دکھ اور دیگر نظمیں (غنی پہوال)

تم جو ایک بادبانی گیت ہو
تمہارے لہراتے سُروں کی
سبز شاخوں پر میرا بسیرا ہے
انتظار — غنی پہوال

غنی پہوال: اُداسیوں کی بانجھ آنکھیں
روشنی کو حاملہ کر کے
دیمک کی چال سے اندر بھیج رہی تھیں
خوابوں کا اغوا (غنی پہوال)

مجھ سے ملئیے مجھے زندگی کی مزدوری پر لگا دیا گیا ہے میرا تعارف یہ ہے کہ اغواہ شدہ خوابوں کے لواحقین میرے کنبے میں شامل ہیں میرے اجداد احتجاج کرتے کرتے نابود ہو گئے میرا ماضی ایک پُر اسرار محل ہے اور زمانے نے اُس کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے روشن خوابوں کو اغوا […]
درخواست (غنی پہوال)

خواہش کی سوکھی ٹہنی جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی مگر جب چاہت بھری تمہاری آنکھوں کے وسیع صحن میں امید کے پودوں میں پھول لگنے کا موسم آئے تو چپکے سے مجھے کسی کیاری میں بو کر پھر سے […]