فہیم عباس کی کہانیاں
باہر ابھی اندھیرا تھا میں معمول سے قبل جاگ اٹھا تھا۔ بستر پر لیٹے میں کھڑکی سے باہر اندھیرے کو گھورنے لگا۔
احتلام
رات گئے تک شام ڈھلنے میں نہیں آئی تھی اور آتی بھی کس طرح کہ آج کے دن کا افق ٹیڑھا ہو گیا تھا جس کے کسی کونے میں سورج کچھ اس طرح پھنسا کہ دوبارہ ابھرنے کے تمام ارادے ڈوبے مگر وہ نہ ڈوب پایا۔