<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>شانتاراما Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%d8%b4%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/شانتاراما/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sun, 04 Aug 2024 04:10:05 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>شانتاراما Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/شانتاراما/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>شانتا راما باب 18: تجرباتی فلموں کے عہد کا آغاز (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-18/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-18/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2020 06:45:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[شانتاراما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25893</guid>

					<description><![CDATA[<p>میں ٹھیک سے سمجھا نہیں۔ تذبذب میں اُس سے پوچھا، "کون دادا صاحب؟ اور مجھے کس لیے بُلایا ہے انہوں نے؟''<br />
اب کچھ سنبھل کر لڑکے نے کہا، "دادا صاحب فالکے جی نے آپ کو بُلا بھیجا ہے۔"</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-18/">شانتا راما باب 18: تجرباتی فلموں کے عہد کا آغاز (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[		<div data-elementor-type="wp-post" data-elementor-id="25893" class="elementor elementor-25893">
				<div class="elementor-element elementor-element-2fd7d2ef e-flex e-con-boxed e-con e-parent" data-id="2fd7d2ef" data-element_type="container" data-e-type="container">
					<div class="e-con-inner">
				<div class="elementor-element elementor-element-38218bf elementor-widget elementor-widget-text-editor" data-id="38218bf" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="text-editor.default">
				<div class="elementor-widget-container">
									<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/10/shantarama-4-Laaltain.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter wp-image-25855 size-full" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/10/shantarama-4-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/10/shantarama-4-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/10/shantarama-4-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/10/shantarama-4-Laaltain-768x341.jpg 768w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p><p>ہمارے جیون میں ایسا حادثہ پیش آیا تھا، جسے دنیا شاید نہ مانے، ہم سب لوگ من ہی من بہت ہی مایوس ہو گئے تھے۔ اتنے سالوں کا ساتھی ہم سے دور ہو گیا تھا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میں ہی اس ڈیپریشن کو جھیل کر پھر کام میں جُٹ گیا، اور پورے زور و شور سے جُٹ گیا۔ یہ کام تھا نئی کہانی بنانا، نیا خیال پیش کرنا، فلم میکنگ میں ایک نیا تجربہ کرنا۔ ن۔ہ۔آپٹے کے ‘دنیا نہ مانے’ ناول پر نئی فلم بنانے کے کام میں لگ جانا ہی ڈیپریشن سے آزاد ہونے کا بہترین حل تھا۔</p><p>سکرین پلے شکل لینے لگا: ماتا پِتا کی موت کے کارن یتیم اور بے سہارا ہوئی ہروئین کی شادی دَھن کا لالچی اس کا ماما (ماموں) ایک امیر بوڑھے وکیل سے کر دیتا ہے۔ اس نوجوان لڑکی کے سارے احساسات جل کر خاک ہو جاتے ہیں۔ اپنے ساتھ کی گئی اس ناانصافی کا انتقام وہ بہت ہی شدت سے لیتی ہے۔ اس کے ایسے متشدد طرزِ عمل کے کارن اُس کے لیے اُس کے پتی اور گھر کے دیگر لوگوں کے من میں ایک طرح کی دہشت چھا جاتی ہے۔۔۔</p><p>اصل ناول میں دکھایا گیا تھا کہ ہروئین کا شادی سے پہلے ایک دوسرے نوجوان کے ساتھ پریم ہے۔ اس پریم کو جتانے والے کئی سین بھی ناول میں تھے۔ لیکن سکرین پلے بناتے سمے میں نے ان سبھی سین کو رد کر دیا۔ اس کا کارن میری رائے میں یہ تھا کہ فلم میں وہ ہی پریم سین رہتے تو شادی کے بعد اُس کی طرف سے کی گئی جدوجہد اس شادی سے پہلے پیار کے تعلق کے کارن کی گئی معلوم ہوتی۔ اس سے ہیروئین کی مورتی ایک دم معمولی ہو جاتی۔ وہ ناانصافی کا انتقام لینے کے لیے نہیں، محبت کی ناکامی سے پیدا ہوئی ناکامی کے کارن جدوجہد کررہی ہیروئین معلوم ہوتی۔ یہ مجھے پسند نہیں تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اپنے ساتھ کی گئی ناقابل معاف ناانصافی کے انتقام کے لیے اس نے خود داری کے ساتھ جو جدوجہد کی اُسی کو فلماؤں۔ بھارتی فلموں میں رومینٹک سین بہت ہی سستے ہو چلے تھے۔ اس لیے میں نے اسی پٹی پٹائی راہ پر چلنے سے انکار کر دیا۔ میں نے طے کیا کہ اپنی سماجی فلم میں ایک بھی رومینٹک سین نہیں رکھوں گا۔ یہ ہی کیوں، لفظ محبت تک کا کہیں استعمال نہیں کروں گا اور پھر بھی فلم عام لوگوں کے دلوں کو برابر چھوتی چلی جائے اس طرح اُس کی تخلیق کروں گا۔ یہ ایک دم نرالا چیلنج میں نے اپنے آپ کو دیا۔</p><p>سکرین پلے لکھ کر تیار ہو جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح اپنے ساتھیوں کو وہ پڑھ کر سنایا۔ سن کر داملے، فتے لال دونوں سوچ میں پڑ گئے۔ فتے لال جی نے کہا، “شانتارام بابو، اس میں تو ایک بھی لَوسین نہیں ہے، لوگوں کو یہ فلم کس طرح پسند آئے گی ؟”</p><p>داملے جی نے بھی اُن کی حمایت کی، “یہ ہماری پہلی ہی سماجی فلم ہے۔ یہ فیل ہو گئی تو ہماری بڑی بے عزتی ہو گی!”</p><p>“ویسا کچھ بھی ہونے نہیں جا رہا ہے، لیکن مان لیجئے کہ یہ فلم فیل ہو جاتی ہے تو یہ یقین جانیے کہ لوگ اس تجربے کو ‘اے گریٹ فیلیئر’ ہی کہیں گے۔” میں نے کہا۔</p><p>بھارت کی پہلی تجرباتی فلم (avant-garde cinema/ experimental film) کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ اس فلم میں سبھی مستعمل طور طریقوں کا استعمال نہیں کروں گا اور کاروباری کامیابی کے لیے کسی طرح سمجھوتا نہیں کروں گا۔ فلم کے لیے یہ ٹریٹمینٹ من میں پکا ہوتے ہی مجھے ہر سین کو پیش کرنے کے نئے اور انقلابی خیالات سوجھنے لگے اور من میں اٹھتی ہر نئی بات کو میں دھڑلے کے ساتھ عمل میں لانے لگا۔</p><p>فلم میں کسی سین کو اٹھانے کے لیے بیک گراونڈ میوزک دینے کا پرانا طریقہ کار میں نے چھوڑ دیا۔ اس میں سوچ یہ تھی کہ سین کا احساس بڑھانے کے لیے دیا جانے والا بیک گراونڈ میوزک سہج نہیں، غیر فطری ہوتا ہے۔ اس کے کارن سین کی حقیقت کم ہو جاتی ہے۔ لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ بیک گراونڈ میوزک کی جگہ پر جیون میں ہمیشہ سنائی دینے والی آوازوں کا ہی استعمال کر لیا جائے۔ اُسی کے مطابق ہیروئین نِیرا کو گانے کا شوق ہونے کے کارن وہ کلاسیکل میوزک کے گراموفون ریکارڈز بجا کر ان کی لےَ پر گانا گاتی ہے، ایسے دیگر سین میں نے سکرین پلے میں جوڑے۔</p><p>اس فلم کے ہر میوزک سین کے لیے میں نے نت نئے خیال کا تجربہ کیا: نِیرا شادی کے بعد سسرال آتی ہے۔ وہاں کاکا صاحب کی چھوٹی بھانجی سے اس کی گاڑھی دوستی ہو جاتی ہے۔ نِیرا کے جیون میں اس ننھی بچی کی دوستی کے کارن کافی رس پیدا ہو جاتا ہے۔ نیرا کے سسرال آنے کے بعد کچھ سمے بیت جاتا ہے، یہ بات مجھے فلم میں دکھانی تھی۔ یہ مَیں موسم پر مبنی ایک گیت کےذریعہ دکھانا چاہتا تھا۔ لیکن اس گیت کے لیے مجھے آرکسٹرا کا استعمال نہیں کرنا تھا۔ وہ ننھی بچی اس کے اسکول میں سِکھایا گیا موسم کا گیت گاتی ہے۔ ہیروئین نیرا کمرے میں رکھا پانی کا لوٹا، گلاس اور لکڑی کا چھوٹا ڈنڈا لےکر ان کو جل ترنگ جیسا بجاتی ہے اور اس گیت کا تال سُروں میں ساتھ دیتی ہے۔ ایسا سین میں نےسوچا۔ سنگیت کا یہ تخیل اس زمانے میں ایک دم انوکھا تھا۔</p><p>آگے چل ایک سین میں ایک بھکاری کا گانا ہے۔ اس سین کو میں نے راہ چلتے بھکاری جس طرح اپن ٹین کی ڈبیاں بجا بجا کر گاتے ہیں، اور ایک ساتھی گلے میں کہیں کا ٹوٹا پرانا ہارمونیم باندھے اس کا ساتھ دیتا ہے، اسی طرح کا سین میں نے لیا۔ یہ گیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ اس کے لیے پہلے کیشوراؤ بھولے نے ایک دُھن کھوجی تھی، لیکن ان کی دُھن مجھے پسند نہیں آئی۔ لیکن تبھی امرتسر کے میرے ایک چاہنے والے نے کچھ گیتوں کے فونو گرافس مجھے تحفے میں بھیجے۔ ایک دن میں انہیں سننے بیٹھا۔ ان میں “آئے مدینہ” نامی ایک گیت کی دُھن مجھے بے حد پسند آئی۔</p><p>میں نے کیشوراؤ بھولے کو بھی وہ دُھن سنائی۔ انہوں نے بھی اسے پسند کیا۔ اسی دُھن پر منشی عزیز نے گیت تخلیق کر دیا:</p><p>“من صاف تیرا ہے یا نہیں پوچھ لے جی سے، پھر جو کچھ کرنا ہے تجھے کر لے خوشی سے، گھبرا نہ کسی سے۔”</p><p>اس کے بعد اسی ارادے پر مراٹھی گیت شانتارام آٹھولے نے لکھ دیا۔</p><p>فلم کے کریڈٹ ناموں سے ہی یہ ناظرین کے دل و دماغ کو جکڑ سکے ، اس لیے میں نے دکھایا کہ شروع میں کیمرے کے چوکھٹے میں ایک گراموفون آتا ہے۔ اس کے بعد ہیروئین کا ہاتھ اس چوکھٹے میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ فونوگراف چالو کرتی ہے۔ اس میں لیریکل سنگیت سنائی دینے لگتا ہے۔ گراموفون پر رکھا فونوگراف جب گھومنے لگتا ہے تو اس کے مرکزی حصے پر چپکا نام بتانے والا لیبل بھی گھومتا گھومتا باہر آتا ہے اور کیمرے کے پاس آ کر ساکت ہو جاتا ہے۔ اس پر ٹیکنیشنز اور ڈائریکٹر کے ناموں کی رہمنائی ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہر سمے اسی طرح لیبل کیمرے کے پاس آ کر رکتا ہے اور آخر میں اس پر فلم کا نام آتا ہے۔</p><p>اس کے بعد کے سین میں بڑھاپے کی طرف ڈھلتی عمر کا ادھیڑ ہیرو اپنے لیے پتنی طےکرنے کے لیے ہیروئین کے ماما کے گھر آتا ہے۔ وہاں وہ اب بھی میں جوان ہوں کی ادا سے خضاب لگا کر کالی کی ہوئی اپنی مونچھوں پر تاؤ دے کر یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ ابھی اس کی شادی کی عمر ہے۔ تبھی سڑک سے جاتا کوئی پھیری والا آواز دیتا ہے ‘ق۔۔ل۔۔ئی۔۔’ ہیرو چونکتا ہے۔ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا اس کا ہاتھ فوراً نیچے ہو جاتا ہے، جیسے بجلی کا جھٹکا لگا ہو۔ اس خاص پس منظر میں آواز کے سین سے میں نے یہ بتایا تھا کہ جس طرح قلعی لگانے سے برتن روپہلے ہو جاتے ہیں، اسی طرح ہیرو کی روپہلی مونچھیں خضاب کی قلعی کرنے کے کارن کالی سیاہ دکھائی دے رہی ہیں۔</p><p>فلم کے آخر میں ہیرو کو اتنی ادھیڑ عمر میں شادی کرنے کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ اپنے سہاگ کی اصل (حقیقت) دبلی اور بوڑھی ہے، یہ جان کر نِیرا سہاگ سِندور لگاتے سمے ہمیشہ ہچکچاتی رہتی ہے۔ آخر اس کا بوڑھا وکیل پتی خود ہی یہ کہتا ہوا کہ، ”تم اب سے سہاگ سِندور مت لگایا کرو”، اس کے ماتھے پر لگا خوش قسمت سِندور مٹا دیتا ہے۔ ہیرو کے من میں اس سمے یہی خیال ہوتا ہے کہ اگر عورت بیوہ ہو جاتی ہے، تو ممکنہ طور پر اپنا دوسرا بیاہ رچا سکتی ہے اور سُکھی ہو سکتی ہے۔ اُن دنوں سفید پوش سماج میں بیاہتا کو طلاق نہیں ملتی تھی۔ ماتھے کے سہاگ سِندور کا اس طرح مٹائے جانے کا ہیروئین کے من پر زبردست صدمہ پہنچتا ہے۔ بھارتی عورت کے بنیادی سنسکاروں کو دھچکا لگتا ہے۔ اس کا کلیجہ تھرّا اٹھتا ہے۔ اسی سمے سڑک پر مری مائی کا کوئی بھگت بھگوتی کوخوش کرنےکے لیے اپنے ہی بدن پر جم کر کوڑے لگاتا ہے۔ کوڑوں کی کڑکتی آواز کا بیک گراونڈ آواز ناری کی ذہنی تکلیف کا اظہار بہت ہی پراثر ڈھنگ سے کرتا ہے۔</p><p>اسی طرح مختلف نئے خیالات کو پیش کرتے ہوے اس نئی فلم میں مَیں نے بیک گراونڈ میوزک کی جگہ پر بیک گراونڈ آواز کے ذریعے سے سین کی ڈرامائیت کو سجانے کی کوشش کی ۔ یہی نہیں اس فلم کے ذریعے میں نے یہ بھی دکھا دیا کہ معمولی استعمال کی چیزوں کو بھی فلم کا اٹوٹ انگ بنایا جا سکتا ہے۔ کونکن جا کر نئی شادی کر آیا بوڑھا ہیرو کچہری سےجب گھر لوٹتا ہے، تو راستے میں کئی واقف لوگ اوچھے انداز سے اُسے نئی شادی کے بارے میں پوچھنے لگتے ہیں۔ ان کو ٹالنے کے لیے وہ اپنی چھتری کا استعمال کرتا ہے۔ چھتری کھول لیتا ہے اور دور سے کوئی واقف آتا دکھائی دیا کہ کُھلی چھتری کی اوٹ میں اپنا منھ چھپا لیتا ہے۔ اسی طرح منھ چھپاتے چھپاتے اور واقف کاروں کی پھبتیوں سے بچتے بچاتے وہ اپنے گھر آ جاتا ہے۔ دروازے پر ہی اس کا بوڑھا نوکر کھڑا ہوتا ہے۔ وکیل اپنی ہی خوابیدگی میں کھویا کھویا چھتری تان کر ہی گھر میں گھستا ہے اور نوکر سے بھی منھ چھپا لیتا ہے۔</p><p>مالک کے اس الجھے ہوے طرز عمل سے حیران نوکر منہ کھولے دیکھتے ہی رہ جاتا ہے۔ وکیل دیوان خانے میں آتا ہے۔ دیوار پر لگی پرانی گھڑی آدھ گھنٹہ بیتنے کا کچوکا دیتی ہے۔ ہیرو اپنی خوابیدگی سے جاگ جاتا ہے اور چونک کر چھتری ایک طرف کرتا ہوا گھڑی کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔</p><p>بات یہ تھی کہ میں خود بھی خیالات کی خوابیدگی میں کھو کر کافی بھلکڑ بن جاتا تھا۔ اپنے اسی سوبھاؤ کے کارن ہی ہیرو کو چھتری تان کر گھر میں بھیجنے کا سین شوٹ کرتے سمے مجھے سوجھا تھا۔ کیشوراؤ داتے نے اپنی مسحور کن اداکاری سے اِس میں جان ڈال دی۔ دیوان خانے میں لگی اس گھڑی کے وجود کا استعمال میں نے پوری فلم میں ہر ایک کے روپ میں کئی بار کیا۔ وہ گھڑی ہیرو کی طرح ہی پرانی اور بوڑھی ہوگئی ہے۔ فلم میں ایک سین دکھایا تھا : ہیرو کی چاچی نِیرا کو دھوکا دے کر وکیل (ہیرو) کی کوٹھڑی میں بند کر دیتی ہے۔ وکیل اپنی سہاگ رات منانے کے لیے کمرے میں جانے لگتا ہے۔ وہ دروازے کی کنڈی کو ہاتھ لگاتا ہی ہے کہ نِیرا کمرے کی کنڈی چڑھا کر اندر سے بند کر دیتی ہے۔ وکیل کنڈی کھولنے کے لیے نِیرا کو ڈانٹ کر کہتا ہے۔ نیرا بھی اتنی ہی سختی سے اسے چیلنج دیتی ہے، “آپ چپ چاپ یہاں سے واپس نہ لوٹے، نہیں تویقین جانیے کہ کمرے میں رکھی لالٹین کا سارا تیل انڈیل کر میں سارے گھر کو آگ لگا دوں گی!”</p><p>بے بس وکیل باہر کے دیوان خانے میں ایک آرام کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ غصے کے مارے ہانپنے لگتا ہے۔ ہر سانس پھولی پھولی سی آتی ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک ٹک اور ہیرو کا ہانپنا دونوں کی لےَ ایک ہو جاتی ہے۔ تبھی ‘گھرس س گھر س س’ بڑی آواز ہوتی ہے۔ گھڑی کا سپرنگ کھل گیا ہوتا ہے۔ پل بھر وکیل کو ایسا لگتا ہے، جیسے اس کے دل کی گھڑی بھی بند ہو گئی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے دل کو ٹٹولنےلگتا ہے۔ گھڑی کا سپرنگ کھل جانے کی اس آواز سے تھئیٹر کے ناظرین بھی چونک جاتے تھے۔ کئی لوگ تو پردے پر دکھائی دے رہے ہیرو کی طرح اپنا سینہ بھی ٹٹولنے لگتے تھے۔ پوری فلم میں جب جب وہ گھڑی بند ہو جاتی ہے، وکیل اس کا پینڈولم زور سے ہلا کر اسے چالو کرتا رہتا ہے۔</p><p>فلم کے آخری سین میں گھڑی کا زیادہ سے زیادہ تجربہ کیا تھا: ہیرو وکیل کو اپنی بھول معلوم ہو چکی ہے۔ اس کے من میں طوفان اٹھا ہے۔ کس طرح نِیرا پھر جیون میں سکھ کے راستے پر چل پائےگی۔ اس کی پریشانی میں پریشان وہ کمرے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بےچین من سے گھومتا رہتا ہے۔ آخر تھک کر وہ ایک کرسی پر بیٹھتا ہے۔ سامنے کی دیوار پر گھڑی کی ٹک ٹک ٹک جاری رہتی ہے۔۔۔۔۔ ایسے میں ہی رات ہو جاتی ہے۔ کمرے میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ من ہی من کچھ فیصلہ کر وکیل اٹھتا ہے اور اپنے ہاتھ سے گھڑی کا پینڈولم روک کر گھڑی بند کر دیتا ہے۔ اپنے دل کی دھڑکن اپنے ہی ہاتھوں بند کرنے کا اشارہ دے دیتا ہے۔</p><p>اس سارے سین میں ہیرو کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں کہلوایا تھا۔ پھر بھی اس میں موجود جدوجہد، ہیرو کا کیا گیا فیصلہ وغیرہ سب باتیں بِنا کسی لفظ کے ٹھیک سے کہی جاتی ہیں۔ اس پرانی گھڑی کا استعمال بطور ایک علامت کے میں نے پوری فلم میں کر لیا۔ یہاں تک کہ وہ گھڑی فلم کا ایک جاندار کردار بن گئی!</p><p>اس گھڑی کی طرح وکیل کے کمرے میں رکھے بڑے آئینہ کا استعمال بھی میں نے ڈرامائیت بڑھانے کے لیے کیا۔ آدمی جب پس و پیش میں پڑ جاتا ہے تب آئینے میں پڑنے والا اُس کا عکس جیسے اُس کا دوسرا من ہے، اور وہ اس کی تکون کو کاٹتا رہتا ہے۔ اس مقبول سین کو اور بھی زیادہ پُراثر بنا کر میں نے پُرجوش احساس کا اخراج فلمایا۔</p><p>وکیل اپنی سفید ہوئی مونچھوں کو خضاب لگا کر کالا کر رہا ہے۔ تب اس کا عکس اس سے سوال کرتا ہے، ”تم اپنے سفید ہوے بالوں کو اس طرح کالا تو کر لو گے، لیکن تمہارے بوڑھے ہوے من کو پھر سے جوان کیسے کر پاؤ گے؟” وکیل اور اس کے عکس میں نوک جھونک ہو جاتی ہے۔ وکیل آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ پاس ہی رکھا ایک پیپرویٹ اٹھا کر اپنےعکس پر دے مارتا ہے۔ آئینہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس میں دو تین دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ اب دو تین عکس وکیل کی کِھلّی اڑاتے ہنستے ہوے نظر آتے ہیں۔ وکیل اور بھی گرم ہو جاتا ہے، کسی اور بھاری چیز کو آئینے پر دے مارتا ہے۔ اب آئینہ ٹکڑوں میں بکھر جاتا ہے۔ وکیل مڑ کر جانے لگتا ہے، لیکن تبھی بہت سارے لوگوں کی طنز بھری ہنسی سنائی دیتی ہے۔ وکیل پھر پلٹ کر دیکھتا ہے کہ آئینے کے زمین پر بکھرے ایک ایک ٹکڑے میں اس کے اپنے ہی عکس اسے چِڑا کر ہنس رہے ہیں۔</p><p>اس فلم میں اس طرح جدت لیے فلمائے گئے ہر ایک سین، بیک گراونڈ ساؤنڈ، بے جان چیزوں کا جاندار استعمال وغیرہ اتنی نئی نئی باتیں تجربے میں لائی گئیں کہ ان سب کا بیان کرنے بیٹھوں تو ایک پوری کتاب بن جائےگی۔</p><p>ناول کے اوریجنل ٹائٹل ‘نا پٹناری گوشٹ’ کی ہندی تبدیلی کچھ باغی انداز سے کی—‘دنیا نہ مانے’۔ مراٹھی ورژن کا نام ایک دم گھریلو، سگھڑ اور علامتی رکھا– ‘کُنکو’۔ ‘دنیا نہ مانے’ کو ہم نےسب سے پہلے کلکتہ میں ریلیز کیا۔ اس سمے میں بمبئی میں بخار سے بیمار پڑا تھا۔ کلکتہ سے تار آیا: ”دنیا نہ مانےکو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا ہے۔”</p><p>تار پڑھ کر میرے تو خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ کتنا بڑا خطرہ اٹھایا تھا! میں نے ایک ایسی فلم بنائی تھی جو سماج کے قدیم چلن کو ایک دم جنجھوڑ دے گی۔ ایسی فلم جس میں عام دلچسپی کے ناچ، گانے یا محبت کے سین کا ایک بھی سین نہیں۔ یہ خطرہ بہت بھاری پڑ سکتا تھا۔ ہم سبھی فلم کی کامیابی کے بارے میں شُبہ میں تھے۔ لیکن میرے اس نڈر تجربے کے کامیاب ہونے کے آثار دکھائی دینے لگے۔</p><p>چونکہ سینٹرل سینما میں ہماری ‘تُکارام’ اب بھی بھیڑ مسحور کر رہی تھی، ہم نے ‘دنیا نہ مانے’ کو بمبئی کے ‘کرشن’ سینما میں ریلیز کیا۔ اس کے علاوہ اور ایک تجربہ کر کے دیکھا۔ ‘کرشن’ سینما کے ساتھ ہی بمبئی کے فورٹ علاقے میں ‘ایکسلسئر’ سنیما گھر میں بھی ایک ہفتہ کے لیے اس کی پیشکش کا انتظام کیا۔ ان دنوں فورٹ علاقے کے سبھی سینما گھروں میں صرف انگریزی فلمیں ہی دکھائے جاتی تھیں۔ وہ ایک دو ہفتے ہی چل پاتیں۔ انہیں دیکھنے والے ناظرین زیادہ تر غیر ملکی ہوتے یا مغربی تہذیب میں پلے بھارتی۔ مڈل کلاس کے عام لوگوں کے جیون پر مبنی ہماری یہ فلم وہاں کی ایلیٹ ناظرین کو کہاں تک راس آتی ہے، ہمیں شُبہ تھا۔</p><p>دو چار دن بعد ہی پیراماؤنٹ فلم کمپنی کے مالک چھوٹو بھائی دیسائی مجھ سے ملنے کے لیے ہی پُونا آئے۔ کہنے لگے، ”شانتارام، بمبئی کے سبھی فلم والے بولتے ہیں کہ تمہارا نیا فلم پربھات کے نام پر بہت ہوا تو تین چار ہپتا (ہفتہ) چلےگا، اس سے زیادہ نہیں۔ ہم نے بولا بیشٹ (Best) چلےگا۔ اُن فلم والوں کے ساتھ ہم نے ایک بیٹ (Bet) ماری ہے ہزار روپیے (روپے) کی۔ تمہیں کیا لگتا ہے، ہم بیٹ جیت جائے گا یا ہارے گا؟” اس کی مزیدار باتیں سن کر مزہ آیا۔ میں نے انہی کے لہجے میں بے فکر ہو کر کہہ دیا، “تم بیٹ جیتےگا۔ ایک دم پکا۔”</p><p>اور چھوٹو بھائی واقعی میں بیٹ جیت گئے۔ ‘دنیا نہ مانے’ ایکسلسئر میں لگاتار چار ہفتے ہاؤس فل چلی۔ وہ بھی وہاں دوسری امریکی فلم ریلیز کرنا پہلے طے ہو چکا تھا، اس لیے وہاں سے اسے ہٹانا پڑا۔ پر کرشن سینما میں بھی یہ فلم پورے ستائیس ہفتے چلی، بھارتی فلمی دنیا کی تاریخ میں ‘دنیا نہ مانے’ پہلی سماجی فلم تھی، جو لگاتار اتنے ہفتے چلی۔</p><p>اس کے بعد ‘دنیا نہ مانے’ سارے ہندستان میں ریلیز ہوئی۔ وینس فلم فیسٹول میں بھی اِسے دکھایا گیا اور وہاں کے پنچوں اور ناقدین نے اس کی بہت بہت تعریف کی۔ لیکن ہمارے ملک میں اس فلم کو لے کر کافی بھلا بُرا کہا گیا۔ ملک کے کونے کونے سے ایک سے زیادہ پتر آئے۔ لگ بھگ ہر پتر میں پتر لیکھک نے آپ بیتی لکھی تھی۔ مدراس سے ایک ایرانی نے لکھا تھا:</p><p>“میں ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ہوں۔ میری مالی حالت اچھی ہے۔ میں نے حال ہی میں شادی کی ہے۔ میری پتنی عمر میں کافی جوان ہے، مجھ سے وہ اچھا سلوک نہیں کرتی۔ آپ کی ‘دنیا نہ مانے’ دیکھ آیا ہوں، اور پتنی کے اِس سلوک کا مطلب میری سمجھ میں آگیا ہے۔ اب میں اس کے درد کو اچھی طرح سمجھ پا رہا ھوں۔ اپنی غلطی میں نے پتنی کے پاس مان لی ہے اور اگر وہ چاہے، تو اسے اس شادی کے بندھن سے آزاد کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔ ویسے میں نے پتنی کو بتا بھی دیا ہے۔ آپ نےاس فلم کے ذریعے سے یہ جو مہان سماجی کام کیا ہے، اس کے لیے آپ کو دلی مبارک باد!”</p><p>کانپور سے ایک عورت نے لکھا تھا کہ یہ فلم دیکھنے کے بعد وہ بہت ہی غصہ ہو گئی۔ اپنے پتر کے ذریعے اس نے مجھے کافی آڑے ہاتھوں لیا تھا:</p><p>”آخر ہماری تہذیب کے خلاف اس فلم کی شوٹنگ آپ نے کی ہی کیوں؟ بھارتی ناری جنم سے ہی برداشت کرنے والی ہوتی ہے، وہ پتی مخالف بھی ہے۔ اس کے سامنے اس طرح ایک باغی ناری کا آدرش پیش کرنا کبھی مناسب نہیں۔ اس کارن ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہماری ریت کی تباہی ضروری ہو جائےگی۔ اچھا ہو کہ آپ اس طرح کی فلم بنانا بند کر دیں، ورنہ ہمیں آپ کی فلموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا!”</p><p>اس پتر کے کارن میرے من میں سوال پیدا ہوا کہ کیا واقعی میں نے کوئی غلطی کی تھی؟ اس سوال کا جواب وجیواُڑا سے آئے ایک اور پتر میں ملا۔ یہ پتر بھی ایک ناری نے ہی لکھا تھا:</p><p>”میرے سسرال میں مجھے بہت سزائیں دی جاتی ہیں۔ میرا پتی ایک الکوحل سے پرہیز کرنے والا نوجوان ہے، لیکن وہ اپنے ماتا پِتا سے بہت ڈر کر رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شادی شدہ ہو کر بھی میں اپنے آپ کو ایک دم بے سہارا محسوس کرتی ہوں۔ جیون سے کوئی لگاؤ نہیں رہ گیا ہے۔ لیکن کل آپ کی ‘دنیا نہ مانے’ فلم دیکھی اور اس کی ہیروئن کی طرح اپنا دامن صاف رکھتے ہوے مجھ سے ہو رہی نا انصافی کا انتقام لینے کا فیصلہ میں نے کیا ہے۔ اس طرح کی فلم بنا کر آپ ہم جیسی کمزور عورتوں کو ذہنی طاقت دیتے رہیں!”</p><p>اس زمانے میں اس طرح کا طوفان ‘کُنکو’ اور میرے خلاف بھی زوروں سے اٹھا تھا۔</p><p>‘موج’ کے ١٩٣٨ کے دیپاولی (دیوالی) خاص نمبر میں م۔و۔رانگنیکر نے میرے ساتھ ہوا اپنا ایک انٹرویو شائع کیا تھا۔ اس کے کچھ اقتباس یہاں دے رہا ہوں، تا کہ مجھ پر جوتنقید ہو رہی تھی اس کا کچھ اندازہ لگایا جا سکے۔ رانگنیکر نے لکھا تھا:</p><p>“۔۔۔شانتارام بابو کے اس غرور سے اُن کی انا کے بارے میں ہمیشہ quote کئے جانے والے چند لفظوں کی یاد تازہ ہو آئی۔” “میں جس پتھر پر سِندور چڑھا دوں، اس کو بھگوان بنا کر ہی چھوڑوں گا۔” شانتارام بابو کو ایسا کہتے quote کیا جاتا تھا! لیکن اپنےاس گھمنڈ کے بارے میں انہوں نے کہا، ”آپ سچ کہتے ہیں رانگنیکر جی، مَیں اس طرح ڈینگ ہانکتا رہتا ہوں، یہ تو مَیں نے پڑھا ہے اور سنا بھی ہے۔”</p><p>“شانتارام بابو اِس جملے کو کافی کچھ اکتاہٹ سے کہہ گئے، لیکن فوراً بولے، “جواب میں اس کے ساتھ کہوں گا کہ ہمارے سٹوڈیو میں کام کرتے ہوے جو اس فلمی دنیا میں نام کما گئے، ان میں سے ایک بھی اداکار پتھر نہیں تھا!”</p><p>“۔۔۔تو کیا یہ مان لیں کہ وہ پتھر اور سِندور والا جملہ کسی ایرے غیرے نے ہی شانتارام بابو کو بتا کر شائع کر دیا تھا؟ اس کی مناسب وضاحت شانتارام بابو نے اب بھی نہیں کی ہے، ایسا سمجھ کر میں نے پھر وہی سوال دہرایا۔”</p><p>“اس پر شانتارام بابو نے کہا، ‘اس طرح کے بے بنیاد لیکھوں کا ذکر ہی ہم کیوں کرنے بیٹھیں؟ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ سپیکر اپنے سننے والوں پر اثر ڈالنے کے لیے من چاہی اناؤنسمنٹ کرجاتا ہے، لیکھکوں کا حال بھی ویسا ہی ہے۔”</p><p>“لیکھکوں کی بات اٹھی تو۔۔۔ و۔س۔ کھانڈیکر کے ایک انٹرویو میں ‘پربھات’ کی سستی مقبولیت کی کِھلّی اڑاتے ہوے کی گئی بکواس یاد آئی۔ اس انٹرویو میں کھانڈیکر نے اپنی (ہنس پکچرز کی) فلم ‘جوالا’ کے وقار کی مشعل اونچی کرتے ہوے کہا تھا، ” ‘امرت منتھن’ کا بنیادی موضوع تشدد اور ہیرو راجگرو تھا۔ اس کے باوجود اس میں لمبے رومینٹک سین گھسائے گئے ہیں۔ اسی طرح ‘امر جیوتی’ میں چرواہوں کی شہزادی کا رومانس بے مطلب گھسا دیا گیا ہے۔ لیکن ‘پربھات’ کی اس سستی مقبولیت کے ٹارگٹ سے ہماری ‘ہنس’ کمپنی کا آدرش سیدھا سادہ مختلف ہے۔ ‘ہنس’ دانشورانہ سطح پر کھڑا ہونا چاہتی ہے۔”</p><p>“۔۔۔تو اس سستی مقبولیت کے بارے میں شانتارام بابو سے ان کی راۓ جاننا ناگزیر ہی تھا۔ اس پر انہوں نے کہا، ”کھانڈیکر جی اتنے اچھے لیکھک ہیں کہ ان کے اس ذکر کا جواب انہوں نے خود ہی اپنے اس انٹرویو کے دوران “جھاڑ بُہار” (رومینس) کی حمایت میں دے دیا ہے۔”</p><p>“شانتارام بابو کا یہ جواب سنتے ہی مجھے’جوالا’ میں ڈالے گئے کچھ مزاحیہ سین کی حمایت میں کھانڈیکر جی کے الفاظ یاد آئے۔ ‘جوالا’میں ایک جھاڑنے بُہارنے کا سین تھا۔ دانشورانہ سطح کے ماحول میں اس سین کی جیسے تیسے حمایت کرنے کی کوشش میں کھانڈیکر جی نے کہا تھا، ” ‘جوالا’ میں اصل میں مزاح کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن لوگوں کی مانگ کو دیکھتے ہوے وہ سین بعد میں اس میں جوڑا گیا۔”</p><p>“میں نے کھانڈیکر کے یہ الفاظ جیسے بھی یاد آ رہے تھے، شانتارام بابو کو سنائے۔ تب انہوں نے کہا، ”اب آپ ہی دیکھیے، کھانڈیکر جی اس میں نا قابل تردید روپ سے قبول کر گئے ہیں کہ ہماری مقبولیت نہایت اونچی قسم کی تھی، لہذا کھانڈیکر جی کی طرف سے گئی ہماری تنقید مسخری کے ڈھنگ کی اور صرف دانشور کسرت سی ہی لگتی ہے۔”</p><p>” کھانڈیکر جی کے ساتھ ساتھ مزاح کی بات چلی تو قدرتی طور پر مجھے اترے جی کا لکھا ‘پراچا کوّا’ ناٹک یاد آیا اور میں نے شانتارام بابو سے پوچھا، آپ نے ‘پراچا کوّا’ دیکھا ہے؟”</p><p>“شانتارام باپو نے اس کاجواب ‘نہ’ میں دیا اور فوراً مجھ سے ہی سوال کیا کہ آپ آخر ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا، ”اس ناٹک میں پربھات کی ہیروئین کو ٹارگٹ کرتے ہوے ایک جملہ ہے— سالی کیا چیخ رہی ہے۔ اور ‘کُونکو’ فلم کا ذکر گدھوں کی بارات کہہ کر کیا گیا ہے، اس لیے۔” اس پر شانتارام بابو نے فوراً کہا، ”اچھا اچھا، اب میری سمجھ میں آیا کہ اس ناٹک کمپنی کے مالک مجھ سے یہ ناٹک دیکھنے کی درخواست باربار کیوں کئے جا رہے تھے!”<br>”۔۔۔شانتارام بابو نے مجھ سے پوچھا، ”کیا یہ سچ ہے کہ ایک تماشا گھر کے افتتاح کے سمے اُن لوگوں نے اترے جی کو ایک قلم گفٹ کی تھی؟ میں نے انہیں بتایا کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ اس پر شانتارام جی ایک دم تالی بجا کر بولے، “تب تو آج کل اترے اسی قلم سے لکھتے ہوں گے!”</p><p>یہ تو رہی رانگنیکر جی کی بات۔ ماما وریرکر نے بھی ایک اخبار میں ‘کُنکو’ پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے اپنی تنقید میں لکھا تھا کہ نارائن ہری آپٹے کے اصل ناول میں ہیروئین کی جو محبت کا پہلو تھا، فلم میں قطعی نہیں لیا گیا ہے۔ لہذا کہانی کی روح ہی تباہ ہو گئی ہے۔ لگتا ہے کہ شانتارام جی نے اپنی ‘کُنکو’ فلم میں اس ناول کےلیکھک کا گلا پورا کاٹ دیا ہے۔ ایک مشہور لیکھک کی’کُنکو’ کی کہانی پر ایسی بچگانہ تنقید کی جانے کی بات سن کر میری واقعی میں کچھ تفریح تو ضرور ہی ہوئی۔ نارائن راؤ آپٹے اسے پڑھ کر جھنجھلا اٹھے۔ انہوں نے ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ان دونوں لیکھکوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور آخر میں کہا کہ، ”شانتارام بابو نے میرے ناول کے ساتھ پورا انصاف کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، وریرکر کی رائے کے مطابق انہوں نے میرا گلا بالکل ہی کاٹا نہیں ہے، بلکہ میری گردن اچھے طرح اونچی ہو گئی ہے۔”</p><p>مطلب یہ تھا کہ ‘کُنکو’ فلم نے سماج کے سبھی طبقوں میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ تنقید اور تبصروں کی جب یہ دُھلینڈی (ہندوتہوار) کھیلی جا رہی تھی، ڈیلکارنے جی کی ایک کتاب میں نے پڑھی۔ اُس کی ایک خوش بیانی نے ایسی تمام تنقیدوں کے لیے میرے نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلی کر دی۔ خوش بیانی تھی ”تمہاری الٹی سیدھی تنقید ہو رہی ہے، تب مان لو کہ تم کام کرتےہو۔ اصل میں زندہ ہو۔ مر چکے لوگوں کے بارے میں سبھی اچھا ہی بولا کرتے ہیں۔” اس خوش بیانی کا مجھ پر اتنا اثر پڑا کہ آج تک مجھے یا میری فلموں کو لےکر اگر کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہوا، پھر مجھے بھی کہیں کچھ غلطی ہو جانے جیسا لگتا ہے۔ جان بوجھ کر کی گئی سطحی تنقید کی طرف میں دھیان ہی نہیں دیتا۔ تنقید کا اپنے کام کی ترقی کی نظر سے میرے لیے کوئی استعمال نہیں ہوتا۔ میں نے اپنے اندر ایک کٹھور نقاد کو ہمیشہ جگائے رکھا ہے۔ وہ نقاد مجھے وہ ساری غلطیاں صاف بتلا دیتا ہے، جو میری تنقید اور ناقدین کو بھی دکھائی نہیں دیتیں۔</p><p>‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بارے میں ایک اور یاد ہے: یہ فلم جنوب میں ریلیز ہوئی، تب مدراس میں ہندی پرچار سبھا کے صدر ستیہ نارائن مجھ سے ملنے پُونا آئے۔ انہوں نے میرا دلی شکریہ ادا کیا۔ اس شکریہ کا کارن میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے، “جنوب میں آپ کی اس فلم کے کارن ہندی پرچار سبھا کا کام بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں ہماری ہندی کلاسز میں شامل ہونے کے لیے اس لیے بھیڑ کیے جا رہے ہیں کہ آپ کی بنائی ہندی فلم کو وہ اچھی طرح سے سمجھ سکیں۔”</p><p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/iJrHsU2_618" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p><p>اس فلم کے بارے میں اور ایک بہت ہی چُھو لینے والی یاد ہے۔ وہ اتنی سُندر ہے کہ آج بھی اس کی یاد سے تن من باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ کھیل کھیل میں کتاب میں کسی صفحے کے اندر رکھا ہوا پیپل کا پتہ، برسوں بعد اس کتاب کے صحفے الٹتے سمے مل جانے پر اس میں پڑی مہین، نزاکت بھری جالی دار نقاشی دیکھ کر تن من جذباتی ہو جاتا ہے نا، ٹھیک اسی طرح میری حالت اس یاد کےکارن آج بھی ہو جاتی ہے۔</p><p>ایک دن سویرے ہی میں اپنےگھر کے دیوان خانے میں بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا۔ تبھی نوکر نےآ کر بتایا کہ باہر کوئی بوڑھے سجن آئے ہیں اور آپ کا نام لے کر انگریزی میں کچھ پوچھ رہے ہیں۔ میں باہر آیا۔ جنوبی ڈھنگ کا صافہ باندھے ایک کافی بزرگ مہاشے دروازے پر کھڑے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے کہا، “میں جنوب میں گُنٹور کا رہنے والا ہوں اور وہاں سے صرف وی۔ شانتارام جی سے ملنے آیا ہوں۔ مہربانی کر کے انہیں باہر بلائیے۔”</p><p>“آپ کو ان سے کیا کام ہے، جان سکتا ہوں؟“مَیں نے تجسس سے پوچھا۔</p><p>“بات ایسی ہے کہ مَیں نے اُن کی ‘دنیا نہ مانے’ دیکھی اور اس فلم سے میں اتنا متاثر ہو گیا کہ صرف ان سے ملنے کے لیے ہی گُنٹور سے پُونا آگیا ہوں۔”</p><p>اب میں تذبذب میں پڑا، کیسے ان مہاشےکو بتاؤں کہ میں ہی شانتارام ہوں۔ لیکن مجھ سے ملنےکی ان کی دلی خواہش کو دیکھتے ہوے مجھے آخر بتانا ہی پڑا۔ “جی، میں ہی ہوں شانتارام۔”</p><p>“آپ۔ شانتارام ہیں؟ ‘دنیا نہ مانے’ کے ڈائریکٹر؟ نا ممکن!”</p><p>مجھے سن کر ہنسی آ گئی۔ اب میں نے ہی اُن سے الٹا سوال کیا، “کیوں؟ میں شانتارام نہیں ہوں، ایسا آپ کیوں مان رہے ہیں؟”</p><p>“اس لیے کہ ‘دنیا نہ مانے’ میں اس بوڑھے وکیل کے احساسات، اس کی خواہش، پچھتاوا وغیرہ سب کچھ اتنی گہری نظر سے فلمایا کیا گیا ہے کہ ضرور ہی اس کا ڈائریکٹر کوئی اچھا تجربہ کار اور بوڑھا ہو گا۔ جائیے، مجھ سے مذاق نہ کیجئے اور اندر جا کر شانتارام جی کو چند منٹوں کے لیے ہی سہی، باہر بھجوا دینے کی مہربانی کیجئے۔ انہیں ابھی اس سمے فرصت نہ ہو، تو میں یہاں بیٹھ کر انتظار کرتا ہوں۔ لیکن ان سے ملے بنا یہاں سے ہرگز جاؤں گا نہیں۔”</p><p>کیسے ان مہاشے کو سمجھاؤں کہ میں ہی اصل میں شانتارام ہوں، بالکل ہی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ تبھی باہر سیتارام بابو کلکرنی ہمارے گھر ہو کر کہیں جا رہے تھے۔ مجھے دروازے کے پاس کھڑا دیکھ کر انہوں نے سہج آواز دی۔ “کہیے شانتارام بابو، کیا ہو رہا ہے؟”</p><p>سنتے ہی اس بزرگ مہاشے کی آنکھیں حیرت سے کُھلی ہی رہ گئیں۔ انہوں نے کہا، “آپ ہی وی۔ شانتارام ہیں؟ اور اتنے جوان؟ (اس سمے میری عمر ہوگی کوئی چونتیس سال۔ لیکن عمر کے مقابلے میں میں کافی چھوٹا لگتا تھا) اجی، آپ تو عمر میں اتنے بچگانے لگتے ہیں، پھر بھی آپ نے ایک بوڑھے کے من کو پردے پر اتنی آسانی سے کیسے فلمایا؟ سچ بتاتا ہوں، آپ کو سلام کرنے کے لیے میرے پاس کوئی الفاظ نہیں ہے۔ آپ کو دلی مبارک باد!”</p><p>ہچکچاہٹ کے مارے میں سمٹ سا گیا۔ کیا جواب دوں، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ تبھی وہ مہاشے کرسی سے اٹھے، جیب سے ماچس نکالی، ایک تیلی جلائی۔ پاس میں ہی رکھے پوجا کےسامان سے کچھ اگربتیاں جلائیں اور مجھ سے کہنے لگے، “آپ کرسی پر بیٹھیے۔ منتروں کے ساتھ میں آپ کی پوجا کرنا چاہتا ہوں۔”</p><p>اس آدمی کے بولنے اور طرزعمل کا آخر کیا مطلب ہے، سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے کہا، “دیکھیے، اس طرح کی پوجا کی رسموں پر میرا کوئی عقیدہ نہیں ہے آپ کو فلم پسند آئی اور یہ بتانے کے لیے آپ اتنی لمبی یاترا کر کے یہاں آئے، اس کے لیے میں آپ کا دل سے شکر گزار ہوں۔”</p><p>مہاشے میری بات سے کافی ناامید لگے۔ پھر بھی دلی احساس سے بولے، “آپ چاہیں تو اسے پوجا نہ مانیے، آشیرواد ہی سمجھیں۔ ایک بوڑھے کی دعائیں بھی کیا آپ کو پسند نہیں؟”</p><p>آشیرواد! دعائیں! کیسے انکار کرتا؟ ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے ہی آگے کہا، “بیٹھیے نا کرسی پر۔”</p><p>ایک کٹھ پتلی کی طرح میں کرسی پربیٹھ گیا۔ انہوں نے اگربتیوں کو دروازے کی چوکھٹ پر کسی چھید میں لگا دیا۔ جیب سے کوئی پڑیا نکالی اور اس کے اندر رکھی بھبھوت (راکھ) میرے ماتھے پر لگا دی۔ میرے ہاتھ میں ایک لیموں دیا اور بولے، “یہ بھبھوت اور پرساد بھگوان تِرُپتی بالاجی کا ہے۔ اس کی کرپا سے آپ ‘دنیا نہ مانے’ جیسی اچھی فلمیں بناتے رہیں اور ان کے بنانے کے لیے تِرُپتی آپ کو لمبی عمر اور اچھی صحت دے!”</p><p>اس بوڑھے مہاشے نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر پر آشیرواد کے لیے مضبوطی سے رکھے۔ میرا گلا رِندھ آیا۔ آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے انہیں ایک دم جُھک کر پرنام کیا۔</p><p>کافی دیر تک میں ان کے سامنے سر جھکائے جھکا رہا۔ جذباتی ہو جانے کے کارن منہ سے لفظ نہیں نکل رہا تھا۔ کچھ دیر بعد آنکھیں پونچھ کر میں نے اوپر دیکھا، وہ مہاشے چلے گئے تھے۔ میں فوراً دروازے تک گیا، لیکن وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیے۔ اسی جذباتی حالت میں میں دروازے پر کھڑا رہا جیسے کسی منتر سے متاثر ہو گیا تھا۔</p><p>اس عمر کے مہاشے کے بے اعتنا انداز سے دیے گئے آشیرواد اور گاؤں گاؤں سے ملے سینکڑوں ترغیب بھرے خطوں کے کارن سماج میں بیداری پیدا کرنے والی اسی ڈھنگ کی تجرباتی فلمیں بنانے کے لیے میرا حوصلہ بڑھ گیا۔</p><p>ایک بار بمبئی جانے کے لیے پُونا اسٹیشن پر کھڑا تھا کہ میری نظر کسی کو وداع کرنے کے لیے آئے وِنائک پر پڑی۔ اسے دیکھتے ہی پچھلی یادیں من میں ابھر آئیں۔</p><p>جرمنی سے لوٹ کر کولھاپور آنے پر ایک دن میں مائی سے ملنے گیا تھا۔ انہوں نے ممتا سے مجھے سہلایا اور خود گرم گرم روٹیاں بنا کر مجھے کھلائی تھیں۔ مائی کی اس ممتا کا کارن پوچھے بِنا مجھ سے نہیں رہا گیا۔ “مائی سچ بتانا، میں جب یہاں نہیں تھا، بابوراؤ اور وِنائک کو اس طرح ‘پربھات’ چھوڑ کر کیا جانا چاہیئے تھا؟ کیا انہوں نے ٹھیک کیا تھا؟”</p><p>مائی نے فوراً کہا، “انہوں نےغلطی کی۔ ارے تم ولایت سے لوٹ آتے، تمہارے ساتھ بنا کسی لاگ لپیٹ کے وہ باتیں کر لیتے۔ کیا تم ان کی بھلائی میں روڑا اٹکانے والے تھے؟”</p><p>پھر میری طرف دیکھ کر وہ ہی بولیں، “تم ضرور سوچ کر پریشان ہوے ہوگے۔ ہے نا؟”</p><p>“سچ مائی، میں بہت پریشان رہا۔ لیکن آج تم سے یہ سب سن کر جی کا غبار جاتا رہا۔” لیکن سچ تو یہ تھا کہ مائی کی ممتا بھری باتوں کے باوجود بابوراؤ اور وِنائک کے لیے میرے من کا غبار ذرا بھی کم نہیں ہوا تھا۔ ان دونوں کی بنائی فلمیں اسی غبار کے کارن میں نے دیکھی تک نہیں تھیں ۔پر کچھ ہی دن پہلے وِنائک کی ڈائریکٹ کی ‘برہمچاری’ میں نے ضرور دیکھی تھی۔ وِنائک نے اس فلم سے طنزیہ و مزاحیہ فلموں کا دروازہ فلمی دنیا میں کھول دیا تھا۔</p><p>پھر میری نظر اس کی طرف مڑ گئی۔ وہ بھی کچھ بوکھلایا سا مجھے دیکھ رہا تھا۔ وہ دوڑ کر میرے پاس آیا اور پرنام کرنے کے لیے جھکا۔ میں نے اسے پیار سے گلے لگایا اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور کہا، “وِنائک، میں نے تمہاری ‘برہمچاری’ فلم دیکھی ہے۔ تم نے اپنی خود مختار شخصیت بنا لی ہے۔ تم پر مجھے بہت ناز ہو آیا فلم دیکھنے کے بعد!” وِنائک کی آنکھیں ساون بھادوں برس گئیں۔</p><p>‘پربھات’ کو ایک کے بعد ایک لگاتار ملتی گئی کامیابیوں کے کارن ہم سبھی معاشی نقطہ نظر سے بہت آسودہ ہو گئے تھے۔ ہم سبھی حصہ داروں نے اپنے اپنے حصہ میں کافی بڑا منافع جوڑ لیا تھا۔ منافع کا بٹوارا بھی کر لیا تھا۔</p><p>تبھی داملے جی اور فتے لال جی کے پاس کونکن کے رتناگری میں ایک پاور ہاؤس بنوانے کی تجویز آئی۔ اُس میں ہم لوگ اگر کچھ پونجی لگاتے تو اس پر ہمیں بارہ فیصد سود ملنے والا تھا۔ ہمارے حصہ داری کانٹریکٹ میں ایک دفعہ تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی فلم میکنگ اور اس سے وابستہ کاموں کے علاوہ دوسرے کسی کاروبار میں حصہ نہیں لے گا۔ اس کے علاوہ ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ہم میں سے کوئی دوسرا کاروبار نہیں کرے گا۔ یہ دفعہ بندش تھی۔ اس لیے داملے جی کو یہ تجویز حصہ داروں کی بیٹھک میں رکھنا پڑی۔ فلم میکنگ سے حاصل دھن اس طرح کسی دوسرے کاروبار میں لگانا اور وہ بھی صرف اسی خیال سے کہ گھر بیٹھے سود ملتا رہے، مجھے قطعی پسند نہیں تھا۔ میں نے تڑاخ سے کہا، “آپ کا سارا پیسہ مجھے دیجیے، میں اسے ‘پربھات’ میں ہی لگاتا ہوں۔ اس پر میں آپ کو بارہ کیوں سو فی صد سود دیتا ہوں!”</p><p>“اجی، کیا کہہ رہے ہیں آپ، شانتارام بابو؟” فتے لال جی نے تلملا کر کہا۔</p><p>“ایک دم صحیح فرما رہا ہوں۔ ہم لوگوں نے سینما کاروبار سے جو دھن حاصل کیا ہے، اس کو کسی دوسرے کاروبار میں لگانے کا مطلب ہے ہمارا اپنے کاروبار پر اب یقین نہیں رہا ہے! اس سے تو اچھا ہو کہ ‘پربھات’ کے قیام کے سمے ہم نے ‘پربھات نگر’ بنانے کا جو سپنا دیکھا تھا، اسی کو ہم سچ کریں۔ پانچ چھ ماہ پہلے میں نے کوڈیک کمپنی کو امریکہ میں ایک پتر بھیجا ہے۔ ایک بڑا اور اپ ڈیٹد کیمیکل روم بنانے کا پلان ان سے منگوایا ہے۔ بھارت کے کئی فلم میکر اس کیمیکل روم میں اپنی فلموں کی ڈیولپنگ کروا سکتے ہیں۔ نتیجتاً ہماری پونجی پر پچاس فی صد سود تو ضرور ہی حاصل ہو سکتا ہے۔”</p><p>داملے جی نے کہا، “لیبوریٹری وغیرہ بنوا کر دوسروں کے کام کرتے رہنے کی نسبت ہمیں اپنی فلموں کی تعداد بڑھانی چاہیئے۔”</p><p>“میں آپ کی بات سے متفق نہیں ہوں۔ صرف فلم کی تعداد بڑھانے کے چکر میں ہم اپنی فلم کی خوبیاں کہیں کم نہ کر بیٹھیں۔“<br>داملے جی کو میری بات جچی نہیں۔ فتے لال اور سیتارام پنت چپ بیٹھے رہے۔</p><p>آخر میں داملے جی نے مجھ سے ایک بہت ہی تیکھا سوال کیا، “دوسرے فلم میکرزکا کام ہمیں نہ ملا تو اتنی بڑے کیمیکل روم میں آپ کیا دھوئیں گے؟”</p><p>میں نے جھنجھلا کر کہہ دیا، “آپ کی دھوتیاں دھوئیں گے!” اور میں فوراً وہاں سے چلا آیا۔</p><p>اس کے بعد کئی دنوں تک ہم آپس میں بولتے نہیں تھے۔ داملے جی کی بات اس طرح بہت ہی روکھے ڈھنگ سے دو ٹوک کاٹ دی، اس کا رنج مجھے ستا رہا تھا۔ لگتا تھا شاید میں انہیں اپنی بات ٹھیک ڈھنگ سے سمجھانے میں ناکام رہا ہوں۔</p><p>ایک دن ناراضی کی اس الجھن کو میں نے ہی پہل کر سلجھا لیا۔ میں کسی کام کے بہانے داملےجی اور فتے لال جی کے کمرے میں پہنچ گیا اور ان سےمعافی مانگی۔ داملے جی بھی سمجھاتے ہوے بولے، “شانتارام بابو، اس طرح ذرا ذرا سی بات پر آپا کھونے سے کام کیسے چلےگا؟ آپ ذرا ہماری نظر سے بھی تو سوچیں۔ ہم اب بوڑھے ہو چکے ہیں۔ بھگوان کی دیَا سے جو کچھ ملا ہے، اسے سنبھالتے سنوارتے زندگی کے باقی دن آرام سے بِتائیں یہی ہماری تمنا ہے۔ اس میں کیا غلط ہے؟”</p><p>“لیکن ‘پربھات’ کے قیام کے سمے آپ سب نے مجھے وعدہ کیا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک لاکھ روپیہ ہو جائے تو اس کے بعد مجھے پربھات نگر وغیرہ جو بھی بنانا ہو اس میں آپ لوگ رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، اس کا کیا ہو گیا؟ داملے ماما، مہربانی کر کے یہ دھیان میں رہے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے وہ بھگوان کی دیَا سے نہیں، ہماری اپنی محنت سے اور کاروباری ایمانداری کے کارن ملا ہے۔ اسی بَل پر ہم اور بھی زیادہ کما سکیں گے۔” میں نے خود اعتمادی کے ساتھ کہا۔</p><p>“وہ سب تو ٹھیک ہی ہے جی۔ لیکن آپ عمر میں کافی جوان ہیں۔ ambitious ہیں اتنا جوش اب ہم میں کہاں؟“<br>اس طرح کی باتوں کا بھی بھلا کیا جواب ہو سکتا ہے؟</p><p>میں نے کِھلّی اڑاتے ہوے ہنس کر کہا، “تب تو آپ ایک کام کیجئے۔ پھر میرے من کے ambitions اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ لوگ جوان دِکھنے کے لیے سفید بالوں کو خضاب لگا کر کالا بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح کا کوئی خضاب آپ میرے لیے لیتے آئیے، جو میرے کالے بالوں کو سفید بنا دےگا اور میں بھی بوڑھا دِکھنے لگوں گا۔”</p><p>میرا سر بُھنّانے لگا۔۔۔ آخر کیا کرنے سے داملے اور فتے لال دونوں میرے ساتھ خوشی اور امنگ لے کر ‘پربھات’ کا دائرہ اور بڑا کرنے میں جُٹ جائیں گے؟۔۔۔ ہم چاروں اب بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پیش رو ہوے تو کافی لمبی منزل طے کر سکتے ہیں۔۔۔ ‘تُکارام’ جیسی اور ایک آدھ فلم اِن دونوں کو ڈائریکشن کے لیے سونپ دی جائے تو کیسا رہےگا؟ ۔۔۔ پھر میرا مطلب پورا ہو جائے گا؟ ان کی شہرت اور نیک نامی اور بڑھ ہی سکتی ہے۔ ان کا ambition بھی بڑھےگا۔۔۔</p><p>میں نے فوراً داملے جی فتے لال سے فلم کے بارے میں بحث شروع کی۔ وہ دونوں خوش ہو گئے۔ سب کی راۓ سے طے رہا کہ ‘پربھات’ کی پہلی خاموش فلم ‘گوپال کرشن’ کی کہانی پر مبنی ایک بولتی فلم بنائی جائے۔ دو ایک دن میں ہی چند سین میں تبدیلی کر ہم نے کہانی کا فارمولا طے کیا۔ فوراً وشیکرن جی کو بلا بھیجا۔ انہیں نئی فلم کا خیال سمجھا دیا کہ سکرین پلے بناتے سمے من میں یہ استعارہ/ میٹافر یقینی کریں کہ کنس کو برٹش سامراج، کنس کے سپہ سالار کیشی کو نوکر شاہی اور کرشن کو عوام کی علامت کے روپ میں پیش کرنا ہے۔</p><p>ایک دن شام کو وشیکرن کے ساتھ ‘گوپال کرشن’ کے سکرین پلے پر بحث کی بیٹھک ختم کر میں گھر لوٹا، تو ایک لڑکا برآمدے میں ہی میرے انتظار میں بیٹھا تھا۔</p><p>کچھ بوکھلایا ہوا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا، “دادا صاحب نے آپ کو بُلایا ہے۔۔۔”</p><p>میں ٹھیک سے سمجھا نہیں۔ تذبذب میں اُس سے پوچھا، “کون دادا صاحب؟ اور مجھے کس لیے بُلایا ہے انہوں نے؟”<br>اب کچھ سنبھل کر لڑکے نے کہا، “دادا صاحب فالکے جی نے آپ کو بُلا بھیجا ہے۔”</p>								</div>
				</div>
					</div>
				</div>
				</div>
		<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-18/">شانتا راما باب 18: تجرباتی فلموں کے عہد کا آغاز (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-18/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما — باب 16: ڈائریکشن داو پر (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 21 Aug 2020 11:52:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Bollywood]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[بولی وڈ]]></category>
		<category><![CDATA[شانتاراما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25700</guid>

					<description><![CDATA[<p>فلم چلے گی، لوگ اسے پسند کریں گے، اس میں مجھے شبہ نہیں۔ مجھے پورا یقین بھی ہے! اور اگر یہ فلم نہ چلی توآپ یقین جانیے، میں ڈائرکشن کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا!</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/">شانتا راما — باب 16: ڈائریکشن داو پر (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولہاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>[divider]باب 16: ڈائریکشن داؤ پر[/divider]</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>“اپنی اس فلم کو ‘مہاتما’ نام دےکر مہاتما گاندھی کے نام کا کاروباری فائدے کے لیے استعمال کیا ہے!” مشہور لکھاری اور بیرسٹر کنہیالال منشی نے جلتا ہوا طعنہ مارتے ہوئے کہا۔</p>
<p>‘مہاتما’ فلم کو سنسر کی قینچی سے صحیح سلامت آزاد کیا جائےاورسنسر بورڈ کی طرف سے ہم لوگوں کے ساتھ جو ناانصافی کی گئی ہے اسے دور کیا جائے، ایسی مانگ کرنے کے لیے میں ان سے ملنے گیا تھا۔ لیکن پہلی سلامی میں ہی انہوں نے مجھے پورا چِت کر دیا۔ میرا خون کھول اٹھا۔ پھر بھی اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے میں نے کہا، “مہان کام کرنے والے سبھی قدیم اورجدید آتماؤں (لیڈروں) کو مہاتما خطاب دیا جا سکتا ہے۔ ویسا ان کا حق بھی ہوتا ہے۔ تین سو برس قبل مہاراشٹر میں چھوت چھات کے خاتمے کا کام کرنے والے سنت ایکناتھ کو ہم نے مہاتما کہا تو کون سا غلط کام کیا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گاندھی جی کے سوا اور کسی کو مہاتما نہیں کہنا چاہیے؟”</p>
<p>میری یہ ایک دم تیکھی بات شاید منشی جی کو پسند نہیں آئی۔ ‘مہاتما’ فلم پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ میں بہت بےچین ہو گیا۔ کبھی لگتا کہ اتنی لگن سے بنائی ہوئی یہ فلم، اس میں کاٹ پیٹ کرنے کے بجاے ویسے ہی ڈبے میں بند کر رکھ دوں۔ لیکن سبھی نقطۂ نظر سے وِچار کرنے پر آخر سوچا کہ بال گندھرو جیسے کلاکار نے صرف قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا قبول کیا ہے، تو کیا میرے اس فیصلے سے ان کا مقصد ناکام نہیں ہو جائے گا؟ سنت ایکناتھ یا چھوت چھات جیسے متنازعہ موضوع کا انتخاب ہم نے کیا تھا۔ فلم کے موضوع اور اس کے بنانے کے بارے میں بال گندھرو نے مجھ پر پورا بھروسا کیا تھا۔ ایکناتھ کی اداکاری بھی انھوں نے من لگا کر کی تھی۔ ایسی حالت میں غصے میں ہوش کھو کر میں ‘مہاتما’ کو ریلیز کرنا منسوخ کر دیتا ہوں تو معاشی کٹھنائیوں میں گھِرے اس مہان اداکار کے لیے کیا یہ بھروسا توڑنا نہیں ہو گا؟</p>
<p>من مسوس کر میں نے بابوراؤ پینڈھارکر کو فون کیا اور بتایا،“اس عقل مند اور مذہبی سنسر کے بچے کی مرضی کے مطابق ‘مہاتما’ میں جو بھی کانٹ چھانٹ کرنی ہو، کر لیجیے اور کسی طرح اسے پاس کروا لیجیے۔ لیکن اسے یہ بھی صاف صاف بتا دیجیے کہ ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے جاتے ہیں، اس سین کو جوں کا توں رکھنا ہی پڑے گا۔ وہ ایک تاریخی سچ ہے اور اس کو سنسر بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یہ بات اپنی طرف سے پورے زور سے کہیے گا اور پھر بھی وہ نہیں مانتے ہیں تو انھیں دھمکی دیجیے گا کہ شانتارام نے کہا ہے کہ اس سین کو آپ نے ذرا بھی چھوا تو میں خود بمبئی آ کرعام جلسہ کروں گا، اخباروں میں آواز اٹھاؤں گا اوراس معاملے کے خلاف عوامی تحریک چھیڑوں گا۔ آپ لوگ مجھے گرفتارکرا لو گے تو بھی پرواہ نہیں۔”</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/_fwKOLA5ISA" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>بمبئی میں ‘مہاتما’ ریلیز تو ہوئی، لیکن اس کا نام ‘دھرماتما’ کر دیا گیا۔ سماج بدلنے والوں اورناظرین نے اسے بہت پراثر اور چھو لینے والی فلم کے روپ میں عزت دی۔ اس کے بعد یہی فلم بمبئی صوبے سے باہر پہلے والے ‘مہاتما’ کے ہی نام سے ریلیز کی گئی اور مزے کی بات تو یہ رہی کہ اس کا ایک بھی سین نہ تو سنسر نے کاٹا، نہ ہی کسی سین کو انھوں نے چھوا۔ ان دنوں بھارت میں مختلف صوبوں کے لیے الگ الگ سنسر بورڈ تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ مہاراشٹر میں جنمے ایک مہان سماج سُدھارک سنت کے جیون پربنی فلم پر مہاراشٹر کے ہی سنسر بورڈ کی طرف سے پابندی لگائی گئی اور ہریجن سیوک مہاتما گاندھی کے پیروکار کہلانے والے لوگوں کے کنٹرول میں چل رہی ممبئی سرکار نے اس معاملے میں ہماری کوئی مدد نہیں کی!</p>
<p>کچھ مذہبی لوگوں کی مخالفت کے باوجود یہ فلم مہاراشٹر میں بہت ہی اچھی چلی۔ یہی نہیں، پنجاب، کلکتہ، مدراس وغیرہ صوبوں میں بھی ناظرین نے اس کو کافی سراہا۔ ‘مہاتما’ کا سارا خرچ وصول ہونے میں کوئی خاص دیر نہیں لگی۔ بعد میں سارا منافع ہی منافع رہا۔ معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو آدھا منافع دے دیا گیا۔ کامیابی سے وہ قرض سے آزاد ہو گئے اور ہمیں بھی اطمینان ملا کہ ہم نے اپنی ایک اخلاقی ذمےداری کو پورا کر دیا۔</p>
<p>معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو اہم کردار دے کر ہم نے ایک اور فلم بنانے کا وِچار کیا۔ ان کی بےانتہا نرم فطرت کے لائق کسی کہانی کی میں کھوج کرنے لگا۔ فتےلال جی کا کہنا تھا کہ بال گندھرو کے لیے کسی اور سنت کے جیون پر ہی اور ایک فلم بنائی جائے۔ سنتوں کے جذبات کو وہ نہایت خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ فتے لال جی کی بات سے میں بھی اتفاق کرتا تھا۔ سنت تُکارام کے جیون پر مبنی فلم بنائی جائے اور اس میں تُکارام کا کردار بال گندھرو کو دیا جائے، ایسا میں سوچنے لگا۔</p>
<p>لیکن تبھی ایک دن بال گندھرو میرے پاس آئے اور کہنے لگے، “انّا، لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں رہا زنانہ کردار کرنے والا اداکار، لہذا مردانہ کردار میں دیکھ کر انھیں بہت اَٹ پٹا سا لگا۔ کم سے کم اب اگلی فلم میں مجھےعورت کا کرداردیا جائے، ایسا ان تمام محبت کرنے والوں کی درخواست ہے۔”</p>
<p>بال گندھرو کی یہ بات سن کر میں تو ٹھنڈا پڑ گیا۔ سمجھ نہیں پایا کہ ان کے کان بھرنے والے ان کے نام نہاد بھکتوں کی اس عقل پر ہنسوں یا ترس کھاؤں! فلم کے ذریعے سے کلاکار کی مورتی کئی گنا بڑی ہوکر پردے پر تصویر ہوا کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کلاکار کتنا ہی بہترین ہو، ایک عورت جیسی جذباتی اداکاری کرنے کی وہ کتنی ہی کوشش کرے، ایک عورت جیسا دکھائی دینا اس کے لیے ناممکن ہی ہے۔ مجھے تو بال گندھرو کا یہ خیال قطعی پسند نہیں تھا۔ میں نے انھیں سمجھانے کی کافی کوشش کی۔ “آپ اپنے مشیروں کے کہنے میں نہ آئیے۔ اسٹیج اور فلم میں بہت فرق ہے۔ فلم میں آپ کا زنانہ پارٹ اچھا نہیں دکھائی دے گا۔ لوگ اسے پسند نہیں کریں گے۔”</p>
<p>میری صاف گوئی بال گندھرو کو راس نہیں آئی۔ بگڑ کر بولے، “بھگون، اپنے مِتروں کی رائے سے میں بھی متفق ہوں۔ آپ اگلی فلم میں مجھے زنانہ کردار دینے کے قابل نہیں ہیں تو اچھا ہو کہ آپ مجھے دوسری فلم کے معاہدے سے آزاد کر دیں۔”</p>
<p>اپنے ساتھیوں سے اس موضوع پر بحث کر، میں نے بال گندھرو کو ہمارے معاہدے سے آزاد کر دیا۔ بعد میں کانوں کان خبر ملی کہ کولہاپور کے رائل ٹاکیز کے مالک نے بال گندھرو کو زنانہ کردار دے کر ایک مقبول ناٹک پر مبنی فلم بنا لی ہے۔ سب سے حیرت اور دھکا اس بات سے لگا کہ ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر نے اس فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے۔ طریقہ کار میں کیسی irony تھی کہ جس بابوراؤ پینٹر نے سن ١٩١٨ء میں اپنی پہلی فلم ‘سیرندھری’ میں عورتوں کا کام عورتوں سے ہی کرایا تھا، وہی فنکار آج ایک مرد کو زنانہ کردار دینے کا سیدھا سادہ غیرفنکارانہ کام کر بیٹھا تھا! مجھے اس پر کافی رنج ہوا۔</p>
<p>بال گندھرو اور بابوراؤ پینٹر جیسے دو دو کلاکاروں کے اکٹھ سے بنائی گئی وہ فلم لوگوں کو قطعی نہیں بھائی اور بری طرح فیل ہو گئی۔</p>
<p>’امرت منتھن’ اور ‘دھرماتما’ فلم کو ملی بھاری کامیابی کے کارن ‘پربھات’ کے ساتھ ہی میرے نام کا بھی ڈنکا بجنے لگا تھا۔ ناظرین مجھے ترقی پسند ڈائرکٹر کے طور پر پہچاننے لگے تھے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے لین دین کا سارا کاروبار میں ہی دیکھا کرتا تھا۔ کمپنی میں کاروبار کی خاطر آنے والے سبھی کلاکار، لیکھک، غیرملکی کمپنیوں کے نمائندے میرے دیگر ساتھیوں کے پاس نہ جا کر سیدھے میرے ہی پاس آتے تھے۔ میں اپنے سبھی ساتھیوں سے اُن وزیٹرز، جینٹلمینوں کا تعارف کرا دینے سے کبھی نہیں چُوکتا تھا۔ اس بات کے لیے میں بہت ہی احتیاط برتتا کہ ساتھیوں کو کسی بھی صورت میں حقارت محسوس نہ ہو۔ لیکن کئی بار وہ خود ہی پیچھے رہنا پسند کرتے تھے۔ میری مقبولیت اپنے ساتھیوں کو شاید کہیں نہ کہیں چبھنے لگی ہے، اس کو میں کبھی کبھار محسوس کرنے لگا تھا۔ میرے پیچھے شاید وہ لوگ اس پر بات بھی کرنے لگے تھے: “جسے بھی دیکھو، سیدھا شانتارام بابو کے پاس ہی جاتا ہے۔ اور بابو بھی ہم سب کو ٹال کر اپنی ہی اہمیت بڑھانے کے جذبے سے پیش آتے ہیں۔ فلم کا موضوع، کرداروں کا انتخاب وغیرہ ساری باتیں وہ خود ہی کرتے ہیں۔ یہی کیوں، شوٹنگ کے سمے کیمرا کہاں رکھنا ہے، شاٹ کیسے لینا ہے، اس کے بارے میں بھی وہ ہدایات دیتے ہیں۔” فتے لال جی نے یہ سب باتیں مجھے سنائی تھیں۔</p>
<p>ایک دن جب ہم سب لوگ فرصت میں اکٹھے ہو گئے تھے، تب یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے میں نے اسی موضوع کو اٹھایا۔ میں نے کہا، “دیکھیے، خود آگے ہو کر میں اپنی مشہوری کبھی نہیں کیا کرتا۔ اخبار میں دیے جانے والے اشتہاروں میں بھی بطور ڈائرکٹر اپنی فوٹو چھاپنے کو میں نے ہی منع کر رکھا ہے۔ تھوڑی بہت انگریزی بول لیتا ہوں، اس لیے ہمارے کاروبار سے جُڑے غیرملکی یا دوسرے صوبوں کے لوگ مجھ سے مل لیتے ہیں۔ کئی بار تو آپ ہی لوگ انہیں میرے پاس بھیجتے رہے ہیں۔ کاروبار کی باتیں یا خط و کتابت آپ میں سے کوئی دیکھتا نہیں، اس لیے مجھے دیکھنا پڑتا ہے۔ اچھا ہو کہ آپ میں سے کوئی اس کام کو اپنے ذمے لے لے۔ پھر فلم بنانے پر اپنا دھیان زیادہ فوکس کرنا میرے لیے ممکن ہو جائے گا۔”</p>
<p>میری ویسے تو بہت ہی سیدھی معلوم ہونے والی لیکن صاف باتیں سن کر سب لوگ چپ بیٹھے رہے، لیکن اس کام کی ذمےداری لینے کے لیے ایک بھی آگے نہیں آیا۔ اس کے بعد میں نے بات چھیڑی شوٹنگ کے سمے فوٹوگرافر کو میری طرف سے جانے والی ہدایات کی۔ میں نے ان سب سے بِنا ہچکچاہٹ کے پوچھا، “کیا آپ میں سےکوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ سیٹ پر کام کرتے، کسی سین کے لیے مجھے ضروری معلوم ہونے والے کون کس طرح کے ہوں، یہ بتاتے سمے میں آپ میں سے کسی کے بھی ساتھ سختی سے پیش آیا ہوں؟ یا آپ کو بےعزت کرنے کے لیے کبھی کچھ بولا ہوں؟” سب کا جواب ‘نہیں’ میں ہی آنا تھا، سو آ گیا۔ تب میں نے انہیں بتایا، “فلم کی شوٹنگ میں سیٹ پر سب سے اہم ڈائرکٹر ہی ہوا کرتا ہے۔ اس کے دماغ میں فلم کے سبھی فارمولے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی ہدایات کے مطابق شوٹنگ ہو، تبھی فلم اچھی بن پائے گی۔”</p>
<p>اسی بیٹھک میں میں نے آگے چل کر تجویز رکھی کہ اگلی ڈائرکشن ہم میں سے کوئی اور شخص کرے۔ اس کے تحت کام کرنے کے لیے میں نے اپنی مرضی بھی ظاہر کر دی۔ سب کی رائے رہی کہ اگلی فلم کی ڈائرکشن دھایبرجی کریں۔ مجھے یہ فیصلہ بہت اچھا لگا۔</p>
<p>دوسرے دن فتےلال جی نے دھایبرجی کا ایک پیغام سنایا کہ، “میں جب ڈائرکشن کروں، شانتارام بابو سیٹ پر نہ آئیں، ان کی موجودگی میں میں سہما سہما سا محسوس کروں گا۔”</p>
<p>دھایبرجی کے اس پیغام کے کارن مجھے کچھ برا تو لگا، لیکن اپنے آپ کو جیسے تیسے سنبھال کر میں نے کہا، “ٹھیک ہے، میں سیٹ پر نہیں آؤں گا۔ اتنی ہی فرصت مل جائے گی، جب میں کافی کچھ پڑھ لوں گا۔ پھر اگلی فلم کی کہانی اور سکرین پلے بھی تو لکھنا ہے، وہی کر لوں گا۔”</p>
<p>اُن دنوں میں کافی بےچین سا محسوس کرنے لگا تھا۔ سوچتا، آخر دھایبرجی نے مجھے ٹالا کیوں؟ اور دوسرے ساتھیوں نے بھی انہیں کی بات مان لی! کیوں؟ کیا میری صاف گوئی سے ان کے دل کو ٹھیس لگی؟ ہو سکتا ہے کہ میرے سوبھاؤ میں جو ہٹ دھرمی ہے، ایک طرح کا اتاؤلاپن ہے، کچھ تُنک مزاجی ہے، ایک بار کیے گئے فیصلے پر فوراً عمل کرنے کی جو فطرت ہے، پتا نہیں یہ خوبیاں ہیں یا خامیاں۔۔۔ انھیں کے کارن شاید ایسا ہو رہا ہو۔ مجھ سے کچھ ایسی باتیں ہو گئی ہوں، جن کے کارن میرے ساتھیوں کو ٹھیس لگی ہے۔ لیکن میں نے جان بوجھ کر تو ویسا ہرگز نہیں کیا۔ اور مان لو کیا بھی ہو، تو سواے ‘پربھات’ کے لیے اندرونی لگاؤ کے، کوئی کارن ان کے لیے نہیں ہو سکتا۔ کہیں ایسا تو نہیں۔۔۔ من میں خدشہ جاگا۔۔۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت ہم لوگوں نے جس آپسی حسد اور جلن کو دفنا کر ہی پربھات کی عمارت کھڑی کی تھی، وہی حسد اور جلن اب پھل پھول کا کھاد پانی پاتے ہی اُگ گئی ہے اور وہ پودا سر اٹھانے لگا ہے؟</p>
<p>اس خدشے کو دور کرنے کا ایک ہی حل تھا۔ ان سب لوگوں کو کافی مقبولیت ملنی چاہیئے۔ کیشوراؤ دھایبر ‘راجپوت رمنی’ بنا ہی رہے تھے۔ ان کی طرح داملے، فتےلال جی کو بھی کسی فلم کی ڈائرکشن سونپنی چاہیے۔ انھیں بھی ‘پربھات’ فلم ڈائرکٹرکے روپ میں عزت ملنی چاہیے۔</p>
<p>کچھ ہی دنوں میں ‘راجپوت رمنی’ ریلیز ہو گئی۔ لیکن وہ لوگوں کو راس نہیں آئی۔ دھایبرجی کی اس ناکامی کے کارن داملے اور فتےلال جی خودمختارروپ سے ڈائرکشن کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن میں نے ہی زور دے کر کہا، “آپ کس بات سے ڈرتے ہیں؟ آپ کی خواہش ہو تو میں آپ کی مدد کروں گا۔”</p>
<p>میری اس یقین دہانی کے کارن انہیں کافی دھیرج بندھا۔ انھوں نے ڈائرکشن کی ذمےداری قبول کی۔ ہم سب لوگ ایک ایسے موضوع کی تلاش کرنے لگے جو ان دونوں کو پسند آئے اور ان سے سنبھلے بھی۔</p>
<p>کبھی فتےلال جی نے ہی سُجھایا تھا کہ بال گندھرو کی اہم کردار والی دوسری فلم سنت تُکارام کے جیون پر بنائی جائے۔ لہذا میں نے وہی موضوع فلم کے لیے لینے کا سجھاؤ رکھا۔ ان دونوں نے میرا سجھاؤ ایک دم مان لیا۔ داملے جی کے مِتر شری شِورام واشیکر کو ہم نے فوراً ہی کمپنی میں بلا لیا۔ انھیں سنت تُکارام کا سکرین پلے لکھنے کو کہا۔</p>
<p>لگ بھگ اسی سمے میری آئندہ فلم کی کہانی پوری ہونے جا رہی تھی۔ عورت کو خودمختاری ملے، عورت اور مرد کا سماج میں برابری کا مقام ہو، اس وِچار کی زوردار حمایت کرنے والی ایک غیرمعمولی اور مزے کی کہانی اس بار میں نے چُنی تھی۔</p>
<p>وہ ١٩٣٥ء کا زمانہ تھا۔ کئی عورتیں ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل جیسے پیشوں میں اہلیت سے شرکت کر رہی تھیں۔ سروجنی نائیڈو، کملا نہرو جیسی عورتیں سیاست میں بھی دھڑلے سے حصہ لے رہی تھیں۔ پھربھی عورت کی لا محدود آزادی (Women’s Lib) کے خیالات ان دنوں سماج کے گلے اترنے والے نہیں تھے۔ ایسی صورت میں عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے کے انتہائی جدید اصول پر مبنی فلم کو کامیاب بنانا بہت ٹیڑھی کھیر تھا۔ اسی لیے میں نے پوری فلم کا پس منظر کسی خاص مقام اور وقت سے جڑے نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا کرنے میں بھلے ہی کہانی نہایت من گھڑت لگے، لیکن ہو میرعملی مقصد ثابت کرنے والی۔ یہ سوچ کر میں نے سمندری ڈاکوؤں کے دریائی جیون پرہی اس کہانی کی تخلیق کی۔ نتیجتاً منظرووں کی شوٹنگ کرتے وقت میں بھی اپنے کافی نئے خیالات کا استعمال کر سکتا تھا۔ یہ مخصوص پس منظر اصلی معلوم ہو،اس لیے میں نے اس فلم کو صرف ہندی زبان میں ہی بنانا طے کیا۔</p>
<p>موضوع کی جدّت کے کارن فتےلال جی کی تخیلاتی طاقت کے پَر نکل آئے۔ مختلف منظروں کے سکیچیز میں ان کا ٹیلنٹ ایسا روپ لیتا کہ کئی بار میں بھی دنگ رہ جاتا تھا۔ عورت کی خودمختاری کے آدرش سے بھری ہیروئن سودامنی کا جوشیلا کام کرنے کے لیے بہت دنوں بعد پھر دُرگا کھوٹے کو مدعو کیا گیا۔ شانتا آپٹے اور واسنتی کو سودامنی کی اہم داسیوں کے رول دیے گئے۔</p>
<p>اس فلم میں تمام عورت جاتی سے نفرت کرنے والے وزیر کی ایک اثردار شخصیت تھی۔ چندرموہن سے کیے گئے معاہدے کی مدت بھی اب ختم ہونے کو تھی۔ کمپنی سے وداع ہونے سے پہلے ایک اچھا، زبردست کردار دینے کا وعدہ میں نے اسے کر رکھا تھا۔ اسی کے مطابق میں نے عورت سے نفرت کرنے والے لنگڑے وزیر کا کام اسے دیا۔ یہ کام بھی ویسے مشکل ہی تھا۔ بیساکھیاں لے کر میں نے اسے سکھایا کہ اس کام کو کس طرح کرنا چاہیے۔</p>
<p>سین تیار کیے جانے لگے۔ اداکاراؤں کے کپڑے وغیرہ سیے جانے لگے۔ دُرگا کھوٹے، شانتا آپٹے اور واسنتی کے لیے فتے لال جی نے پشاوری شلوار اور اوپر تنگ جیکٹ، ایسا مردانہ ٹھاٹ باٹ کا لیکن کافی مدہوش کرنے والا لباس بنوانے کے لیے کہا تھا۔</p>
<p>ایک دن شانتا آپٹے کی میک اپ میں مدد کرنے والی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی، “شانتا بائی نے نئے کپڑے پہن لیے ہیں اور دیکھنے کے لیے آپ کو بلایا ہے۔‘‘ میں شانتا بائی کے کمرے میں گیا۔ وہ میری طرف پیٹھ کیے کھڑی تھی۔ میری آہٹ سنائی پڑتے ہی وہ پلٹی اور منہ پُھلا کر بولی، “دیکھیے نا، آپ کےدرزی نے یہ جیکٹ کیسی سی رکھی ہے!” اتنا کہہ کر اس نے اپنے ہاتھوں میں کس کر تھامے جیکٹ کے دونوں کنارے کھلے چھوڑ دیے، واقعی میں جیکٹ کی سلائی میں بہت ہی گڑبڑ ہو گئی تھی۔ سامنے کے دونوں حصوں میں کافی فاصلہ رہ جاتا تھا۔ اس میں سے اس کے دونوں پستان صاف کھلے نظر آتے تھے۔ لیکن شانتا بائی میری طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔ اس کی ڈھٹائی سے میں حیران رہ گیا اور بولا، “آپ کی جو مددگار ہے، اُس کے ہاتھوں اس جیکٹ کو واپس سلائی ڈپارٹمنٹ میں بھجوا دیجیے اور درزی کو کہلوا بھیجیے کہ آپ کا ناپ ٹھیک سے لے اور اس کے مطابق جیکٹ کو پھر سی کر لائے۔” اور زیادہ کچھ کہے بنا ہی میں اس کمرے سے فورا باہر نکل آیا۔</p>
<p>دوسرے دن شانتا آپٹے میرے کمرے میں آئی اور چٹکی لیتے شوخی سے پوچھنے لگی، “آپ کل اتنے گھبرا کیوں گئے تھے؟”</p>
<p>کل ہوے اس واقعے کے کارن میں ابھی غصے میں ہی تھا، اس لیے میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی آپ بیتی کا رونا رونے لگی۔ اس کا بڑا بھائی اس کا سرپرست، رکھوالا، استاد، سب کچھ تھا۔ بالکل ہی معمولی بہانے پر وہ بات بات میں اسے بینتوں سے پیٹتا تھا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ کہتے کہتے اس نے ایک دم سہج انداز سے اپنی ساڑی اوپر اٹھائی اور اپنی کھلی جانگھ پرپڑے بینت کے کالے نیلے نشان مجھ کو دکھانے لگی۔</p>
<p>اتنی ملائم جگہ پر انگلی کی موٹائی کے مار کے نشان دیکھ کر میں بھی متاثر ہو گیا اور اس سے پوچھا، “آپ یہ سب برداشت کیوں کر لیتی ہیں؟”</p>
<p>مختلف نظر سے مجھے دیکھتے ہوے اس نے کہا، “کسی ممتا بھرے مرد کا سہارا مل گیا، تو میں گھر چھوڑ دوں گی!”</p>
<p>اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔ یوں ہی کچھ گول مول سا جواب دیا، “اجی، نہیں نہیں! آپ کا بھائی آپ کی بھلائی کی خاطر ہی شاید دوڑدھوپ کرتا ہو گا۔ اس کے من میں کسی طرح کی دُوری نہیں ہو گی، یہ بھی تو ممکن ہے۔۔۔” اور کسی کام کے بہانے میں اسے آفس میں ہی چھوڑ کر باہر کھسک گیا۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد میں شانتا آپٹے کے ساتھ ایک فاصلہ رکھ کر ہی پیش آتا۔ کام کے علاوہ الگ کہیں پر بھی اس سے ملاقات نہ ہو، اس کی احتیاط برتتا گیا۔ پھر بھی ‘میک اپ والے نے اچھا میک اپ نہیں کیا’ جیسے کئی بہانے بنا کر وہ مجھے اپنے کمرے میں بلاتی رہی۔</p>
<p>اسی طرح ایک دن اس کے بلا بھیجنے پر اس کے کمرے میں گیا تو یہ مہامایا صرف ایک کچھا پہنے ہی میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔ پاس ہی پڑا گاؤن اس کی کایا پر پھینک کر میں نے اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلائی، “شانتابائی، آئندہ آپ نے پھر کبھی ایسی حرکت کی تو ‘پربھات’ کے ساتھ آپ نےجو معاہدہ کیا ہے اس کی ذرا بھی پروا نہ کرتے ہوئے میں آپ کو ہماری کسی فلم میں کوئی کام نہیں دوں گا۔”</p>
<p>میری ‘امرجیوتی’ فلم کی رچنا پوری ہو چکی تھی۔ اسی سمے شِورام واشیکر ‘سنت تُکارام’ کا سکرین پلے بھی پورا لکھ کر لے آئے۔ میں نے اس کہانی کو سنا۔ انھوں نے سنت فلموں کی عام دھارا کی طرح اس میں چمتکاروں پر کافی زور دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ اس طرح کی چمتکاروں سے بھری سنت فلموں سے عوام اب اوب چکی تھی۔ میں نے واشیکرجی سے کہا کہ اس سکرین پلے کو وہ ایک اور رخ دیں اور تکارام کے جیون پر مبنی نئے سرے سے ایک ایسی کہانی لکھنے کی کوشش کریں جس میں تُکارام ایک آدمی کے روپ میں زیادہ ابھر کر سامنے آ سکیں۔ تکارام کی رحم دل شخصیت، ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت وغیرہ خوبیوں کو اہمیت کے ساتھ ظاہر کرنے والی خاندانی محبت اور ممتابھرے منظروں کو لے کر ایک دل چھونے والی کہانی تُکارام کے جیون پر لکھنے کا میرا وچار بہت پہلے سے تھا۔</p>
<p>لہٰذا میں نے تُکارام کا کردار اور ان کے ابھنگوں (قدیم مراٹھی ادب میں گیتوں کی ایک صنف) کی داستان خرید لی۔ دن میں ‘امر جیوتی’ کی شوٹنگ کر لوٹنے کے بعد رات میں دو ایک بجے تک جاگ کر میں نے تُکارام کا جیون اوران کے ادبی ذخیرے کا مطالعہ کیا۔ واشیکرجی کو پھر بلا کر ان کے ساتھ اس پر کافی بحث کی۔ آہستہ آہستہ سیدھی سادی لیکن پراثرکہانی معلوم ہونے لگی۔</p>
<p>اس کے بعد سب سے اہم سوال آ کھڑا ہوا کہ تُکارام اور ان کی پتنی جِجاؤ کے کام کے لیے لائق شخص کہاں سے ڈھونڈے جائیں۔</p>
<p>کبھی ناٹک کہانیوں میں زنانہ کردار کرنے والے وِشنو پنت پاگنیس اب بمبئی میں کسی کیرتن منڈلی کے ساتھ بھجن گایا کرتے تھے۔ کسی سے سُن رکھا تھا کہ وہ بھجن بہت ہی رسیلے ڈھنگ سے گاتے ہیں۔ میں نے وِشنوپنت کو پُونا بلا لیا۔</p>
<p>یہ آدمی بھجن گاتے سمے اتنا مگن ہو جاتا تھا کہ سننے والوں کے احساسات بھی بھکتی رس میں شرابور ہو جاتے تھے۔ مجھے لگا، تُکارام کا کام کرنے کے لیے وِشنو پنت پاگنیس ہی سب سے اہل شخص ہیں۔ داملےجی اور فتےلال کی رائے اس کے الٹ تھی۔ انھوں نے وِشنو پنت کے ناٹکوں میں کیے گئے زنانہ کردار دیکھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ تُکارام کا مردانہ کرداران سے کرا لینا بہت مشکل کام ہو گا۔ چونکہ داملےجی اور فتےلال اس فلم کے ڈائریکٹر تھے، ان کی رائے کو مان کر ہم نے چند اور آدمیوں کو بھی پرکھا۔ لیکن ان میں سے ایک بھی میری نظر میں اہل ثابت نہیں ہوا۔ آخر میں وِشنو پنت پاگنیس کو ہی تُکارام کا کام دینے کی درخواست میں نے کی۔</p>
<p>تُکارام کی پتنی ٹھیٹھ دیہاتی تھی، اس لیے ہمارے آرٹسٹ ڈیپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کرنے والی اَن پڑھ تانی بائی کو اس کردار کے لیے ہم نے چنا۔ اوپر سے بہت ہی منھ پھٹ اورجھگڑالو، لیکن اندرسے بےحد ممتا بھری رنگیلی دیہاتی عورت کے کردار کے لیے وہ عام شکل و صورت والی دیہاتی عورت مجھے پوری طرح اہل معلوم ہوئی۔</p>
<p>اس فلم کا میوزک ڈائرکٹ کرنے کی ذمےداری کیشوراؤ بھولے کو سونپی گئی۔ اس فلم میں ایک سین کے معقول بولوں والے کسی ابھنگ کی مجھے تلاش تھی: تُکارام ایک کھیت میں رکھوالے کا کام کر رہا ہے۔ فصل کی رکھوالی کرتے سمے وہ ایک ابھنگ گاتا ہے۔ لیکن تُکارام کے بارے لکھی کہانی میں ہمیں اس ارادے کو پیش کرنے والا ایک بھی ابھنگ نہیں ملا۔ لہذا ہار کر میں نے ‘امرت منتھن’ کے سمے ہماری کمپنی میں آئے شاعر شانتارام آٹھولے سے اس سین کے لیے معقول ابھنگ کی تخلیق کرنے کو کہا۔ ان کے لکھے ابھنگ کے بول تھے:</p>
<p>آدھی بیج ایکلے۔<br>
بیج انکرلے روپ واڑھلے<br>
ایکا بیجاپوٹی ترو کوٹی کوٹی۔<br>
پری انتی برہم ایکلے۔۔۔<br>
(معنی: آغاز میں بیج اکیلا ہی ہوتا ہے۔ اس کے پودے پھوٹتے ہیں، پودے بڑھتے ہیں، لمبے لمبے درخت کی شکل لیتے ہیں، لیکن بیج ہوتا تو ایک ہی ہے۔ اسی طرح مخلوقات عالم کو جاری و ساری کر مختلف روپ اختیار کرنے کے بعد بھی وہ پرماتما ایک ہی ہوتا ہے۔)</p>
<p>میں نے ابھنگ پڑھا اور فوراً کہہ دیا، “یہ گیت ایک دم مقبول ہو گا!”</p>
<p>وِشنو پنت پاگنیس نے اس کو آواز دی۔ ان کی طرف سے اس ابھنگ کو دی گئی دھن بڑی رسیلی تھی۔ میں نے سنتے ہی اسے قبول کر لیا۔ کیشوراؤ بھولے سے نہ بنوانے کے کارن وہ بہت زیادہ ناراض تو نہیں ہوئے، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ بات انoیں بُری ضرور لگی۔</p>
<p>آگے چل کر ایسے ہی ایک سین پر آخری ابھنگ کی دھنیں کیشوراؤ بھولے اور وِشنوپنت پاگنیس دونوں نے الگ الگ دیں۔ داملے فتےلال طے نہیں کر پا رہے تھے کہ دونوں میں سے کس کی دھن زیادہ اچھی ہے۔ آخر انہوں نے فیصلہ مجھ پر چھوڑا۔ میں نے دونوں دھنیں دھیان سے سن لیں۔ بھولے کی بنائی گئی دھن ویسے تھی تو اچھی، لیکن پاگنیس جی کی بنائی گئی دھن یقیناً ہی زیادہ اچھی تھی، مدھر بھی تھی۔ پھر بھی اپنے میوزک ڈائرکٹرکا وقار بنائے رکھنے کے خیال سے میں نے اپنی رائے کے خلاف فیصلہ دیا، “کیشوراؤ کی دھن اچھی ہے۔”</p>
<p>‘تُکارام’ کی بنیادی تیاری پوری ہو گئی۔ داملےجی اور فتےلال جی ‘تُکارام’ کی مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ اور اس بیچ کچھ دھیما پڑا اپنی ‘امر جیوتی’ فلم کا کام میں نے تیزی سے شروع کر دیا۔</p>
<p>‘امر جیوتی’ کی ہیروئن سودامنی عورت کی آزادی کے لیے اپنی کوششوں کے عروج پر ہے۔ نہ صرف عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے، بلکہ مرد کو عورت کی غلامی میں باندھنے کا آدرش سامنے رکھ کر وہ اس کی تکمیل کے لیے ایڑی چوٹی کا پسینہ بہاتی رہتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سودامنی اپنے تمام زنانہ احساسات کو مار کر ایک طرح کی مصنوعی دنیا میں گھومتی رہتی ہے۔ یہ سین کچھ تو غیرفطری اور کچھ نفسیاتی تھے۔ ان کی شوٹنگ کرتے سمے میں نے کئی شاٹس ایک دم غیرمعمولی طریقہ کار سے لیے۔ خصوصا کیمرے کے متنوع کونوں اور اس کی رفتار کا استعمال میں نے نفسیاتی ڈھنگ سے کیا۔</p>
<p>فلم کے دوران کسی کردار کا کوئی مکالمہ سہج نہ ہوتا تو کیمرا گھڑی کے ‘پینڈولم’ جیسا ٹیڑھا ہو جاتا۔ نتیجتاً پردے پر وہ شخص اپنے پاگل پن کا عکاس بن کر ناظرین کو ترچھا دکھائی دیتا تھا۔ جیسے جیسے اس کے وِچار سلجھتے جاتے، پردے پر وہ شخص پھر سیدھا اور نارمل نظر آتا۔ آج اس طرح کے شاٹ لینے کے سسٹم کو ‘پینڈولم شاٹ’ یا ‘لنگر سین’ سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کا کامیاب استعمال میں نے سن ١٩٣٦ء میں کیا تھا۔ اس زمانے کے جانکار ناظرین نے اس سسٹم میں موجود ارادے کو دل سے سراہا تھا۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/6-X5O40wgxE" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>فلم کے آخری سین میں مایوس سودامنی ایک جہاز پر سوار ہو کر ساگر میں کہیں دور جاتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ جہاز کی پتوار سے ٹک کر کھڑی ہے۔ آنکھوں میں زمانے بھر کی ناامیدی ہے۔ سامنے ساگر کی لہریں ہلکورے لے رہی ہیں، چٹان پر جا کر ٹوٹ رہی ہیں، بکھر رہی ہیں۔ انھیں دیکھ کر سودامنی کہتی ہے، “لہریں کتنی تیزی سے آ رہی ہیں۔۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔۔ آ رہی ہیں۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔ کیا یہی میری زندگی ہے؟”</p>
<p>اس کے پاس ہی ایک کونے میں بیٹھا اس کا فلسفی ساتھی شیکھر سودامنی سے کہتا ہے، “نہیں سودامنی، لہر آئی، پتھروں سے ٹکرائی، اترائی اور لوٹ گئی، یہ درست ہے۔ لیکن اس کے برابر آنے اور ٹکرانے سے پتھر ذراذرا گھستا ہوا ختم ہوئے بنا نہیں رہے گا۔”</p>
<p>“لیکن، یہ کام تو نہ جانے کتنے برسوں میں پورا ہو گا! پھر آدمی کو اپنے مقصد کی کامیابی پر کیسے اطمینان ہو گا؟ اس کی بےاطمینانی کیسے دور ہو گی؟”</p>
<p>“اس کی بےاطمینانی کا اطمینان اس کی لگاتار کوشش میں ہے۔ اجالے کو قائم رکھنے کے لیے دیے سے دیا جلایا جاتا ہے۔ اسی طرح تم نے اپنا کام نندنی کو سونپ دیا ہے۔ اسی میں تمہارے جیون کی کامیابی ہے۔۔”</p>
<p>دامنی کے چہرے پر اطمینان کا احساس چمکنے لگتا ہے۔ کیمرا دھیرے دھیرے دور جاتا ہے۔ دامنی کے جسم سے ایک ننھی سی روشنی نکلتی ہے۔ وہ دوسرے دیپک کو جلاتی ہے اوربجھ جاتی ہے۔ اسی طرح ایک روشنی سے دوسری روشن جلانے کی ایک لڑی ہی شروع ہو جاتی ہے، اس سین کے پس منظر میں ایک معمولی دھن میں گیت سنائی دیتا رہتا ہے:</p>
<p>کارج کی جیوتی سدا ہی جرے<br>
اک جن جائے، دوجا آئے، پھر بھی جیوتی جرے<br>
جیوتن کی اس لگاتارمیں<br>
کرتا ہی وِہرے۔۔۔<br>
(کاموں کی جیوتی سدا جلتی ہی ریتی ہے/ کاموں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔<br>
ایک جاتا ہے دوسرا آجاتا ہے۔ دنیا کے کام دھندھے کبھی نہیں رکتے، کرنے والے بدلتے رہتے ہیں۔)</p>
<p>دیپک کی اس علامت کو دکھا کر ہی ‘امر جیوتی’ فلم شروع ہوتی ہے : پہلے ایک قدیم ڈھنگ کا دیپک کیمرے کی نظر میں آتا ہے، وہ دوسرے دیے کو روشن کرتا ہے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک دیگر دیپ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی روشنی سے ہی فلم کا نام ‘امر جیوتی’ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>‘امر جیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام تیزی سے چل رہا تھا کہ ایک دن داملےجی اور فتےلال جی ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ وہ کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا، “پاگنیس اور تانی بائی سے ہم کافی دنوں سے ریہرسل کرا رہے ہیں، لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ ان دونوں سے اپنے اپنے کردار بن پائیں گے۔ اچھا ہو کہ آپ ایڈیٹنگ کا یہ کام کچھ دن کے لیے ملتوی رکھیں اور ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں آ کر ایک بار دیکھ تو لیں۔ آپ چاہیں تو خود ریہرسل لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہی طے کریں کہ ان دونوں کو یہ اہم کردار دینے ہیں یا نہیں۔”</p>
<p>میں نے ‘امرجیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام فوراً روک دیا اور پہلے ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں گیا۔ وِشنوپنت اور تانی بائی دونوں سے ریہرسل کرانا میں نے شروع کیا۔ داملےجی اور فتےلال جی کی بات صحیح تھی۔ ان دونوں سے کام برابر بن ہی نہیں پا رہا تھا۔ میں نے دونوں کو اداکاری کر کے دکھائی۔ وہ دونوں میرے بتائے مطابق اداکاری کرنے کی کوشش کرنے لگے۔</p>
<p>ایک دن ریہرسل سے پہلے وِشنو پنت پاگنیس میرے کمرے میں آئے اور بڑی منتیں کرتے ہوئے کہنے لگے، “انّا، یہ کام مجھ سے کبھی نہیں ہو گا۔ آپ تکارام کے رول کے لیے کوئی اور آدمی کھوجیں۔”</p>
<p>پاگنیس ہار گئے تھے، لیکن میں نہیں ہارا تھا۔ ان کا حوصلہ بڑھانے اور پھر خوداعتمادی جگانے کے لیے میں نے جھوٹ کہہ دیا، “کل میں نے آپ کا کام دیکھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اس کام کو ضرور ہی اچھی طرح کر لیں گے۔ آپ صرف ایک کام کریں، تُکارام کی چال ڈھال کی، چلنے پھرنے کی، اٹھنے بیٹھنے اور بولنے چالنے کی حرکت میں کر کے دکھاؤں، ہوبہو نقل کرنے کی کوشش کریں۔”</p>
<p>میرے کہنے کے کارن ان میں ضرور ہی کہیں اعتماد جاگا ہو گا۔ دوسرے ہی دن سے وہ من لگا کر کام کرنے لگے۔</p>
<p>پہلے دن تو ان سے کام کچھ ٹھیک سے بن نہیں پا رہا تھا۔ لیکن ان کا جوش بڑھانے کے لیے میں ہر روز کہتا، ’’آج آپ کا کام کل سے زیادہ اچھا بن پڑا ہے۔‘‘ انہیں اس طرح میں برابر ترغیب دیتا گیا۔</p>
<p>ایک ہفتہ بیت گیا۔ پھر ایک بار ناامید ہو کر پاگنیس نے کہا، “نہیں جی انّا، آپ جیسا کام مجھ سے نہیں بن سکتا!”</p>
<p>سچ کہا جائے تو میں بھی کچھ کچھ ناامید ہو چلا تھا۔ لیکن پاگنیس کی بہت ہی مدھر آواز، رسیلی گائیکی سٹائل اور اٹوٹ گائیکی میں جھلکنے والی شیرینی ان کے فریق کو مضبوط کیے ہوئے تھی۔ میں نے پھر کمر کسی اور انہیں حقیقت میں اپنے آپ کو دھیرج دلاتے ہوئے کہا، “آپ تو بیکار ہی نا امید ہوئے جا رہے ہیں۔ آپ کے کام میں ہر روز برابر ترقی دکھائی دے رہی ہے۔ چلیے آج میں آپ کو پھر اداکاری کر کے دکھاتا ہوں۔ باریکی سے دھیان دیجیے۔ اس پر غور کیجیے۔ رات میں ویسا ہی کر کے دیکھیے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں، کل آپ اس سین کو ایک دم مکمل ڈھنگ سے کرنے والے ہیں!”</p>
<p>دوسرا دن آیا۔ کل کر کے دکھائے گئے سین کی ریہرسل کرنے کا سمے آ گیا۔ پاگنیس اس سین میں ایک دم سو فیصد نہ سہی، لیکن اپنا کام کافی سدھے ڈھنگ سے کر رہے تھے۔ میں نے انہیں دلی شاباشی دی۔</p>
<p>شروع شروع میں تکارام کی پتنی کا کام کرتے سمے بوکھلا جانے والی تانی بائی کو بھی اداکاری سکھانے میں میں نے کافی محنت کی۔ مشق سے انھیں بھی اپنا کام اتنے سدھے ہوئے ڈھنگ سے کرنا آ گیا کہ ان کی جاندار ایکٹنگ سے کئی بار داملےجی اور فتےلال جی بھی دھنگ رہ گئے۔</p>
<p>تُکارام کی شوٹنگ شروع کرنے کے ایک دن پہلے پاگنیس میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے، انّا، کل آپ شوٹنگ کے سمے موجود تو رہیں گے نا؟“میں نے کہا، “اجی وِشنوپنت، اب تو آپ کی اداکاری ایک دم سیدھی سی ہونے لگی ہے۔ پھر بھی آپ سے کس طرح کام کرا لینا چاہیے، داملےجی اور فتح لال جی کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے۔ اب شوٹنگ کے سمے آپ کو قطعی دقت آنے والی نہیں۔‘‘</p>
<p>“وہ تو سب ٹھیک ہی ہے، لیکن کم سے کم میرے کام کے سین کے سمے تو آپ ضرور ہی موجود رہا کیجیے گا۔ میرا کام اتنا ہی اچھا بن پڑے گا۔” یہ سوچ کر کہ داملےجی اور فتےلال جی کو میرا موجود رہنا ممکنہ طور پر پسند نہیں آئے گا، میں نے اس ذمےداری کو ٹالنا چاہا، لیکن پاگنیس جی کی درخواست کے سامنے میری ایک نہ چلی۔</p>
<p>ایک بار تو پاگنیس نے مجھے اچھی خاصی مصیبت میں ڈال دیا۔ ایک اہم سین کی شوٹنگ جاری تھی۔ کام کرتے سمے پاگنیس اچھی طرح کھو گئے تھے۔ میں نے ان سے کہا، “واہ، وِشنوپنت، بہت ہی کمال کر دیا آپ نے!”</p>
<p>اس پر وہ سہج انداز سے کہہ گئے، “انّا، آخر اس ناچیز کی ہستی ہی کیا ہے، آپ کے بنا؟ آپ نے سکھایا ویسا ہی میں نے کر دکھایا۔ آپ میرے گرو ہیں!” یہ کہہ کر پاگنیس نے میری حالت اور بھی مشکل بنا دی۔ بھگوان جانے اسے سن کر داملےجی اور فتےلال جی نے کیا کیا نہیں سوچا ہو گا! میں سیٹ پر پھر لمحہ بھر بھی نہیں ٹھہرا۔</p>
<p>‘امر جیوتی’ فلم بمبئی میں ریلیز ہوئی۔ شروع میں دیپ کی روشنی سے بننے والی فلم کے کریڈٹ نام والے کارڈ دیکھ کر ناظرین اتنے جذباتی ہو جاتے تھے کہ ‘ڈائرکشن وی شانتا رام’ کا رڈ دکھائی دیتے ہی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے سینما ہال گونج اٹھتا۔</p>
<p>اس فلم میں ماسٹر کرشن راؤ کا دیا گیا سنگیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ خاص کر شانتا آپٹے کے گائے گئے ‘سنو سنو اے ون کے پرانی’ (سنو اے بن کے باسی) گیت کے اسی ہزار فونوگراف ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ اس گیت نے گراموفون ریکارڈ کی بِکری کا ریکارڈ قائم کیا۔</p>
<p>چندرموہن کو کچھ برس قبل دیے گئے قول کے مطابق، اس فلم میں اس کی لنگڑے وِلن کے کردار کے کارن وہ پھر مقبولیت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ فلم ناقدین نے دُرگا کھوٹے کی بہت ہی سلجھی ہوئی ایکٹنگ کی بھی تعریف کی۔ ‘امرجیوتی’ دیکھنےکے بعد ناظرین اتنے جذباتی ہوجاتےتھےکہ میں تھیٹرمیں ہوتا تو مجھے ڈھونڈ لیتے اور مجھے دلی مبارکباد دیتے۔ ساتھ ہی سبھی پوچھتے، “آپ کی اگلی فلم کون سی ہے؟”</p>
<p>ان سبھی انتہائی پُرجوش شائقین کو میں ایک ہی جواب دیتا، “اجی، ابھی ابھی تو اس فلم کی ذمےداری کا بوجھا ڈھو کر آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اب ذرا کھلی ہوا میں سانس تو لینے دیجیے۔ اس کے بعد اگلی فلم کے بارے میں اپنی خواہشات کا بوجھ آپ خوشی سے میرے سر پر ڈالیے گا!”</p>
<p>‘امر جیوتی’ کا ڈنکا سارے دیس میں بجنے لگا۔ ادھر پُونا میں تُکارام’ فلم کے ایک نہایت مدھر اور ممتابھرے فیملی سین کی شوٹنگ چالو تھی:</p>
<p>سورج ماتھے پر آ چکا ہے۔ تُکارام کی پتنی ان کے لیے دوپہر کا کھانا سر پر لیے پہاڑی چڑھ کر اس برگد کے پیڑ کے نیچے آ بیٹھتی ہے جہاں تُکارام بھگوان کا دھیان لگا کر بیٹھا ہوتا ہے۔ تُکارام کچھ حیرت کے انداز سے پوچھتا ہے:</p>
<p>“تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں یہاں بیٹھا ہوں؟”</p>
<p>بھولی بھالی جِجاؤ شرما کر جواب دیتی ہے، “مردوں کو بھلا یہ باتیں کاہے کو سمجھ میں آویں؟ اس کے لیے تو انھیں بھی ہم جیسی عورت ہی بننا پڑے ہے!”</p>
<p>اس کے بعد وہ بڑے پیار سے تُکارام کو جوار کی روٹی کا سوکھا کھانا پروس کر کھانے کی درخواست کرتی ہے۔ اس کا پیار دیکھ کر تُکارام گدگدا جاتا ہے اور کہتا ہے، “اسے کہتے ہیں نا سچا پیار! یہی ہے سچی بھکتی! اس بھکتی کے زور پر جیسے تم نے مجھے کھوج کر پا لیا، اسی طرح میں بھی اپنے پانڈورنگ (وِشنو کا ایک اوتار) کو کھوج کر پا سکوں گا!”</p>
<p>جِجاؤ پانڈورنگ کا نام سن کر جھنجھلا اٹھتی ہے اور ایک روٹی پروستی ہے۔ تُکارام روٹی کا پہلا ٹکڑا توڑتا ہے اور جِجاؤ کو بھی اپنے ساتھ کھانے کی کافی درخواست کرتا ہے۔ وہ شرما کر ‘نا نا’ کہتی رہتی ہے۔ تُکارام روٹی کا نوالہ جِجاؤ کے منھ کے پاس لے جاتا ہے۔ جِجاؤ لجّا کے مارے گڑی جاتی ہے اور بہت ہی حیا کے انداز سے اس غیرآباد بَن میں آس پاس یہ دیکھ لیتی ہے کہ کہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا، اور بعد میں فوراً ہی تُکارام کے ہاتھ کا وہ نوالہ اپنے منھ میں ڈال لیتی ہے۔</p>
<p>تُکارام کے ہاتھ سے نوالہ کھاتے کھاتے وہ کسی انوکھے جذبے کی دنیا میں کھو جاتی ہے۔ اسی کیفیت میں اپنے سے ہی بڑبڑاتی ہے، “بہت میٹھا، بہت میٹھا لاگے ہے!”</p>
<p>اس کا وہ پیار دیکھ تکارام اپنے آپ کو خوش قسمت مانتا ہوا کہتا ہے، “واقعی یہ میرا اچھا نصیب ہے کہ تم نے مجھے ایسی پتنی دی، ہے پانڈورنگا!”</p>
<p>“پانڈیا نے دی؟ اجی وہ خوب دے گا! میرے باپو نے دی ہے تم کو۔ پانڈیا لاکھ کہے گا مجھے اپنی بیٹی۔ نام نہ لیجا اس موے کلموہے کا میرے سامنے۔۔ ” جِجاؤ ایک دم غصہ ہو کر بولنے لگتی ہے۔</p>
<p>تُکارام پوچھتا ہے، “جِجاؤ، کیا سچ مچ تم میرے وِٹّھل کی بھکتی نہیں کرتی ہو؟”</p>
<p>“دھت، وِٹھل ہوئے گا تمرا دیوتا۔ ہوئے گا تمرے واسطے بہت بڑا، پر میرا دیوتا تو تمرے وِٹھل سے بھی بڑا ہے گا۔”</p>
<p>“اچھا؟ نام کیا ہے تمھارے دیوتا کا؟”</p>
<p>“میرے دیوتا کا نام؟ (شرما کر غصے کی اداکاری کرتے ہوئے) اب روٹی کھاؤ بھی چپ چاپ۔ (تُکارام کو پیار سے دیکھتی ہے) میرا دیوتا اِہاں بیٹھو ہے گا میرے سامنے، روٹی کھا رہو ہے۔ تمرا دیوتا کھاتا ہے روٹی تمرے سنگ؟” تُکارام لاجواب ہو کر جِجاؤ کو دیکھتا رہتا ہے۔</p>
<p>’تکارام’ فلم کے بارے میں فتےلال جی کے گھرایک بار بحث چل رہی تھی اور میں اس سین میں پورا رنگ گیا تھا۔ اوپر لکھے لفظ بولتا جا رہا تھا اور واشیکر بیٹھے اسے لکھتے جا رہے تھے۔</p>
<p>شوٹنگ کے سمے اس جذباتی سین کا شاٹ داملے فتےلال سے ویسا نہیں بن پا رہا تھا جیسا کہ بننا چاہیے تھا۔ اس سین کے لیے ضروری مدھرتا اور سہج، سچے، اور نرمل پیار کی اداکاری وِشنو پنت اور گوری (تانی بائی کا فلمی نام) سے امید کے مطابق نہیں ہو پا رہی تھی۔ کافی کوشش کرنے کے باوجود یہ حال تھا۔ آخر داملے فتے لال کی خواہش کے مطابق میں نے اس شاٹ کی شوٹنگ کی۔ فلم کا یہی بنیادی نقطہ ثابت ہو گیا۔</p>
<p>‘تُکارام’ فلم کے ڈائرکٹر تھے تو داملے فتےلال، لیکن مجھ پر تو یہی دھن سوار ہو گئی تھی کہ یہ فلم میری اپنی ہے۔ اس لیے اس کے چھوٹے سے چھوٹے سین پر بھی میں باریکی سے دھیان دیتا تھا۔ اسی وچار سے ایک سے ایک نئے نئے خیالات سوجھتے تھے۔ ان سبھی خیالات کو میں کھلے طور پر داملےجی اور فتے لال کے سامنے پیش کرتا تھا۔ یہ سب میں گہرے تعلق کے جذبے سے ہی کر رہا تھا۔<br>
اس فلم کا ایک سین:</p>
<p>چھترپتی شواجی مہاراج وِٹّھل مندر میں تُکارام کے گائے جا رہے ابھنگوں کو سننے میں مگن ہو گئے ہیں۔ تبھی شِواجی کو پکڑنے کے لیے مسلمان سپاہی مندر پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ لیکن مندرمیں بیٹھا ہر شخص انھیں شِواجی معلوم ہوتا ہے۔ اس احساس کے کارن سپاہی تذبذب میں پڑ جاتے ہیں اور ‘توبہ توبہ’ کہتے ہوئے گھبرا کر لوٹ جاتے ہیں۔ نام سنکیرتن کے رنگ میں رنگے شِواجی کا تحفظ اپنے وِٹھو رائے نے ہی کیا ہے، ایسا مان کر تُکارام کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا۔ اسی لطف میں وہ گانے ناچنے لگتا ہے:<br>
“وانو کتی رے سدیا، وٹھورایا، دن وتسلا۔۔۔” (بھجن)</p>
<p>تُکارام کی یہ میٹھی خوشی موجود سارے لوگوں پر چھا جاتی ہے۔ دیوالئے (مندر) اسی خوشی میں شرابور ہو جاتا ہے، باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ اسی آنند کی انتہا ہوتی ہے۔ سچدانند، یونی پرماتما، وہ پرماتما (پرماتما کے نام ) وہ سانولا سلونا وِٹھورایا بھی اس لطف میں مجسم ظاہر ہو کر تُکارام کی گائیکی کی لَے اور تال پر ڈولنے لگتا ہے، ناچنے لگتا ہے۔ اس سرخوشی کے منظر کا یہ شاٹ اس سین کا کلائمکس تھا۔ لیکن سب لوگوں کے ساتھ وِٹھوبا بھی خوشی سے چُور ہوکر ناچے، یہ خیال داملے فتےلال کو پسند نہیں تھا۔ لیکن میں نے اس سین کو اسی ڈھنگ سے فلمانے کی ضد کر لی۔ میں نے ایسا بھی کہہ دیا کہ ناظرین کو پسند نہ آیا تو اس شاٹ کو ہم لوگ بعد میں فلم سے نکال دیں گے۔ میں اپنی ضد پر اڑا رہا اور اپنے بیٹے پربھات کمار کو، جو وِٹھوبا کی مورتی کے جیسا ہی بونا، سانولا اور بڑی بڑی آنکھوں والا تھا، وِٹھوبا کا لباس پہنا کر اس سین کو فلما ہی لیا کہ وِٹھوبا کی پتھر مورتی زندہ ہو اٹھی ہے اور تُکارام کے گانے کے ساتھ ناچنے لگی ہے۔</p>
<p>تکارام کی شوٹنگ مکمل ہونے آئی تھی۔ اب ایک دم آخری سین کی شوٹنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں جس میں تُکارام بینکٹھ (آسمان) چلے جاتے ہیں۔ اس سمے کسی ضروری کام سے میں ممبئی گیا تھا۔ اچانک پُونا سے فون آیا۔ فون پرملی خبر سے میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ سٹوڈیو میں بنایا گیا جہاز، اسے اوپر کی طرف کھینچنے والے رسے ٹوٹ جانے کے کارن وِشنو پنت پاگنیس اور دوسرے کلاکاروں اور ٹیکنیشنوں کے ساتھ نیچے گر پڑا تھا۔ بمبئی کا کام ادھورا چھوڑ کر میں پہلی گاڑی سے پُونا لوٹ گیا۔ وِشنو پنت کو کوئی خاص چوٹ ووٹ نہیں آئی ہے، یہ بات مجھے اسٹیشن پر ہی معلوم ہو گئی۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ جلدی جلدی میں سیدھا سٹوڈیو جا پہنچا۔</p>
<p>وِشنوپنت سٹوڈیو کے ایک کمرے میں آرام کر رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھے اور میرے گلے لگ کر جذباتی ہو کر بولے، “انّا، میں بال بال بچ گیا! آپ یہاں ہوتے تو جہاز ہرگز نہ گرتا! میں داملےجی اور فتے لال جی سے کہہ ہی رہا تھا کہ انّا کے بمبئی سے لوٹ آنے کے بعد ہم لوگ اس سین کو لیں لیکن انھوں نے میری بات مانی نہیں!”</p>
<p>وِشنو پنت بہت ہی گھبرائے ہوئے تھے۔ میں نے انھیں حوصلہ دیا، “دیکھیے، وِشنو پنت، آخر یہ تو ایک حادثہ ہے۔ کسی کے یہاں رہنے یا نہ رہنے سے وہ ہوا، ایسی بات نہیں ہے۔ آپ بالکل گھبرائیے نہیں۔ ڈبل رسا باندھنے کا انتظام کرتے ہیں۔ تب تو بنے گی نا بات؟”</p>
<p>کچھ دنوں بعد، سب کچھ منظم کر لیا گیا اور پھر اسی سین کو پوری احتیاط سے فلما لیا گیا۔ ‘تکارام’ کی ایڈیٹنگ پوری ہوئی۔ پرنٹ تیار ہو گئے۔ شہر کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں ہم لوگوں نے رات کے بارہ بجے ‘تُکارام’ دیکھا۔ پہلے ٹرائل کے بعد میں نے کچھ منظروں کو تھوڑا آگے پیچھے کیا۔ کچھ منظروں کو کاٹا چھانٹا۔ اس سمے ہی بابوراؤ پینڈھارکر ‘تکارام’ دیکھنے کے لیے ہی پُونا آئے تھے۔ وہ فیملی کے ساتھ کچھ دن کے لیے لوناولا گئے۔ مجھے بھی انہوں نے کچھ دن آرام کے لیے لوناؤلا آنے کا دعوت نامہ دیا تھا۔</p>
<p>‘تُکارام’ کا سارا کام ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر کی اس دعوت کو قبول کر میں لوناؤلا گیا۔</p>
<p>یہ توقدرتی ہی تھا کہ حال ہی میں پوری کی گئی ‘تُکارام’ فلم کے بارے میں وہاں بات چیت چھڑ جاتی۔ ٹرائل ریلیز کے بعد ‘تُکارام’ کے بارے میں کیشوراؤ دھایبر نے بابوراؤ پینڈھارکر کے پاس جو وِچار ظاہر کیے تھے، بابوراؤ نے مجھے بتا دیے:</p>
<p>“جھانجھ منجیرا کوٹتے رہنے والے سنتوں کی فلموں کے دن کبھی کے لد چکے ہیں۔ ایسی حالت میں داملے جی، فتےلال جی کو شانتارام باپو نے ناحق سنت فلم بنانے کے جھمیلے میں ڈال دیا! لیکن یہ شانتارام جی نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ اس وجہ سے کہ داملےجی فتےلال جی کو انہیں نیچے گرانا تھا! اس لیے کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ داملے فتےلال جی کو کچھ بھی آتا واتا نہیں! وہ اپنی خدائی قائم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے! ہمیشہ وہ ہی بادشاہ بنے رہیں، اس لیے! آپ دیکھتے جائیے، یہ فلم ایک دم بری طرح فیل ہونے جا رہی ہے!”</p>
<p>ویسے تو مجھے کچھ کچھ بھنک مل چکی تھی کہ ‘راجپوت رمنی’ کی ناکامی کے بعد میرے بارے میں یہ افواہ جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہے۔ لیکن میرے پیچھے اس طرح کے الزام لگائے جانے سے میں جل بھن گیا۔ اپنے بارے میں اس طرح کے اوچھے وچار سن کر میرا تو خون کھولنے لگا۔ میں نے آپے سے باہر ہو کر کہا:</p>
<p>“بابوراؤ، تب تو آپ ضرور دیکھیں گے اورسبھی دیکھیں گے، فلم چلے گی، لوگ اسے پسند کریں گے، اس میں مجھے شبہ نہیں۔ مجھے پورا یقین بھی ہے! اور اگر یہ فلم نہ چلی توآپ یقین جانیے، میں ڈائرکشن کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا!”</p>
<p>اس پر بابوراؤ پینڈھارکر بھونچکے سے میرا منھ تاکتے ہی رہ گئے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/">شانتا راما — باب 16: ڈائریکشن داو پر (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما — باب 14: آف ویدر زہن!” (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-14/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-14/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 10 Jul 2020 15:53:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Bollywood]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[بولی وڈ]]></category>
		<category><![CDATA[شانتاراما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25423</guid>

					<description><![CDATA[<p>آئندہ فلم کے لیے من میں ایک بہترین اور اثردار کہانی شکل لے رہی ہے۔ اس کے لیے اب ہمیں نئے کلاکاروں کو ڈھونڈنا ہی پڑے گا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-14/">شانتا راما — باب 14: آف ویدر زہن!” (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>تار میں لکھا تھا، “گووندراؤ ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر، لیلابائی، وِنائک اور کچھ اور کلاکاروں اور ٹیکنیشینوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ پُونا آنے کے لیے تیار نہیں۔ آپ جلدی بھارت لوٹ آئیے۔” تار کے نیچے داملےجی کا نام تھا۔</p>
<p>کچھ لمحے تو میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کہاں ہوں، کیا کر رہا ہوں۔ زیادہ تنخواہ دینا قبول کرنے کے بعد بھی آخر یہ سب لوگ استعفیٰ کیوں دے بیٹھے ہیں؟ خاص کر بابوراؤ پینڈھارکر اور میری بھکتی کرتے ہوئے مجھ سے محبت بھی کرنے والے ونائک جیسے لوگوں نے بھی میری غیرموجودگی میں، جب میں یہاں دور پردیس میں ہوں تب، استعفیٰ دے دیا؟</p>
<p>آخر کیوں؟</p>
<p>اُفا اور آگفا کمپنی کے بھیجے گئے موٹی موٹی رقموں کے بِل، باپو کی بیماری اور ایسے میں ہی کولہاپور کے اس تار نے تو مجھے حیران کر دیا۔ بےچین من سے میں کمرے میں ہی ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر کاٹتا رہا۔ تیزی سے ڈگ بھرتا رہا۔ میری دندناہٹ کے لیے وہ کمرہ چھوٹا پڑنے لگا۔ آخر میں باہر سڑک پر آ گیا اور فٹ پاتھ پر تیزی سے چہل قدمی کرنے لگا۔ چلتا ہی جا رہا تھا کہ راستے میں ایک سنیماگھر دکھائی دیا۔ وہاں ‘میڈم بٹرفلائی’ فلم لگی تھی۔ سوچا، کچھ تفریح ہو جائے گی۔</p>
<p>لیکن اس دن بدقسمتی ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑی تھی۔ اس فلم کی کہانی ایک جاپانی عورت کی کہانی پر مبنی تھی۔ وہ جاپان میں آئے ایک امریکی فوجی سے پیار کرنے لگتی ہے۔ دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ تبھی اس امریکی فوجی کو دیس لوٹنے کا حکم ملتا ہے۔ جاتے وقت وہ فوجی اپنی جاپانی بیوی سے وعدہ کرتا ہے کہ ملک لوٹتے ہی امریکی سرکار سے اجازت حاصل کر میں تمہیں اُدھر بلا لوں گا۔ وہ انتظار کرتی رہتی ہے۔ کافی دن بیت جاتے ہیں۔ لیکن اس سپاہی کا کوئی خط نہیں آتا۔ آخر ہار کر وہ ایک نوکیلی تلوار اپنی چھاتی میں گھونپ کر ہاراکری (خودکشی) کر لیتی ہے، جاپانی رواجوں کے مطابق۔</p>
<p>میں اس لیے فلم دیکھنے گیا تھا کہ دل و دماغ کو کچھ شانتی ملے گی، لیکن وہاں ٹھیک برعکس ہو گیا اور میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ بےچین ہو کر لوٹ آیا۔ جاپان ایک مشرقی دیس ہے۔ وہاں کی وہ عورت میری بہن ہی تو ہوئی۔ ہیروئین کے ساتھ دھوکہ کیے جانے کی وجہ سے اسے ہاراکری کرنی پڑتی ہے۔۔۔ سر پھٹا جا رہا تھا۔</p>
<p>اس ساری گھبراہٹ سے آزادی پانےکا راستہ کیا ہے؟ کسی سے سُن رکھا تھا کہ ایسے درد کی دوا شراب ہے۔ درد بےقابو ہو گیا تو شراب کے نشے میں اسے بُھلایا جا سکتا ہے۔ میں ہمیشہ کے ہوٹل میں گیا۔ ویٹریس کھانے کا آرڈر لینے کے لیے میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ میں نے اس سے کہا، “پہلے میرے لیے شراب لے آؤ۔” وہ جانتی تھی کہ میں کبھی شراب نہیں پیتا، لہٰذا وہ منھ پھیلائے مجھے دیکھتی رہی۔ میں اس پر لگ بھگ چلّا اٹھا، “شراب لاؤ!”</p>
<p>میرا چہرہ دیکھ کر وہ ڈر گئی۔ چہرے پر زبردستی ہنسی لاتے ہوئے اس نے پوچھا،<br>
“کون سی لاؤں؟ کس برانڈ کی؟”</p>
<p>شراب کے ایک بھی برانڈ کا مجھےعلم نہیں تھا۔ لیکن بڑا رعب گانٹھتے ہوئے میں نے فرمایا، “کوئی سی بھی! لیکن ہو اچھی سٹرانگ! تمہاری پسند کی ایسی کوئی بھی شراب لے آؤ، جس کا نشہ فوراً سوار ہو جائے۔” وہ جلدی جلدی چلی گئی۔</p>
<p>کھانے کا وہ ہال لگ بھگ ستر اسی فٹ لمبا تھا۔ وہ اس کے پرلے سرے پر ایک دروازے سے اندر چلی گئی۔ میں سوچنے لگا، اب وہ شراب لے کر آئے گی۔ دو چار پیگ چڑھا لینے کے بعد ضرور مجھ پر نشہ سوار ہو جائے گا۔ پھر شانتی محسوس ہو گی۔ بہت ہی اتاؤلے من سے میں ویٹریس کی راہ دیکھنے لگا۔</p>
<p>کھانے کے کمرے کا وہ جھولتا دروازہ ہلا۔ ایک ٹرے میں شراب کی بوتل اور ایک بَڑھیا باریک نکیلے کنارے والا شراب پینے کا گلاس رکھے وہ چلی آ رہی تھی۔ سر میں خیالات کا چکر گھومنے لگا۔</p>
<p>“اب اس بوتل میں رکھی شراب میں پیوں گا۔ نشہ چڑھے گا۔ نشے میں جھوم کر میں کہیں گر پڑوں گا۔ اس کے بعد سر میں اٹھ رہا وِچاروں کا طوفان شاید شانت ہو جائے گا۔۔۔ کم سے کم کچھ سمے کے لیے تو شانت ہو ہی جائے گا۔۔۔ لیکن آج میرے سامنے جو سوال منھ کھولے کھڑے ہیں، کیا وہ اس نشے میں حل ہو جائیں گے؟ کبھی نہیں! پھر تم کیا کرو گے؟ نشہ اتر گیا تو پھر شراب پیو گے۔۔۔ پھر نشہ۔۔۔ شراب اور پھر لگاتار شراب پی پی کر سُدھ بُدھ کھو کر آخر کسی گندی نالی میں نڈھال ہو کر پڑے رہو گے! کیا یہی کرتے رہو گے؟”</p>
<p>“نہیں! نہیں!” میں زور سے چلّایا۔ ویٹریس میری ٹیبل کے پاس شراب کی بوتل اور گلاس لیے کھڑی تھی۔ وہ حیران سی، تذبذب میں پڑی مجھے گھور رہی تھی۔ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے میں نےکہا، “اس بوتل کو واپس لے جاؤ۔ مجھے شراب نہیں چاہیے۔ یہ بوتل تمھیں انعام دیتا ہوں۔ اسے تم اپنے گھر لے جاؤ۔”</p>
<p>میں نے اس کی ٹرے میں شراب کی بوتل قیمت کے مارک رکھ دیے۔ اوپر ٹِپ کےطور پر اور دس مارک رکھے اور ہوٹل سے سیدھا اپنے کمرے میں آ گیا۔ جسم پر پہنے سارے کپڑے اتار پھینکے اور بستر پر بےسُدھ جا دھمکا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر سے سارا جسم سائیں سائیں کرتا جل رہا ہے۔ جان تڑپ رہی تھی۔ لگاتار کروٹیں بدلتا میں بےچین ہو رہا تھا۔ کیا کروں، کیا نہ کروں۔ کیا ہو رہا تھا؟ پلنگ کے نیچے جیسے کسی نے سو سو چولہے جلا رکھے تھے اور ان کی آنچ میں روم روم جھلسا جا رہا تھا۔ جَل بِن مچھلی جیسی حالت ہو گئی تھی۔ دم گھٹتا جا رہا تھا۔ آخر میں پلنگ پر اٹھ بیٹھا اور منھ سے چیخ نکلی، “ہے بھگوان!”</p>
<p>آدھی اور طوفان بھری رات میں راہ بھولے مسافر کو اچانک بجلی کوندھتے ہی اس چکاچوندھ میں راستہ دکھائی دیتا ہے، بھگوان کو پکار دیتے ہی میری حالت ویسی ہی ہو گئی۔ میں ہر دن صبح نہانے کے بعد بھیگے بدن شری وشنو کی مورتی کو یاد کر یکسوئی سے ان کا دھیان کیا کرتا تھا۔ اسی کی مجھے یاد آئی۔ میں نے آنکھیں موند لیں اور عرض کرنے لگا، “ہے بھگوان، میرے من کو شانتی دو، میرا سُلگتا ماتھا شانت کرو!”</p>
<p>آنکھیں کھلیں تو سویرا ہو گیا تھا۔ میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا۔ پتا نہیں کب سو گیا تھا۔ لیکن اب مجھے ایک دم تازگی محسوس ہو رہی تھی۔ تن من کی ساری تھکان غائب ہو گئی تھی۔ من کو دکھ دینے والی ہر مصیبت کا سامنا کرنے کی شکتی جاگ اٹھی تھی۔ بھگوان کی پرارتھنا میں میرا اعتماد سو گنا ہو گیا تھا۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی جیون کا ایک مہامنتر مجھے مل گیا تھا کہ “مصیبتیں چاہے جتنی آئیں، تھک ہار کر ہمت نہیں ہارنی چاہیے، بلکہ ایسے سمے زیادہ جوش اور امنگ کے ساتھ پورے جوش سے ان مصیبتوں کا سامنا کر آگے بڑھنا ہی سچی کوشش ہے!”</p>
<p>ہندوستان سے بھجوائے پیسے ہاتھ آتے ہی میں نے اُفا اور آگفا کے بِل بنا کوئی بھاؤتاؤ کیے چکا دیے۔ ‘پربھات’ کے غیرمعمولی لوگوں کے استعفیٰ دینے کے کارن پیدا ہوئی صورت حال سے راستہ نکالنے کا طریقہ من میں جاگ اٹھا اور سوچا کہ اس کٹھنائی سے پار ہونے کا حل ایک ہی ہے: ایک زبردست فلم بنانا۔ میں اسی نظریے سے سوچنے لگ گیا۔</p>
<p>بچپن میں بَھوانی کو بکرے کی بلی چڑھائی جاتے میں نے دیکھا تھا۔ دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے جانور بلی چڑھانے کا رواج آج بھی کافی جگہ پر جاری تھا۔ دیش کے کچھ حصوں میں تو نَربلی بھی دی جاتی تھی۔ یہ غیرانسانی رسم پرانے زمانے سے آج تک سارے ہندوستان کی مختلف دیوالیوں میں جاری تھی۔ سوچا کہ انہی قابلِ مذمت رواجوں پر چوٹ کرتے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنےکی کوشش کرنے والی کہانی اپنی آئندہ فلم کے لیے چنوں۔ اس کہانی کی تخلیق میں من ہی من کرنے لگا۔</p>
<p>غریب اندھا اعتماد کرنے والے لوگوں پر اپنی تیکھی اور چبھتی نظر سے دھاک جمائے بیٹھا دھرم گُرو اس کہانی کا مرکزی نقطہ تھا۔ جرمنی آنے پر دھرم گرو کی آنکھوں کا بڑا کلوزاپ لینے کے لیے ضروری ٹیلی فوٹو لینز کے بارے میں مَیں نے پوچھ تاچھ شروع کر دی تھی۔ پیٹرسن مجھے ایک لینز بنانے والی کمپنی میں لے گئے۔ ان کے پاس ایک لینز تو تیار تھا، لیکن اس سے وہ نتیجہ ممکن نہ ہوتا جو میں چاہتا تھا۔ لہٰذا اسی لینز میں کچھ ترمیم تبدیلی کر، تین سو ملی میٹر والا لینز پندرہ دنوں بعد مجھے دینے کے لیے کمپنی راضی ہو گئی۔ اسی کمپنی میں کارٹون فلم بنانے کے لیے ضروری مشینری بھی تھی۔ والٹ ڈزنی کی ‘مکی ماؤس’ اور دوسری کارٹون فلم سیریز سے میں بھی کافی متاثر ہو چکا تھا۔ چاہ تھی کہ بھارتی پس منظر پر اس طرح کے کچھ نئے تجربے کروں، اس لیے کارٹون شوٹنگ کے لیے ضروری کیمرے اور دوسرے ساز و سامان کا آرڈر بھی میں نے اس کمپنی کو وہیں دے دیا۔</p>
<p>اب اور پندرہ دن برلن میں رکنے کے سوا کوئی حل نہیں تھا۔ ‘پربھات’ کا ساتھ چھوڑ گئے کلاکاروں کی جگہ پر قابل کلاکاروں کو لینےکا وِچار من میں آیا اور اس کے مطابق مزید قابل ناموں کی کھوج میں بیٹھے بیٹھےکرنے لگا۔</p>
<p>مراٹھی فلم ‘شیام سندر’ میں ایک نوجوان لڑکی شانتا آپٹے نے رادھا کا کام کیا تھا۔ اس فلم میں اس کے گائے ہوئے گیت بھی بہت اچھے تھے۔ اس کی گائیکی بھی اچھی تھی۔ لیکن اس کی اداکاری میں کوئی جان نہیں تھی۔ پردے پر تو وہ ایسی لگتی جیسے چلتی پھرتی لاش ہو۔ اخباروں نے اپنے جائزوں میں اس کے بارے میں بہت ہی بُری رائے ظاہر کی تھی۔ اس شانتا آپٹے کو ‘شیام سندر’ میں وہ کام کرنے آنے سے پہلے میں نے ایک بار دیکھا تھا۔ اس کا گانا بھی سنا تھا۔ اس سمے مجھے ایسا تو ضرور لگا تھا کہ ہو نہ ہو، اس میں کچھ خاص بات ہے، پر اس کے باوجود ہیروئن کے کام کے لیے اس کے موزوں ہونے پر مجھے شُبہ تھا۔ ہیروئن کی کھوج کرتے کرتے مجھے نلِنی ترکھڈ کی یاد آئی۔ نلِنی کبھی ایک بار مجھ سے ملی تھیں۔ اچھی پڑھی لکھی تھیں اورکافی دلکش لگتی تھیں۔</p>
<p>میں نے فوراً ہی داملےجی کو تفصیلی خط لکھا: “آئندہ فلم کے لیے من میں ایک بہترین اور اثردار کہانی شکل لے رہی ہے۔ اس کے لیے اب ہمیں نئے کلاکاروں کو ڈھونڈنا ہی پڑے گا۔ ‘شیام سندر’ میں رادھا کا کردار نبھانے والی شانتا آپٹے کو بلا کر اس کے ساتھ قرار کر لیجیے۔ اس کے علاوہ نلِنی ترکھڈ کا بمبئی کا پتا بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم کر لیجیے۔ بمبئی پہنچتے ہی میں خود ان سے بات کروں گا۔ ولن کے لیے اداکاری میں انتہائی قابل کلاکار کی ضرورت پڑے گی۔ میری کہانی میں ولن کا کردار ایک اہم کردار رہے گا، لیکن اس کے لیے فی الحال تو میری آنکھوں کے سامنے کوئی بھی لائق شخص نہیں ہے۔ ہیرو کے کام کے لیے کسی کسے ہوئے ڈیل ڈول کے نوجوان کی کھوج کرتے رہیے۔ اسے گانا ضرور آنا چاہیے۔ میوزک ڈائریکٹر کا انتخاب میرے پُونا لوٹنے کے بعد سب کی رائے سے کریں گے۔۔۔”</p>
<p>اب تو میں واپس وطن لوٹنے کے لیے مچلنے لگا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کب واپس جاتا ہوں اور اپنے نئے کام کو شروع کرتا ہوں۔ اسی جوش سے برلن میں اپنے خاص کاموں کو ایک ایک کر نبٹانے میں جُٹ گیا۔ ایک دن مجھے افیفا سے خط ملا کہ ‘سیرندھری’ کی بنِا استعمال کی ہوئی نگیٹو کے ڈبے وہیں پڑے ہیں، ان کا کیا کرنا ہے؟ مجھے افیفا میں ایک بار جانا تھا ہی۔</p>
<p>دوسرے دن سویرے میں افِفا پہنچا۔ جینی وہیں تھی، لیکن لگتا تھا وہ غصے میں ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے میں نے اس کا حال تک نہیں پوچھا تھا۔ وہ مجھ سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں دکھائی دی۔ نیگیٹو کی جانچ پڑتال میں سمے ضائع نہ ہو، اس وجہ سے جینی نے فرصت کے سمے میں وہ کام پہلے ہی پورا کر رکھا تھا۔ کام کرنے کی اس کی اس تیاری کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف اپنے طرز عمل کو میں کچھ اٹ پٹا سا محسوس کرنے لگا۔ میں اس کے پاس گیا۔ جیب سے ایک ہزار مارک کے نوٹ نکال کر اس کے سامنے کر دیے۔</p>
<p>اس نے پوچھا، “یہ کیا ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “تم نے اتنے اپنے پیسے یہاں کا سارا کام کیا، اس کے لیے یہ انعام!”</p>
<p>اس نے غصے میں کہا، “تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دیس میں اپنےپن کو انعام دیا جاتا ہے؟” پھر کچھ رُک کر بولی، “یہ نوٹ اپنی جیب میں رکھ لو۔ اب سے تمہارا کوئی بھی کام مجھ سے نہیں ہو گا! تمہاری مدد کے لیے میں کسی اور لڑکی کو بھیج دیتی ہوں!” اتنا کہہ کر وہ دروازے کی طرف جانے لگی۔</p>
<p>میں نے اسے پکارا، “رکو، جینی، بات سنو!” اس کے پاس جا کر میں نے اسے اپنی تکلیفوں کی ساری کہانی سنائی۔ سن کر اس نے میرا ہاتھ جذباتیت سے کس کر تھاما اور مجھ سے معافی مانگی۔ پھر ہم دونوں نیگیٹو کے ٹکڑے جانچنے کے کام میں لگ گئے۔</p>
<p>شام کو ایڈیٹنگ روم کے دروازے پر کسی نے دستک دی اور اس ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ اندر آئی۔ میں نے اسے نیگیٹو کے سبھی ٹکڑوں کو جلا دینے کے لیے کہا اور افیفا کا اُس دن کا کرایہ چُکتا کر میں باہر آ گیا۔ جینی وہاں میرا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے پوچھا، “اب کیا پانسیوں جاؤ گے؟”</p>
<p>“نہیں۔ اب میں یہاں سے پاس ہی ایک ہوٹل میں رہتا ہوں۔”</p>
<p>باتیں کرتے کرتے ہم لوگ میری کار کے پاس آ گئے۔ اب جینی پہلے سے کافی اچھی انگریزی بولنے لگی تھی۔ میں نے یہ بات اسے بتائی۔ اس پر اس نے کہا، “تمہارے ساتھ اچھی طرح باتیں کر سکوں، اس لیے میں نے رات کی انگریزی کی کلاس ‘جوائن’ کی ہے۔”</p>
<p>میں نے کار کا دروازہ کھولا اور جینی سے اندر بیٹھنے کے لیے کہا، “آؤ، تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔” کار چل پڑی۔ جینی نے شوخ ادا سے پوچھا، “تمہارے ہوٹل میں کھانا تو ملتا ہے نا؟”</p>
<p>میں نے کہا، “جی ہاں، ملتا ہے۔”</p>
<p>“تو چلو، آج میں تمہیں دعوت دیتی ہوں۔ اور ہاں، تمہیں میرے ساتھ کھانا نہ کھانا ہو، تب تو مجھے میرے گھر پر چھوڑ دو!”</p>
<p>اب جا کر کہیں اس کی بات کا اشارہ میری سمجھ میں آیا۔</p>
<p>کھانے کے بعد جینی نے ہنستے ہنستے پوچھا، “تمہارا ہوٹل والا کمرہ دیکھنے کے لیے آؤں تو کیسا رہے گا؟”</p>
<p>“بہت اچھا، چلو،” میں نے کہا۔ ہم دونوں کمرے میں آئے۔ کمرے میں آتے ہی جینی نےمجھے کس کر گلے لگایا اور باربار، لگاتار مجھےچومتی رہی۔ “جینی،جینی” کہتے ہوئے میں نے اسے الگ کیا۔</p>
<p>جینی ہنس رہی تھی۔ مجھےخدشہ ہوا کہ کہیں اسے پاگل پن تو نہیں ہو گیا؟ اس نے مجھے صوفے پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر بھروسا نہیں ہو رہا تھا! وہ ایک دم برہنہ تھی! اتنی سفید سنگ مرمریں کایا میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ مدہوش نظارہ بکھیرتی وہ میرے ٹھیک سامنے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔</p>
<p>ایک پل تو من میں خیال آ ہی گیا کہ میں بھی اپنے سارے کپڑے اتار کر پھینک دوں۔ اٹھوں اور جینی کی گوشت پوست کی کایا کو حصار میں باندھ لوں۔ لیکن نہیں، ایسا سوچنے سے کام نہیں چلےگا۔ مجھے اپنے من پر قابو پانا ہی ہو گا، یہ میرا راستہ نہیں۔ میرا راستہ ہے، میرا اپنا کام، میری اپنی کلا، میرا اپنا آدرش، میرا گرمایا خون دھیرے دھیرے شانت ہونے لگا۔ وہ اسی حالت میں سامنے کھڑی تھی، مدہوش نظارہ اور ہونٹوں پر ملائم مسکراہٹ لیے۔</p>
<p>میں نے ہڑبڑا کر پوچھا، “جینی، تمہارا ارادہ آخر کیا ہے؟”</p>
<p>“میں تمہیں بہت چاہتی ہوں، تم سےشادی کرنا چاہتی ہوں۔”</p>
<p>“لیکن جینی، یہ ناممکن ہے، نہایت ناممکن ہے!”</p>
<p>اب اس کی آنکھوں میں چنگاریاں چمکنےلگی تھیں۔ بولی، “تم ایک دم روکھے آدمی ہو۔ پتھر ہو۔ اپنا سب کچھ تمہیں قربان کرنے آئی لڑکی کو ٹھکرا کر تم نسائیت کی بےعزتی کر رہے ہو۔” اتنا کہہ کر وہ تلملاتی ٹائلٹ کی طرف چلی گئی۔</p>
<p>نسوانی کردار کا یہ نیا اظہار دیکھ کر میں بوکھلا گیا۔ میرا گلا سوکھ گیا۔ اٹھا، کمرے میں گھنٹی تھی، اسے دبایا۔ بوائے آیا۔ اس سے میں نے دو کولڈ ڈرنک لانے کے لیے کہا۔</p>
<p>کافی دیر تک انتظار کرتا رہا۔ آخر ٹائلٹ کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی اور اسے پکارا۔</p>
<p>کچھ دیر بعد وہ باہر آئی۔ اس کی آنکھیں رو رو کر لال ہو گئی تھیں۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لا کر صوفے پر بٹھایا۔ بھنووں کے بیچ کی جگہ کو انگلیوں سے دباتے ہوئے بھاری آواز میں اس نےکہا، “مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے، شانتارام! مجھ سے جو کچھ ہو گیا اور میں نےکٹھورتا سے تمہیں جو کچھ کہہ دیا، اس کے لیے مجھے معاف کرنا!”</p>
<p>میں نےاس کے ہاتھوں میں کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا۔ جرمن میں دانکے (شکر گزار ہوں) کہہ کر، وہ اسے ایک ہی سانس میں پی گئی۔</p>
<p>کچھ دیر بعد وہ جانے کو کھڑی ہوئی۔ میں نے اسے رُکنے کے لیے کہا۔ رات کافی ہو چکی تھی۔ ڈرائیور میری کار کو گیرج میں رکھ کر کبھی کا چلا گیا تھا۔ لہٰذا جینی کے لیے اب سُرنگی ریل سےجانا لازمی تھا۔ میں نے اوورکوٹ پہن لیا اور اسے سٹیشن تک چھوڑنے گیا۔</p>
<p>اس کے کچھ دن بعد ٹیلی فوٹو لینز بن کر تیار ہو گیا۔ میں نے اسے آزما کر دیکھا۔ لینز اچھا بنا تھا۔ آخر برلن سے میری رخصتی کا دن آیا۔ امیریکن ایکسپریس کمپنی نے میرا سارا بھاری سامان، ‘سیرندھری’ کے باقی پرنٹس اور میری موٹرکار سیدھے جہاز پر چڑھانے کا بندوبست کر دیا تھا۔ میں ریلوے سٹیشن پر آیا۔ میری ریزرو جگہ جس ڈبے میں تھی، جینی اس کے پاس پہلے سے ہی آ کر کھڑی تھی۔ میں اس کے پاس گیا۔ اس کا چہرہ ایک دم گمبھیر تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ میرے منھ سے بھی لفظ نہیں نکل پا رہے تھے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو بِنا بولے تکتے ہی رہے۔</p>
<p>گارڈ نے سیٹی بجائی۔ میں ڈبےکی پٹری پر چڑھنے جا ہی رہا تھا کہ جینی نے مجھے کس کر بانہوں میں لپیٹ لیا۔ بہت زیادہ جذباتی ہیجان سے اس نے مجھے چوم لیا۔ پھر اس کی گھٹتی سی آواز سنائی دی، “مجھے معاف کرنا۔۔۔ آخری کِس، تمھاری یاد میں۔۔۔ لیکن تم مجھے بُھلا دینا۔ تمہاری پتنی کو میری نیک تمنائیں!”</p>
<p>اس سے پہلے کہ میں کچھ جواب دیتا، گاڑی چل پڑی۔ میں ڈبے میں چڑھ گیا۔ جینی کی آنکھیں ساون بھادوں برسا رہی تھیں۔ ہاتھ سے رومال ہلاتے ہوئے گلے سے اس نے جرمن میں کہا، “آف ویدر زہن، ایٹ لیسٹ اِن دی نیکسٹ لائف!” (پھر ملیں گے، کم سے کم اگلے جنم میں!)</p>
<p>وداعی کے یہ لفظ سن کر میرا بھی جی بھر آیا۔ آنکھیں چھلک گئیں۔۔۔ اس کی محبت بھری اور جذباتی وداعی سے مغلوب ہو کر میں نے بھی کہا، ” آف ویدر زہن!” اور جیب سے رومال نکال کر ہاتھ اٹھا کر میں اسے ہلانے لگا۔</p>
<p>گاڑی نے تیز رفتار پکڑ لی۔ جینی لگاتار رومال ہلاتی جا رہی تھی اور اس سے آنکھیں بھی پونچھ رہی تھی۔ دس پندرہ سیکنڈ میں وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئی، لیکن اس کےالفاظ کانوں میں برابر گونجتے رہے :” آف ویدر زہن! ایٹ لیسٹ اِن دی نیکسٹ لائف!” (پھر ملیں گے، کم سے کم اگلے جنم میں!)</p>
<p>(جاری ہے)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-14/">شانتا راما — باب 14: آف ویدر زہن!” (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-14/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتاراما — باب 13: رنگ میں بھنگ (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-13/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-13/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 25 Jun 2020 16:24:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Bollywood]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[بالیوڈ]]></category>
		<category><![CDATA[شانتاراما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25331</guid>

					<description><![CDATA[<p>کمرے میں آتے ہی میں نے کولہاپور کے اپنے ساتھیوں کو خط لکھا کہ پرنٹ اچھے بننے والے ہیں۔ بمبئی میں فلم ریلیز کی تاریخ پکی کرنے کے لیے بھی لکھ دیا۔	</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-13/">شانتاراما — باب 13: رنگ میں بھنگ (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>“شانتاراما” برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔</p>
<p>یہ ترجمہ اجمل کمال اور سہ ماہی ‘آج’ کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ ‘آج’ کے <a href="https://www.youtube.com/channel/UCenpBcS2okUzVHYiKKEijyQ" target="_blank" rel="noopener noreferrer">یوٹیوب چینل</a> کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔</p>
<p>سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:<br>
03003451649</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>اپنے سوال کا جواب سننے کے لیے میں بے چین ہو گیا تھا۔ پیٹرسن نے سر جھکا لیا اور نظر چراتے ہوئے افسردگی سےکہا، “تم امید اور حوصلہ مت ہارنا! پہلے ‘اُفا’ سٹوڈیو میں چل کرہم لوگ پرنٹ دیکھتے ہیں۔ ‘اُفا’ کے کلرکیمیکل روم کے ہیڈ ڈاکٹر ولف وہاں ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔” انہوں نے پھر میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے تھپتھپا دیا۔</p>
<p>میں کسی کٹھ پتلی کی طرح باہر کھڑی کار میں جا کر بیٹھ گیا۔ موٹر بیبلسبرگ کی جانب تیز دوڑنے لگی۔ رنگین پرنٹ دیکھنے کے لیے میں اتنا بےچین ہو رہا تھا کہ میں نے ڈرائیور کو گاڑی اور تیز چلانے کے لیےکہا۔ سپیڈ انڈیکیٹر سوئی سو کے ہندسے کو چھونے لگی۔ پورے سفر میں ہم دونوں ایک دم خاموش بیٹھے تھے۔</p>
<p>آخر سائیں سائیں کرتی ہوئی کار صفائی سے موڑ لے کر اُفا سٹوڈیو کے داخلی دروازے سے صحن میں جا کر رکی۔ ڈاکٹر ولف ہماری راہ ہی دیکھ رہے تھے۔</p>
<p>ہم تینوں ایک چھوٹے تجرباتی سنیماگھر میں گئے۔ ‘سیرندھری’ کا پہلا حصہ پردے پر دکھائی دینے لگا اور پردے پر جو کچھ دِکھ رہا تھا، وہ تو میرے تصور سے بھی بدتر تھا! رنگ میں بھنگ ہو گیا تھا۔ فلم میں سارے رنگ ایسے لگ رہے تھے جیسے پوت دیےگئے ہوں۔</p>
<p>دس منٹ میں پہلا حصہ ختم ہوا۔ میرے تو لفظ ہی جیسے کھو گئے تھے!</p>
<p>ڈاکٹر ولف کو صرف جرمن زبان ہی آتی تھی۔ وہ اور پیٹرسن آپس میں جرمن زبان میں بول رہے تھے۔ بیچ بیچ میں پیٹرسن ولف کی بات مجھےانگریزی میں سمجھاتے تھے۔ ان کی رائے تھی کہ ہم لوگوں نے شوٹنگ کے وقت رنگ کے نقطہ نظر سے کیمرے کے لینز کے لیے مناسب فلٹرز نہیں لگائے تھے۔ نتیجتاً ساری شوٹنگ کسی نوسِکھیے کی کی ہوئی لگتی تھی۔ میں نے ساری ہمت اکٹھی کر کے پیٹرسن سے پوچھا، ” کیا اس نیگیٹو کے اچھے پرنٹ نہیں بنیں گے؟”</p>
<p>میرے اس سوال پر پیٹرسن اور ولف آپس میں پھر بحث کرنے لگے۔ یہ جاننے کے لیے کہ آخر ان کی بحث سے کیا نتیجہ اخذ ہونے والا ہے، میں باری باری ان کے چہرے دیکھتا رہا۔</p>
<p>کچھ سمے بعد پیٹرسن نے بتایا، “ہم لوگ بائی پیک سسٹم کی فلم تیار کرنے والی آگفا فیکٹری کے ٹیکنیشنوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ تمہاری اس خراب نیگیٹو کے اچھے پرنٹ بنیں، اس لیے خاص نئے املشن کی پازیٹو فلم بنانا کہاں تک ممکن ہے، دیکھتے ہیں۔‘‘</p>
<p>میرے چہرے پر ہوائیاں اڑتی دیکھ کر ڈاکٹر ولف نے پیٹرسن سے کہا، “شانتارام کو کہو کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اچھے پرنٹ بنانے کی ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے۔ خاص نئی پازیٹو فلم بننے میں پندرہ بیس دن لگ جائیں گے۔ کہنا کہ تب تک اپنی فلم کی آگے کی گراریاں تیار کرو۔”</p>
<p>ولف کی یہ ہمت بندھانے والی باتیں سن کر کچھ تو جان میں جان آ گئی۔</p>
<p>ہم واپس برلن جانے کو نکلے۔ کار میں مَیں تو ایک دم چپ بیٹھا تھا۔ میرا دکھ جان کر پیٹرسن بھی چپ تھے۔ دماغ میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا: جھک ماری جو اس رنگین فلم کی جھنجھٹ میں پڑے۔ ولف نے ٹھیک ہی تو کہا کہ شوٹنگ کسی نوسکھیے کی کی ہوئی لگتی ہے۔ صرف جانکاری کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ہی تو ہم لوگوں نے شوٹنگ کی تھی۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ گرامر کی کتاب پڑھ کر کوئی ناول لکھ مارے!</p>
<p>ہم لوگ برلن کب پہنچے، پتا ہی نہ چلا۔ پیٹرسن سُرنگی ریل کے اسٹیشن پر اتر گئے اور میں سیدھے اپنے کمرے میں آ گیا۔</p>
<p>کھانے کی کوئی چاہ نہیں تھی۔ آج کے سارے واقعے کا بیان تفصیل کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو لکھ بھیجنا میرا فرض تھا۔ بیٹھا، لیکن لکھتے لکھتے رک گیا۔ ایسی کیا خوش خبری ہو گئی ہے، جس کی خبر اپنے ساتھیوں کو دینے بیٹھا ہوں؟ جو لکھ رہا ہوں، کوئی مبارک خبر تو ہے نہیں۔ یہ دکھی خبر آج ہی انہیں معلوم ہو جائے، تو انہیں بھی اسی ناامیدی کی حالت میں رہنا پڑےگا جس میں آج میں رہ رہا ہوں۔ اور کل کو خوش قسمتی سے نئی پازیٹو پر اچھا پرنٹ بن آیا، تب تو سارا جھنجھٹ ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>ادھورا لکھا پتر میں نے پھاڑ کر پھینک دیا۔</p>
<p>دوسرے دن میں افیفا میں اپنے ایڈیٹنگ روم میں پہنچا۔ جینی کے چہرے پر سوال صاف دکھائی دیا۔ میں نے اسے کل کا سارا واقعہ سنایا۔ سن کر اسے بھی بہت دکھ ہوا۔</p>
<p>جینی اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہمت بندھانے لگی۔ یہ جان کر کہ اس پردیس میں میرے من پر چند مدُھر لفظوں کی مرہم پٹی کرنے والا کوئی تو ہے، میں نے کافی راحت محسوس کی۔ پھر، سواے جینی کے ایسا کام کر سکنے والا اور کون تھا؟ دوسرے دن سے جینی طے شدہ وقت سے کافی پہلے دفتر آ کر کام کرنے لگی۔ اس کے لیے وہ اوورٹائم کا پیسہ نہیں لیتی تھی۔ زیادہ وقت کام تو وہ صرف اس لیے کر رہی تھی کہ ایڈیٹنگ روم کے کرائے میں میری کچھ بچت ہو سکے۔</p>
<p>آٹھ دن بعد پیٹرسن آفس میں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ آگفا فیکٹری کے ٹیکنیشن ہماری نگیٹو کا معائنہ کر کےاس کے لیے مناسب قسم کے ایملشن کی پازیٹو نمونے کے طور پر بنا رہے ہیں۔ یہ خبر کافی دلاسا دینے والی تھی۔</p>
<p>پیٹرسن کے چلے جانے کے بعد جینی بتانے لگی، “اب تم فکر نہ کرو، سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔”</p>
<p>ہم دونوں پھر نئے جوش سے کام میں جُٹ گئے۔ کھانے کا وقت بیت گیا۔ جینی نے یاد نہیں دلایا۔ کچھ دیر بعد میرا دھیان گھڑی کی طرف گیا۔ کام کی دُھن میں مَیں اس طرح کھو گیا تھا کہ بچاری جینی کو بھی بھوکا رہنا پڑا تھا۔ میں اسے وہاں سے پاس کے کسی ریستوران میں لے گیا۔ کافی اصرار کرتے ہوئے اسے میں نے بھرپیٹ لنچ کرایا۔ وہ ایک دم خوش ہو گئی۔</p>
<p>دوسرے دن میں آفس پہنچا تو پایا کہ جینی مجھ سے بھی پہلے آ کر کام میں لگ گئی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی اور اس نے مجھے چوم لیا۔ میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتا ہی رہ گیا۔ پس وپیش میں مَیں نے اس سے پوچھا، “یہ کیا کِیا تم نے؟”</p>
<p>“کل تم نے جو لنچ دیا تھا نا، اس کے لیے شکریہ!” یوں کہہ کر وہ ہنستے ہنستے پھر کام میں جُٹ گئی۔ میں نے سوچا کہ شاید یہاں کسی کے اس طرح کھانا کھلانے پر اس کا شکریہ کرنے کا یہی طریقہ ہو گا۔</p>
<p>‘سیرندھری’ کا پرنٹ پتا نہیں اچھا بنتا ہے یا نہیں، اس کی فکر میں تھا، تبھی ایک بات سوجھی کہ اس کے گیتوں کے فونوگراف بنا لیے جائیں۔ اپنا تو یہ فطری دھرم ہی رہا ہے کہ چِنتا میں ڈوبا ہوں یا پریشانیوں سے گَھر جاؤں تو من نئی امنگوں کی اونچی اونچی اڑان بھرنے لگتا ہے۔ فونوگراف بنانے کا خیال اسی فطری دھرم کے مطابق من میں آیا تھا۔ فلم کی اوریجنل ساؤنڈ پٹی سے اس طرح گیتوں کا فونوگراف بنانا کہاں تک ممکن ہے، اس کی پوچھ تاچھ میں نے پیٹرسن سے کی تھی۔ پیڑسن نے محتاط انداز سے کہا تھا کہ برلن کی مشہور سیمنز کمپنی سے معلوم کرتے ہیں۔ آج دوپہر اس کام کے لیے سیمنز کمپنی میں جانا تھا۔</p>
<p>میں نے اپنا خیال سیمنز والوں کے سامنے رکھا۔ کمپنی کے ٹیکنیشینوں کو وہ جنچ گیا، لیکن اس کی کامیابی کے بارے میں انہیں بھی شبہ تھا۔ انہوں نے مجھے کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>دوسرے دن ہمیشہ کی طرح افیفا میں گیا اور کام میں کھو گیا۔ دوپہر کی چھٹی کا وقت ہو گیا۔ جینی میرے پاس آئی۔ اس نے مجھے کس کر پکڑ لیا اور پھر چوم لیا۔</p>
<p>میں نے اس سے پوچھا، “آج پھر کیا ہو گیا؟”</p>
<p>“آج میں نے تمھیں لنچ دیا ہے!” کہتی ہوئی شوخ بھری ہنسی ہنستے ہنستے وہ وہاں سے بھاگ گئی۔</p>
<p>اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ صرف آداب کا رسمی معاملہ نہیں ہے۔ لیکن جینی کا اس طرح پیش آنا مجھے قطعی پسند نہیں آیا۔ ایک بارسوچا، اُسے اُس کے ایسے طرز عمل پر اچھی پھٹکار سنا دوں۔ افیفا کے ڈائریکٹر کو بھی اس طرح کے عجیب طرزعمل کی بات بتا کر اپنے لیےکوئی اور مددگار دینےکی مانگ کروں۔ لیکن جینی کی طرح من لگا کر مہارت سے کام کرنے والی دوسری لڑکی ملنا مشکل تھا۔ پھر یہ بھی تو ممکن تھا کہ اس کا اس طرح پیش آنا سطحی ہو، کھلنڈرےپن کا اشارہ ہو۔ میں اس سے جواب طلب کروں اور اُس کے من میں ویسی کوئی بھاؤنا ہی نہ ہو، تو سُبکی کیا میری ہی نہیں ہو گی؟ جو بھی ہو، میں نے طے کیا کہ یہ معاملہ یہیں ختم کیا جائے، اور بات کو آگے قطعی بڑھنے نہ دیا جائے۔</p>
<p>جینی لوٹ آئی تو میں نے کہا، “میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”</p>
<p>“تو کرو نا!” جینی نے کہا۔</p>
<p>”ابھی نہیں، شام کو کام ختم ہونے کے بعد،” اس کی طرف نہ دیکھتے ہوئے میں نے کہا اورکام میں جُٹ گیا۔</p>
<p>شام کو ہم دونوں پہلے ایک جرمن فلم دیکھنے گئے۔ بعد میں اسے میں برلن کے بڑے ہوٹل ‘کیمپینسکی’ میں کھانا کھلانے کے لیے لے گیا۔ کھاتے وقت میں نے اس سے پوچھا، “جینی، تم میرے ساتھ اس طرح کیوں پیش آئیں؟ مجھے کیوں چومتی ہو؟”</p>
<p>’’اس لیے کہ تم مجھے بھا گئے ہو!‘‘ اس نے آزادروی سے ہنستے ہوئے کہا۔</p>
<p>’’تو میں نے ٹھیک ہی سوچا تھا کہ تمھارے من میں یہ احساس جاگا ہے۔ لیکن دھیان سے سنو، میری شادی ہو چکی ہے۔”</p>
<p>اس پر اس نے فوراً کہا، ’’اس میں کیا ہرج ہو سکتا ہے؟ میں نے تمھارے دیس کے بارے میں، انڈین لوگوں کے بارے میں کافی پڑھا ہے۔ تم لوگ دو دو، تین تین عورتوں سے شادی کرتے ہو، تمھاری کتنی عورتیں ہیں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “صرف ایک۔”</p>
<p>“تو ٹھیک ہے، میں تمھاری دوسری بیوی بنوں گی۔”</p>
<p>میرا نوالہ منھ میں ہی دھرا رہ گیا۔ پانی کا بڑا سا گھونٹ نگل کر میں نے کہا، “میرے دو بچے بھی ہیں۔”</p>
<p>“مجھ سے بھی تمھارے اور بچے ہوں گے۔” اس نے اپنے ہمیشہ سے آزاد انداز میں، بنا کسی جھجک کے کہا۔ “میں بھی بہت چاہتی ہوں کہ تمھارے جیسا براؤن رنگ کا میرے بھی ایک بچہ ہو۔”</p>
<p>عورت اور مرد میں ایسے موضوع پر اتنی بےجھجک باتیں ہوں، اس سے میں تو پورا لاعلم تھا۔ کیا جواب دوں، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ جینی کی حوصلہ شکنی کے لیے میں نے یوں ہی مذاق میں کہا، “اور وہ بچہ میرے جیسا براؤن نہ ہو کر تمھارے جیسا سفید پیدا ہو گیا، تو؟”</p>
<p>“تو ہم پھر کوشش کریں گے، باربار کوشش کرتے رہیں گے!”</p>
<p>میں تو بالکل ٹھنڈا پڑ گیا سن کر۔ ایسے جواب کے بعد پھر کبھی اس سے بحث کرنے کی جھنجھٹ میں نہ پڑنے کا فیصلہ میں نے کیا۔</p>
<p>کھانا ختم ہوا۔ جینی کو اس کے گھر چھوڑنے کے لیے ہم کار میں بیٹھے۔ گاڑی اس کے گھر کے پاس آئی۔ گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے میں نے ہینڈل کے پاس ہاتھ بڑھایا۔ جینی نےاپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا اور بولی: “آف ویڈرزہن!”</p>
<p>میں نے دل سے کہا، “آف ویڈرزہن!” پھر اس نے خود ہی پھرتی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر گئی۔</p>
<p>‘سیرندھری’ کے رنگین پرنٹ برابر بنتے ہیں یا نہیں، اِس کی فکر میں مَیں تھا اور ادھر یہ ایک اور سنگین معاملہ کھڑا ہو گیا تھا!</p>
<p>دوسرے دن ‘اُفا’ سٹوڈیو سے پیغام آیا کہ “نئی ایملشن کی پازیٹو پر ‘سیرندھری’ کے پرنٹس بنائے جا چکے ہیں اور وہ کافی تسلی بخش ہیں۔ دیکھنے کے لیے آؤ۔”</p>
<p>جینی کو بھی سن کر بہت خوشی ہوئی۔ وہ میری طرف دوڑتی ہوئی آئی۔ اسے ہاتھوں سے روک کر دور ہی کھڑی کرتے ہوئے میں نے ہدایت دی، “پہلا کام! دوسری گراری تیار کرنا شروع کرو!”</p>
<p>وہ سہم گئی۔ اس کی طرف کوئی دھیان نہ دے کر میں فوراً لیبارٹری سے باہر آ گیا۔ کار میں جا بیٹھا اور ڈرائیور سے کہا، “بیبلسبرگ، اُفا سٹوڈیو۔”</p>
<p>عام راستہ پیچھے رہ گیا، اب کاروں کے لیے مخصوص سڑک پر ہماری کار دوڑ رہی تھی۔ میں بہت ہی خوشی میں تھا۔ میں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لیے کہا۔ اس کی جگہ پر جا بیٹھا اور خود کار چلانا شروع کیا۔ بیبلسبرگ پہنچنے کی مجھے اتنی جلدی تھی کہ میں کار کی رفتار بڑھاتا ہی گیا، سو، ایک سو بیس، ایک سو چالیس، ڈیڑھ سو، سپیڈ انڈیکٹر سوئی چڑھتی جھکتی جا رہی تھی۔۔۔</p>
<p>تھوڑی دیر بعد میری سیٹ کے نیچے کچھ گرم گرم لگنے لگا۔ پہلے تو میں نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا، لیکن جب سیٹ بہت زیادہ گرم ہو کر جلانے لگی تو میں نے گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ لیکن گاڑی اتنی تیز رفتار سے بھاگی جا رہی تھی کہ اسے روکتے روکتے کچھ سمے تو لگ ہی گیا۔ دروازہ کھول کر باہر چھلانگ لگائی اور اس کے ساتھ ہی میری سیٹ کے نیچے سے آگ کی لپٹیں لپلپاتی اٹھیں۔ ڈرائیور نے پھرتی دکھا کر جلتی سیٹ نکال باہر پھینکی اور کار میں رکھا کپڑا ریڈئیٹر کی ٹنکی کے پانی میں بھگو کر آگ بجھا دی۔</p>
<p>گاڑی میں کیا نقص پیدا ہو گیا، اس کی چھان بین ڈرائیور کرنے لگا۔ ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے ایگزاسٹ جام ہو گیا تھا۔ اس کی نلی صاف کروانے میں لگ بھگ ایک گھنٹہ لگ گیا۔</p>
<p>اُفا سٹوڈیو پہنچا تو وہاں ولف اور پیٹرسن میری راہ دیکھ رہے تھے۔ ہم نے فوراً نیا پرنٹ دیکھا۔ رنگ کی نظر سے وہ سو فیصد تو نہیں آیا تھا، لیکن کافی تسلی بخش لگ رہا تھا۔ ولف نے کہا، “نگیٹو کی جو بھی گراریاں تیار ہیں، کل یہاں لیتے آنا۔ اور ہاں، ہر روز دوپہر لنچ کے بعد پرنٹ دیکھنے کے لیے آتے رہنا۔”</p>
<p>میں نے ولف کو بہت بہت شکریہ کہا۔</p>
<p>کمرے میں آتے ہی میں نے کولہاپور کے اپنے ساتھیوں کو خط لکھا کہ پرنٹ اچھے بننے والے ہیں۔ بمبئی میں فلم ریلیز کی تاریخ پکی کرنے کے لیے بھی لکھ دیا۔</p>
<p>کافی دنوں بعد من پر سے سارا تناؤ ہٹ گیا تھا۔ لہٰذا اس رات میں جیسے گھوڑے بیچ کر سو گیا۔ سویرے دس بجے جاگا۔ نہانے دھونے سے نبٹ کر باہر نکلا، لنچ کے بعد مجھے اُفا سٹوڈیو میں پہنچنا تھا۔ پہلے میں افیفا گیا۔ نیا پرنٹ بہت ہی تسلی بخش آنے کی خبر جینی کو دی، وہ خوشی سے اچھل پڑی، میری طرف بڑھنے لگی۔ پوری طرح سے معلوم ہو گیا تھا کہ ایسے موقع پر وہ اب کیا کرےگی۔ لہٰذا میں تھوڑا سا ایک طرف ہٹ گیا اور جینی سے کہا، “تم آگے کی گراریاں تیار کرو۔کل گیارہ بجے میں انہیں لے کر جاؤں گا۔” اتنا کہہ کر تیار گراریوں کےکچھ ڈبے اٹھا کر میں وہاں سے چل پڑا۔ جینی میرے ساتھ ایڈیٹنگ روم کے دروازے تک آئی اور بولی، “بیبلسبرگ جانے سے پہلے لنچ کر کے جانا۔ بھوکے نہ رہنا۔”</p>
<p>اس کے کہنے پر عمل کرتا تو مجھے دیر ہو جاتی، لہٰذا راستے میں پھلوں کی ایک دکان سے میں نے کچھ سیب خرید لیے۔ کار میں دو تین سیب میں کھا گیا۔ آگے چل کر یہی سلسلہ میں نے چار پانچ ہفتے تک جاری رکھا۔ اس طرح روز روز سیب کھا کر میں اتنا اوب چکا تھا کہ پھر دس پندرہ سالوں تک سیبوں کو چھوا تک نہیں۔</p>
<p>آخر ’سیرندھری’ کا ایک پورا پرنٹ تیار ہو گیا۔ ولف نے کہہ دیا کہ اب اس سے بہتر پرنٹ نکالنا ممکن نہیں۔ چلو، یہ بھی کیا کم تھا کہ جہاں کوئی بھی پرنٹ بننے کی امید نہیں رہی تھی، کم سے کم کچھ تو تسلی بخش پرنٹ بن سکا۔ مجھے اسی کی خوشی ہو رہی تھی۔ میں نے پہلی بار ‘سیرندھری’ فلم پوری دیکھی۔ ہماری دوسری فلموں کے مقابلے میں وہ مجھے اثردار معلوم نہیں ہوئی۔ یہ پتا نہیں رنگ اتنے اچھے ابھر نہ پانے کی وجہ سے تھا یا کسی اور کارن سے۔ رہ رہ کر ایک خیال ستاتا تھا کہ پتا نہیں ناظرین اس فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کریں گے بھی یا نہیں۔ لیکن اب سوچتے رہنے سے بھی کیا ہونے والا تھا!</p>
<p>میں نے تار دے کر بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) کو مطلع کیا کہ پرنٹ تیار ہو گیا ہے اور اسے ہوائی ڈاک کے ذریعے بمبئی بھجوا رہا ہوں۔</p>
<p>رنگین فلم کا پرنٹ اُفا سٹوڈیو میں جب بن رہا تھا، رنگوں کا کیمیائی عمل کس طریقہ کار سے کیا جاتا ہے، اس کا مجھے بہت تجسس تھا۔ میں نے ولف سے درخواست کی کہ وہ جانکاری مجھے دی جائے اور ساری مشینری بھی دیکھنے دی جائے۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا، “یہ تحقیق ہم نے بہت محنت اور پیسہ خرچ کر کے کی ہے۔ اس کا راز ہم اور کسی کو کبھی نہیں بتائیں گے۔” میں بہت نااُمید ہو گیا۔</p>
<p>لیکن ہماری یہ باتیں ولف کے ایک معاون نے سن لی تھیں۔ ایک بار ولف کی غیرحاضری میں اس نے نہ صرف مجھے پورا کیمیکل روم دکھایا، بلکہ سارا اُفا سٹوڈیو اور وہاں کے ہر ڈپارٹمنٹ میں کون سا کام کس طرح ہوتا ہے، یہ بھی دکھایا۔ اُفا سٹوڈیو بہت بڑا تھا اور بےشمار جدید آلات اور سہولیات پر مشتمل بھی۔ فلم میکنگ کے ڈپارٹمنٹ میں کافی سال بِتا چکنے کے کارن میں فوراً سمجھ لیتا کہ کون سا کام کرتے سمے کیا کٹھنائی آتی ہے، اور اسے یہ لوگ یہاں کس طرح دور کر لیتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر ولف کے اس معاون نے سبھی ڈپارٹمنٹ ہیڈز سے میرا تعارف بھی کرایا۔ لہٰذا کبھی ‘سیرندھری’ کے کسی پارٹ کا پرنٹ تیار ہونے میں دیر ہوتی تو میں سٹوڈیو کے احاطے میں آزاد روپ سے کہیں بھی آتا جاتا تھا۔ نتیجتاً کافی باتیں سیکھنے کا موقع مجھے ملتا گیا۔ ہم لوگوں کا تجربہ یہ تھا کہ مشکل سے مشکل معلوم ہونے والی باتوں کو بنانے کے لیے ہمیں بہت زیادہ دَھن اور محنت لگانی پڑتی تھی اور پھر بھی متوقع نتیجہ ہاتھ آتا ہے، ایسا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہاں اس سے کہیں کم محنت اور دَھن لگا کر معمولی چیزوں کی مدد سے اس سے بھی بہتر نتیجہ یہ لوگ حاصل کرتے تھے۔ یہ گُن سیکھنے لائق تھا۔ ہر روز سونے سے پہلے میں دن میں دیکھی ہر بات کی مجموعی جانکاری اپنی ڈائری میں نوٹ کر رکھتا تھا۔ آگے چل کر اسی ڈائری میں درج کئی نئی نئی کھوجوں کو میں پُونا میں بنے ہمارے نئے سٹوڈیو میں عمل میں لایا۔ نتیجتاً ہماری سبھی فلموں کی سطح سسٹم کے نقطہ نظر سے کافی بہترین ہو گئی تھی۔</p>
<p>اس بیچ سیمنز سے پیغام آیا کہ آزمائشی فونوگراف تیار ہیں۔ انہیں دیکھ کر اور سن کر میرا تن من کِھل اٹھا۔ میرا خیال سچ اور کامیاب ہو گیا تھا۔ میں نے فوراً ہر فونوگراف کی ایک ایک ہزار کاپیاں بنانے کا آرڈر دیا۔</p>
<p>‘سیرندھری’ کی فونوگراف پر ہر گانےکا پہلا مصرع دیوناگری میں لکھنا ضروری تھا۔ اس لیے میں نے اپنے ہاتھ سے وہ مصرع لکھ دیا اور پھر لیبلوں کے لیے ان کا بلاک بنوایا۔</p>
<p>آج تک بھارتی فلم کے گیتوں کا فونوگراف کسی نے نہیں بنایا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ فونوگراف بازار میں دستیاب ہو جاتے ہیں تو ان گیتوں کے ساتھ فلم کی بھی مقبولیت بڑھےگی۔ یہی سوچ کر بھارتی فلم سنگیت کا ایک نیا جہاں میں نے کھول دیا۔ فلمی سنگیت کو آج حاصل مقبولیت، اس میں لگائی جانے والی پونجی، اور اس کا فلم انڈسٹری کو مل رہا نفع وغیرہ باتوں کا آج خیال کرنے پر لگتا ہے کہ ضرور ہی جس سمے مجھے یہ خیال سوجھا، وہ بہت ہی خوش قسمت لمحہ ہو گا!</p>
<p>“سیرندھری” کے گیتوں کے فونوگراف بہت زیادہ کامیاب رہے۔ پھر بھی کئی سالوں تک گراموفون کمپنیاں اوریجنل ساؤنڈ پٹی پر سے گیتوں کے گراموفون بنانے سے گریز کرتی تھیں۔ انہی گیتوں کے فونوگراف کے لیے وہ ان کلاکاروں سے دوبارہ گراموفون کمپنی میں گوا لیتی تھیں اور اس گائیکی سے فونوگراف بناتی تھیں۔ لیکن آج فلموں کے سبھی فونوگراف سیدھے فلم کی ساؤنڈپٹی سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ اسی لیے اوریجنل ساؤنڈپٹی سے سیدھے فونوگراف بنانے کے اُن دنوں معجزاتی اور تجرباتی ظاہر ہونے والے میرے خیال پر آج مجھے سچ میں بڑا ناز ہے۔</p>
<p>کچھ دنوں بعد رنگین عمل اور خاص روپ سے بنائے اس پازیٹو کے بِل اُفا سٹوڈیو اور آگفا کمپنی کی طرف سے آئے۔ انہوں نے ہماری نگیٹو کی خرابیوں کا فائدہ اٹھا کر من چاہا بِل بنایا تھا۔ بِل میں موٹی رقمیں پڑھ کر میں تو بالکل ہی حیران ہو گیا۔ میرے پاس اتنے جرمن مارک نہیں تھے۔ لیکن پرنٹ تیار ہو گئے تھے اور بِلوں کی ادائیگی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے بمبئی تار دے کر اور مارک بھجوانے کو کہا۔</p>
<p>اُفا سٹوڈیو میں جا کر میں نے ڈاکٹر ولف کے ساتھ ان بِلوں کے بارے میں بات کی۔ اس سمے ولف میرے ساتھ بہت ہی روکھےپن سے پیش آئے۔ لیکن میں کیا کر سکتا تھا! میں وہاں جلابُھنا بیٹھا تھا، تو ولف نے میرے بارے میں شاید کچھ کہا۔ سن کر وہاں بیٹھے اور سبھی لوگ زور سے قہقہے لگانے لگے۔</p>
<p>میں نے ولف کے معاون سے سب کے ہنسنےکا کارن جاننا چاہا۔ اس نے ولف کی اجازت سے جرمن زبان میں کہے گئے اُس جملے کا مطلب مجھے بتایا: ’’ولف کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں کلمونہے بندروں کی بہتات جو ہے۔” ولف کی اس پھبتی کا ٹارگٹ میں ہی تھا۔ میں آگ بگولا ہو گیا، لیکن چہرے پر ذرا بھی شکن نہ دکھاتے ہوئے میں نے ہنستے ہنستے کہا، “اِدھر جرمنی آنے سے پہلے میرا بھی خیال یہی تھا۔ لیکن یہاں پہنچنے پر میں نے پایا کہ بھارت میں کلمونہے بندروں کی نسبت جرمنی میں سفید مونہے بندروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے!”</p>
<p>ولف کے معاون نے میری بات کا بھی جرمن زبان میں ترجمہ کر انہیں سنایا۔ لیکن چونکہ یہ طنز میں نے ہنستے ہنستے لوٹایا تھا، انہیں بھی اسے ہنس کر ہی ٹالنا پڑا۔</p>
<p>لیکن اس کے بعد ولف میرے ساتھ ایک دم ٹھیک طرح سے پیش آنے لگے۔</p>
<p>ان فونوگراف کے بنانے کے سمے میں نے سیمنز کمپنی کے پتا نہیں کتنے چکر لگائے تھے۔ وہاں میں نے ایک اچھی بات دیکھی۔ کمپنی کے ایک ڈپارٹمنٹ کے آدمی کو دوسرے ڈپارٹمنٹ میں کام کر رہے آدمی سے کوئی بات چیت کرنی ہو تو وہ انٹرکام پر بات کر لیتا تھا۔ اس سے سمے کی کافی بچت ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ہر کارخانے کے باہر سٹول پر بیٹھے اونگھنے والے آفس بوائے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔ اب ہماری ‘پربھات’ کمپنی پُونا جانے والی تھی۔ ہمارا احاطہ بھی کافی وسیع ہونے جا رہا تھا۔ ایسی حالت میں اپنی کمپنی کو جدید بنانے کے لیے ایسے ہی انٹرکام فون سسٹم کا بڑا استعمال ہونے والا تھا۔ یہی سب سوچ کر میں نے فوراً سیمنز کمپنی کو خودکار فون مشینری کا آرڈر دے دیا اور اسے جتنی جلدی ہو سکے بھارت بھجوا دینے کی ہدایات دے دیں۔</p>
<p>یہ سب کر کے میں اپنے پانسیوں پر واپس آیا تو وہاں گھر سے آیا ایک پتر میرا انتطار کر رہا تھا۔ پتر وِمل کا تھا۔ لکھا تھا، ‘پتاجی کی صحت پھر خراب ہے۔ حالت پریشان کن ہو گئی ہے۔ آپ جلدی لوٹ آئیے۔” میں نے خط پر لکھی تاریخ دیکھی۔ وہ تین چار ہفتے پہلےکی تھی۔ من میں طرح طرح کے خدشات اٹھنے لگے۔ باپو کے لفظ یاد آنے لگے: “شانتارام، ہم لوگوں کا سارا جیون کرائے کے مکان میں ہی گزر چکا ہے۔ من بہت چاہتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہمارا اپنا کوئی مکان ہو۔ اب تو ایک ہی خواہش رہ گئی ہے کہ دم نکلے تو ہماری اپنی چھت کے نیچے۔۔۔” میں فوراً ڈاک گھر گیا اور بمبئی میں بابوراؤ پینڈھارکر کو تار دیا : “پُونا کے اپنے سٹوڈیو کے قریب ہی کہیں ماں اور باپو کے لیے ایک بنگلہ بنانا چاہتا ہوں، جگہ خرید لیجیے۔”</p>
<p>ڈاک گھر سے کمرے پر لوٹا ہی تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھول کر دیکھا، تو پانسیوں کی مالکن ہاتھ میں تار کا ایک موٹا لفافہ لیے کھڑی تھیں۔ جرمن بھاشا میں اس کو شکریہ کہہ کر میں نے تار لے لیا۔ تار پورے دو صفحوں کا تھا اور کولہاپور سے آیا تھا۔ لکھا تھا کہ میرے لیے ضرورت سے زیادہ مارک امیریکن ایکسپریس بینک بھجوا دیے ہیں۔ پڑھ کر اچھا لگا۔ راحت بھی محسوس کی۔</p>
<p>تار کا پہلا صفحہ پڑھ کر پلٹ دیا۔ دوسرا پنّا پڑھنے لگا اور بجلی کا بھیانک دھچکا لگنے کا سا احساس ہوا! میں دھڑام سے پیچھے رکّھی کرسی پر بیٹھ گیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-13/">شانتاراما — باب 13: رنگ میں بھنگ (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-13/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
