<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>رپورٹ Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%B1%D9%BE%D9%88%D8%B1%D9%B9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/رپورٹ/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 15:00:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>رپورٹ Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/رپورٹ/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>یمنی خانہ جنگی  کے خاتمے کا ایک سنہری موقع</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%85%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d9%86%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%88/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%85%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d9%86%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نصیر جسکانی]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2015 10:25:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایمنسٹی انٹرنیشنل]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی قبائل]]></category>
		<category><![CDATA[خانہ جنگی]]></category>
		<category><![CDATA[رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[وزیراعظم]]></category>
		<category><![CDATA[یمن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13059</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">یمن  میں  جاری خانہ جنگی اور سعودی اتحاد یوں کے طرف سے  یمن پر مسلط  کردہ  جنگ  کے خاتمے  کی طرف ایک  مثبت پیش رفت نظر عمان  میں   روس کے تعاون سے  ہونے والے معاہدے   کی صورت میں سامنے آئی جسے  یمنی حوثیوں  اور سابق صدر عبداللہ صالح  نے مشروط   طور پر قبول کرنے   پر رضا مندی  ظاہر کی ہے۔  </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%8c%d9%85%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d9%86%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%88/">یمنی خانہ جنگی  کے خاتمے کا ایک سنہری موقع</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">یمن میں جاری خانہ جنگی اور سعودی اتحاد یوں کے طرف سے یمن پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کی طرف ایک مثبت پیش رفت نظر عمان میں روس کے تعاون سے ہونے والے معاہدے کی صورت میں سامنے آئی جسے یمنی حوثیوں اور سابق صدر عبداللہ صالح نے مشروط طور پر قبول کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ عمان امن منصوبے میں طے پایا تھا کہ کس طرح یمن میں جاری جنگ کو روکا جا سکتا ہے اور کس طرح وہاں سیاسی عمل کی داغ بیل ڈالی جا سکتی ہے۔ عمان میں ہونے والے امن منصوبے کو ایران اور سعودی عرب کا تعاون بھی حاصل تھا تاکہ بات چیت کے ذریعے یمن میں جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ عمان کی سربراہی اور روسی حکومت کے تعاون سے ہونے والے امن منصوبے کے سات بنیادی نکات پراتفاق ہوا تھا :<br>
1۔ یمن کے شہری علاقوں سے حوثی جنگ جو اور سابق صدر عبداللہ صالح کی وفادار فوج نکل کر جنگ سے پہلے والی حالت پر واپسی<br>
2۔ مفرور صدر منصور ہادی اور خالد بحاح کی حکومت کی بحالی<br>
3۔پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا فوری انعقاد<br>
4۔ تمام یمنی سیاسی جماعتوں کے درمیان مشترکہ معاہدہ پر دستخط<br>
5۔ انصاراللہ تحریک کو ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کرنا<br>
6۔ تمام عطیہ کنندگان کی یمن کی تعمیر نو کے لیے امدادی کانفرنس میں شرکت<br>
7۔ یمن کی خلیجی تعاون کونسل میں شمولیت</div>
<div class="leftpullquote">حوثی قبائل نے اقوام متحدہ کے موثر کردار کو یقینی بنائے بغیر سات نکاتی امن منصوبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، وہ اپنے مقبوضہ شہری علاقوں سے اقوام متحدہ کی موثر نگرانی کے بغیر نکلنے پر تیار نہیں تھے</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حوثی قبائل نے اقوام متحدہ کے موثر کردار کو یقینی بنائے بغیر سات نکاتی امن منصوبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، وہ اپنے مقبوضہ شہری علاقوں سے اقوام متحدہ کی موثر نگرانی کے بغیر نکلنے پر تیار نہیں تھے۔ حوثی اس معاہدے میں اقوام متحدہ کے کردار کو زیادہ موثر اور فعال بنانے پر مصر تھے۔عمان امن منصوبے کو کئی ماہ گزرنے کے بعد بالاآخر حوثی قبائل اور سابق صدر عبداللہ صالح نے مشروط طور پراس منصوبے کو قبول کرنےپر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ سباء (یمنی نیوز ایجنسی) کی رپورٹ کے مطابق انصار اللہ موومنٹ کے ترجمان عبدالسلام نے اپنے حالیہ بیان میں عمان میں طے پانے والے سات نکاتی ایجنڈے پر اپنی مشروط آمادگی کا اظہار ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ یاد رہے کہ یمنی صدر اور وزیراعظم اپنی پوری کابینہ کے ساتھ جنوری میں شدید عوامی ردعمل کے سامنے حکومت سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں، جبکہ اس وقت کی اسمبلی نے وزیراعظم اور اسکی کابینہ کے استعفے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔</div>
<div class="leftpullquote">ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی اور اس کے عرب اتحادیوں کو اسلحے کی فراہمی فوری طور پر بند کریں تاکہ یمن میں انسانی جانوں کے ضیاع کو ممکن حد تک روکا جا سکے۔</div>
<div class="urdutext">موجودہ صورت حال کے تناظر میں اس پیش کش کےجواب میں دیکھنا یہ ہے کہ یمن کے مفرور صدر اور مستعفی وزیر اعظم خالد بحاح کس طرح کا ردعمل دیتے ہیں۔ اس سے پہلے مفرور صدر یمن پر سعودی عرب اور اس کےاتحادیوں کے فوجی حملوں کی مسلسل تائید کرتے آئے ہیں اور امن عمل پر کوئی خاص آمادگی ظاہر کرتے ہوئے نظر نہیں آتے تھے۔<br>
خطے کی پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر حوثیوں کی امن عمل پر رضا مندی ایک انتہائی مثبت پیش رفت نظر آ رہی ہے ۔ اس حوالے سے عالمی برادری بالخصوص عرب قیادت کو متوجہ ہونے کی اشد ضرورت ہےتاکہ جنگ زدہ عرب ملک یمن میں امن قائم ہوسکے۔ دوسری طرف ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی اور اس کے عرب اتحادیوں کو اسلحے کی فراہمی فوری طور پر بند کریں تاکہ یمن میں انسانی جانوں کے ضیاع کو ممکن حد تک روکا جا سکے۔ اب تک کے اعدادو شمار کے مطابق 5000 کے لگ بھگ افراد اس جنگ میں لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہزاروں افراد ادویات کی شدید قلت کے سبب زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یمن میں امن قائم ہونے کی صورت میں اس کے مثبت اثرات پوری عرب دنیا پر پڑیں گے اور اس سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔اس سے یمنی قوم اپنی توجہ یمن کی تعمیرو ترقی، سیاسی عمل کی پائیداری اور القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے خاتمے پر مرکوز کر سکے گی تاکہ یمنی سرزمین سے دہشت گردی کاقلع قمع کیا جا سکے۔ یمن جیسا غریب ملک اور اس کے پسماندہ عوام اس خونی ریزی کے سلسلے کو زیادہ دیر برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کے عمل سے اس مسئلے کا سیاسی راہ حل تلاش کرنے پر اکٹھے ہو جائیں ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%8c%d9%85%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d9%86%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%88/">یمنی خانہ جنگی  کے خاتمے کا ایک سنہری موقع</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%85%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d9%86%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے والے طلبہ ڈگری مکمل کرنے میں ناکام</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2015 11:26:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس ٹریبون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈگری]]></category>
		<category><![CDATA[رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[م بیرون ملک]]></category>
		<category><![CDATA[ہائیر ایجوکیشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12959</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ہائیر ایجوکیشن کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق وظیفہ لے کر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے والے 177 طلبہ اپنی ڈگریاں مکمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔  </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b7/">اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے والے طلبہ ڈگری مکمل کرنے میں ناکام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/08/campus-talks1.png"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-2001" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/08/campus-talks1.png" alt="campus-talks" width="600" height="207" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/08/campus-talks1.png 600w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/08/campus-talks1-300x103.png 300w" sizes="(max-width: 600px) 100vw, 600px"></a></p>
<div class="urdutext">ہائیر ایجوکیشن کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق وظیفہ لے کر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے والے 177 طلبہ اپنی ڈگریاں مکمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایچ ای سی کے مطابق وظیفہ پا کر پی ایچ ڈی اور ایم فل کے لیے باہر جانے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد مختلف وجوہ کی بناء پراپنی ڈگریاں مکمل نہیں کر پائی جبکہ 110 طلبہ ڈگری مکمل کرکے وطن واپس لوٹنے سے انکاری ہیں۔ ایچ ای سی کا ہیومن ریسرچ ڈیپارٹمنٹ “اوورسیز سکالرشپ” کا سلسلہ 2003 سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ وظیفے کے لیے منتخب کیے جانے والے طلبہ کو ڈگری مکمل ہونے کے بعد چھ برس کے لیے سرکاری نوکری کا پابند کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض طلبہ مقررہ وقت کے دوران اپنی ڈگریاں مکمل کرنے میں ناکام رہے ہیں یا انہوں نے وطن واپس آنے سے انکار کر دیا ہے۔<br>
تفصیلات کے مطابق ایچ ای سی اب تک 7537 طلبہ کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا ہے جن میں سے 37 کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ ایچ ای سی کے ایک رکن غلام رضا بھٹی کا کہنا ہے کہ کمیشن چارسو کے قریب ایسے طلبہ کے خلاف عدالت سے رجوع کر چکا ہے۔ باہرے بھیجے گئے طلبہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت ایچ ای سی کے سربراہ خلاف ورزی کی صورت میں وظیفے کا 25 فی صد جرمانہ کرنے یا وظیفہ منسوخ کرنے کی سزا سنا سکتا ہے۔ چیئر مین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ طلبہ کا انتخاب اہلیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔<br>
امگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق وظیفے پر بیرون ملک بھجوائے گئے طلبہ کی ذہنی استعداد اور قابلیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بہت سے ایسے معاملات میں طلبہ کے سپروائزرز کی جانب سے طلبہ کی ڈگریوں پر اعتراضات اٹھائےگئے ہیں۔ 108 طلبہ خراب کارکردگی کے باعث اپنی ڈگریاں مکمل نہیں کر سکے۔ بیرون ملک سے واپس آنے سے انکار کرنے والے طلبہ سے رقم کی وصولی بھی ممکن نہیں بنائی جا سکی۔ اکاونٹنٹ جنرل آف پاکستان کی 2013 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق 13 کروڑ 60 لاکھ کی رقم بیرون ملک جانے والے طلبہ سے وصول نہیں کی جا سکی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b7/">اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے والے طلبہ ڈگری مکمل کرنے میں ناکام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شخصی آزادی پرعسکری شب خون — اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%ae%d8%b5%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%b9%d8%b3%da%a9%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%a8-%d8%ae%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%ae%d8%b5%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%b9%d8%b3%da%a9%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%a8-%d8%ae%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 23 Jul 2015 11:02:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[privacy]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شخصی آزادی]]></category>
		<category><![CDATA[فوجی قیادت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11907</guid>

					<description><![CDATA[<p>پاکستان میں شہریوں، سیاستدانوں اور عدالت عالیہ کے ججوں کی غیر قانونی نگرانی کا انکشاف ملک میں شخصی آزادی کو درپیش خطرات کی محض ایک جھلک ہے۔ انٹرنیٹ امور پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم پرائیویسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی خفیہ ادارے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور ملک [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%ae%d8%b5%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%b9%d8%b3%da%a9%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%a8-%d8%ae%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/">شخصی آزادی پرعسکری شب خون — اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پاکستان میں شہریوں، سیاستدانوں اور عدالت عالیہ کے ججوں کی غیر قانونی نگرانی کا انکشاف ملک میں شخصی آزادی کو درپیش خطرات کی محض ایک جھلک ہے۔ انٹرنیٹ امور پر نظر رکھنے والی <a href="https://www.privacyinternational.org/sites/default/files/PAKISTAN%20REPORT%20HIGH%20RES%2020150721_0.pdf" target="_blank" rel="noopener">برطانوی تنظیم پرائیویسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ</a> کے مطابق پاکستانی خفیہ ادارے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور ملک کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر اپنے شہریوں کی معلومات اور رابطوں کی تفصیلات تک رسائی کی اپنی صلاحیت کو بڑھا رہے ہیں۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے 2005 سے پاکستانی شہریوں، سیاسی رہنماوں اور فاضل جج حضرات کی نگرانی میں ملوث ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی جانب سےنگرانی کی صلاحیت میں اضافے اور آن لائن نگرانی کے جابرانہ قوانین متعارف کرانے کی بڑے پیمانے پر کوشش پاکستان میں شخصی آزادیوں کے خاتمے اور ایک سخت گیر نگران نظام کے قیام کا پیش خیمہ ہے۔</div>
<div class="urdutext">رپورٹ کے مندرجات پاکستان میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں شخصی آزادی محدود کیے جانے کے خدشات بڑھانے کے لیے کافی ہیں۔ عسکری اداروں کااپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے آئین میں درج شدہ بنیادی حقوق اور آزادیاں سلب کرنا پاکستان میں فوجی قیادت کے سیاسی اثرورسوخ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ سول اداروں کی بالادستی اور عدالتوں کے سامنے جوابدہی کے بغیر تحفظ پاکستان ایکٹ، فوجی عدالتوں کے قیام اور مجوزہ سائبرکرائم بل کے ذریعے عسکری اداروں کو مل جانے والے اختیارات خود ریاست کے آئین اور سیاسی نظام کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی نگرانی سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اس ملک میں عسکری و سیکیورٹی اداروں کی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کا کوئی نظام موجود نہیں اور نگرانی کی صلاحیتیں صرف فوجی نقطہ نظر سے استعمال کی جارہی ہیں۔ جواب طلبی کا نظام نہ ہونے سے انٹرنیٹ اور مواصلات کے ذرائع کی نگرانی کے دوران شخصی آزادیوں کے مجروح ہونے کے واضح شواہد اورمستقبل میں اس عمل کے جاری رہنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی جانب سےنگرانی کی صلاحیت میں اضافے اور آن لائن نگرانی کے جابرانہ قوانین متعارف کرانے کی بڑے پیمانے پر کوشش پاکستان میں شخصی آزادیوں کے خاتمے اور ایک سخت گیر نگران نظام کے قیام کا پیش خیمہ ہے۔ سول اور عدالتی جواب طلبی کا نظام قائم کیے بغیر سیکیورٹی اداروں کی شہریوں کی نگرانی کرنے کی صلاحیت اور اختیارات میں اضافہ ریاستی اداروں پر تنقید کی روک تھام کے لیےشہری آزادیوں پر قدغنیں لگانے کا باعث بنے گا۔اگرچہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے عفریت کو نکیل ڈالنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کے اختیارات اور وسائل میں اضافہ اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے قانونی پشت پناہی ضروری ہے لیکن ان اختیارات کے غلط استعمال اور اپنی متعین کردہ حدود سے تجاوز کی صورت میں جوابدہی اور احتساب کے نظام کی عدم موجودگی خطرناک ہے۔ ماضی میں سیکیورٹی اداروں کو ملنے والے خصوصی اختیارات سیاسی قیادت، انسانی حقوق کے کارکنان اور قوم پرست جماعتوں کے خلاف بے دریغ استعمال کرنے کے واقعات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سیاستدانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ججوں کی نگرانی اس بات کا ثبوت ہے کہ آئی ایس آئی فوجی قیادت کےزیر اثر ہونے کی وجہ سے عسکری اداروں کے سیاسی ایجنڈے کے تحت بھی کام کررہی ہے۔ عدالت عالیہ میں آئی ایس آئی کی جانب سے جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق شہریوں کے فون ٹیپ کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ تاہم اس حوالے سے وفاقی حکومت اور خفیہ ادارے اپنا موقف واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ شہریوں کی ذاتی معلومات تک رسائی کا حکم کس مجاز صاحب اختیار نے کس قاعدے اور قانون کے تحت دیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سیاستدانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ججوں کی نگرانی اس بات کا ثبوت ہے کہ آئی ایس آئی فوجی قیادت کےزیر اثر ہونے کی وجہ سے عسکری اداروں کے سیاسی ایجنڈے کے تحت بھی کام کررہی ہے۔</div>
<div class="urdutext">موجودہ قوانین، عدلیہ اور منتخب جمہوری نمائندے پاکستانی شہریوں کی شخصی آزادی کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شہریوں اور منتخب عوامی نمائندوں کی نگرانی کا عمل ملکی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے علاوہ ریاست کے قیام اوراستحکام کے لیے درکار عمرانی معاہدے کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔سیکیورٹی اداروں کے طرز عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے نزدیک پاکستان کی سالمیت، بقاء اور استحکام کے لیے فیصلہ سازی عوم اور ان کے منتخب نمائندوں کی بجائے صرف عسکری قیادت کا استحقاق ہے۔ ایک فعال سول سوسائٹی، ریاستی سطح پر شخصی آزادی کے تحفظ سے دانستہ غفلت اور کم زور سیاسی و سول اداروں کی وجہ سے پاکستان میں عسکری اداروں کی بالادستی مزید مستحکم ہو چکی ہے۔ سول ادارے، سیاسی قیادت اور انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیمیں ریاستی معاملات پر اپنی گرفت کھو چکی ہیں جس کے باعث شہری حقوق کے تحفظ کی آئینی ضمانت محض ایک کتابی بات بن کر رہ گئی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">عسکری اداروں کے طرزعمل سے یہ احساس پختہ ہوتا ہے کہ فوجی قیادت اپنے ہی شہریوں، عوام کے منتخب نمائندوں اور عدلیہ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کی اس روش سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے اپنے نقطہ نظر کےتحت سول اداروں ، سیاسی معاملات اور بنیادی شہری آزادیوں میں مداخلت کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ اس مقصد کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ یہ اقدام شخصی آزادی پر اپنی ہی ریاست اور اپنی ہی فوج کے ہاتھوں شب خون کے مترادف ہے۔ ایسے میں شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ریاست ، آئین، عدلیہ اور جمہوریت اپنے ہی اداروں کے ہاتھوں شخصی آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی روکنے میں ناکام ہیں تو انہیں کیا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><center><br>
<a href="https://www.privacyinternational.org/sites/default/files/PAKISTAN%20REPORT%20HIGH%20RES%2020150721_0.pdf" target="_blank" rel="noopener"><strong>برطانوی تنظیم پرائیویسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ</strong></a></center></div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[embeddoc url=“www.privacyinternational.org/sites/default/files/PAKISTAN%20REPORT%20HIGH%20RES%2020150721_0.pdf” height=“1202px”]</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%ae%d8%b5%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%b9%d8%b3%da%a9%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%a8-%d8%ae%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/">شخصی آزادی پرعسکری شب خون — اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%ae%d8%b5%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%b9%d8%b3%da%a9%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%a8-%d8%ae%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>احتجاجی مظاہروں کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان بند</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d9%81-%d8%a8%d9%84/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d9%81-%d8%a8%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 18 Jun 2015 06:27:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ]]></category>
		<category><![CDATA[یونیورسٹی آف بلوچستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11542</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ  کی بدعنوانیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج  شدت اختیار کر گیا ہے جس کے بعد ہفتہ 13 جون 2015 سے یونیورسٹی بند ہو چکی  ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d9%81-%d8%a8%d9%84/">احتجاجی مظاہروں کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان بند</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/08/campus-talks1.png"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-2001" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/08/campus-talks1.png" alt="campus-talks" width="600" height="207" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/08/campus-talks1.png 600w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/08/campus-talks1-300x103.png 300w" sizes="(max-width: 600px) 100vw, 600px"></a></p>
<div class="urdutext">بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے جس کے بعد ہفتہ 13 جون 2015 سے یونیورسٹی بند ہو چکی ہے۔ طلبہ تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری رکھنے کے کے ساتھ تدریسی سرگرمیوں کے سہ روزہ بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی بدعنوانی پر طلبہ ایک ماہ سے احتجاج کررہے ہیں تاہم اس احتجاج میں شدت اس وقت آئی جب 12 جون کو ایم ایڈ کے امتحان کے دوران یونیورسٹی آف بلوچستان کے مرد اہلکاروں نے مبینہ طور پرایک طالبہ کی تلاشی لی۔ واقعہ کی خبر ملتے ہی مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے ایڈمنسٹریشن بلاک کے باہر احتجاج شروع کردیا جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سیکیورٹی اداروں کی سے مدد طلب کی۔<br>
آن لائن جریدے دی بلوچستان پوائنٹ میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چار ج کا نشانہ بنایا اور ہوائی فائرنگ کی۔طلبہ نے بعد ازاں سریاب روڈ پر احتجاج کیا اور ٹریفک کی آمدورفت معطل کر دی۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے حالات خراب ہونے کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈالی ہے جبکہ یونیورسٹی وائس چانسلر کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے لاٹھی چارج طلبہ کی طرف سے ایڈمنسٹریشن بلاک میں داخل ہونے کی کوشش کے بعد کیا گیا ہے۔طلبہ کی جانب سے 12 جون کے واقعے کے ردعمل میں تین روز تک تدریسی سرگرمیوں کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا گیا۔ ہفتہ کے روز ہونے والے طلبہ تنظیموں کے مشترکہ اجلاس کے دوران وائس چانسلر ، کنٹرولر اور ڈپٹی کنٹرولا امتحانات کی برخواستگی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وائس چانسلر نے طلبہ کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وی سی ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق احتجاج تب شروع ہوا جب ایک طالبہ کو نقل کرنے سے روکا گیا۔ انہوں نے طالبہ کی جامہ تلاشی کے الزام کو سختی سے مسترد کردیا۔ احتجاجی طلبہ کے مطابق معاملہ محض طالبہ کی جامہ تلاشی کا نہیں بلکہ یونیورسٹی میں جاری بدانتظامی اور بد معاملگی کا ہے اور جب تک اس پر قابو نہیں پایا جائے گا احتجاج جاری رہے گا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d9%81-%d8%a8%d9%84/">احتجاجی مظاہروں کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان بند</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d9%81-%d8%a8%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
