Laaltain

پروفیسر اور سیاستدان

نلز باس: جب آپ ہمارے اعدادی درجہ بندی کے مطابق ایک اچھی ریٹنگ کی اشاعت کر لیتے ہیں تو تیسرا گروہ، بشمول میرے، آپ کے کام کی زیادہ تعریف کریں گے اور پھر آپ کو بہت سارے تحقیقی وسائل اور اپنے لیے کام کرنے والے لوگ رکھنے کے بھی زیادہ موقع میسر آئیں گے۔

الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع

پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصرتاریخ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ءکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔

ریفرنڈم ہو مگر کیسے۔۔؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔

عمران خان میں تبدیلی آچکی ہے

جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988ء میں بینظیر بھٹو جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنی تو تھوڑے ہی عرصہ بعد ضیاء دور کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے بینظیر بھٹو کے شوہرآصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب دیا۔

دو کمیشن، دو رپورٹیں

دو کمیشن اور دو رپورٹیں اور تحریک انصاف کا دہرا طرزعمل۔۔۔ تحریک انصاف جمہوریت، منصفانہ انتخابات اور انصاف کی فراہمی پر کتنا یقین رکھتی ہے یہ جاننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔

گندا ہے پر دھندہ ہے

کال کس نے کی؟ زرداری صاحب نے یا کپتان نے؟ جس نے بھی کی، سیاست میں میل ملاقات اور روابط کی گنجائش بہر حال باقی رہتی ہے، پس منظر البتہ بیان کیے دیتے ہیں، رحمان ملک اور پرویز خٹک کے آپسی تعلقات دیرینہ ہیں، سینیٹ انتخابات کے ہنگام میں دونوں رہنماوں کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا، ملک صاحب کی تجویز تھی کہ پی پی خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حمایت کر سکتی ہے اگر بدلے میں پی ٹی آئی، چیئرمین سینیٹ کے لیے ہماری حمایت کرے۔

کیا بلدیہ ٹاؤن واقعہ اہم ہے؟

ایم کیو ایم کی تاریخ اور کراچی میں اسکی سیاست سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، دو باتیں بالکل واضح ہیں؛ ایم کیو ایم کا عوامی مینڈیٹ اور سندھ کی سیاست میں انکا اہم کردار اور یہ دونوں ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے لیے درد سر رہی ہیں۔