“غزال اور بھیڑیے” کا تاثراتی جائزہ: ایک تخلیق تین جہتیں

شین زاد: ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﭘﯿﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻟﻐﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
روہنگیا جاگتا رہ

علی زیرک: روہنگیا جاگتا رہ
ابھی اور بھی جسم ہیں جن کی گنتی دھندلکے سے پہلے کی
لوحِ زماں پر رقم کر کے سونا ہے
تماشا

علی زیرک: ہمیں لجلجاتے چناروں سے آگے تساہل بھری کھیتیوں سے گزر کر
فصیلوں کی فصلوں میں چھپنے سے پہلے
دھوئیں کی لچکدار دیوار کو چاٹنا ہے
فصیلوں کی فصلوں میں چھپنے سے پہلے
دھوئیں کی لچکدار دیوار کو چاٹنا ہے
پُرسہ

علی زیرک: خبروں میں ان تابوتوں کی گنتی کرنا
جن میں ٹھونکی جانے والی میخیں
مریم کے بیٹے کے خون پہ اتراتی ہیں
جن میں ٹھونکی جانے والی میخیں
مریم کے بیٹے کے خون پہ اتراتی ہیں
روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں

علی زیرک: ہم ازل کے بھگوڑے
ہمیں سبز خطے سے باہر کسی معتدل منطقے کے تجسس کا گھن کھا گیا
ہمیں سبز خطے سے باہر کسی معتدل منطقے کے تجسس کا گھن کھا گیا
کیلکولیٹر کے ہِندسوں میں چُھپی نظم

یہ گِنتی کی ایجاد سے قبل
حرفوں کی اَبجد کا ایقان ہی تھا
جو روحوں کی تقسیم کو جانتا تھ
حرفوں کی اَبجد کا ایقان ہی تھا
جو روحوں کی تقسیم کو جانتا تھ