سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

ستیہ پال آنند: ہاں، یہی آئینہ ہے دیکھنے والے کے لیے
اس کی خود اپنی ہی تخلیق ہے، جس میں ہر جا
وہی یکتا ہے کہ جو آئینہ سیما بھی ہے
اور خود اپنا نظارہ بھی وہی کرتا ہے
اس کی خود اپنی ہی تخلیق ہے، جس میں ہر جا
وہی یکتا ہے کہ جو آئینہ سیما بھی ہے
اور خود اپنا نظارہ بھی وہی کرتا ہے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

ستیہ پال آنند: بے تصنع، سادہ دل، وہ اگر سمجھتا ہے
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

ستیہ پال آنند: میں ایک نا خواندہ شخص
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”

ستیہ پال آنند:یہ یادگار میرے ہی سجدوں کی ہے، حضور
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!

ستیہ پال آنند: ہے یہ کمالِ فن کہ تجسس بھی ہے بہت
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال

ستیہ پال آنند: محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ “خیال”
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !
اسد بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے

ستیہ پال آنند: صریحاً ایک ہے۔۔۔ اللہ
جو اِس شاعرِ غافل کو یہ تلقین کرتا ہے
“اگر ڈھانپے تُو آنکھیں ڈھانپ، ہم تصویرِعریاں ہیں!”
جو اِس شاعرِ غافل کو یہ تلقین کرتا ہے
“اگر ڈھانپے تُو آنکھیں ڈھانپ، ہم تصویرِعریاں ہیں!”
اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

ستیہ پال آنند: نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔” کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ

ایسے خود بیں کے لیے موزوں ہے غالب کا یہ کہنا
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
آتش و آب و باد و خاک نے لی

آتش و آب و باد و خاک ہیں کیا؟
جسمیت، مادیت، خس و خاشاک
جسمیت، مادیت، خس و خاشاک
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

یہ اگر طے ہے کہ ہر کام بہت مشکل ہے
پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد
اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے
پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد
اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے