جبر کی دنیا

سلمان حیدر: زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے

خاموش۔۔۔۔خبردار

یہ جسم نہیں روح ہے اور ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں جسموں میں چکر کاٹتی رہتی ہے مگر پھانسی کے پھندے میں سماتی نہیں ہے : نورالہدیٰ شاہ

میں لاپتا ہوگیا ہوں

مبشر علی زیدی: کچھ لوگ کہتے ہیں کسی کے مرنے پر موم بتی نہیں جلانی چاہیے لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہو جائے تو روشنی کہاں سے لائیں؟

کوئلا

مصطفیٰ ارباب: وہ ہماری روشنی چرا کر لے جاتے ہیں ہمارے پاس صرف دھواں کوئلے سے رستے تیزابی پانی کا ایک ڈیم رہ جاتا ہے اس ڈیم میں چھلانگ لگا کر ہمیں مرجانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے