پی ایس ایل 2017 – پاکستان میں کرکٹ کی واپسی

امن و امان: پہلے ایڈیشن کی طرح پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں بھی کافی جوش و خروش اور بہت سے سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ اس مرتبہ سٹیڈیم آ کر میچ دیکھنے والے تماشائیوں کی تعداد بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنی رہی۔
پی ایس ایل؛ پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل

پہلے ہی سال میں اس لیگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اپنے آغاز کے پہلے ہی سال اسے وہ کامیابیاں ملی ہیں جس کی شاید لوگ توقع نہیں کر رہے تھے۔
نتیجہ کچھ بھی ہو، جیت پاکستان کی ہو گی

میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔
پی ایس ایل کے ایک میچ پر چند فرضی تبصرے

کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔ یہ رنگ سب سے پہلے ہنگری کے ایک جاگیردار نے بنوایا تھا۔
پاکستان سوپر لیگ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

پاکستان سوپر لیگ، انڈین پریمیئر لیگ کی طرح بارونق اور بیگ بیش لیگ کی طرح تماشائیوں سے چکا چک بھری ہوئی نہیں ہے لیکن پھر بھی پاکستان اور پاکستان سے باہر موجود کرکٹ کے شائقین بڑی تعداد میں ان میچوں کو دیکھ رہے ہیں۔