔کتنے ہی بے گناہ افراد اس قانون کی وجہ سے جیلوں میں اپنی زندگی کے کئی برس گزار چکےہیں۔ان مقدمات میں جو عدالتوں سے باعزت بری ہوگئے وہ معاشرے کے تعصب ، نفرت اور غصے کی نذر ہوکر اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔<br>
پیچ دار عمامے پر امت مسلمہ کے دکھ کی کلغی سجانے والے سر کٹے فوجیوں سے فٹبال کھیلنے والوں کی حمایت میں دلائل و براہین کا انبار لگائے بیٹھے ہیں۔پاکستان میں توہین رسالت کا قانون ایک ایسا آسان ترین پھندہ ہے جسے کوئی بھی مفاد پرست اور تنگ نظر شخص کسی غیر مسلم کے گلے میں ڈال سکتا ہے ۔ معصوم اور بے گناہوں کے خون کی چاٹ لگ چکی ہے ۔افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ جب توہین رسالت کے قوانین کے غلط استعما ل کی بات کی جاتی ہے تودین فروش شر پسند کہتے ہیں کہ چونکہ ملک میں انگریزوں کے تمام قوانین میں خرابی اور سقم ہے اور ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے لہذااگر کوئی شخص توہین رسالت کے غلط الزام میں ہجوم یا کسی قاتل کا نشانہ بن جاتا ہے تو یہ بات بھی معمول کی قانونی غفلت سمجھنی چاہیے۔</div>
<div class="leftpullquote">آپ ﷺ نے منافقین کے سردارعبداللہ بن ابی سلول کی نماز جنازہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منع کرنے کے باوجود پڑھائی اور رحمت العالمین ہونے کاعملی ثبوت دے کر اسوہ حسنہ کی بنیاد رکھی</div>
<div class="urdutext">توہین رسالت کے مقدمات میں عوام کی جانب سےجس جاہلانہ اور ظالمانہ رد عمل دکھانے کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام تنگ نظر، شدت پسند اور متعصب دین سمجھا جاتاہے ۔ مسلمانوں کے اسی طرزعمل کا نتیجہ متنازع کارٹون ، دل آزار خاکے اور قرآن پاک کو نذر آتش کرنے والے واقعات کی صورت میں نکلتا ہے ۔مذہب کے نام پر قتل و غارت ،لوٹ مار، جلاؤ، گھیراؤ ، مذہبی علامات کی توڑ پھوڑ اور بے حرمتی کرنے والے واقعات کے پس پردہ کوئی بھی قوتیں ہوں انگلی ہمیشہ امن پسند اسلام کی جانب اُٹھتی ہیں ۔ایسی حرکتیں نہ صرف اسلام اور پاکستان کی رسوائی کا سبب بنتی ہیں بلکہ بعض بد بختوں کو توہین قرآن مجید اور توہین انبیاء کرام پر اکساتی ہیں۔<br>
مشرکین نے آنحضرت ؐ کی ہر طرح سے توہین کی۔طائف کی وادی میں پتھروں سے لہولہان کیا۔سجدے کی حالت میں آپ ؐ پر اونٹ کی غلیط اور بد بودار آلائش رکھی گئی ۔گلی سے گزرتے ہوئے آپ ؐ پر گندگی پھینکی گئی ۔کبھی گلے میں پٹہ ڈال کر انتہائی سختی سے کھینچا گیا۔کبھی کسی شقی القلب نے آپ ؐ کو زہر دے ڈالا۔سرعام آپ ؐ کی تکذیب و تکفیر کی گئی ۔آپ ؐ کا نام بگاڑا گیا ۔آپ ؐ کو سخت مفلسی اور بے بسی کی حالت میں شعب ابی طالب کی گھاٹی میں ساتھیوں سمیت محصور کر دیا گیا۔قتل کی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کی گئیں۔ابو سفیان ، اس کی بیوی ہندہ اور حبشی غلام بھی فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ؐ کی رحمت اور معافی کے مستحق ٹھہرے ۔ وہی ہندہ جس نے آپ ؐ کے محبوب چجا حضرت حمزہؓ کی شہادت کے بعد انتہائی نفرت اور انتقام کی خاطر ان کا کلیجہ چبایا تھا۔لیکن ان سب واقعات کے باوجود آپ ؐ نے مخالفین کے ساتھ عفو درگزر سے کام لیابلکہ آپ ؐ کو اللہ تعالی ٰ کی طرف سے ان لوگوں سے اعراض کرنے اور صبر کرنے کی تعلیم دی گئی ۔منافقین کے لیے بھی کسی سزا کا ذکر نہیں ۔ آپ ﷺ نے منافقین کے سردارعبداللہ بن ابی سلول کی نماز جنازہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منع کرنے کے باوجود پڑھائی اور رحمت العالمین ہونے کاعملی ثبوت دے کر اسوہ حسنہ کی بنیاد رکھی۔ احکامات الہیٰ کی بجاآوری میں سستی کرنے پر مومنین کے گھروں کو آگ لگا دینے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن عملاً ایسا کرنے کی بجائے صرف اور صرف دعا اور صبر کی طرف متوجہ رہے ۔</div>
<div class="leftpullquote">توہین رسالت اور توہین مذہب کے لیے موت کی سزا درست سمجھنے والے احباب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رحمت للعالمین ؐ کا اسوہ ہرگز متشدد نہیں تھا اور اس حوالے سے مشہور تاریخی حوالے مستند نہیں ہیں مگر پھر بھی محض اپنے سیاسی عزائم کی خاطر ضعیف روایات کی تبلیغ فرماتے رہتےہیں</div>
<div class="urdutext">بعض محققین اور تاریخ دانوں کے مطابق آنحضرتﷺ نے شان میں گستاخی کرنے والوں کے قتل کا حکم دیااور صحابہ کرام نے بھی اسی فکر کو اپناتے ہوئے بعض گستاخوں کا سر تن سے جدا کیااور اس فعل پر آنحضرت ؐ نے بھی ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا۔سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو بد ترین مخالفین کی ایذا رسانی کے باوجود ان لوگوں سے اعراض ، عفو در گزر اور صبر سے کام لیتا رہا وہ جوش انتقام میں گستاخوں کے قتل کا حکم کیسے دے سکتا ہے۔ کیا یہ رویہ مذکورہ شخص کو رحمت للعالمینﷺ کے لقب سے سرفراز کرسکتا ہے ؟مزید یہ کہ کیا آنحضرت ؐکی حیات طیبہ میں ایسا متنازعہ اور متضاد رویہ ممکن ہے کہ آپ ؐ اپنی بیشتر زندگی میں بد ترین گستاخوں کے لیے رحم ، عفوودر گزر، صلہ رحمی کا مجسم وجود ہوں اور چند افراد سے اس کے بر خلاف سلوک فرمائیں۔ہر گز نہیں۔۔ہر گز نہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا بعض افراد سے سخت رویہ اپنانے کا سبب توہین رسالت نہیں بلکہ بعض ایسے ناقابل معافی قومی جرائم تھے جوقومی مفادات اور مسلمانوں کی مجموعی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے قابل تعزیر تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کا یہ فرمان آنحضرت ؐ کے رحمت للعالمین ہونے کی سچی گواہی دیتا ہے کہ ” آپﷺ نے کبھی اپنی ذات کی خاظر اپنے اوپر ہونے والی کسی زیادتی کا انتقام نہیں لیا۔ ”<br>
توہین رسالت کے موضوع پر لکھے جانے والے مواد کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے نام نہاد محققین، ادیب، ناقدین، کالم نگار اور مفتیان اسلام کے سینوں میں علم و عرفان کے دریا موجزن ہیں۔آیتیں، حدیثیں اورواقعات نبویؐ زبانی یا د ہیں۔سب کچھ حفظ ہونے کے باوجود توہین رسالت کے ملزمان کو قتل کرنے کے لیے دوسروں کو اکساتے ہیں۔ توہین رسالت اور توہین مذہب کے لیے موت کی سزا درست سمجھنے والے احباب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رحمت للعالمین ؐ کا اسوہ ہرگز متشدد نہیں تھا اور اس حوالے سے مشہور تاریخی حوالے مستند نہیں ہیں مگر پھر بھی محض اپنے سیاسی عزائم کی خاطر ضعیف روایات کی تبلیغ فرماتے رہتےہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چونکہ توہین رسالت کے ملزم کو شدید ترین سزا دینی مقصود ہوتی ہے لہٰذ ا توہین رسالت کے سلسلے میں ملزم کے خلاف کاٹی گئی FIR میں ملزم سے منسوب کیے گئے الفاظ کے علاوہ آنحضرت ؐ، انبیاء کرام اور قرآن مجید کے بارے میں من گھڑت باتیں بھی شامل کر دی جاتی ہیں ۔ جج حضرات بھی عموماًتصدیق، بحث یا جرح کے بغیر ہی محض ایف آئی آرپڑھ کرہی ملزم کو موت کی سزا سنا دیتے ہیں۔ توہین رسالت کے مقدمات میں عشق رسول کے داعین کا طرزعمل سراسر اسوہ حسنہ کے خلاف ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d9%86%d8%b1%db%8c%d8%b2%db%8c/">مذہب کے نام پر خونریزی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d9%86%d8%b1%db%8c%d8%b2%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
