پس انداز: زوالِ آدم کے بازار میں گمشدہ روایت کی بازیافت

ہمارے عہد کا المیہ یہ نہیں ہے کہ شاعری مر رہی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ شاعری اب ایک “مقدس عمل” کے بجائے ایک “سماجی عادت” بن کر رہ گئی ہے اور جب ادب عادت بن جائے تو اس میں سے وہ خوف، وہ دہشت اور وہ لرزہ خیز تجربہ غائب ہو جاتا ہے […]
پس انداز خواب کی تلخی میں

اسد زمانوں میں برتی جانے والی متنوع زبانوں کو اپنے احوال کا حصہ بناتا ہے