<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ضرب عضب Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%B6%D8%B1%D8%A8-%D8%B9%D8%B6%D8%A8/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/ضرب-عضب/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 14:20:13 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>ضرب عضب Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/ضرب-عضب/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کوئٹہ حملہ، داعش اور پاکستانی طالبان</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81%d8%8c-%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81%d8%8c-%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[کنور خلدونِ شاہد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Aug 2016 17:52:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[آئی ایس آئی ایس]]></category>
		<category><![CDATA[اچھے اور برے طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[جنداللہ]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت گردی اور پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ضرب عضب]]></category>
		<category><![CDATA[طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[کنور خلدون شاہد]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[نیشنل ایکشن پلان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17176</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt"> کنور خلدون شاہد: "اچھے اور برے طالبان" کی حکمت عملی ترک کرنے کے دعوے کے  باوجود پاکستان کی جانب سے اپنا دوغلا طرزِعمل جاری رکھنا طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہے۔   </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81%d8%8c-%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86/">کوئٹہ حملہ، داعش اور پاکستانی طالبان</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">کنور خلدون شاہد کا یہ مضمون اس سے قبل <a href="http://thediplomat.com/2016/08/what-quetta-bombing-reveals-about-islamic-state-and-pakistani-taliban/" target="_blank" rel="noopener">دی ڈپلومیٹ</a> پر بھی شائع ہو چکا ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">پیر کے روز کوئٹہ سول ہسپتال پر ہونے والے حملے میں ستر کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ کوئٹہ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کا دارالخلافہ ہے۔ بلوچستان ایک علیحدگی پسند تحریک، ایک فوجی آپریشن اور ایک فعال جہادی نیٹ ورک کی آماجگاہ ہے۔ مئی میں طالبان کا سابق امیر ملا اختر منصور بھی بلوچستان میں ہی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کے چاروں صوبوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔</div>
<div class="urdutext">دولت اسلامیہ (آئی ایس آئی ایس) اور جماعت الاحرار دونوں کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس حملے میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کے قتل پر احتجاج کے لیے مقامی ہسپتال میں جمع ہونے ولے مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ آئی ایس آئی ایس اور کسی طالبان دھڑے نے کسی حملے کی بیک وقت ذمہ داری قبول کی ہو، گزشتہ برس مئی میں سانحہ صفورا کراچی میں اسماعیلی برادری پر حملے کی ذمہ داری بھی جنداللہ اور آئی ایس آئی ایس دونوں نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں 43 اسماعیلی افراد ہلاک ہوئے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جماعت الاحرار اور آئی ایس آئی ایس کا تعلق نیا نہیں ہے۔ درحقیقت یہ مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کا عروج ہی تھا جس نے طالبان کمانڈر عبدالولی المعروف عمر خالد خراسانی کو القاعدہ سے بیعت یافتہ پاکستانی طالبان سے علیحدگی اور اپنے نئے دھڑے کے قیام کی تحریک دی۔ تب سے اب تک دو برس میں جماعت الاحرار واہگہ بارڈر، یوحنا آباد، چارسدہ اور گلشن اقبال پارک پر حملوں سمیت پاکستان میں متعدد بڑے حملے کر چکی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کے چاروں صوبوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔ طالبان سے علیحدہ ہونے والے اس دھڑے نے پنجاب کے دارالخلافہ اور حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے گڑھ لاہور کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ جنداللہ دیگر طالبان دھڑوں کی طرح آسان اہداف جیسے پارکوں، ہسپتالوں، پولیو مراکز اور سکولوں کو نشانہ بناتی ہے۔ دیگر طالبان دھڑوں کی طرح جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا ہدف بھی عموماً مذہبی اقلیتوں یا پیشہ ور افراد جیسےچارسدہ اور کوئٹہ کے وکلاء سمیت ایسے طبقات ہیں جو دہشت گردی کی اس جنگ میں پہلے ہی عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پاکستانی طالبان خصوصاً جماعت الاحرار عوامی مقامات جیسے آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں ، کیوں کہ ایسے حملے اس جنگ کے نفسیاتی محاذ پر زیادہ گہرے چرکے لگاتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">گزشتہ ماہ عمر خراسانی افغانستان کے علاقے ننگر ہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ عمر خراسانی 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی تھا، اس حملے نے عسکری اور سیاسی قیادت کو جہادی تنظیموں کے خلاف جنگ میں متحد کر دیا تھا۔ حملے کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے انسدادِ دہشت گردی کا لائحہ عمل (نیشنل ایکشن پلان) مرتب کیا۔ عمر خراسانی کی ہلاکت کے بعد بھی جماعت الاحرار کااپنی کارروائیاں جاری رکھنا ان کی نیت اور اپنے بانی کی موثر حکمت عملی کا اظہار ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پاکستانی طالبان خصوصاً جماعت الاحرار عوامی مقامات جیسے آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، کیوں کہ ایسے حملے اس جنگ کے نفسیاتی محاذ پر زیادہ گہرے چرکے لگاتے ہیں۔ ایک جانب جہاں ایسے حملوں کو کمزور پڑتے جہادی گروہوں کے مایوسی کے عالم میں کیے گئے حملے قرار دے کر ان کی شدت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہیں اس حکمت عملی کی کامیابی ان حملوں کو ایک موثر جنگی حکمت عملی ثابت کرتی ہے۔ اور اس حکمت عملی کا تاحال پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے پاس کوئی توڑ نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">طالبان حملوں میں پچھلے سال کی نسبت اس برس اچانک تیزی آئی ہے۔ سال 2015 پچھلی ایک دہائی کا پرامن ترین سال تھا جس کے دوران شمال مغربی قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی کامیابیوں کا ڈھنڈورا بڑے زوروشور سے پیٹا گیا۔ سکولوں، بچوں کے پارکوں، ہسپتالوں اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد پر حالیہ حملوں کے ذریعے طالبان قوم کے جذبے کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کوئٹہ، کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے حملوں پر آئی ایس آئی ایس کا ٹھپہ مقامی طالبان دھڑوں کے لیے خود کو عالمی جہادی خطرے کا حصہ ثابت کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ خاص کر جب حکومت اور فوج دونوں طالبان کی کمر توڑنے کا دعوی کر رہے ہوں، مقامی جہادی تنظیموں کے لیے ان دعووں کو جھٹلانے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو گا کہ دنیا کی بدنام ترین جہادی تنظیم پاکستان کی پیٹھ پر وار کرے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">“اچھے اور برے طالبان” کی حکمت عملی ترک کرنے کے دعوے کے باوجود پاکستان کی جانب سے اپنا دوغلا طرزِعمل جاری رکھنا طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہے۔</div>
<div class="urdutext">اگرچہ جنوبی ایشیا میں آئی ایس آئی ایس اس بڑے پیمانے پر موجود نہیں کہ ایسی کارروائیاں کر سکے۔ (جماعت الاحرار جیسی تنظیموں سے) یہ جہادی گٹھ جوڑ جہاں ایک جانب داعش کو اپنی دسترس اور رسائی سے متعلق مبالغہ آمیز دعووں کا جواز فراہم کرتا ہے، وہیں یہ اشتراک طالبان دھڑوں کو (جو طالبان اور القاعدہ سے علیحدہ ہو چکے ہیں) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کے حوصلے پست کرنے اور مزید بھرتیوں کے لیے تشہیر کے مواقع مہیا کرتا ہے۔ اس نفسیاتی جنگ میں جہادیوں نے اپنا لائحہ عمل اپنے دشمنوں کی نسبت کہیں بہتر انداز میں ترتیب دیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“اچھے اور برے طالبان” کی حکمت عملی ترک کرنے کے دعوے کے باوجود پاکستان کی جانب سے اپنا دوغلا طرزِعمل جاری رکھنا طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہے۔ مشرقی سرحد کے لیے تیار کردہ جہادیوں کو نہ صرف لائن آف کنٹروں کے دونوں جانب حریت پسندوں کے روپ میں کھل کر جلسے جلوسوں کی اجازت دے دی گئی ہے بلکہ ہماری قیادت دو مختلف جہادی تنظیموں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے باوجود ہندوستان پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایسے حملوں کے بعد پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں اور اداروں کی جانب سے “را کی کارستانیوں” کے مقابلے میں اپنی نااہلی کے اعتراف کو ترجیح دینا، ‘بھارت ازلی دشمن ہے، اسے منہ توڑ جواب دیں گے’ کی ریاستی گردان کی نفی معلوم ہوتا ہے۔ اس گمراہ کن حکمت عملی کا واحد مقصد جہادپسندی کی دوغلی پالیسی کے لیے جواز تراشنا ہے۔ طالبان کی جانب سے کھلم کھلا اجتماعی قومی مورال کو متزلزل کرنے کے باعث ریاست عوام کی توجہ بٹانے کے لیے ہندوستان پر الزام دھرتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے آ بیل مجھے مار کے نتائج کی حامل انسداد دہشت گردی کی یہ حکمت عملی طالبان کو تقویت پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81%d8%8c-%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86/">کوئٹہ حملہ، داعش اور پاکستانی طالبان</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81%d8%8c-%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%af%d8%af%da%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%81%d9%88%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%af%d8%af%da%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%81%d9%88%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[سیّد انور محمود]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 09 Sep 2015 09:52:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[آئی ایس پی آر]]></category>
		<category><![CDATA[آرمی چیف جنرل راحیل شریف]]></category>
		<category><![CDATA[جی ایچ کیو]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی فورسز]]></category>
		<category><![CDATA[ضرب عضب]]></category>
		<category><![CDATA[طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[فوجی عدالتوں]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا فضل الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وزیراعظم نواز شریف]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12515</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">چھ ستمبرکوشہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آج پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، قوم پہلے سے زیادہ پرعزم ہے، دہشت گردوں کو شکست اور ریاست کی بالادستی قائم ہوگئی ہے، دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%af%d8%af%da%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%81%d9%88%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1/">دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">چھ ستمبرکوشہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آج پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، قوم پہلے سے زیادہ پرعزم ہے، دہشت گردوں کو شکست اور ریاست کی بالادستی قائم ہوگئی ہے، دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ دو ستمبر کووزیراعظم نوازشریف نے آزادکشمیر باغ میں اپنے خطاب میں دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ فوج اور عوام طے کرچکے دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کریں گے، دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے عالمی برادری کو مستقل امن کا تحفہ دیناچاہتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کےلیے نہیں بنا، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔</div>
<div class="leftpullquote">آپریشن ضرب عضب میں اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا، جبکہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے347 افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔</div>
<div class="urdutext">آٹھ جون 2014ء اتوارکی درمیانی شب کو کراچی کےجناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہ حکومت کے ناقص سیکیورٹی انتظام کی وجہ سےطالبان دہشت گردوں کی جانب سے ائیرپورٹ پر حملہ ہواتو دہشت گردی سے متعلق کئی سنجیدہ سوال سامنے آئے۔ ان میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ نواز شریف حکومت اور طالبانی دہشت گردوں کا مذاکرات کا ڈرامہ جو ایک سال سے چل رہا تھا کب ختم ہوگا۔ گزشتہ سال جون 2014ء تک دہشت گردی کے واقعات میں دس سال کے عرصے میں 52ہزار409 افراد شہید ہوئے، سیکیورٹی فورسز کے 5ہزار775 اہلکار شہید ہوئے، 396 خود کش حملے ہوئے جس میں 6ہزار21 افراد جاں بحق اور 12ہزار558 افراد ذخمی ہوئے، اور 4ہزار932 بم دھماکے ہوئے۔<br>
مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال تک مذاکرات مذاکرات کا کھیل رچایا، اور اس کھیل میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جماعت اسلامی اورطالبان کے نام نہاد باپ مولانا سمیع الحق شامل بھی تھے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان بھی طالبان کو فوجی کارروائی سے بچانے میں پیش پیش تھے۔ یہ سب جماعتیں آپریشن کی مخالفت میں آگے آگے تھیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم تو مجبور تھے ورنہ وہ کافی عرصہ پہلے طالبان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امیر المومنین بن چکے ہوتے۔ کراچی ایئرپورٹ پر طالبان دہشت گردوں کے حملے کے بعداتوار 15 جون 2014ء کو افواج پاکستان نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا۔ پاک فوج نے آپریشن کا نام “ضرب عضب” رکھا جس کا مطلب “ضرب کاری” یعنی دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف حکومت اور دہشت گردوں کے مذاکرات ختم ہوگئے۔</div>
<div class="leftpullquote">سول عدالتوں نے 15 ہزار کے قریب دہشت گردوں کو بری الزمہ قرار دیا اور 10 ہزار پانچ سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کیا۔</div>
<div class="urdutext">آپریشن ضرب عضب میں اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا، جبکہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے347 افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔ فوجی ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شہری علاقوں میں خفیہ اطلاعات پر کی گئی 9000 کارروائیاں کیں جن میں 218 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں کارروائیوں کے دوران مختلف نوعیت کے 18087 ہتھیار اور 253 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ ایک سال سے جاری فوجی کارروائی کے دوران ضرب عضب اور متاثرہ علاقوں سے مقامی افراد کی نقل مکانی اور اُن کی بحالی پر اب تک تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور یہ رقم امریکہ کی جانب سے اتحادی سپورٹ فنڈ کے بجائے سرکاری خزانے سے استعمال کی گئی ہے۔2001ء سے اب تک افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہونے کے باعث پاکستان کواتحادی سپورٹ فنڈ کے تحت 13 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ 2015ء کے بعد سے پاکستان کو اس فنڈ کے تحت رقوم جاری نہیں کی جائیں گی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دہشت گردی ہمارے ملک میں لانے کی ذمہ داری ہمارے عسکری اداروں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اُسکے حواریوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔<br>
دہشت گردی کی تحریک آدھی سے زیادہ دنیا میں پھیل چکی ہے اوراس کا بڑا نشانہ پاکستان ہے۔1965ءکی پاک بھارت جنگ میں 3800پاکستانیوں کی جانیں گئی تھیں، 1971ءمیں 9 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 2001ءسے 2015ءکے دوران 56ہزار سے زیادہ پاکستانیوں نے جام شہادت نوش کیا گویا طالبان دہشت گرد بھارت سے بھی زیادہ خطرناک دشمن ہیں جو پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ دوسری طرف سول عدالتوں نے 15 ہزار کے قریب دہشت گردوں کو بری الزمہ قرار دیا اور 10 ہزار پانچ سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کیا۔ حکومتی نااہلی کھل کر سامنے آچکی ہے ورنہ فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش نہ آتی۔ آپریشن ضرب عضب ملک بھر میں جاری ہے، ایسا لگتا ہے ملک کے کونے کونے میں دہشت گردوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اُن کی پناہ گاہیں کون سی ہیں ان کے مددگار اور سہولت کار کون ہیں؟ ملک کی 33خفیہ ایجنسیوں کو اتنی معلومات تو ضرور ہوں گی۔ حکومت پاکستان نے جن دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے وہ حکومتی فائلوں میں مرچکی ہیں لیکن عملاً بقید حیات ہیں۔ حکومت جانتی ہے کہ یہ دہشت گرد کالعدم تنظیمیں نئے ناموں کے ساتھ سرگرم عمل ہیں ان کے ذرائع آمدن کی پائپ لائن بدستور پیسے اگل رہی ہے۔ حکومت کو ان مدرسوں کے نام بھی سامنے لانے چاہیں جو عسکریت پسندی کے رحجان کو فروغ دے رہے ہیں۔ اُن رفاعی تنظیموں کو بھی بے نقاب کرنا ضروری ہے جو بیرونی فنڈر لیتی اور آگے منتقل کرتی ہیں۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے حامیوں کے پیٹ میں اس وقت مروڑ اٹھتا ہے جب لوگ اپنے پیاروں کی یاد میں موم بتیاں جلاتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے حامی قومی روزناموں میں کالم لکھ لکھ کر جہادی ذہن تیار کررہے ہیں ۔</div>
<div class="leftpullquote">جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا</div>
<div class="urdutext">وزیراعظم نواز شریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف دونوں کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کیلئے نہیں بنا، ہم دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ طالبان کے لفظی معنی کچھ بھی ہوں مگر ہمارے ملک میں طالبان تحریک ایک دہشت گرد تحریک ہے۔ طالبان کے 45سے زائد گروہ ہیں اور ہر گروہ قتل و غارت گری اور پاکستان پر حملوں میں شریک ہے۔ یہ گروہ برسرعام اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ ان گروہوں میں سے کوئی عام انسانوں کا قتل عام کررہا ہے تو کوئی فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں مصروف ہے، یہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، ڈکیتیوں اور دوسرے جرائم میں بھی مصروف ہیں۔ یہ صرف نام کے انسان ہیں ورنہ ان کے سب خصائل درندوں جیسے ہیں، لہٰذا ان میں یہ احمقانہ تمیز کرنا کہ اچھے کون ہیں اور برے کون ہیں بجائے خود ایک سنگین غلطی ہے۔ لیکن پاکستان میں طالبان کی دو قسمیں ضرور موجود ہیں ایک وہ ہیں جو قتل و غارت گری اور دوسرئے جرائم کرتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں۔<br>
طالبان کی کسی بھی قتل و غارت گری کے بعد سراج الحق، مولانا فضل الرحمان، مولانا عبدالعزیز اور مولانا سمیع الحق کی جانب سے مرنے والوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود یہ حضرات اور ان کے پیروکار طالبان کی صفائیاں دینے لگتے ہیں، اُن کے ساتھ ہی کچھ صحافی جن میں خاص کرانصار عباسی اور اوریا مقبول جان صحافت کی آڑ میں طالبان کی ہمدردی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ عمران خان بھی طالبان کے ہمدرد ہیں، طالبان کی کسی بھی دہشت گردی پر افسوس ضرور کرتے ہیں لیکن اُس کے بعدقوم کوڈرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ خان صاحب کی سنگدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ حادثہ کی جگہ پر ہی کہہ دیتے تھے کہ آپریشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نو سال سے آپریشن ہورہا ہے ہم نے کیا کرلیا۔ فوجی آپریشن کے بعد البتہ انہوں نے یو ٹرن لیا اورآپریشن کی حمایت کرنی شروع کردی مگر کافی عرصہ تک مذاکرات کا راگ الاپنا نہیں بھولے۔ مولانا فضل الرحمان کا تو سب کو پتہ ہے کہ جس طرف فائدہ نظر آئے مولانا اُسی طرف ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی کو تو اب بھی دہشت گردوں کےخلاف ہونے والے آپریشن پر اعتراض ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن دہشت گرد طالبان کو اپنا بھائی کہتے ہیں۔ منور حسن صاحب طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والےباون ہزار سے زائد پاکستانیوں کو جن میں عام آدمی، پولیس کے سپاہی، رینجرز کے اہلکار اور پاکستانی فوجی شامل ہیں اُنہیں شہید ماننے سے انکار کرتے ہیں لیکن ہزاروں انسانوں کے قاتل دہشت گردحکیم اللہ محسود کو شہید کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا۔ دہشت گردی پاکستان کی وہ بیماری ہے جس کا علاج نام نہاد “مذاکرات” سے کیا جارہا تھا لیکن یہ مرض اس قدر بڑھ چکا تھا کہ آپریشن کے علاوہ شاید کوئی چارہ نہیں تھا۔ اب حکومت کو چاہیئے کہ دونوں قسم کے طالبان کاتدارک کرے، اُن کا بھی جو دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں اوراُن کا بھی جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں، ایسا کرنے کے بعد ہی ہم پاکستان سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%af%d8%af%da%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%81%d9%88%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1/">دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%af%d8%af%da%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%81%d9%88%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آئی ڈی پیز کی امداد کے لئے جبری عطیات اور اضافی فیس کی وصولی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 27 Jul 2014 13:58:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[آئی ڈی پیز]]></category>
		<category><![CDATA[ضرب عضب]]></category>
		<category><![CDATA[ملتان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[وہاڑی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=6628</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ملتان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو متاثرین ضرب عضب کے لئے عطیات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/">آئی ڈی پیز کی امداد کے لئے جبری عطیات اور اضافی فیس کی وصولی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">ملتان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو متاثرین ضرب عضب کے لئے عطیات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ملتان بورڈ سے وابستہ مختلف نجی تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو خط اور ایس ایم ایس کے ذریعہ بورڈ کی جانب سے قائم کئے گئے فنڈ میں رقوم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بورڈ کی جانب سے نجی کالجوں کو 10000 جبکہ سکولوں کو 5000روپے جمع کرانے کو کہا گیا ہے، اور عطیات جمع نہ کرانے کی صورت میں جرمانہ عائد کئے جانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">نجی تعلیمی اداروں کے علاوہ سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹر وں کو بھی حکومت پنجاب کے متاثرین کے لئے قائم کئے گئے فنڈ میں عطیات جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مڈل سکول کے ہیڈماسٹروں کو 2000 روپے جبکہ پرائمری سکولوں کے ہیڈماسٹروں کو 1000 روپیہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔</div>
<div class="urdutext">وہاڑی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر نے پرائیویٹ سکولوں سے جبری عطیات کی وصولی اور جرمانہ عائد کرنے کے فیصلہ پر تنقید کی ہے،“ہم حکومت کی ہدایات کے بغیر بخوشی متاثرین کی مدد کو تیار ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کاروائی غیر قانونی ہو گی اور اس پر احتجاج کیا جائے گا۔” نجی تعلیمی اداروں کے علاوہ سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹر وں کو بھی حکومت پنجاب کے متاثرین کے لئے قائم کئے گئے فنڈ میں عطیات جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مڈل سکول کے ہیڈماسٹروں کو 2000 روپے جبکہ پرائمری سکولوں کے ہیڈماسٹروں کو 1000 روپیہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔<br>
لالٹین کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لاہور اور اس کی تحصیلوں میں قائم کالجز کے پرنسپلوں کو بھی وزارت تعلیم اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک خط کے ذریعہ متاثرین ضرب عضب کے لئے کرائے جانے والے ایک فلاحی ٹی ٹونٹی میچ میں شرکت اور ٹکٹیں فروخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فلاحی میچ قومی کرکٹ ٹیم کے تعاون سے 26 جولائی کو قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جائے گا۔ خط کے مطابق کیٹیگری اے کے کالج 100، کیٹیگری بی کے کالج 50 اور کیٹیگری سی کے کالج 20 ٹکٹ خریدنے کے پابند ہیں۔<br>
وزیرستان سے ہجرت کرنے والے افراد کی مدد کے لئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بھی نئے تعلیمی سال کے داخلہ فارم کے ساتھ 50 روپے اضافی فیس وصول کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہر داخلہ فارم کے ساتھ اضافی فیس وصول کرے گی جس سے متاثرین کی امداد کے لئے 25 لاکھ روپے جمع ہونے کی امید ہے۔<br>
طلبہ حلقوں اور اساتذہ تنظیموں نے جبری عطیات اور اضافی فیس وصول کرنے کے اقدامات پر تنقید کی ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم زبیر عارف کے مطابق حکومت اور عوام قومیت اور حب الوطنی کا عملی مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں،“سیاسی جماعتیں، حکومت اور عوام وزیرستان کے لوگوں کی اس طرح مدد نہیں کر رہے جیسے ماضی میں زلزلہ اور سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی کرتے رہے ہیں۔ اس بار سیاسی جماعتیں اور حکومتیں وزیرستان کے لوگوں کے لئے قومی جذبہ بیدار کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہی ہیں۔” اسلامیہ یونیورسٹی کی طالبہ نیلم عدیل کے مطابق عید اور مہنگائی کے ساتھ تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کی وجہ سے بھی اس بار طلبہ اور اساتذہ میں پہلے جیسا جوش و خروش نہیں،“پہلے ہم سٹوڈنٹ مل کر یونیورسٹی میں Donations اکٹھی کرتے تھے لیکن اب چھٹیاں ہیں اور پھر عید کی وجہ سے لوگوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، اس لئے کچھ خاص فلاحی کام نہیں ہو سکا۔”<br>
اعدادوشمار کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں وزیرستان سے سات لاکھ سے زائد قبائلی ہجرت کر چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ خیبر پختونخواہ کی حکم ران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ کی وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات کے باعث متاثرین کی امداد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/">آئی ڈی پیز کی امداد کے لئے جبری عطیات اور اضافی فیس کی وصولی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
