کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

صفیہ حیات: زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی
بہتی آنکھوں کا خواب

سلمیٰ جیلانی: انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے
آج کے دن

تنویر انجم:فرج کو کھانوں سے بھرو
اور دفتر کی تیاری کرو
آج کے دن نظموں کو چھٹی دے دو
دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

عذرا عباس: یہ عورتیں ایسے ہی بین کرتی رہیں گی
اور کھوتی رہیں گی
اپنے بچے
اور روتی رہیں گے ایک آواز میں
ایک ایسی آواز میں
جو ایک دن آسیب بن جائے گی
اور تمھارا خریدا ہواخدا بھی اس کی دہشت سے کانپ رہا ہو گا
پیچھے مڑ کر مت دیکھو

تنویر انجم: مت یاد کرو
ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔
ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔
کاری

ناصرہ زبیری: اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
گن رہی ہوکیا

تنویر انجم: اپنی پیشروؤں کی طرح
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں
وارث شاہ کی ہیر کی کھونٹی

ثروت زہرا: وارث شاہ کی
ہیر کی کھونٹی تو نے میرے
دل کے لبادے کس لمحے میں مانگ لیے ہیں
ہیر کی کھونٹی تو نے میرے
دل کے لبادے کس لمحے میں مانگ لیے ہیں
کلموہی

نسرین انجم بھٹی: بابا! منہ دیکھنے سے پہلے مجھے کلموہی نہ کہہ
ورنہ میں کہاوت بن جاؤں گی
اورتو مجھے کبھی نہیں پاسکے گا
ورنہ میں کہاوت بن جاؤں گی
اورتو مجھے کبھی نہیں پاسکے گا
بنتِ حوّا

ثروت زہرا: بنت حوّا ہوں میں یہ میرا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے