مرد،عورت اور قبائلی سماج

روایتی صنفی کرداروں میں موجود تفاوت اس تاریخی معاشرتی ارتقاء کی بھی پیداوار ہے جو قبائلی اور زرعی دور میں مردوں کی مرکزی حیثیت کے باعث عورتوں کی کم تر حیثیت کا وکیل ہے۔
صنفی تشدد اور استحصال کے خلاف آواز کیوں اٹھائیں؟

حقوق نسواں کے لیے کوشش انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا لازمی جز ہے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جنسی تشدد اور استحصال کا خاتمہ مردوں کی بھی اسی قدر ذمہ داری ہے جس قدر خواتین کی۔