رزم و راہ اور دیگر نظمیں (جنید جازب)

ہم لوگ
آوارگی کا دامن تھامے
مستقبل کی سیر پہ نکل جاتے ہیں
زِندگی جب نمو پاتی ہے (جنید جاذب)

جب شہر سو رہا تھا
دُور، ایک کوہ کے دامن میں
دریا نے مچل کر
دھرتی کے گُداز سینے میں انگڑائی لی
ہیلو مایا

یہ کہانی کچھ یوں میرے من میں آئی جیسے کسی انجان جگہ سے کوئی ننھی منی، نازک سی چڑیا اڑتی ہوئی آئے اور صدیوں سے چپ چاپ کھڑے برگد کے اس پیڑ کی ایک ٹہنی پر آ ن بیٹھے۔ اور پھر، پل بھر کے لئے سارے ماحول میں شوخ رنگوں اور سریلی آوازوں کا جادو بکھیرکر، جھٹ سے کہیں اُڑ جائے۔۔۔۔۔کہیں دور،بہت دور۔ خیر،آپ کہانی سنئے
افسانچے (جنید جاذب)

جنید جاذب: مگر یہاں قربانی تو جانوروں نے دی اپنی پیاری جان کی۔۔۔۔اللہ کے بندوں نے توکچھ بھی قربان نہیں کیا۔۔۔۔مزے لے لے کے کھایا۔۔۔۔۔اب ثواب کس کو ملے گا جانوروں کو یا انسانوں کو؟