خوابوں کا اغوا (غنی پہوال)

مجھ سے ملئیے مجھے زندگی کی مزدوری پر لگا دیا گیا ہے میرا تعارف یہ ہے کہ اغواہ شدہ خوابوں کے لواحقین میرے کنبے میں شامل ہیں میرے اجداد احتجاج کرتے کرتے نابود ہو گئے میرا ماضی ایک پُر اسرار محل ہے اور زمانے نے اُس کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے روشن خوابوں کو اغوا […]
جبری گمشدگیوں کے اشتہار

وقاص احمد شہباز: جبری گمشدگیوں کے اشتہار
کسی اخبار میں جگہ نہیں پاتے
نہ کسی خبر کے طور پر لگائے جاتے ہیں
انسان مکڑا کیسے بنتا ہے

رب نواز: سال کے آخری مہینے عزیز دوست اور سماجی کارکن رضا خان کے غائب ہونے کی خبر آئی ہے۔ جنوری کی طرح اس بار بھی ایک ہی خیال نے بوجھل کیا کہ پہلے دوستوں کے دوست لاپتہ ہو رہے تھے، اب میرے دوستوں کی باری ہے۔
ہمیں ہمارے رضا لوٹا دو

مبین احمد:ہم سے ہماری سوچ اور فکر چهین کر اب یہ تازَہ ہوا بھی چھین لی گئی تو تو ہم سانس نہیں لے پائیں گے ، مر جائیں گے ۔ ہمیں ہماری سانسیں لوٹا دو ، ہمیں ہمارے رضا محمود لوٹا دو ۔
دو دسمبر ۔۔۔۔۔

توصیف احمد: میں رضا سے کبھی نہیں ملا بالکل اسی طرح جیسے میں اجتماعی قبروں، خفیہ حراستی مراکز اور نجی عقوبت خانوں کے سپرد کئے جانے والوں سے نہیں ملا۔۔۔میرے لئے 2 دسمبر رونے کا دن ہے، بلکہ ہم سب کے لئے دو دسمبر رونے کا دن ہے۔
افراد جو لاپتہ ہوئے

صفیہ حیات: بھاری بھرکم بوٹوں والے
باغیوں کو اٹھا کر
سیدھے سبھاؤ رہنے کے گر سکھاتے ہیں
چُپ

کہ باہر سوال آئے ہیں
جن کو پناہ دینا
جرم گردانا گیا ہے
واپس دو

مجھے تم خوں بہا مت دو
آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں
انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)

تمہاری نظمیں اس دریا کے لئے ہیں
جس میں انسانوں کی لاشیں بہتیں
پہچان سے عاری ہیں
جبری گمشدگان اور پاکستان

خط اُس باپ کے نام جو “لاپتہ“ ہو گیا
