کم بخت منٹو کے کم بخت چاہنے والے

اسے “اوپر نیچے اور درمیان” جو بھی نظر آتا وہی افسانوی سانچے میں ڈال کر لوگوں کے سامنے رکھ دیتا تاکہ وہ یہ سمجھا سکے کہ واقعی معاشرتی برائیوں کو کپڑے پہنانا منٹو یا کسی بھی لکھاری کا نہیں بلکہ ان درزیوں کا کام ہے جنہیں “کالی شلواریں” سینی نہیں آتیں۔