ہرکولیس اور پاٹے خاں کی سرکس

حسین عابد: کسی سڈول خیال کو
محبوبہ نہیں ملتی
حاسد بھول بھلیاں اسے
جواں ہونے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں
محبوبہ نہیں ملتی
حاسد بھول بھلیاں اسے
جواں ہونے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں
نثری نظم کا تخلیقی جواز

نصیر احمد ناصر: دراصل ہر نظم اپنی ہیئت یا ساخت خود لے کر آتی ہے۔ تخلیق کے بعد اس کی تراش خراش تو کی جا سکتی ہے لیکن تخلیقی عمل کے دوران اسے زبردستی “نظم” یا “نثری نظم” نہیں بنایا جا سکتا۔
شاعری ہر جگہ موجود ہے، بس اسے دریافت کرنا پڑتا ہے

اگر آپ چاہتے ہیں کہ جدید نظم میں آج کی زندگی کے تضادات، مشکلات، تعقلات، الجھنیں اور کثیر جہتی سچائیاں پیش کی جانی چاہئیں، تو پھر نظم سیدھی سادی نہیں ہو سکتی۔