ناخن جو اب ہتھیلی پر اگ آئے — (سبین محمود کے لیے) — مدثر عباس

بمارے دل کی تیز دھڑکن کا طبعی معائنہ نہ کریں بلکہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیوں آپ نے ہمارے لوگوں کو چاند کا فریم درست کرنے کے جرم میں ہمارے گھر کی فیملی فوٹو سے پھاڑ کر اپنی بھدی تصویر کے ساتھ جوڑ لیا ہے؟ ہمارا تازہ غیر رجسٹرڈ گیت کیوں آپ کی چلتی ہوئی […]
ایک آوارہ گولی کا ہدف: سبین محمود

حفیظ تبسم: تمہارے خواب
نیلے رنگ کی عینک پہنتے تھے
جو سرخ دھبوں کو سبز میں تبدیل کر دیتی ہے
ہمارے ضمیر پر دستک دینے والے

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ ماما قدیر اوراروم شرمیلا جیسے لوگ جو لانگ مارچ کرتے ہیں، یا بھوک پڑتالیں کرتے ہیں کیا انہیں علم نہیں ہوتا کہ ہمارے جیسے ملکوں میں کبھی بھی کوئی بھی ان کی بات نہیں سنے گا
میں سبین محمود کو نہیں جانتا تھا
میں واقعی سبین محمود کو نہیں جانتا تھاجب تک ان کے قتل کی اطلاع مجھ تک نہیں پہنچی تھی مجھے علم ہی نہیں تھا کہ کوئی سماجی کارکن کراچی میں سبین محمود نام کی بھی ہے، جس کا اپناکوئی کیفے ہے، جو مختلف عنوانات پر سیمینار کرواتی ہے، جو عموماً سول سوسائٹی کے اجتماعات میں جایا کرتی ہے، یہ سب باتیں اس خاتون کے قتل کے بعد میرے علم میں آئی ہیں۔
فاصلہ نہ رکھیں، پیار ہونے دیں
سبین محمود ایک بہادر عورت تھی۔ معاف کیجئے گا، سبین محمود ایک بہادر عورت ہے۔