<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سقط ڈھاکہ Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%B3%D9%82%D8%B7-%DA%88%DA%BE%D8%A7%DA%A9%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/سقط-ڈھاکہ/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 16:57:04 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>سقط ڈھاکہ Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/سقط-ڈھاکہ/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ہم اپنے ہی دشمن</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%db%8c-%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%db%8c-%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نردوش اوڈھانو]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 22 Dec 2015 21:39:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Army Public School (APS) Peshawar]]></category>
		<category><![CDATA[fall of dhaka]]></category>
		<category><![CDATA[Monument of Interrupted Flight]]></category>
		<category><![CDATA[Peshawar Attack]]></category>
		<category><![CDATA[Second World War]]></category>
		<category><![CDATA[دوسری جنگ عظیم]]></category>
		<category><![CDATA[سانحہ پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[سقط ڈھاکہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14184</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں،کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%db%8c-%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86/">ہم اپنے ہی دشمن</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">ہر مجسمے ،تصویر، اور تاریخ کے پیچھے ایک کہانی پنہاں ہوتی ہے۔ ایسی ہی کچھ تصاویر، مجسمے اور تواریخ میرے ذہن میں گردش کرتے ہیں جب وحشت کی، جنونیت کی، نفرت کی، دہشت کی، خوف اور خون کی بات آتی ہے۔ اگر ایک طرف انسانی تاریخ جرات، بہادری اور ذہانت کے کارناموں سے بھری پڑی ہے تو دوسری طرف یہ کروڑوں انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی بھی ہے۔ اس میں محبت کی مہک ہے تو نفرت کے شرارے بھی ہیں۔ شاید وجود کی بنیاد ہی تضاد ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ایک طرف انسانی تاریخ جرات، بہادری اور ذہانت کے کارناموں سے بھری ہے تو دوسری طرف یہ کروڑوں انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی بھی ہے۔ اس میں محبت کی مہک ہے تو نفرت کے شرارے بھی ہیں۔</div>
<div class="urdutext">تاریخ میں یہ پہلی بارنہیں ہے کہ معصوم انسانوں کو خاص کر طلبہ کو جارحیت پسندوں نے اپنے نظریاتی، سیاسی، معاشی یا اختیاراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے موت کے گھاٹ اتاردیا ہو، ایسا پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے! اگر آپ کی یادداشت کمزور پڑ رہی ہے تو میں آپ کو یاد دلاتا ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">21اکتوبر 1941 کو دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن فوجوں نے سربیا کے شہر کراگوئیواچ کا گھیراو کیا اور 5000 ہزار سے زائد لوگوں کو موت کے دلدل میں ہمیشہ کے لیے دھکیل دیا۔ اگر بات طلبہ کی ہے تو یہاں یہ بتانا ضروری ہو جاتا ہے کہ جرمن فوجوں نے شہر کے اسکولوں سے طلبہ کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور گولیوں سے چھلنی کردیا۔۔ ان بچاروں کو کیا خبر تھی کہ ان کی زندگی اس طرح رک جائے گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سوال یہ ہے کہ ہٹلر نے یورپی ملک سربیا کے شہر کراگوئیواچ کو ہی کیوں اپنی وحشت کا نشانہ بنایا؟ تاریخ کے اوراق میں اس کا جواب یوں درج ہے کہ سربیا یورپ کا وہ پہلا ملک تھا جہاں نازی جرمنی کی مداخلت کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت کی گئی تھی۔ ہٹلر کو یہ بات گوارا نہ گزری اور اس نے اپنے جنرل کیٹل کو حکم دیا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ہٹلر کو یہ بات گوارا نہ گزری اور اس نے اپنے جنرل کیٹل کو حکم دیا<br>
“اس جنگ میں اگر ایک جرمن فوجی زخمی ہوتا ہے تو ان کے 50 شہری مارو اور اگر ایک فوجی مرتا ہے تو ان کے 100 شہری مارو”۔</div>
<div class="urdutext">“اس جنگ میں اگر ایک جرمن فوجی زخمی ہوتا ہے تو ان کے 50 شہری مارو اور اگر ایک فوجی مرتا ہے تو ان کے 100 شہری مارو”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہٹلر کے حکم کی تعمیل ہوئی اور سربیا کے شہر انسانی وحشت کی مثال بن گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کراگوئیواچ میں آج بھی اس دن کے حوالے سے کئی مجسمے کئی تصاویر موجود ہیں جن میں سے پرندے کے پروں کی مانند بنا ہوا ایک سفید مجسمہ ہے جو اس سانحہ میں مارے جانے والے تمام اساتذہ اور طلبہ کی یاد تازہ کردیتا ہے۔ اسے مونیومینٹ آف انٹررپٹڈ فلائیٹ (Monument of Interrupted Flight)کہتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سربین شاعرہ Desanka Maksimović نے اس منظر کو اپنی نظم میں یوں قید کرلیا تھا۔</div>
<p>It was in a land of peasants<br>
In the mountainous Balkans,<br>
A company of schoolchildren<br>
Died a martyr’s death<br>
In one day.<br>
They were all born<br>
In the same year<br>
Their school days passed the same<br>
Taken together<br>
To the same festivities,<br>
Vaccinated against the same diseases,<br>
And all died on the same day.<br>
It was in a land of peasants<br>
In the mountainous Balkans,<br>
A company of schoolchildren<br>
Died a martyr’s death<br>
In one day.<br>
And fifty-five minutes<br>
Before the moment of death<br>
The company of small ones<br>
Sat at its desk<br>
And the same difficult assignments<br>
They solved: how far can a<br>
traveler go if he is on foot…<br>
And so on.<br>
Their thoughts were full<br>
of the same numbers<br>
and throughout their notebooks in school bags<br>
lay an infinite number<br>
of senseless A’s and F’s.<br>
A pile of the same dreams<br>
and the same secrets<br>
patriotic and romantic<br>
they clenched in the depths of their pockets.<br>
and it seemed to everyone<br>
that they will run<br>
for a long time beneath the blue arch<br>
until all the assignments in the world<br>
are completed.<br>
It was in a land of peasants<br>
in the mountainous Balkans,<br>
a company of small ones<br>
died a martyr’s death<br>
in one day.<br>
Whole rows of boys<br>
took each other by the hand<br>
and from their last class<br>
went peacefully to slaughter<br>
as if death was nothing.<br>
Whole lines of friends<br>
ascended at the same moment<br>
to their eternal residence.</p>
<div class="urdutext">25 مارچ 1971 یہ تاریخ تو آ پ نہیں بھولے ہوں گے کیونکہ اس تاریخ پر جو خون کے چھینٹے لگے ہیں وہ ہماری ہی گولیوں نے اڑائے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ جنگ ایک ہی گھر کے اراکین میں چھڑی تھی۔ مشرقی پاکستان جو مغربی پاکستان کی برتاو سے تنگ آ کر بٹوارا چاہتا تھا اور مغربی پاکستان کے اراکین کو یہ گستاخی قبول نہ تھی اور انہوں نے جنگ کا اعلان کردیا۔ یہ ذوالفقار علی بٹھو اور جنرل یحیٰی خان کی ملی بھگت تھی جسے آپریشن سرچ لائیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔<br>
جگن ناتھ ہال سے گزرنے پر ممکن ہے کہ آپ کو ان بھاگتے دوڑتے طلبہ کے عکس دکھائی دیں یا پھر آپ کو ان کی چیخیں سنائی دیں!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں،کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا</div>
<div class="urdutext">اگر ہم دوسروں کو دہشت گرد، قاتل، جاریت پسند کہتے ہیں تو ہمارے ہاتھ بھی تو انسانی خون سے رنگے ہیں جنہیں ہم نے اب تک نہیں دھویا!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">16دسمبر2014کو جب آرمی پبلک اسکول پشاور میں کسی کلاس میں بچے ہم آواز ہوکر کوئی نظم پڑھ رہے تھے، کسی کلاس میں انسان اشرف المخلوق ہیں کے موضوع پر مضمون لکھ رہے تھے تو اچانک چند انسانوں نے ایسی چال چلی کہ ان کے مضمون کے سارے الفاظ پھیکے پڑ گئے۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں، اساتذہ اور جو بھی ان کے سامنے آیا سب کو اپنی جنونیت کا نشانہ بنایا!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاریخ خون کے دھبوں سے داغدار ہے۔ ہماری یادداشت تھوڑی کمزور ہے، ہم سب بھول جاتے ہیں، جیسے ہم بہت سی تواریخ اور سانحے بھول چکے ہیں ویسے ہی گزرتے وقت کے ساتھ یہ زخم بھی شاید بھر جائیں اور یہ درد جو ہماری رگوں میں آج ہمدردی کی حرارت پیدا کرتا ہے اور جس کی وجہ سے آ ج ہم اس سانحےکو یاد رکھنے کے لیےنعمے لکھتے ہیں گاتے ہیں یہ حرارت کب تک رہے گی؟؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم نے پہلے بھی کئی عزم کیے تھے، آج بھی ہم دشمنوں کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کرتے ہیں لیکن ہمارے تمام عزم وقتی ہیں اور زیادہ تر جذبات پر مبنی ہیں۔ اگرہمیں عزم کرنا ہی ہے تو ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو پاکستانی، ہندوستانی، امریکی، افغانی، ہندو، مسلمان، عیسائی، سندھی، پنجابی، پٹھان، کالا، گورا، امیر، غریب ہونے کے درس کو بھلا کر انسانیت کا درس دیں گے! کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں، کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا!! ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو سوچتے ہیں کہ سبھی انسان ان کی طرح سوچیں، ان کے خیالات پر لبیک کہیں اور زندگی ان کے بتائے اسلوب سے گزاریں لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ تنوع، گوناگونی اک حقیقت ہے اور ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے۔<br>
جب تک ہم اپنے آج کو نہیں بدلیں گے تب تک ہمارا کل اسی طرح بلکتا، سسکتا، اور وحشت زدہ رہے گا!</div>
<p>Image: Guernica by Picasso</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%db%8c-%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86/">ہم اپنے ہی دشمن</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%db%8c-%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
