کائنات کی ساخت (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)

تیسرا سبق: کائنات کی ساخت کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں آئن سٹائن نے اپنی تحقیق کے ذریعے واضح کیا کہ زمان و مکاں کیسے کام کرتے ہیں جب کہ نیل بوہر(Neil Bohr) اوراس کے شاگردوں نے مادہ […]
سائنس کیا ہے؟ — حصہ دوم

محمد علی شہباز: تمام انسانی علم میں صرف وہی علوم قابل اعتبار ہیں جو یا تو منطقی استدلال یا تجربے کی رو سے ثابت ہوتے ہیں۔ اور دیگر ہر قسم کے علم کی نفی کردی جائے گی۔
تاریک مادہ کیا ہو سکتا ہے؟

اگر تاریک مادہ مکمل طور پر کسی دوسری دنیا میں وجود نہیں رکھتا تو ممکن ہے یہ ہماری نظروں اور تجربات سے اوجھل چوتھی مکانی جہت میں موجود ہو۔
سائنس کیا ہے؟ ۔ پہلا حصہ

محمد علی شہباز: سائنس کی اہمیت بطور علم اس لئے معتبر قرار دی جاتی ہے کیونکہ سائنس کسی بھی علم کے حصول میں ‘حقائق’ کو بنیادی حیثیت دیتی ہے۔ ان حقائق کا حصول سائنسدان اپنے حواس خمسہ سے کرتا ہے۔
پروفیسر اور سیاستدان

نلز باس: جب آپ ہمارے اعدادی درجہ بندی کے مطابق ایک اچھی ریٹنگ کی اشاعت کر لیتے ہیں تو تیسرا گروہ، بشمول میرے، آپ کے کام کی زیادہ تعریف کریں گے اور پھر آپ کو بہت سارے تحقیقی وسائل اور اپنے لیے کام کرنے والے لوگ رکھنے کے بھی زیادہ موقع میسر آئیں گے۔
بلیک ہول میں گرتا شخص

امنڈا جیفٹر: اگر حقیقت کی ماہیت کہیں پوشیدہ ہے تو ڈھونڈنے کے لیے بہترین جگہ ثقب اسود ہیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ باہر سے ہی دیکھیں۔ کم از کم اس وقت تک جب تک وہ یہ پتا نہ لگا لیں کہ یہ آتشیں دیوار کیا چیز ہے
وجودِ کائنات

رابرٹ ایڈلر: جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔
ماضی کے مسافر

محمد علی شہباز: کیا انسان کبھی ایسی مشین تیار کر سکے گا جو اسے ماضی یا مستقبل میں فوری طور پر پہنچا سکے؟
فلسفہ اور سائنس
اولین دور کے انسان جب کائنات پر غور کرتے تو انکا ایک خاص انداز فکر ہوتا تھا جس میں وہ کائنات کے متعلق کچھ کلیات (ideas)تشکیل دیتے تھے۔