بارش کی خواہش بھی اک موت ہے (حفیظ تبسم)

بارش برسی
تالاب یکدم سخی ہو گئے
اور پھر وحشی۔۔۔
پیڑ کا ادھورا خواب اور دیگر نظمیں (حفیظ تبسم)

وہ قدیم روایت کے احساس تلے
جماہی لیتا ہے
اور تاریخ دہرانے کے لیے
پرندوں کے قبیلے میں شمولیت کی درخواست دیتا ہے
ایک آوارہ گولی کا ہدف: سبین محمود

حفیظ تبسم: تمہارے خواب
نیلے رنگ کی عینک پہنتے تھے
جو سرخ دھبوں کو سبز میں تبدیل کر دیتی ہے
صلاح الدین درویش:خواب نامے کا دیباچہ

حفیظ تبسم: اے بزرگِ انسان و کائنات
ہمارے خواب حدود سے آگے نکل چکے ہیں
انھیں مرنے سے بچالے
ایک خط: روش ندیم کے نام

حفیظ تبسم: روش ندیم!
تمہارے ٹشو پیپر پر لکھے دکھ پڑھ کر
ہماری نیندیں خدا کے دروازے پر دستک دیتی ہیں
مگر دروازہ کُھلنے سے انکار کر دیتا ہے
پابلو نیرودا : چلی کا آخری سلام

حفیظ تبسم:
وہ صنوبر کے سوکھے پیڑوں سے ہاتھ ملاتے
سوال کرتا ہے
جب ٹہنیوں سے ہزاروں پتے جدا ہوئے
جڑوں کے دل میں آخری خواہش کیا تھی
کائنات کا آخری دکھ

حفیظ تبسم: پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہوگئے
گناہ گار شاعر کی بے گناہ نظمیں

حفیظ تبسم: کل میری دو نظمیں بازار گئیں
(جو جڑواں بہنیں تھیں)
مگر واپس نہیں لوٹیں
اندھیرا تم سے ہم کلام ہوتا ہے

میز پر رکھے تمہارے ہاتھ
انگلیاں بجاتے ہیں
لکیروں کے ساکت ہجوم میں
اور سرگوشی میں پوچھتے ہیں
خود سے پرانے عہد کی داستان
ایک معمول کا دن

بے بسی قہقہے لگاتی رہی
اور نیند کے سگریٹ پھونکتے پہرے دار کی میت
سردخانے کی دیوار میں چُن کر
لاوارث کا لیبل چسپاں کر دیا گیا
اگرگولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا

اگر۔۔۔۔
میرے ہاتھ میں پھول نہ ہوتے
انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)

تمہاری نظمیں اس دریا کے لئے ہیں
جس میں انسانوں کی لاشیں بہتیں
پہچان سے عاری ہیں
ایک یاد رہ جانے والا خواب

زیادہ تیزی سے
کشتی بنانا شروع کردیتے ہیں
جو دور کہیں ہرروز پانی کے اوپر تیرتی ہے
غائب ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
ٹیڑھی پسلی سے بنی لڑکی

اس نے تفریحی وقفے میں رسی کودنے کی بجائے جوابی نعرہ ایجاد کیا
اور باریش ریڈیو کے سامنے رکھ کر دیا