بودا درخت (رضی حیدر)

یہ کون کٌھنڈی آری سے میرا تنا کاٹ رہا ہے کون میری وکھیوں کی ٹہنیاں توڑ رہا ہے مجھ سے نیانوں کے جھولے بنانا، یا سکول کی نِکی نِکی کرسیاں میرے ہاتھوں سے سالنوں کے ڈونگے چمچ میرے پیٹ سے سہاگ رات کے رنگلے پلنگ چل بھانوے، مجھے انگیٹھی میں ڈال دے میری آنکھیں بس […]
آخری درخت
وہ جنگل کا سب سے پرانا، سب سے طاقتور اور آخری درخت تھا۔۔۔ ریت کے بڑھ آنے ، جنگل کے ختم ہونے، موسموں کی شدتوں اور پانی کے کم ہونے کے عذاب سے لڑتا آخری درخت۔
انسان اور درخت
سنہری ڈائری میں تقدیر کے کیےایک اور ستم کو دفناتے وہ شاید بہت تھک چکا تھا اسی لیے فرار چاہتی نگاہوں کے ساتھ اپنے سامنے کھڑے درختوں کو تکنے لگا