کم بخت منٹو کے کم بخت چاہنے والے

اسے “اوپر نیچے اور درمیان” جو بھی نظر آتا وہی افسانوی سانچے میں ڈال کر لوگوں کے سامنے رکھ دیتا تاکہ وہ یہ سمجھا سکے کہ واقعی معاشرتی برائیوں کو کپڑے پہنانا منٹو یا کسی بھی لکھاری کا نہیں بلکہ ان درزیوں کا کام ہے جنہیں “کالی شلواریں” سینی نہیں آتیں۔
کیا ہم منٹو کو اپنانے کو تیار ہیں؟
آپ منٹوسے واقف ہوں یا نہ ہوں، منٹو کو پسند کرتے ہوں یا نہ ہوں، منٹو منٹو کی تکرار سے بیزار ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ منٹو کو ابھی تک پوری طرح دریافت ہی نہیں کیا گیا ۔۔۔۔ہر صورت میں منٹو ایک ایسی فلم ہے جو دیکھی جانی چاہیئے۔