میرا واہ کی راتیں: ایک تاثراتی جائزہ (نسیم سید)

رفا قت حیات نے یہ ناول جنسی تسکین کے لیے نہیں لکھا بلکہ انہوں نے بڑی ذہانت سے ان حقائق سے پردہ اٹھا یا ہے جونذیر، شمیم اورنذیر کی چچی جیسے سیکڑوں کی داستاں کا حصہ ہیں۔
واشنگٹن کی کالی دیوار (نسیم سید)

اپنی فیروز بختی پہ نازاں سیہ پوش دیوار پر آب زرسے لکھے نام پڑھتےہوئے میری آنکھیں پھسلتی ہوئی نیہہ پر جا گریں الغِیاث! الاَماں! ایک بستی کے جسموں کا گارا سیہ ماتمی مرمروں کے تلے اس کی بنیاد کا رزق تھے زائرین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوُق در جوُق اس غم زدہ دل گرفتہ کو اشکوں کے نذرانے دیتے […]
آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے ایک عورت کو بس سانس لینا ہی کافی نہیں اس کو لازم ہے وہ کوہساروں کی آواز سنتی ہو نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو اسے علم ہو وہ زن باد شب جانتی ہو کہ کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے […]
جنگ سخت کوش ہے

سلمیٰ جیلانی : کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار
ہمارے لوگ

ڈایان ارنز: اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟
میں جا چکی ہوں

نسیم سید: میں اپنے ہونے کے اورنہ ہونے کے
مخمصے سے
نہ جانے کب کی
نکل چکی ہوں
ہماری نظمیں تمہاری جی حضوری نہیں کریں گی

نسیم سید: تم نہیں جانتے
ہماری نظمیں
تمہاری شرائط کو ٹھوکر پہ رکھتی ہیں
جہاد النکاح

ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے

اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
اسیری

پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا
آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں
ہمارے لوگ

مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے