انسانی جان کی حرمت اور مقدس قربانیوں کے بیانیے

ڈاکٹر عرفان شہزاد: ہم دنیا میں زندہ رہنے کے لیے آئے ہیں۔ مرنا مجبوری یا ناگریر تقاضے کے بنا روا نہیں۔ شہادت اتنا سستا منصب نہیں کہ ہر بے شعور قربانی کو اس کا مستحق قرار دے دیا جائے۔ انسان کی قدر کیجیے۔ زندگی کی قدر کیجیے۔
اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ سوئم

ڈاکٹر عرفان شہزاد: اسلام جب تک دعوت کا دین رہا، اس نے دین میں داخل ہونے والوں پر کسی مخصوص حلیہ اختیار کرنے کی پابندی لگا کر انہیں اپنے ماحول اور معاشرے سے اجنبی نہیں بنایا، حلیہ کے اعتبار سے عرب کے مشرکین ،یہود، نصاری اور مسلمانوں میں کوئی امتیاز نہیں ہوا کرتا تھا، بلکہ عجمی اقوام کی ثقافتی اقدار کو عربوں نے بھی اپنایا۔
اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ دوم

ڈاکٹر عرفان شہزاد: تبلیغی حضرات میں ایک عجیب اور دلچسپ خصوصیت پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ ان کا اخلاص بھی بہت پروفیشنل ہوتا ہے۔
غلبہ دین کا تصور

رسول اللہ کے سوا ہر شخص کے اجتہاد، دینی فہم اور عمل سے علمی اور عملی اختلاف ممکن ہے، اس لیے کوئی یہ دعوی بھی نہیں کر سکتا کہ اس نے دین کو غالب کر دیا ہے یا کر سکتا ہے یا ایسا کرنا عین دین ہے۔
سادگی فن کی انتہا ہوتی ہے

قدرت نے اگر آپ کے ہاتھ میں قلم تھما ہی دیا ہے تو اس کا حق ادا کیجیے۔ لغت ہائے حجازی کا قارون بننے کی بجائے آسان الفاظ میں ابلاغ کیجیے۔
مفتی بمقابلہ مفتیان

ہر مولوی دوسرے مولوی کو مساوی مگر متضاد قوت سے دھکیلتا ہے، اور اس قوت دفع کاانحصار دو مولویوں کے مابین مسلکی و فقہی اختلاف کی شدت کے براہ راست متناسب ہے۔