کچا

جیم عباسی: اپنے سامنے بیٹھے چہروں پر نظر ڈالتے اس نے داہنے ہاتھ سے بمشکل مائیک کو پکڑا۔ آگے بولا تو آواز گرج میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اسے لگا جیسےاس کے اندر طاقت کے تمام تر ذرات بھر دیے گئے ہوں۔
تخلیق کار

مجھے ایک نظم سمجھ لو وہ نظم جو کیفرکردار تک نہیں پہنچی ۔۔۔۔۔ جو ڈولتے خیالات کے تھرتھراتے ہونٹوں پر ابھی ایک نوحہ ہے ۔۔ وہ نوحہ جسے نوچنے کی کوشش میں تخیل کے تمام رنگ پھیکے پڑ گئے