مفتی

جیم عباسی: مفتی صاحب کی شادی کی خواہش ابھی بھی برقرار تھی۔ بلکہ جوان ہوتی جارہی تھی۔ جب بھی لڑکے بالے ان کے ساتھ بیٹھ کر تفریحاً ان کی شادی یا کسی رشتے کا تذکرہ چھیڑتے مفتی یاصاحب کی آنکھیں دمکنے لگتیں اور بیٹھے ہشاش بشاش ہوجاتے۔