کہانی چل رہی ہے: صنف، تصنیف اور مصنف

شہزاد نیر کا یہ پہلا مائیکروفی پتھر مختصر اردو افسانہ نگاری کے بظاہر سست رو پانی میں ایسا ارتعاش و تموج پیدا کرے گا جسے جلد ہی عصری ناقدین رحجان سازی گرداننے پر مجبور ہوں گے۔
بدن کی حمایت میں

شہزاد نیر:
کچھ نہیں، کچھ نہیں
آنکھ کی کھیتیوں سے پرے کچھ نہیں ہے
کچھ نہیں، کچھ نہیں
آنکھ کی کھیتیوں سے پرے کچھ نہیں ہے
اے میرے سوچنے والے بیٹے

شہزاد نیر: سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
خود کُش

شہزاد نیر: آج بھی خون کی ندّی میں نہایا سورج
آج پھر اس کی شعاعوں میں لہو کاری ھے
آج پھر اس کی شعاعوں میں لہو کاری ھے
شکست کس کی

شہزاد نیر: عجیب منظر ھے
ایک شہہ رگ نےدھار خنجر کی کند کر دی ھے
ایک سر وہ جو اپنے تن سے جدا ھوا ھے
مرا نہیں ھے
ایک شہہ رگ نےدھار خنجر کی کند کر دی ھے
ایک سر وہ جو اپنے تن سے جدا ھوا ھے
مرا نہیں ھے
Surrogation

خواہشیں جنگلوں میں اگے پیڑ ہیں
تیرے جسمی حقائق گھنی خواہشوں کی جڑیں کاٹتے ہیں
گلِ خشک کو کون تازہ کرے؟
بیضہ دانی کے خلیوں کی پہنائی میں
طاقتِ بیضہ سازی نہاں امر سے سَلب کر لی گئی
کیسے خواہش کو جسمِ حقیقت ملے؟
تیرے جسمی حقائق گھنی خواہشوں کی جڑیں کاٹتے ہیں
گلِ خشک کو کون تازہ کرے؟
بیضہ دانی کے خلیوں کی پہنائی میں
طاقتِ بیضہ سازی نہاں امر سے سَلب کر لی گئی
کیسے خواہش کو جسمِ حقیقت ملے؟
کچھ باتیں شاعری اور ادب کی… شاعرشہزاد نیرّسے بات چیت
اپنے پس منظر کے بارے میں بتائیں ۔ شاعری کی طرف کس طرح راغب ہوئے؟