<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>شادی Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/شادی/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 20:49:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>شادی Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/شادی/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اے میری سہیلی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حمیرہ اشرف]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Dec 2016 07:42:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[ازدواجی زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[ازدواجی مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[حمیرا اشرف]]></category>
		<category><![CDATA[شادی]]></category>
		<category><![CDATA[نصیحت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19781</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">حمیرا اشرف: میری عزیز از جان میں تو تمھارے مستقبل کے لیے ابھی سے پریشان ہوگئی ہوںمیری مانو تو اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لو۔ کیونکہ شادی نہ کرنے پر جو کچھ بھی معاشرے سے سننے کو ملتا ہے وہ اس سب کے آگے کچھ نہیں ہے جو شادی کے بعد سننے کو ملتا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/">اے میری سہیلی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">مائی ڈیر سہیلی!<br>
ارے میں نے سنا ہے تم شادی کرنے جا رہی ہو؟ مبارک ہو بہت۔ تمہارا فیصلہ ہے تو کچھ سوچ کر ہی کیا ہوگا تم نے۔ لیکن میری مانو تو ایک بار پھر سوچ لو کیونکہ شادی کے بعد یہ آزادیاں نصیب نہ ہوں گی۔ ابھی تو اماں باوا کی راج دلاری ہو، ہل کر پانی نہیں پینا پڑتا لیکن شادی کے بعد یہ چونچلے نہیں چلتے۔ چلو چھوڑو اب تم نے فیصلہ کر ہی لیا تو کیا تمہارا دل برا کرنا۔ اور سناؤ کب ہو رہی ہے شادی؟ کیسی تیاریاں ہیں؟ ارے بھئی پارلر کی بکنگ تو تین سے چار ماہ پہلے ہی کروانی ہوتی ہے ورنہ اچھے پارلر میں تو جگہ نہیں ملتی بہت رش ہوتا ہے نا۔ فوٹوگرافر کو بھی ابھی ہی بُک کر لو وہ جو بڑا مشہور ہے نا اس سے ہی بات کرنا کوئی شادی روز روز تھوڑی ہوتی ہے۔ اور شادی میں اس سب کے علاوہ اور رکھا ہی کیا ہے، کپڑے ، جوتی، تیاریاں، ڈھول ڈھمکا، ہلا گلا۔۔۔ اس کے بعد تو بس۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں تو شادی میں شریک نہیں ہو سکوں گی، ان کو چھٹیاں نہیں مل سکتیں اور میں انہیں ساس نندوں کے ساتھ اکیلا چھوڑ نہیں سکتی، کلموہیاں کان بھرنے لگتی ہیں میرے خلاف۔ بچوں کے اسکول اور آئے دن کے ٹیسٹ نظرانداز بھی کر دوں پر ساس کے طعنے تشنے، نہ بابا نہ! اچھا سنو تمھاری کوئی ساس تو نہیں ہیں؟ یا غیر شادی شدہ نندیں؟ میری تو دعا ہے اللہ کرے ساس نہ ہو اور اگر ہے بھی تو تمہارے جانے سے پہلے ہی۔۔۔ پتا نہیں یہ ساسیں کیوں ہوتی ہیں۔ ویسے تو نندیں بھی نہیں ہونی چاہئیں پر چلو کبھی نہ کبھی وہ شادی کر کے جان چھوڑ ہی دیتی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سچ مانو تو مجھے تم سے اس بےوقوفی کی توقع ہرگز نہیں تھی (حالانکہ میں خود یہ بےوقوفی کر چکی ہوں) اس لیے اپنے تجربے کی بنیاد پر بتا رہی ہوں کہ شادی کا تو بس نام ہی سہانا ہے ورنہ حقیقت تو یہی ہے کہ شادی چار دن کی چاندنی ہے۔ چار دن توجہ ملے گی، نئی نئی بیوی کے ناز نخرے ہوں گے اور پھر اس کے بعد گھور سیاہ اندھیری رات۔شادی زندگی کی وہ شروعات ہے جس کی عمر انتہائی مختصر ہوتی ہے، بس ہنی مون سے واپس آتے ہی زندگی کی سہانی صبح ختم اور حقیقت کی تلخ دوپہر شروع۔ شادی کے بعد تو نہ دن اپنا نہ رات، نہ اپنی خوشی نہ اپنی ہنسی، نہ مرضی کے پہناوے نہ مرضی کے کھانے، نہ موج مستی نہ ہلا گلا۔ ماں باپ کی لاڈلی جس کے ایک اشارے پر بستر پر سب لوازمات موجود ہوتے اور ایک یہ دن گھر بھر کی باندی۔ کسی کو چائے دینی ہے کسی کو پانی، درجن بھر روٹیاں بھی پکانی ہیں اور چار چار کلو آٹا بھی گوندھنا ہے۔ آئے دن سسرالیوں کی دعوتیں اور سارے مسالے ہاتھ سے ہی پیسنا، برتنوں کے انبار دھونا اور ڈھیروں ڈھیر کپڑے دھونا۔ اور ان سب خدمتوں پر بھی ساس نندیں نالاں اور شوہر بے زار۔ سارا دن کام میں لگی رہتی ہوں نہ بننے سنورنے کا وقت ملتا ہے نہ خود پر توجہ دینے کا۔ شوہر کو شادی سے پہلے والی سجی سنوری ریشمی سلکی بیوی چاہیے تو ساس کو اسی روپ سے نفرت۔ ساس کو بس شیشے سا چمکتا گھر چاہیے اور اس کے لیے وہ اپنی جوانی کے مبالغہ آمیز قصیدے سناتی نہیں تھکتیں ( حالانکہ سبھی کہتے ہیں میرے آنے سے پہلے اس گھر میں گدھے لوٹتے تھے)۔ ساس کو مسالے تمام گھر کے اورہاون دستےپر پسے ہوئے چاہئیں، کوفتے کباب سل بٹے پر پسے ہوئے کہ مشین سے ریشہ نہیں آتا، اور شوہر صاحب کو انھی لہسن ادرک کی بو سے چڑ اور کھردرے ہاتھ پیروں سے بیر۔ میرے پاس خود پر توجہ دینے، اپنے وزن کو کم کرنے اسکن کو چمکانے کا وقت ہی کہاں ہوتا ہے۔ ایک بار موئے کھیرے کاٹتے دو کھیروں کے ٹکڑے چھپالیے۔ کمرے میں سب سے چھپ کر ان کاکچومر بنا کر ماسک لگایا، لیکن پتا نہیں کیسے ان کو خبر لگ گئی کہ آج تک ساس سے اس کے طعنے سنتی ہوں۔ نندوں کو سے بآواز بلند کہہ کر خاص مجھے سنوایا جاتا ہے کہ ان چلتروں سے میں نے میاں کو قابو کر رکھا ہے۔ اور میاں جی ہیں کہ شادی بیاہ تقریبات میں دوسروں کی بیویوں کو چوری چوری تکتے اور نوجوان لڑکیوں کو چھپ چھپ کر دیکھتے پائے جاتے ہیں موصوف۔ کبھی میں جو کسی تقریب میں اچھا سا تیار ہوجاؤں تو ان کو لگتا ہے کونین کی گولی گھل گئی ہے منھ میں ۔ فوراً جل جاتے ہیں اور جو پوچھ بیٹھوں کیسی لگ رہی ہوں توایسی اذیت بھری تعریف کرتے ہیں کہ جان جل جاتی ہے۔ ہائے! میری قربانیوں کی تو کوئی قدر نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میری بہن! ساس نندوں پر تو کیا موقوف یہ شوہر ہی کیا کم ہوتے ہیں ستانے، جلانے، تڑپانے ، کلیجہ سلگانےاور آگ لگانے کو۔ شوہر سے بے مروت تو کیا کوئی مخلوق دیکھی ہوگی کسی نے۔ شوہر کے گھر میں سب کچھ اس کا اپنا ہے، گھر بھر کا سارا سازوسامان، بال بچے سب اس کی ملکیت اس کی آنکھ کا تارا اور بیوی آنکھ کا شہتیر۔ وہ تو مشہور محاورہ ہے نا کہ بچے اپنے اور بیوی غیر کی پیاری، تو بس یہی حال ہے۔ دوسروں کی بیویوں سے بات کے بہانے ڈھونڈنا، سامنا ہوجائے تو ہنس ہنس کر باتیں کرنا۔ مجھ سے تو کبھی نہیں کرتے ایسے پیار محبت سے بات چیت، بس اپنے مطلب کے لیے ہی آتے ہیں اور مطلب پورا ہو کر تو کون تو میں کون۔ ایسی گونگی خاموشی کی مار مارتے ہیں کہ بیوی تڑپتی رہے اور فریاد بھی نہ کر سکے۔<br>
تمھیں تو یاد ہے نا کیسی دبلی پتلی حسین و جمیل ہوتی تھی میں ( تم سے بھی زیادہ) اور اب جو یہ موٹی تازی عورت کا روپ ہے یہ بھی مانو شادی کی ہی دین ہے۔ شادی کے بعد لگاتار چار بچوں نے ساری دلکشی ہی چھین لی۔ ایک تو موٹاپا اس پر سارے گھر کے کام کاج۔ شوہر کو کبھی احساس ہی نہیں ہوتا کیسی گڑیا سی لڑکی بیاہ کر لائے تھے چھوئی موئی سی اور اب کیا حال کر دیا ہے میرا۔ ذرا ذرا سی چیز کے لیے ان کی رائے کی منتظر، ان کی ایک پیار بھری نگاہ کے لیے ترستی میں، وہ چاہیں تو مشرق، نہ چاہیں تو مغرب، صبح ان کی شام ان کی میرا کیا! کہاں جانا ہے، کیوں جانا ہے، کیسے جانا ہے، خرچ کتنا ہوجائے گا، ہر بات میں ان کی ہزار جرح اور ردوقدح۔ سہیلیوں سے ملنا، لائبریری جانا، کتابیں پڑھنا، سنیما جانا چھوٹا، وہ ادبی شامیں، موسیقی کے کانسرٹ، لان کاٹن کھدر کی ایگزیبیشنز ہائے سب خواب و خیال ہوگئے۔ اب تو بس دن رات کے جھمیلے ہیں۔ ساس نندوں کی پھاپھا کٹنی چالوں سے بچنے اور اپنے گھر والوں کی قدرومنزلت بڑھانے کے حربے سوچتے شب و روز گزرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میری عزیز از جان میں تو تمھارے مستقبل کے لیے ابھی سے پریشان ہوگئی ہوںمیری مانو تو اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لو۔ کیونکہ شادی نہ کرنے پر جو کچھ بھی معاشرے سے سننے کو ملتا ہے وہ اس سب کے آگے کچھ نہیں ہے جو شادی کے بعد سننے کو ملتا ہے۔ آگے تمہاری مرضی ہے میں تمھاری خوشی میں خوش ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">فقط تمھاری دوست<br>
جو کبھی ایک خوش باش لڑکی تھی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/">اے میری سہیلی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اے میرے دوست</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حمیرہ اشرف]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Dec 2016 06:20:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[ازدواجی زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[ازدواجی مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[شادی]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[مرد اور شادی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19776</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">حمیرا اشرف: شادی کے فوراً بعد جو یہ نازک اندام محترمہ پھولنا شروع ہوتی ہیں تو لاکھ روکتے جاؤ لیکن یہ نہیں رکتیں</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/">اے میرے دوست</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">اے میرے دوست، میرے قابل رشک ساتھی!<br>
چند دن بعد چونکہ تم قابل رشک نہ رہو گے لہذا تمھیں ” سابقہ قابل رشک” ساتھی پکاروں، سمجھ نہیں آتا کہ تمھیں کیسے سمجھاؤں۔ جب سے تمھارے بارے میں یہ خبر ملی ہے، یقین جانو، میرے قدموں تلے زمین کھسک گئی، آنکھوں کے آگے وہ اندھیرا چھا گیا جس نے مستقبل قریب میں تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے۔ پہلے تو مجھے گمان ہوا کہ میری سماعتوں کا فتور ہے، کہاں تم اور کہاں یہ کام۔۔۔ الامان والحفیظ۔ ہائے کیا زمانہ آ گیا ہے، جن پر تکیہ رکھا ہم نے ہائے انہی پتوں نے ہوا دے دی۔ یہ آلام روزگار، یہ گردش زمانہ، یہ وقت کا پھیر ہائے یہ کہاں چین لینے دیتا ہے پر تم، تم تو مشعل راہ تھے ہمارے لیے، ایک لائق تقلید روشن استعارہ جس کی مثالیں دیتے نہ تھکتے تھے ہم۔ تم کو دیکھ کر تو جیسے دل کو ٹھنڈک و سکون و طمانیت کا احساس ہوتا تھا، ایک فرحت بخش خوشی محسوس ہوتی تھی کہ کوئی تو ہے اس جہاں میں جو۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہاں میں بہت گھبرا چکا ہوں، میرے ہاتھ پیر جواب دے رہے ہیں۔ ابھی اگر مجھےتم چھو کر دیکھو تو میرے ماتھے پر پسینے کی نمی اور ٹھنڈی ہتھیلیاں تمھیں بتا دیں گی کہ وفور جذبات سے میں کیسا بےحال ہوں۔ لیکن میرا مصمم ارادہ ہے کہ میں تمھیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ گواہ رہنا میں نے تمھیں اس آتش و نار سے بچانے کی پوری پوری کوشش کی تھی۔ میرے اس نامے کو سنبھال رکھنا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ تمھیں اس اقدام عبرت نشان کے عوامل و عواقب سے آگاہ کرنا میرا فرض ہے اور میری محبت و عقیدت اس بات کی متقاضی ہے کہ میں تم کو اس گڑھے میں گرنے سے بچانے کی سعیِ لاحاصل انجام دوں۔ تم جو تمام مردوں کے لیے مایہ افتخار ہو یوں تمھارا دامن شرف و عزت پامال و تار تار ہوتے ہم کیونکر دیکھ پائیں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہاں یہ جو شادی کا لڈو تم کھانے چلے ہو، باز آجاؤ میرے بھائی! ہم یہ لڈو کھا چکے ہیں اور اب اپنی پور پور میں بسی کڑواہٹ کو باہر نکالنے سے قاصر ہیں۔ تم معطر ٹھنڈی چھاؤں جو ہماری تپتی روح کا سائبان تھے اب تم خود شادی کرنے جارہے ہو، ہائے یہ کیا کرنے جا رہے ہو۔ رک جاؤ خدارا رک جاؤ ، نہ مارو اس کلہاڑی پر پیر، جو تمھیں نہ صرف ٹکڑے کر دے گی بلکہ تمھاری تکہ بوٹی کر کے مصالحے میں ڈبو کر شریکوں کو پیش کر دے گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہائے! آج سے عرصہ 6 سال پہلے میں بھی ایک بے فکرا، کھلنڈرا، ہنس مکھ اور جہاں بھر کی آنکھ کا تارا نوجوان ہوا کرتا تھا۔ ہوائیں میرے سنگ اڑا کرتی تھیں اور بہاریں میرے قدموں کے سنگ مسکاتی تھیں۔ محفلوں پر میرا راج تھا، اور میرے خم ابرو پر کیسی کیسی نوجوان حسینائیں مچل جایا کرتی تھیں۔ آج جو تمھیں ایک نیم گنجا، ڈھلکے جسم اور پریشان چہرے والا بےزار مرد نظر آتا ہے، واللہ ایسا نہ تھا ہرگز ایسا نہ تھا۔ یہ آتش تو ایسا جوان تھا کہ میرے جلووں کی چمک راجا اندر کی نگاہ خیرہ کرتی جب جدید پارلرز کی شاہکار اپسرائیں میرا طواف کرتیں۔ کرشن جی سانولیا تو میرے نام سے جل کر اور سنولا جاتے جب شوخ الھڑ گوپیاں میرے نام پہ آہیں بھرتیں۔ اور ایک یہ آج کا دن ہے جب میری بیوی میرے ہی بچوں سے ان حسیناؤں کو پھوپھو کہلواتی ہے، آہ! آرے چل جاتے ہیں جگر پر۔ تمھیں بتاؤں کیسے یہ بیگم نام کی خاتون تمام حسیناؤں کو شوہر کی بہن بنانے پر تلی رہتی ہے۔ ظالم! کبھی ذرا جو اس مظلوم شوہر کے جذبات کا خیال کر لے۔ جہاں آنکھ کسی جلوے کی جانب اٹھے وہیں ایک شکاری کی چوکس نظر تمام حرکات و سکنات کو کڑے تیوروں سے گھور رہی ہوتی ہے۔ اسے مسکرا کر کیوں دیکھا؟ فلاں کے بچے کو پیار کیوں کیا؟ دیوار کی طرف منھ کر کے کیوں نہیں بیٹھے؟ غرضیکہ آزادی کی ایک ایک سانس کو ترس جاؤ گے میرے پیارے! باز آجاؤ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شادی کے پہلے دن ہی یہ زلفوں کا جال ریشمی محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے بعد سے بتدریج یہ نائلون کا مضبوط جال بن کر الجھتا جاتا ہے جو سانس محال کر دیتا ہے۔ یہ میک اپ زدہ حسن جب اپنی ہی جیب پر بھاری پڑتا ہے تو ہی دن میں تارے دکھائی پڑتے ہیں۔ میرا تو کئی بار دل رک سا گیا جب جب بیگم میک اپ کر کے سامنے آئی۔ شادی کے ایک سال بعد جب بیوی میک اپ کر کے سامنے آتی ہے تو خوف کے مارے دھڑکن رک سی جاتی ہے، حواس مختل ہو جاتے ہیں، یوں سمجھو یہ وہ چڑیل ہے جو کسی آیت، کلمے، پیاز لہسن ٹونے ٹوٹکے سے نہیں بھاگتی بلکہ اپنے سرخ سرخ ہونٹوں اور لپلپاتی لہراتی زبان سے حکمیہ پوچھتی ہے“کیسی لگ رہی ہوں”۔ یقین جانو آنکھیں سختی سے میچ کر بدقت تمام تعریفی کلمات ادا کرنے پڑتے ہیں کیونکہ اگر تعریف نہیں کی تو یہ خون آشام درندی کھڑے کھڑے جسم کا تمام خون خشک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میرے عزیز! یہ چار دن کی ایسی چاندنی ہے کہ اس کے بعد اماوس کے گھور اندھیارے ہی نصیب بن جاتے ہیں۔ ابھی جو شیرینی بکھیرتی آواز ہے، جو حیا آمیز جھکی نظر ہے، جو تسلیم و رضا کی ادائیں ہیں؛ سب مہیب جال ہے۔ بچ جاؤ اس اس ادا سے، یہ سب دکھاوا ہے۔ شادی کے بعد ہی یہ جھکی ہوئی نگاہ اٹھتی ہے اور ایسی شعلہ بار ہوتی ہے کہ اس کی چنگاریاں خرمن دل کو خاکستر کر دیتی ہیں۔ یہ شیریں سخنی، کم آمیزی، شوخی و شرارت، ناز و عشوے کب بدمزاجی، کرختگی، ہٹ دھرمی، سفاکی میں بدل جاتے ہیں پتا بھی نہیں لگتا اور آزاد پنچھی کے پر کترے جاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب بیوی زندگی میں آتی ہے تو سمجھو “مرد” کی مرضی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ مرد کا پہناوا، اس کے انداز، چال ڈھال، ہیئر اسٹائل، داڑھی مونچھ سب بدل جاتے ہیں۔ دوست احباب، رشتے دار، تعلقات سب کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ نہ مرضی سے کھا سکتے ، نہ پی سکتے، نہ سو سکتے، نہ جاگ سکتے، نہ کہیں جاسکتے، نہ کسی سے بات کرسکتے، سب پکنک پارٹیز خواب ہوجاتی ہیں۔ شادی کے بعد روز نہانے پر پابندی، برش کرنے پر کڑی نگاہ، والٹ اور موبائل کی بلاناغہ تلاشی، لباس پر نادیدہ بال تلاشنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ازلی دشمن” ساس” کو امی کہنا ان کی خوشامدیں کرنا فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے۔ اپنے گھر، تنخواہ، موٹر سائیکل، کار پر سالے کا بلاشرکت غیرے حق تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اور تو اور حسین طرح دار سالیوں کے منھ سے “بھائی جان” کی کڑوی گولی نگلنا کیا کچھ آسان کام ہے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شادی کے فوراً بعد جو یہ نازک اندام محترمہ پھولنا شروع ہوتی ہیں تو لاکھ روکتے جاؤ لیکن یہ نہیں رکتیں (بےشک اس موٹاپے کا ثمرہ اولاد بھی ملتی ہے لیکن۔۔۔)۔ ان لڑکیوں کا ٹارگٹ ہم تم جیسے لڑکوں کو پھانس کر بےبس کرنا ہوتا ہے اس کے بعد یہ دن میں چار بار منھ دھونے والی صبح اٹھ کر بھی منھ نہیں دھوتی۔ لہسن ادرک اور عجیب عجیب مسالوں کی بو ان کے پاس سے آتی ہے۔ کھردرے ہاتھ، بے رونق بال، ملگجے کپڑے، بکھرا کمرہ اور کوڑے سے بھرا ڈسٹ بن۔ اتوار کے اتوار برش کرتی ہیں اور شادی و تقریبات میں آرائش وہ بھی یوں جیسے غبارے پر مختلف رنگ پوت دیے گئے ہوں۔ کھانے کے نام پر عجیب و غریب لوازمات کھانا اور پھر مسکرانا بھی ضروری۔ لاکھ منھ میں کڑواہٹ گھلی ہو لیکن داد بھی لازمی دینی ہے۔ اپنے والدین بہن بھائیوں سے اجنبی بھی ہونا ہے۔ اور گھر میں داخل ہوتے ہی سب کی شکایتیں بھی سننا ہیں اور ان شکایتوں کے ردعمل میں خاموش بھی نہیں رہنا بلکہ اپنی محدود آمدن کے باوجود کرائے کا گھر لے کر والدین کو چھوڑنا بھی ضروری ہے۔ گلے شکوے بھی سننے ہیں اور مہنگے تحفے بھی دینے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میرے دوست اس تھوڑے کو بہت جانو اور باز آجاؤ۔ اپنی جوانی کو یوں نہ ماچس دکھاؤ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">فقط تمھارا دوست!<br>
جو کبھی ایک زندہ دل لڑکا تھا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/">اے میرے دوست</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شادی؛ ایک غیر ضروری سماجی تجربہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%aa%d8%ac%d8%b1%d8%a8%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%aa%d8%ac%d8%b1%d8%a8%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Aug 2016 13:38:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[تسنیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[شادی]]></category>
		<category><![CDATA[شادی اور سماج]]></category>
		<category><![CDATA[شادی کے نقصانات]]></category>
		<category><![CDATA[مشرقی شادی]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ اور شادی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17289</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تصنیف حیدر: عجیب بات یہ ہے کہ جب دو لوگ اپنی خوشی، محبت اور رضامندی کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی عمل کرتے ہیں تو ان کے بچے ناجائز ہوجاتے ہیں اور شادی کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بے دلی، ذہنی اذیت اور گھٹن میں یہ عمل انجام دیں ان کے بچے جائز کہلاتے ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%aa%d8%ac%d8%b1%d8%a8%db%81/">شادی؛ ایک غیر ضروری سماجی تجربہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">حالانکہ میں یہ تحریر لکھتے وقت جانتا ہوں کہ مجھے بھی کبھی نہ کبھی اس پھندے میں پاؤں رکھنا پڑ سکتا ہے اور وہ بھی بخوشی، کسی زور زبردستی سے نہیں۔ میرے کچھ احباب مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ تصنیف! تمہارے سر پر جو جنسی خواہشات اس قدر منڈراتی ہیں تو اگر تم شادی کر لو تب شاید یہ مسئلے حل ہو جائیں۔ لیکن میں نے پلٹ کر ان سے کبھی نہیں کہا کہ تمہارے سر پر جو اتنی معاشی اور سماجی مجبوریاں پھیرے لگاتی ہیں، ان کی وجہ سے تم اپنی بیوی کو طلاق کیوں نہیں دے رہے۔ میرے سوچنے سمجھنے کے زاویے ممکن ہے کہ سماجی اصولوں سے بہت زیادہ مطابقت نہ رکھتے ہوں، مگر اتنا تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ شادی کی بنیادی وجہ انسان کی جنسی خواہش کی تسکین کا ایک مستقل علاج ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ہم اس میں گھر گرہستی کا سکھ، اولاد کی کلکاریوں اور دوسرے بہت سے اہم معاملات جھونک کر اسے زبردستی ایک بہتر اور زندگی کے لیے قابل ذکر عمل قرار دے دیں۔ میرے ایک بہت ذی علم اور پیارے دوست ہیں طارق احمد صدیقی، ان کا میں ویسا ہی قائل ہوں، جیسا اپنے معاصرین میں زیف سید، سید کاشف رضا، مصعب اقبال ، رمشیٰ اشرف ،رامش فاطمہ اور محمد علی وغیرہ کا ہوں۔ طارق کا ماننا ہے کہ انسان اگر شادی نہیں کرے گا تو ایک نراج کی سی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ لوگ آزاد جنسی رشتوں میں گھر کر ہر دوسری عورت پر ٹوٹ پڑیں گے اور مرد و عورت کے درمیان قائم مقدس رشتوں کے باند بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے شادی کے تعلق سے فیس بک پر ایک مختصر تحریر لکھی تھی تو انہوں نے اس معاملے پر مضبوط دلائل کے ساتھ ایک منطقی بحث کا آغاز کیا تھا۔ افسوس کہ ہم اس بحث کو جاری نہ رکھ سکے، لیکن شاید بات یہاں سے دوبارہ شروع کی جاسکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جہاں تک بات جبریہ جنسی عمل اور زنا وغیرہ کی ہے تو میرا ماننا ہے کہ یہ کام ہماری سوسائٹی میں شادی کے بعد بھی ہوتا ہے اور متواتر ہوتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">اول تو میں نہیں سمجھتا کہ آزاد جنسی رشتے کسی قسم کے وحشی جنسی عمل کی دعوت دیتے ہیں یا ان کے لیے انسانوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جہاں تک بات جبریہ جنسی عمل اور زنا وغیرہ کی ہے تو میرا ماننا ہے کہ یہ کام ہماری سوسائٹی میں شادی کے بعد بھی ہوتا ہے اور متواتر ہوتا ہے۔ مجھے قریب ایک پینتالیس سالہ عورت نے بتایا تھا کہ اس نے گزشتہ دس برسوں سے اپنے شوہر سے جنسی تعلق منقطع کر رکھا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا شوہر اسے جنسی ایذائیں دیا کرتا تھا، وہ ایک عزت دار گھرانے کی خاتون ہیں، ان کی اولادیں ہیں اور دور سے دیکھنے پر یہ گھرانہ ایک بہت کامیاب اور خوشحال خاندان نظر آتا ہے۔ آپ اسے استثنائی صورت حال قرار دے کر نظر انداز نہیں کرسکتے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ سنجیدہ اس حوالے سے کہ ہم نے جن معاملات کو پیش نظر رکھ کر شادی کو انسانی زندگی کا جزو لاینفک بنا دیا ہے، اس نے بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ فرض کیجیے کوئی شخص شادی کرنا چاہتا ہے، مگر اسے اپنی پسند اور مزاج کی لڑکی سوسائٹی میں نہیں مل رہی ہے، ماں باپ اور ملنے جلنے والوں کا تقاضہ، جنسی گھٹن کا حملہ، گھر گرہستی کی خواہش، اپنانسب آگے لے جانے کی تمنا اور بیوی کی خدمات کا سکھ بھوگنے کے لیے وہ شخص کسی ایسی لڑکی سے شادی کر لیتا ہے، جو اس کے لیے بالکل مناسب نہ تھی۔ اول تو وہ اس کا مزاج سمجھنے میں ہی ایک برس لگا دے گی اور ایک برس بعد جب اسے احساس ہوگا کہ اس کے شوہر کی ترجیحات کیا ہیں تو اسے اپنے آپ کی باقی ماندہ زندگی مستقل طور پر اپنے شوہر اور اس کے خاندان کے اصولوں اور خواہشات کے مطابق گزارنے کا حوصلہ خود میں پیدا کرنا پڑے گا۔ میرے خیال میں انسانی کردار کی یہ جبریہ تبدیلی ایک ظلم ہے، ایک ایسا ظلم، جس پر ہم کبھی نہ دھیان دیتے ہیں اور نہ بات کرتے ہیں اور اگر اس کے نتیجے میں ہمیں کوئی عورت چڑچڑی، منہ پھٹ یا زبان دراز بنتی نظر آتی ہے تو ہم اسے طعنہ دیتے ہیں کہ وہ ایک لائق بہو یا بیوی نہیں ہے، اپنے میاں کو انگوٹھے کے نیچے داب کر رکھنا چاہتی ہے اور اسے سماج میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ مسائل اس قدر عجیب و غریب ہیں کہ ان کی نفسیاتی وجوہات پر غور کیے بغیر ہم ان کی مخالفت کرنے کے اہل نہیں ہو سکتے۔ بظاہر ہمیں لگے گا کہ سب ٹھیک ہے۔ ہر چیز اپنے حساب سے چل رہی ہے۔ شوہر صبح دفتر جاتا ہے، بیوی برتن مانجھتی ہے، ،ناشتہ بناتی، بچے سنبھالتی ہے، بازار جاتی ہے یا دیگر ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ہنستے کھیلتے گزار دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں اپنے آپ کو کامیاب ثابت کرنے کے لیے کئی عورتوں نے پوری پوری زندگیاں ایک دھوکے اور سراب کی نذر ہو کر گزار دی ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ وہ ایک مثالی بیوی بنیں گی، ایک ایسی بہو، جس کی لوگ تعریف کریں، ساس جس کی نظریں اتارے اور شوہر جس کی ان فرمانبرداریوں پر لٹو ہو جائے۔ اگر آپ مجھ سے یہ کہیں کہ وہ لاکھوں کروڑوں عورتیں جنہوں نے صرف بچے پیدا کر کے، ان کی پرورش کرنے کے بعد انہیں لائق فائق انسان بنا دیا ہو، اس کام کو کرنے کے علاوہ کچھ اور کرنے کی اہل تھیں ہی نہیں تو یقین جانیے ہمیں انسانی نظام میں عورت کےوجود اور اس کی افادیت پر سوالیہ نشان قائم کرنا پڑے گا۔اگر عورت صرف انہی کاموں کے لیے ہے کہ وہ مرد کو لائق فائق بنا سکے، اس کا ساتھ دے سکے یا اس کے پیچھے کھڑی رہ سکے۔ مجلسوں، کتابوں اور تقریروں میں اس کا ذکر کائنات کی تصویر میں رنگ بھرنے کے تعلق سے ہی کیا جاتا رہے تو یہ ایک سراسر بے ہودہ اور بے وقوفانہ بات ہے۔ جس کے خلاف آواز اٹھانے کا ہر عورت کومکمل حق حاصل ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اگر عورت صرف انہی کاموں کے لیے ہے کہ وہ مرد کو لائق فائق بنا سکے، اس کا ساتھ دے سکے یا اس کے پیچھے کھڑی رہ سکے۔ مجلسوں، کتابوں اور تقریروں میں اس کا ذکر کائنات کی تصویر میں رنگ بھرنے کے تعلق سے ہی کیا جاتا رہے تو یہ ایک سراسر بے ہودہ اور بے وقوفانہ بات ہے۔</div>
<div class="urdutext">یہ تو ہوئی وہ بنیادی بات جس میں شادی ایک عورت پر جو منفی اثر ڈالتی ہے، اس کے اعتماد اور اس کی نفسیات پر جو چوٹ کرتی ہے۔اس کا بکھان۔ اب میں آگے چلتا ہوں۔ شادی کے فائدے کیا ہیں۔ شادی کا صرف ایک فائدہ ہے اور وہ یہ کہ آپ کی جنسی تسکین کا ایک مستقل سامان آپ کے بغل میں ہر رات موجود رہ سکتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ مرد یا عورت دونوں قسم کے سیکس ورکرز کے لیے خرچ کی جانے والی رقم کا بندوبست ہر شخص نہیں کر سکتا۔ لیکن، یہ صرف ایک فائدہ ہے اور وہ بھی چند سالوں کے لیے۔ میں نے بہت سے شادی شدہ جوڑوں سے یہ بات کی ہے، اور ان میں سے اسی فیصد نے اسے تسلیم کیا ہے کہ شادی کے دو سال بعد سیکس کا چارم یا جنسی خواہش کا ایکسائٹمنٹ بہت حد تک کم ہو جاتا ہے۔ کچھ معاملات میں ممکن ہے دورانیہ کچھ آگے پیچھے ہو جائے۔ لیکن ایسا ہوتا ضرور ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی صرف جنس سے عبارت نہیں ہے۔ انسان کو دنیا میں اور بھی کام ہیں، اور بھی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ جنس کا کوئی مستقل علاج کیوں ڈھونڈا جائے۔ جبکہ وہ مستقل علاج دو برس کے فائدے کے ساتھ ہزاروں قسم کی لعنتیں بھی اپنے ساتھ لاتا ہو۔ شادی کی پہلی پریشانی تو یہ ہے کہ آج بھی ہمارے یہاں بہت سے مرد اپنی خوشی سے بہت سے بچے پیدا کرلیتے ہیں، عورتوں کی اوں آں کو ویسے بھی کون گبرو خاطر میں لاتا ہے۔ ہر سال سردی ایک نیا تحفہ دے جاتی ہے اور انسان یا خاص طور پر عورت اس کے چکرمیں بالکل ادھ مری اور بے جان ہوئی جاتی ہے۔ لیکن اس کی فکر کسی کو نہیں ہے۔ بہت سے مذاہب پیدا ہونے والی اولادوں کو روکنے کے سائنسی طریقوں کو غیر مذہبی اور خدا کے نزدیک ایک ناپسندیدہ عمل سمجھتے ہیں۔ اور یہ صرف اس لیے ہے کہ انسان جس قدر اولاد پیدا کرے گا، اتنا پریشان ہوگا اور جتنا پریشان ہو گا، اسے روحانی، ذہنی اور نفسیاتی سکون کے لیے خدا کے در کی خاک چھاننی پڑے گی، جبکہ اس کا علاج خود انسان کے ہاتھ میں ہے، وہ پیدا ہونے والے بچوں کو کنڈوم کی مدد سے روک سکتا ہے (میں مانتا ہوں کہ کنڈوم کے نہ پھٹنے کی گارنٹی کوئی کمپنی نہیں لیتی، لیکن کنڈوم بہت کم پھٹتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت بڑی بڑی فحش انڈسٹریز اس کے بل پر اپنا کام کاج آگے نہ بڑھا رہی ہوتیں)۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے طریقے ہیں، جن میں سے اب کئی طریقے پڑھے لکھے خاندانوں یا نیوکلیئر فیملیز میں اپنائے جاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شادی کی دوسری بڑی لعنت اس کے ساتھ پیدا ہونے والے اخراجات ہیں۔ حالانکہ آپ ایسے لوگوں کو ہر روز اپنی سوسائٹی میں دیکھتے ہوں گے جو دوسروں کو اصراف بے جا پر لعنت و ملامت بھیجتے ہوں۔ خدا کی توکل پسندی اور صبر و شکر کے فائدے گناتے ان کی داڑھیوں کے بال سفید ہوجاتے ہیں۔ لیکن باریش آدمی یا برقعہ پوش عورت ہمیشہ یہی چاہے گی کہ اس کے بیٹے یا بیٹی کی شادی عزت سے ہو۔ اب اس عزت کا معاملہ یہ ہے کہ کم از کم آج کی مہنگائی کے دور میں آپ دعوت نامے چھاپیں گے، ہال لیں گے یا شامیانہ لگوائیں گے،کھانا کھلوائیں گے، گاڑیوں میں رخصتی کروائیں گے اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔پھر اس کے ساتھ اگر آپ لڑکی کے ماں باپ ہیں تو آپ کو اچھے خاصے جہیز کا سامان دینا ہوگا اور لڑکے کے ماں باپ ہیں تو اس کی پڑھائی، لکھائی، رہن سہن تمام کے خرچ کی نمائش کرنی ہوگی۔ شادی اس لحاظ سے ہمارے یہاں ایک انڈسٹری بن گئی ہے۔ اخبارات، ٹی وی، ویب سائٹس، موبائل ایپلیکیشنز، ایجنسیاں اور اسی کا کاروبار کرنے والی عورتیں۔ یہ تمام کے تمام آپ کے گھروں میں تب تک دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں، جب تک آپ کی کہیں شادی کرکے آپ کو کسی ٹھور ٹھکانے سے نہ لگا دیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">شادی کی تیسری لعنت انسان کا اپنی برادریوں، من پسند لوگوں، معاشی فائدہ حاصل کرنے کے مسائل سے جڑ جانا ہے۔</div>
<div class="urdutext">شادی کی تیسری لعنت انسان کا اپنی برادریوں، من پسند لوگوں، معاشی فائدہ حاصل کرنے کے مسائل سے جڑ جانا ہے۔ میں ایسے بہت لوگوں کو جانتا ہوں جو بہت دیکھ کر، سمجھ کر شادی کرتے ہیں کہ کہاں ان کا مستقبل زیادہ بہتر ہوگا، کس کے ساتھ وہ اپنی زندگی کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں جلد کامیاب ہوسکیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے شادی نفع و نقصان کا ایک ایسا سودا ہے، جسے وہ چاہ کر بھی نظر انداز نہیں کرسکتے اور اگر آپ اپنے چاروں جانب نظر ڈالیں گے تو بیشتر شادیاں انہی شرائط اور معاملات پر طے پاتے ہوئے دیکھیں گے۔ اب ایسی شادیوں میں محبت کا کوئی عنصر شامل ہو گا یا ہوسکتا ہے، مجھے اس پر بھرپور شک ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک اور مسئلہ جو شادی نے پیدا کیا ہے، وہ ہے طلاق اور حرامی کی اصطلاحات کی ایجاد کا۔ جب آپ شادی کریں گے تو ظاہر ہے کہ سماج نے جس طرح کے اصول طے کر دیے ہیں، انہی کو پیش نظر رکھ کر کریں گے۔ کبھی عزت، کبھی شہرت، کبھی معاش اور کبھی صرف اور صرف جنس کو مد نظر رکھ کر کی جانے والی شادی کتنے دن تک اپنے پاوں پر سیدھی کھڑی رہ سکتی ہے۔ ایک دن جب انسان جاگتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے خود کے ساتھ غلط کیا ہے، اور اس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔ پھر طلاق شدہ مرد یا عورت (مرد کم، عورت زیادہ) کے ساتھ ایک مسئلہ اور پیدا ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ انہیں ایک جانب دوسری دفعہ یہی عمل انجام دینے سے ایک خوف سا محسوس ہوتا ہے علاوہ ازیں سماج میں انہیں ایک امپرفیکٹ اور نقص زدہ انسان کی سی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف شادی کو ایک مستند اور باعزت انسانی رسم کے طور پر قبول کیے جانے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ آزادانہ جنسی عمل کے طور پر پیدا ہوجانے والے بچوں کو ہم ‘حرامی’ اور ‘ناجائز’کے نام سے پکارنے لگتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب دو لوگ اپنی خوشی، محبت اور رضامندی کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی عمل کرتے ہیں تو ان کے بچے ناجائز ہوجاتے ہیں اور شادی کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بے دلی، ذہنی اذیت اور گھٹن میں یہ عمل انجام دیں ان کے بچے جائز کہلاتے ہیں۔ حالانکہ ہماری اخلاقیات کے طے کردہ یہ اصول سراسر کھوکھلے اور بے وقوفانہ ہیں اور ہمیں اب ان سے پیچھا چھڑانا چاہیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">عجیب بات یہ ہے کہ جب دو لوگ اپنی خوشی، محبت اور رضامندی کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی عمل کرتے ہیں تو ان کے بچے ناجائز ہوجاتے ہیں اور شادی کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بے دلی، ذہنی اذیت اور گھٹن میں یہ عمل انجام دیں ان کے بچے جائز کہلاتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">پھر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ یہ تو رہے مسائل لیکن کیا میرے پاس کوئی بہتر تجویز موجود ہے جو سوسائٹی کو غیر متوازن ہونے سے بچانے اور انسان کے جنسی عمل کو کامیابی اور عزت کے ساتھ قبول کروانے کا راستہ نکال سکے۔ اول تو ہمیں شادی کے معاملےپر غور کرنا چاہیے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ شادی کو بالکل ختم کر دیا جائے۔ لیکن شادی صرف ایسے دو لوگوں کی رضامندی کے ساتھ ہونی چاہیے، جو ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی دباو، کسی منفعت کی خواہش کے ایک ساتھ ساری زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں۔ ایسے رشتوں میں طلاق کا عنصر ممکن ہے کم ہو اور اگر نہ بھی ہو تو طلاق کو کوئی بہتر نام دیا جائے اور نئی سماجی اخلاقیات میں اسے انسانی مرضی اور دو لوگوں کے ایک مشترکہ مثبت فیصلے سے تعبیر کیا جائے۔ جو لوگ آزادانہ جنسی رشتہ قائم کرنا چاہتے ہوں، ان کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ وہ ایک دوسرے کی سماجی، معاشی ذمہ داریاں نہیں اٹھائیں گے اور اگر ایسا کریں گے تو صرف خوشی سے، یہ کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہوگا۔ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو اس میں مرد اور عورت جس کی بھی خواہش بچہ پیدا کرنے کی ہو، اسی پر بچے کی ذمہ داری بھی عائد کی جائے تاکہ وہ خود کو کسی لائق بنا کر بچہ پیدا کرے۔ سماج میں بچوں کے پیدا کرنے سے روکنے والے غیر نقصان دہ راستوں کو فروغ دیا جائے اور انہیں بالغ ہوتے ہی بچوں کے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">عورت کو اس طرح خود کفیل ہونے کے زیادہ مواقع حاصل ہوں گے۔ اتنی ساری شادیوں کی ایجنسیاں کھول کر بیٹھنے والوں کو اس کاروبار کی جانب راغب کرایا جاسکتا ہے کہ وہ ان بچوں کی پرورش کریں، جن کی ذمہ داری اٹھانے والے کسی فرد کی موت ہو گئی ہو اور وہ ابھی اپنی ذمہ داری اٹھانے کے اہل نہ ہوں، یہ سارے کام حکومت کی نگرانی میں ہوں اور ان کی تفصیلات ایک ایسے ادارے کی نگرانی میں کسی ویب سائٹ پر پیش کی جائیں، جن کے ذمہ داران ایسے لوگ ہوں جو ان معاملات کی گہری سمجھ رکھتے ہوں اور سماج میں ایک صاف شبیہ رکھتے ہوں، ظاہر ہے کہ یہ ایک جز وقتی ذمہ داری ہے اس لیے ان ممبران میں صحافی، ادیب، سائنسداں، انجینیر، سیاست داں جیسے تمام لوگوں کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">شادی کے بغیر ملنے والی سیکس کی اجازت آتے ہی سوسائٹی میں جنسی عمل کے تعلق سے موجود ایک جبر کا احساس ختم ہوگا، لوگ اس پر زیادہ کھل کر بات کرسکیں گے۔</div>
<div class="urdutext">شادی کے بغیر ملنے والی سیکس کی اجازت آتے ہی سوسائٹی میں جنسی عمل کے تعلق سے موجود ایک جبر کا احساس ختم ہوگا، لوگ اس پر زیادہ کھل کر بات کرسکیں گے۔ جب کوئی سوسائٹی یہ تسلیم کرتی ہوگی کہ عورت کو بھی آزادنہ جنسی عمل کی اجازت ہے تو کسی بھی عورت کو اپنے ریپ کی رپورٹ کروانے میں بھی شرم اور جھجھک محسوس نہ ہوا کرے گی اور لوگوں کے نزدیک ریپ کی جانے والی عورت ایک گھن لگےہوئے گیہوں کے دانے کی سی حیثیت نہ اختیار کر سکے گی۔ میں جانتا ہوں کہ اس معاملے پر میری یہ تحریر ایک ایسا آغاز ہے، جس پر مزید باتیں ہونی چاہییں۔ اور دوسرے بہت سے نقائص کے ساتھ میری تحریر اور تجاویز پر مکمل تنقید ہونی چاہیے۔ تاکہ ہم ایک مثبت اور غور وفکر کرنے والی سوسائٹی کی دہلیز میں قدم رکھنے کے اہل ہوسکیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%aa%d8%ac%d8%b1%d8%a8%db%81/">شادی؛ ایک غیر ضروری سماجی تجربہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%aa%d8%ac%d8%b1%d8%a8%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کم عمری کی شادی؛ اسباب و اثرات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%9b-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%a7%d8%ab%d8%b1%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%9b-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%a7%d8%ab%d8%b1%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نازک بلوچ]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 11 Nov 2015 09:51:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[تصورات]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم یافتہ لڑکیاں]]></category>
		<category><![CDATA[رسوم]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی نظام]]></category>
		<category><![CDATA[شادی]]></category>
		<category><![CDATA[کم عمری کی شادی]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13496</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ایک ایسا معاشرہ جہاں آدھی آبادی پڑھی لِکھی نہ ہو، چالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو، جہاں نوجوانوں میں سیاسی و سماجی شعور نہ ہو، جہاں عورتوں کو جائیداد میں حصہ دینے کی بجائے جائیداد سمجھا جاتا ہو، وہاں کم عمری میں بچوں خاص طور پر لڑکیوں کی شادیاں کر دینا کوئی عجب بات نہیں ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%9b-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%a7%d8%ab%d8%b1%d8%a7%d8%aa/">کم عمری کی شادی؛ اسباب و اثرات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">ایک ایسا معاشرہ جہاں آدھی آبادی پڑھی لِکھی نہ ہو، چالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو، جہاں نوجوانوں میں سیاسی و سماجی شعور نہ ہو، جہاں عورتوں کو جائیداد میں حصہ دینے کی بجائے جائیداد سمجھا جاتا ہو، وہاں کم عمری میں بچوں خاص طور پر لڑکیوں کی شادیاں کر دینا کوئی عجب بات نہیں ہے۔ کم عمری میں بچوں کو شادی جیسے بندھن میں باندھنا جِسے نبھانے کے لیے ذہنی بالیدگی، فریقین کی ذہنی و جذباتی ہم آہنگی ضروری ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔ کم عمری کی شادی محض دو افراد یا خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے شدید متاثر ہوتی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نابالغ بچے جو اپنے لیے ووٹ نہیں ڈال سکتے، ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنوا سکتے اور سگریٹ نہیں خرید سکتے ان کی شادی کیسے کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے معاشرے میں کم سنی کی شادی کا مسئلہ موجود ہے اور روزمرہ معمول کا حصہ ہے۔ اس کے اسباب سماجی بھی ہیں اور مذہبی بھی، المیہ یہ ہے کہ اس حوالے سے موجود قوانین کے نفاذ میں کوئی سنجیدہ نہیں۔<br>
سماجی اسباب</div>
<div class="leftpullquote">پنجاب کے بعض علاقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ زیادہ تعلیم یافتہ لڑکیاں اچھی اور فرمانبردار بیویاں نہیں بن سکتیں اِس لیے اِبتدائی تعلیم کے بعد کم عمری میں ہی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">روایات، اقدار اور رسوم ایسے تصورات کا مجموعہ ہیں جو سماجی نظام چلانے کے لیے قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کئی ایسی فرسودہ روایات موجود ہیں جو بچوں کی کم عمری میں شادی کا باعث بنتی ہیں؛ مثلاً بیٹی کو ذمہ داری یا بوجھ سمجھنا، عزت کو عورت کی جنسی زندگی سے جوڑے جانا وغیرہ۔ شادی بیاہ کے معاملات ہمارے ہاں دوافراد کی جذباتی وابستگی کی بجائے سماجی، سیاسی اور معاشی محرکات کے تحت نپٹائے جاتے ہیں۔ تنازعات کے حل یا تعلقات کی مضبوطی کے لیے بھی شادی بیاہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں جب عمائدین کِسی قتل کا فیصلہ کرتے ہیں تو مقتول کے ورثاء کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمیں قاتِل سے خون بہا میں اِتنی زمین اور اِتنی لڑکیاں چا ہیئے ہیں جِسے عام طور پر بانہہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِس طرح کے فیصلوں کا شکار بننے والی زیادہ تر لڑکیاں کم عمر ہوتی ہیں اور انہیں فیصلے کے کچھ ہی دِن بعد مقتول کے لواحِقین بانہہ کے طور پر اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ انہیں پھر مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہاں تک کے وہ ذ ہنی اور نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں۔ صوبہ سندھ اور پنجاب میں وٹہ سٹہ کا روایتی نظام بھی اِیسا ہی ہے۔ ونی، سوارا اور وٹے سٹےجیسی رسموں کا شکار بھی زیادہ تر کم عمر لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔ وٹہ سٹہ دو خاندانوں کے درمیان مبادلے (چیز کے بدلے چیز) جیسا ہی ایک معاہدہ ہے جِس میں ایک خاندان کی لرکی کے بدلے دوسرا خاندان بھی لڑکی دینے کا پابند ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ پنجاب کے بعض علاقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ زیادہ تعلیم یافتہ لڑکیاں اچھی اور فرمانبردار بیویاں نہیں بن سکتیں اِس لیے اِبتدائی تعلیم کے بعد کم عمری میں ہی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔ عورت کو اس کی عمر اور شکل و صورت کی بنیاد پر اہمیت دینے کی وجہ سے بھی جلد شادی کی جاتی ہے کیوں کہ لڑکی جتنی کم عمر اور جتنی خوش شکل ہو گی اس کے لیے اتنے ہی زیادہ موزوں رشتے دستیاب ہوں گے۔</div>
<div class="leftpullquote">یہ سمجھے بغیر کے مذاہب نے مخصوص سماجی حالات میں کم عمری کی شادی کا جواز پیش کیا تھا جو آج قابل اطلاق نہیں، بہت سے افراد آج بھی کم عمری کی شادی کو مذہبی بنیادوں پر درست بلکہ لازمی سمجھتے ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>معاشی اسباب:</strong><br>
کسی بھی خاندان کی روزمرہ زندگی مناسب طریقے سے چلانے کے لیے مضبوط معیشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لڑکیوں کی شادیاں اِس وجہ سے بھی کم عمری میں کردی جاتی ہیں کہ چونکہ لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال چلی جائے گی سو کم از کم گھر میں ایک فرد تو کم ہو جائے گا۔ اِس طرح اس کی تعلیم، خوراک، کپڑے جیسی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں جو روپیہ لگنا ہو تا ہے وہ بھی بچ جائے گا۔ کچھ غریب گھرانے اِس وجہ سے کم عمری میں لڑکیوں کی شادیاں معاشی لحاظ سے اپنے سے بہتر گھرانے میں کرتے ہیں کہ وہ وہاں جا کے اچھی معاشی زندگی گزا ر پائیں گی۔ ملازمت پیشہ اور تعلیم یافتہ خواتین سے متعلق مشہور مفروضوں کی وجہ سے اکثر لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان کے لیے کسی پیشے سے وابستگی معیوب سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں کے لیے واحد کامیابی جلدازجلد شادی اور سسرال میں نیک نامی ہی سمجھی جاتی ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>مذہبی اسباب:</strong><br>
دنیا کے بیشتر مذاہب کم سنی کی شادی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کے مذاہب نے مخصوص سماجی حالات میں کم عمری کی شادی کا جواز پیش کیا تھا جو آج قابل اطلاق نہیں، بہت سے افراد آج بھی کم عمری کی شادی کو مذہبی بنیادوں پر درست بلکہ لازمی سمجھتے ہیں۔ اسلام میں بھی حضرت عاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی سے متعلق پائے جانے والای روایات کی بناء پر علماء کم سنی کی شادی کو حلال سمجھتے ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>اثرات:</strong><br>
کم عمر میں بیاہی جانے والی اکثر لڑکیاں اپنا بچپن پوری طرح سے نہیں گزار پاتیں جو بہت سی نفسیاتی اور جذباتی الجھنوں کا باعث بنتا ہے۔ شادی کے بعد فوراً ماں بننے کا دباو بھی کم عمر لڑکیوں میں زچگی کے دوران زیادہ اموات کی وجہ ہے۔ کم عمر لڑکیوں کے حمل کے دوران مرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسی لڑکی کے لیے جسے جسمانی نشوونما مکمل ہونے سے پہلے ماں بننے پر مجبور کیا جاتا ہے کے لیے حمل کا جسمانی اور نفسیاتی دباو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>تدارک:</strong><br>
اِس سماجی مسئلےکا حل تعلیم سے ممکن ہے۔ معاشرے میں عورت سے متعلق پائے جانے والے عام تصورات تبدیل کیے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی زیادہ سے زیادہ تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔ کیونکہ بیشتر لوگ اپنی بیٹیوں کو گھر سے دور تعلیم کے سلسلے میں بھیجنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ کم عمری کی شادی کے تدارک کے لیے شادی کے لیے کم سے کم حد سے متعلق قوانین کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ خصوصاً نکاح خواں حضرات کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ لڑکے اور لڑکی کے شناختی کارڈ یا پیدائش کی معلومات کی تصدیق کیے بغیر نکاح نہ پڑھائیں۔ مذہبی تشریحات میں اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ لوگوں کو کم عمری میں شادی کو مذہبی فرضہ سمجھنے کے مغالطے سے نکالا جا سکے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%9b-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%a7%d8%ab%d8%b1%d8%a7%d8%aa/">کم عمری کی شادی؛ اسباب و اثرات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%9b-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%a7%d8%ab%d8%b1%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
