نثری نظم کا فن (اویس سجاد)

نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔
لفظی ترجمہ اور صابن کا جھاگ (سید کاشف رضا)

میرے لیے تو ادبی ترجمے کا اولین امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اردو میں کچھ اوپرا اوپرا محسوس ہو۔
مجھے ایک کشتی بنانے کی اجازت دو (سید کاشف رضا)

مجھے نکال کر لے جانے دو
میری ماں کی قبر
جسے میں تمہارے گھوڑوں
تمہارے کتوں کے لیے نہیں چھوڑ سکتا
ایک عشق کی نسلی تاریخ

سید کاشف رضا: اور وہ ایسی جیت تھی
جس کی یاد میں
زمین پر کوئی لاٹھ گاڑی جا سکتی تھی
ماہِ میر آخر کون سے میر تقی میر پر بنائی گئی؟

سید کاشف رضا: کہانی میں جھول نہ ہوتے اور سرمد صہبائی اس فلم کو اپنی مخصوص افتادِ طبع یا ایڈیوسنکریسیز سے محفوظ رکھتے تو یہ ایک یادگار فلم بن سکتی تھی۔
میں ایک آنسو اکٹھا کر رہا ہوں

سید کاشف رضا: میری آنکھوں میں ایک آبشار کی دھند پھیل گئی ہے
میں اسے ایک آنسو میں جمع کر لوں گا
حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات

رفاقت حیات نے کہا کہ غلام باغ کے اکثر کردار فلسفی اور دانشور محسوس ہوتے ہیں۔ وہ موقع بے موقع فلسفہ بگھارتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک مجسمے کی زیارت

سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی

سید کاشف رضا: اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے فالتو ٹکڑے
منڈیروں پر پرندوں کے لیے پھینکے نہ جا سکتے
اچانک مر جانے والے لوگ

اسے یکسو ہو کر کرنا چاہیئے
یا سارے کام نمٹا کر
ہمارے لیے تو یہی ہے

تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ
تم مجھے پڑھ سکتے ہو

مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں
اجتماعی مباشرت

ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا
درخت

ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے
تصنیف حیدر کے نام ایک خط
