ہم اپنے ہی دشمن

ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں،کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا
زخم ابھی تازہ ہے

دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھائو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔
میں جنت میں بہت خوش ہوں

علی انکل یہ کافر کون ھوتا ھے؟؟
مجھے لگتا ھے
وہ ھوں گے
جنھوں نے ھم کو مارا تھا!!
مجھے لگتا ھے
وہ ھوں گے
جنھوں نے ھم کو مارا تھا!!
ہم ستارے بن گئے ہیں

اس واقعے کو ایک برس ہو چکا ہے مگر یہ کل ہی کا واقعہ لگتا ہے، جس دن ہم سب آسمان میں ستارے بن گئے۔ اس دن سے ہم سب روزانہ اپنے خاندان والوں کو آسمان سے چمکتے ہوئے ستارے بن کر دیکھتے ہیں۔
سانحہ پشاور اور ہمارے آئینے

آج جب میں اپنا احتساب کرنے بیٹھی ہوں تو مجھے خود پر شرم آرہی ہے۔ اپنا بےحس ، سیاہ چہرہ اور اپنے قول و فعل کا تضاد میں بخوبی سمجھ چکی ہوں، کاش ہم سب بھی اپنے اپنے بیانات اور لفاظی کے آگے ایک ایک آئینہ ضرور رکھ لیں۔
دہشت گردی کا تدارک کیسے؟
سانحہ پشاور کے بعد پاکستانی ریاست کی ایک زبردست انگڑائی نے اگرچہ دہشت گردوں کو ایک بڑی عوامی اکثریت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے، جس میں اِن کی واضح شکست کے آثار نمایاں ہیں ۔
سانحۂ پشاور، ذمہ دار کون؟
دفاعی اداروں ،سیاسی جماعتوں اور شدت پسند علما کی غلط حکمت عملی کے باعث آج ملک آگ وخون کی دلدل میں دھنس چکا ہے ہر طرف دھماکے ،ٹارگٹ کلنگ اور مخالفین کو گھر بار سمیت جلائے جانے کے واقعات روزمرہ کا معمول بن گیا ہے۔