بنجر میدان—شہر خموشاں کا ناول

رفاقت حیات: میکسیکو کے باکمال شاعر آکتاویوپاز نے ایک جگہ لکھا ہے کہ رلفو میکسیکو کا وہ واحد ناول نگار تھا، جس نے محض بیان کے بجائےہمارے طبیعی گردوپیش کے لیے ایک امیج فراہم کی۔
پاکستانی ادب کے ستر سال

زاہدہ حنا نے کہا کہ پاکستان میں موجود تمام زبانیں قومی زبانیں ہیں،ہم زبانوں سے نفرت نہیں کرسکتے اور ان کو رد نہیں کرسکتے۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہم نے بنگلہ کے ساتھ کیا کیا؟اورہمیں اُ س کی بھاری قیمت اداکرنا پڑی۔
خرم سہیل کی تین کتابیں

رفاقت حیات: خرم سہیل، سوال کی بھڑکتی لو میں ٹھٹھک کر چلتا اسرارِ موسیقی کی غلام گردش میں تنہا گھومتا رہا لیکن جب وہاں سے لوٹا تو سُر مایا جیسی کتاب ہمارے سامنے لایاتا کہ ہم بھی موسیقی کے بھید جاننے میں اس کے ساتھ شامل ہوجائیں۔
حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات

رفاقت حیات نے کہا کہ غلام باغ کے اکثر کردار فلسفی اور دانشور محسوس ہوتے ہیں۔ وہ موقع بے موقع فلسفہ بگھارتے دکھائی دیتے ہیں۔
نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے

رفاقت حیات: نیر مسعود کی کہانیوں میں ان کا زرخیز تخئیل کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کہانیوں میں لکھنو کی تہذیب بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہےاور کہیں کہیں ماورائی عنصر بھی موجود نظر آتا ہے۔
افضال احمد سید ستر برس کے ہو گئے

شامِ مطالعات
