Laaltain

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

محمد حمید شاہد: زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے

قاری ظفر

ژولیاں: ظفر کا اِرادہ نیک ہے۔ مگر اُس کی دُلہن اڑیل اَور سازشی ہے۔ وہ اُسے قریب نہیں آنے دیتی اَور اُس سے دُور بھاگتی ہے۔۔۔۔ شادی کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، اَور ظفر ابھی تک اپنا اِزدواجی وظیفہ اَدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اُس نے بارہا کوشش کی مگر وہ ہر کوشش میں نامُراد ہی ٹھہرا۔

طالبات اور شدت پسندی، آمنے سامنے

“جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے ایک خاتون کا حجاب کهینچنا اور تین طالبات کو طمانچے اور ڈنڈے مارنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ بھی طالبان یا داعش سے کم شدت پسند نہیں۔

وقت نے رنگ بہت کچھ بدلے, کیا کیا سیلاب نہیں آئے

محمد فہداریب دھواں چار سو پھیلا ہے۔ کچھ نہیں دکھتا کہ آگے کیا ہورہا ہے اور ہوگا؟ ہماری نگاہ یا بقول اقبال مردمومن والی قلندرانہ نگاہ زائل ہوچکی ہے اورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی ہے۔اس دھندلے منظر میں سکوت طاری ہے حالانکہ نوحہ گاہ میں یا تو شام غریباں منائی جاتی ہے یا پھر […]