نغمۂ جنوں

رانا غضنفر: میرے حرفِ جُنوں کے سندیسے
بزمِ آفاق سے اُبھرتے ہیں
اور میں نغمہِ جنوں لے کر
پھر کسی جُستجو میں نکلا ہوں
بزمِ آفاق سے اُبھرتے ہیں
اور میں نغمہِ جنوں لے کر
پھر کسی جُستجو میں نکلا ہوں
دراز دَستوں کی سلطنت ہے

نحیف لوگوں کے قافلے بھی ٹھہر کے سوچیں
کہ ظُلم سہنے کی آخری حد کہاں تلک ہے؟
کہ ظُلم سہنے کی آخری حد کہاں تلک ہے؟