سوشل میڈیا پر لکھاری ہی مدیر اور ناشر ہے: زاہد امروز

زاہد امروز: بڑا ادب پیدا کرنے کے لیے گہرا تفکر اور بے فکری درکارہوتی ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا کے شور سے دور خاموشی کو محسوس کرنا ضروری ہے
مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ

اداریہ: اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی، آزادانہ اظہار رائے پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔
بھگوڑا

جیم عباسی: عصر سے تھوڑا پہلے وہ گھر جا پہنچے۔ گھر میں کیا داخل ہوئے ہنگامہ اورغل برپا ہو گیا۔ شور، گالیاں، دھمکیاں، رونا، دوہتڑ، بدعائیں،تھپڑیں، بالوں سے پکڑنا، کھینچا تانی، پھٹی ہوئی شرٹ سب شامل تھا۔ ایک کمرے میں شگفتہ نشانہ بن رہی تھی ایک میں یونس۔
کیا ہم سوشل میڈیا پر تنازعات تلاش کرتے ہیں؟

شمائلہ وقار: ہمیں ہر وقت کچھ ایسا چاہیئے جو متنازع ہو یا جس کے باعث جھگڑا کھڑا ہو سکے، بات توتو میں میں تک پہنچے، گالم گلوچ کی نوبت آئے، پگڑیاں اچھالی جائیں اور ایک دوسرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑی جائے۔
قوم کے منہ پر طمانچہ
جشن آزادی کےموقع پر اس دفعہ کراچی کے عوام میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔
زرعی یونیورسٹی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال کرنے پر پابندی
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ پابندی بعض طالبات کی طرف سے ساتھی طلبہ کی جانب سے نازیبا تبصروں اور بلااجازت تصاویر اپ لوڈ کرنے کی تحریری شکایات موصول ہونے پر لگائی گئی ہے۔
برازیل کی لاش پر ٹویٹر سیاست
برازیل اور جرمنی کے درمیان کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میچ کے دوران 35.6 ملین ٹویٹس کر کے کسی بھی کھیل کو سب سے زیادہ موضوعِ بحث بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا گیا۔