Categories
شاعری

خوابوں کا اغوا (غنی پہوال)

مجھ سے ملئیے
مجھے زندگی کی
مزدوری پر لگا دیا گیا ہے
میرا تعارف یہ ہے
کہ اغواہ شدہ خوابوں کے
لواحقین میرے کنبے میں شامل ہیں
میرے اجداد احتجاج کرتے کرتے
نابود ہو گئے
میرا ماضی ایک پُر اسرار محل ہے
اور زمانے نے
اُس کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے
روشن خوابوں کو
اغوا کرنے کا چلن اپنایا ہے
گزشتہ سال ایک ویرانے سے
میرے دو خوابوں کی لاشیں ملیں
ایک خواب میں میرے والد
اور دوسرے میں میرا بڑا بھائی مقیم تھا
خوابوں کے چہرے اتنے مسخ تھے
کہ مجھ سے اُن کی خوشبو کو بات کرنی پڑی
مجھ سے ملئیے
بھوک ہڑتالی کیمپوں
اور بینروں کی تحریروں کے علاوہ بھی
میں ہر جگہ دستیاب ہوں
میرا دشمن جس مورچے پر چاہے
میں اُس سے لڑ سکتا ہوں
میں لڑ سکتا ہوں
اپنے بچوں کے خوابوں کی حفاطت تک
اُس وقت تک
جب میرے ماضی کے محل کے
دریچوں سے
خوابوں کی روشنی جھانکنے لگے
Image: Toym de Leon Imao

Categories
شاعری

جبری گمشدگیوں کے اشتہار


جبری گمشدگیوں کے اشتہار
کسی اخبار میں جگہ نہیں پاتے
نہ کسی خبر کے طور پر لگائے جاتے ہیں
اخبار صرف اُن لوگوں کی
گمشدگی کے اشتہار چھاپتا ہے
جو ذہنی عدم توازن کا شکار ہوں
یا ان بوڑھوں کا جو دیکھ سن نہیں سکتے
کسی روز راستہ بھول بیٹھتے ہیں
ان کی خبر
یا ان کو گھر پہنچانے والے کو
انعام سے نوازے جانے کے اعلانات
بار بار دہرائے جاتے ہیں
جبری گمشدہ افراد اس میرٹ پر
پورا نہیں اترتے
یہ میرے وطن کے کڑیل جوان
ذہن کو استعمال کر کے
دیکھنا، سننا، سوچنا، سمجھنا
سوال کرنا سیکھتے ہیں
جواب کے رستے کو تلاشتے ہیں
کہ اسی کھوج کے جرم میں
اٹھائے جاتے ہیں

اخبار ان کا اشتہار
شائع کرنے سے قاصر ہے!

Categories
شاعری

بازیابی

اب ہم اُن لوگوں کو
جو خواب دیکھتے ہیں
اور خواب بیچتے ہیں
مارتے نہیں
بہت مصیبت ہو جاتی ہے
ان کی لاشیں دفنانی پڑ جاتی ہیں
ورنہ بہت تعفن پھیلتا ہے
اور سب کو پتہ بھی چل جاتا ہے

ہم نے ایک مشین ایجاد کر لی ہے
اب ہم انھیں پکڑتے ہیں
اور ان کی آنکھوں میں
ایسی برقی رو دوڑاتے ہیں
کہ وہ ہمیشہ کے لیے خواب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں
پھر ہم انھیں واپس چھوڑ دیتے ہیں

زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے

Image: Karen Wippich