روہنگیا جاگتا رہ

علی زیرک: روہنگیا جاگتا رہ ابھی اور بھی جسم ہیں جن کی گنتی دھندلکے سے پہلے کی لوحِ زماں پر رقم کر کے سونا ہے

نولکھی کوٹھی – گیارہویں قسط

علی اکبر ناطق: ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔

سائنس،مذہب اور ہمارا رویہ

ایک سوال بہت سے ذی شعور لوگ خود سے اور اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ آخر مسلمان علمی میدان میں اتنے پسماندہ کیوں ہیں، آخر تمام علمی وسائنسی حقائق مغرب کی طرف سے ہی کیوں آتے ہیں،کیوں ہم صدیوں سے جہالت کے اندھیروں میں ڈ وبے ہوئے ہیں، ہمارے ہاں علمی ترقی کے بجائے مردہ تقلید اور اپنے اپنے مکتبہ فکر کی اسیری کیوں ہے۔

بھاگ مسافر میرے وطن سے

گاوں کے ایک تھانے کا منظر، تھانیدار صاحب کے کمرے کے باہر چند کانسٹیبل اونگھ رہے ہیں، ایک جانب سپاہیوں کی میلی وردیاں دیوار پر ٹنگی ہیں۔