نتیجہ وہی مگر شور نہیں

19 نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔
اپر دیر تبدیلی کی زد میں
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ جناب عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں عموماََ اس جملے کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ ’’تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آچکی ہے ‘‘۔
دھاندلی کیا ہے؟
حکمران جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے ہی باہمی کشمکش جاری ہے۔
دو معافیاں
یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ الطاف حسین کراچی اور حیدر آباد میں سیاسی اثرو رسوخ رکھتے ہیں اور ایم کیو ایم اب پاکستان کے باقی حصوں میں بھی اپنا ووٹ بنک قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔