سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں […]
سمندر ہی زمانے خلق کرتا ہے

عمران ازفر: سمندر کوکھ سے اپنی زمانے خلق کرتا ہے
جہاں نظمیں، مری نظمیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
جہاں نظمیں، مری نظمیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
ساگردیوتا

نصیر احمد ناصر: میں صدیوں کے ساحل پہ تنہا
تمہارے جنم روپ، ساروپ کا منتظر ہوں
تمہارے جنم روپ، ساروپ کا منتظر ہوں
میرے سوگواروں میں آج، میرا قاتل بھی ہے
انسان کا ربط انسانیت سے ہے اور اسی انسانیت سے ہی اقدار انسانی پروان چھڑتی ہیں ، جب انسان سے انسانیت رخصت ہو جائے تو اس سے ایک بد تر اور بد نما درندہ جنم لیتا ہے ۔