تم آئے؟ ( رضی حیدر)

جھاڑتے جھاڑتے تاروں کی وحشت کا غبار اکتایا چاند کھینچ رہا تھا جوں خمیازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے غم کا گدلا پانی پارہ پارہ کاغذ کی اک چیخ کاہے باندھنے کو شیر...

لم دُمّا (رضی حیدر)

سلمان تین سال کی عمر میں سائیں سہیلی سرکار کے میلے پر نقلی سفید داڑھی پہن کر کتنا خوش تھا۔ ست ربٹیا گیند ہوا میں اچھالتے اس نے کب سوچا ہو گا کہ 12 سال...

بس کرو (رضی حیدر)

رینٹ کلچر تیری ۔۔۔ (انسان ایک سوشل اینیمل ہے) بس کرو! (تمہارا جین خود غرض ہے) بس کرو! (تنہائی کے اس ہاویہ سے ڈرو جس کا ایندھن صرف انسانوں کے دل ہیں...

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی طرح، صبح شام۔ میں نے ضرورت سے زیادہ چشموں سے باتیں کی ہیں، قطروں کی ہنس...

بودا درخت (رضی حیدر)

یہ کون کٌھنڈی آری سے میرا تنا کاٹ رہا ہے کون میری وکھیوں کی ٹہنیاں توڑ رہا ہے مجھ سے نیانوں کے جھولے بنانا، یا سکول کی نِکی نِکی کرسیاں میرے ہاتھوں ...