عافیت کہاں ہے؟

ستیہ پال آنند:آؤ، واپس گھروں کی طرف رُخ کریں
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!
بائی زنبِ قُتلَت

ستیہ پال آنند: اک سر جو معلق ہے سوا نیزے پر
اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا
اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا